اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ…

اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہم سے کثرت سے احادیث پیغمبرﷺ مروی ہیں کیا وجہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ دیگر بزرگوں سے علم میں کم تھے یا انہیں آنحضرتﷺ کے پاس رہنے کا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے کم موقعہ ملا تھا اس سوال کا جواب تلاش کرتے وقت حدیث نبوی: انا مدينة العلم وعلى بابها واعلم امتی بعدی علیؓ بن ابی طالب زیر نظر رہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 3
ارے آپ کی امامیہ جعفریہ شریعیت نبویہ محمدیہﷺ کا ٪95 ذخیره سیدنا باقر و سیدنا جعفر دو تابعی بزرگوں سے مروی ہے جنہوں نے سیدنا رسول خداد علی المرتضیٰؓ کو تو کجا حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ کو بھی نہیں دیکھا تابعیت کا شرف سنی اصول پر صرف ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھ کر پایا ہے جنہیں آپ مؤمن و مسلمان کامل نہیں مانتے ان کی سب روایات اپنی فرمودہ ہیں کچھ مرسل اور منقطع ہیں ان سے شریعت محمدیہﷺ کے ابطال پر تو استدلال ہوتا ہے کیونکہ وہ باعتقاد شدید احکام کے حلال و حرام کرنے میں مختار تھے نیز واجب الاتباع معصوم اور صاب الہام و کتاب شیعہ کے مثل نبی دینی پیشوا ہیں مگر شریعت محمدیﷺ ان سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی اب میں پلٹ کر سوال کرتا ہوں کیا حضورﷺ یا حضرت علیؓ و حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کا علم سیدنا جعفر صادقؓ سے کم تھا یا اہلِ بیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حضورﷺ کی صحبت کم نصیب ہوئی اور حضرت باقر صادقؓ و سیدنا جعفر صادقؓ کو زیادہ ملی؟ حالانکہ وہ اصولِ تشیع پر تابعی ہی نہیں تبع تابعی ہیں کہ ایماندار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی نہیں دیکھا پھر کیوں نوجوانان جنت اور قاضی امت سے شیعہ کی شرکت منقول نہیں اس سے یا تو یہ ثابت ہوگیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اہلِ بیتؓ ہرگز شیعہ نہ تھے شیعہ کے بانی و امام اول (بقول شیعہ) سیدنا باقر صادقؓ و سیدنا جعفر صادقؓ ہیں یا یہ کہ جسمانی زندگی کے قاتل ہونے کی طرح ان کی علمی و روحانی زندگی کے قاتل بھی بھی شیعہ حضرات ہیں۔
دو غلط حدیثیں:
رہی حديث انا مدينة العلم و علیؓ بابھا اسے امام ترمزیؒ نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ منکر ہے یعنی نا مقبول اور بہت کمزور ہے۔
علامہ سخاویؒ نے بھی یہی کہہ کر لکھا ہے کہ اس کی صحت کی کوئی وجہ نہیں ابنِ معینؒ کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں ابوسعیدؒ اور یحییٰ بن سعیدؒ یہی کہتے ہیں علامہ جوزیؒ نے اس کو موضوعات میں لکھا ہے موضوعات کبیر نہ ملا علی قاریؒ صفحہ 40)
رہی اعلم امتی بعدی علیؓ بن ابی طالب یہ پہلی سے بھی ساقط الاعتبار اور موضوع ہے کتبِ حدیث تو کجا کتب موضوعات میں بھی نظر سے نہیں گزری اور مشتر صاحب نے حوالہ اس لیے نہیں دیا کہ مال مسروق پکڑا نہ جائے۔
الغرض شیعہ حضرات نے اپنا دین حضرت علیؓ سے روایت نہ کر کے ان جیسی احادیث کے موضوع ہونے پر خود ہی مہر تصدیق ثبت کردی جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔

صفحہ 3 از 3