اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ…

اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہم سے کثرت سے احادیث پیغمبرﷺ مروی ہیں کیا وجہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ دیگر بزرگوں سے علم میں کم تھے یا انہیں آنحضرتﷺ کے پاس رہنے کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے کم موقعہ ملا تھا اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت حدیث نبوی: انا مدينة العلم وعلى بابها واعلم امتی بعدی علیؓ بن ابی طالب زیر نظر رہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3
(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 22 کتاب العلم) 
ایک حدیث میں آپﷺ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو حریصِ اعلیٰ سوال الحدیث بتایا ہے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے 9 سال ہدایت کے آفتاب عالمتاب کے پہلو میں گزارے آپ کے متعلق ارشاد ہے: 
فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على الطعام۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 533) 
سیدہ عائشہؓ کی فضیلت سب عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید گوشت اور روٹی کا آمیختہ کی فضیلت تمام کھانوں پر۔
کثرتِ علم کی طرف اشارہ ہے نیز آپ کا ارشاد ہے:
خذو اربع العلم من هذه الحميداء عائشہؓ۔
(بحوالہ اہلِ سنت پاکٹ بک: صفحہ، 339)
ترجمہ: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے چوتھائی علم حاصل کرو۔  
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ذہن حافظہ ضرب المثل تھا علم سے دلچسپی اور فراغت اس پر مستزاد ہے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے متعلق حضورﷺ نے دعا فرمائی تھی:
اللهم علمه الكتب والحكمة۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 531) 
ترجمہ: اے اللہ ان کو کتاب اور حکمت کا علم عطا فرما۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بلا کا ذہن و حافظہ رکھتے تھے ایک مرتبہ حضورﷺ نے علمی پہیلی بوجھی کوئی جواب نہ دے سکا ان کو سوجھ گیا تھا اس وقت ادبانہ بولے بعد میں اظہار کیا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 14)  اور آپﷺ نے ان کو مرد صالح فرمایا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ خادمِ خاص اور بیتِ نبوی کے ایک فرد تھے دس سال حضورﷺ کی اندر باہر سفر و حضر میں خدمت کی 10 سال کی عمر میں ماں نے حضورﷺ کے سپرد کر دیا تھا انتہائی ذہین اور علم دوست تھے آپ نے ان کو دعا دی تھی اے اللہ اس کے مال اولاد زیادہ کر اور جو کچھ علم وغیرہ اوصاف اس کو دیا ہے اس میں برکت عطا فرما۔ 
(مشکوٰۃ: صفحہ، 575) سیدنا جابر بن عبداللہؓ کے لیے آپﷺ نے 25 مرتبہ استغفار کی۔(ترمذی)
تو روایت علم و احادیث میں ان بزرگوں کی خصوصیت اور کثرت ایسی دعاؤں ہی کا نتیجہ ہے جیسے حضرت علیؓ کو آپﷺ نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو انہوں نے قضا نہ جاننے کا عذر کیا تو آپ نے دعا فرمائی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی دو آدمیوں میں فیصلہ کے متعلق مجھے جھجک نہیں ہوئی۔  (کتب احادیث)
الغرض تکثیر یا تقلیل روایات کی وجوہات ہر بزرگ کی اپنی دلچسپی ماحول اور مخصوص حالات پر تھیں مگر یہ خیال کرنا قطعاً غلط ہے کہ مسلمانوں کو اہلِ بیت سے نفرت تھی اور دوسروں سے محبت اس لیے ان سے کم اور دوسروں سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں ہاں ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جب امت کا باغی فرقہ قاتلانِ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ کا تقرب حاصل کر کے غلو کرنے لگا جیسے وہ شیعہ علی کہلا کر حضرت علیؓ کی مسلسل نافرمانی سے آپ کو تکلیف اور حکومت کو نقصان پہنچا رہا تھا حتیٰ کہ نصف دنیا کی یہ حکومت عہدِ مرتضوی کے آخر میں صرف حجاز و کوفہ تک محدود رہ گئی اور سیدنا علیؓ ان سے جان چھڑانے کی آرزو کرتے تھے۔(جلاء العیون) 
اسی طرح وہ تقیہ کی آڑ میں آپ پر جھوٹی روایات کا طوفان عرصہ تک برپا کرتا رہا حضرت علیؓ کے مخلص اور سچے ساتھی کم ہوتے گئے اور اقضیٰ امت سے دین روایت کرنے میں نہایت احتیاط کی ضرورت پڑی چنانچہ محدثین نے کڑی شرائط سے مرویات علوی کو جمع کیا اسی سلسلے میں حافظ ابنِ القیمؒ فرماتے ہیں:
قاتل الله الشيعة قد أكثروا الكذب علی علی وای علم افسدوا۔ 
(اعلام الموقعین: جلد، 1 صفحہ، 21)
اللہ شیعہ رافضہ کو برباد کرے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر خوب جھوٹ باندھا اور کتنے بڑے علم کو ضائع کر دیا لہٰذا سیدنا علی المرتضیٰؓ سے اہلِ سنت نے بکثرت احادیث روایت کیں مسند احمد میں ان کی تعداد 810 بتائی ہے تہذیب التہذیب آپ کے ترجمہ میں سے آپ کے شیوخ اور تلامذہ کی فہرست پیش خدمت ہے۔
حضرت علی المرتضیٰؓ نے حضورﷺ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا مقداد بن اسودؓ اور سیدہ فاطمہؓ سے احادیث روایت کی ہیں آپ سے آپ کی اولاد میں سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت حسینؓ محمد اکبرؒ (ابنِ حنفیہؒ) عمرؒ فاطمہ محمد بن عمرؒ اور زین العابدینؒ نے مرسلاً روایت کی ہے باندی ام موسیٰ عبداللہ بن جعفرؒ ابنِ جعدہ بھانجا عبید اللہ بن ابی رافعؒ نے روایت کی ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سیدنا براء بن عازبؓ سیدنا ابو ہریرہؓ سیدنا ابو سعید خدریؓ سیدنا بشر بن سحم الغفاریؓ سیدنا زید بن ارقمؓ سیدنا عمر بن حریثؓ سیدنا نزال بن سبرہ ہلالیؓ سیدنا جابر بن سمرہؓ سیدنا جابر بن عبداللہؓ سیدنا ابو جحیفہؓ سیدنا ابو امامہؓ سیدنا ابولیلیٰ الانصاریؓ سیدنا ابو موسیٰؓ سیدنا مسعود بن الحکمؓ سیدنا ابوالطفيلؓ سیدنا عامر بن واثلہؓ نے روایت کی ہے۔
اور تابعین میں سے زر بن جیش زید بن وہب ابوالاسود الدولى حارث بن سوید تیمی حارث بن عبد الله اعور یرملہ مولیٰ اسامه بن زید ربعی بن حراش شریح بن ہانی بشریح النعمان عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ مروان بن الحکم اور بہت سی مخلوقات نے روایت کی ہے۔
شیعہ نے علم کیوں نہ روایت کیا:
سنی اصول پر تحقیقی جواب کے بعد اب میں شیعہ حضرات کو چیلنج دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کی کتب اصولِ اربعہ میں براہِ راست بواسط حضرت علیؓ یا حضرت ابوذرؓ و حضرت سلمانؓ و حضرت مقدادؓ سید الرسل محمد مصطفیٰﷺ سے کتنی احادیث مروی ہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کتنی ہزار مروی ہیں اور کون کون سے لوگوں نے روایت کی ہے حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ سے کتنے صد مروی ہیں۔
صفحہ 2 از 3