ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 9

الجواب: فرقہ شیعہ ہی کو غدار اہل بیت اور قاتل حسین بتانے والے معمولی ملاں نہیں بلکہ ان ملاؤں کے پیشوایان کرام جن کے جائز و نا جائزہ ذکر سے شیعہ ملاں و ذاکرین اپنے پیٹ کا دھندا کرتے ہیں حضرات اہلبیتِ عظامؓ ہی ہیں اس مسئلہ پر چونکہ شعیہ کی گمراہی یا سچائی کو ہر عامی پرکھ سکتا ہے لہٰذا قدرے مفصلاً چار شقوں میں ہم اس بحث کی تنقیح کرتے ہیں۔

الف: کیا حضرت حسینؓ عالی مقام کو بلانے والے شیعہ تھے؟

ب: کیا میدانِ جنگ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مدِ مقابل وہی شیعہ تھے؟

ج: کیا قافلہ اہلِ بیتؓ نے شیعہ کو اپنا قاتل کہا ہے؟

د: کیا وہ خود بھی اقبالِ جرم کر کے ندامت کے آنسو بہاتے ہیں؟ 

جب دنیا کے ہر قانون میں ثبوتِ قتل کے یہ چار طریقے قطعی طور پر قاتل کا پتہ بتا دیتے ہیں قاتل مقتول یکجا ہوئے ہیں مارتے دیکھا گیا ہو مقتول خود بیان دے دے قاتل اعتراف بھی کرلے تو اب کیا شبہ رہ جاتا ہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نظریہ اور امن پسندی:

واضح رہے کہ شیعہ کے ہاں بھی عام مؤرخین کے مطابق یہ ایک سیاسی اور برائے طلب خلافتِ جنگ تھی یزید کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد گورنرِ مدینہ ولید اور حضرت حسینؓ کا مکالمہ ملاحظہ ہو جو شیعہ مؤرخ مجلسی رقمطراز ہیں:

جب ولید نے سیدنا حسینؓ کو بلایا اور حضرت امیرِ معاویہؓ کی وفات کی اطلاع دی حضرت نے فرمایا:

قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ۞(سورة البقرہ: آیت، 156)

پھر ولید نے یزید پلید کا خط پڑھا حضرت نے فرمایا میرا گمان نہیں ہے کہ تو مجھ سے یزید کے لیے خفیہ بیعت پر راضی ہو جائے گا تو چاہے گا کہ سب لوگوں کے سامنے میری بیعت لے تا کہ لوگوں کو بھی معلوم ہو جائے ولید نے کہا ہاں حضرت نے فرمایا صبح تک انتظار کرو تاکہ میں غور کر لوں اور آپ بھی غور کرلیں پھر ایک دوسرے سے مناظرہ کریں اور جو خلافت کا مستحق ثابت ہو دوسرا اس کی بیعت کرے۔

(جلاء العیون: صفحہ، 349 و منتهى الآ مال للعباس القمی: جلد، 1 صفحہ، 298)

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق بہتر رائے آپ کی وفات کو نقصان ملی جان کر استرجاع پڑھنا اور اپنی تمنا تو معلوم ہوگئی مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے دلائل ظاہر کر کے اہلِ مدینہ کو ہمنوا نہیں بنا سکتے تھے اور نہ اہلِ عراق پر اعتماد کرکے حصولِ مقصد کی کوشش کر سکتے تھے لامحالہ غیر جانبداری اور گوشہ نشینی کا فیصلہ کیا صبح دربار حاکم میں جانے کے بجائے اہل و عیال سمیت مکہ روانہ ہو گئے تاریخ شاہد ہے کہ یہاں آپ نے حکومت کے خلاف یا اپنے حق میں کوئی بیان نہیں دیا شعبان تا ذی الحجہ تقریباً 5 ماہ میں نہ حکومت کی طرف سے کسی نے بیعت کا مطالبہ کیا اور نہ آپ نے استحقاق خلافت پر لوگوں کو دلائل سنائے بڑی عافیت اور سلامتی کے ساتھ جوارِ کعبہ میں یہ دن گزارے یہیں سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر اہلِ کوفہ بصد اصرار اور ایک لاکھ تلواریں مہیا کرنے کے بہانے آپ کو نہ بلاتے تو کبھی سانحہ کربلا نہ ہوتا نہ امت دو گروہوں میں بٹتی اب چار امور کی تفصیل ملاحظہ ہو:

الف: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلانے والے شیعہ یہی ہیں:

جلاء العیون میں مجلسی کے اعتراف کے مطابق کوفہ کے مؤمنین شیعہ سلیمان بن صرد خزاعی مسیب بن نحبہ رفاعہ بن شداد حبیب بن مظاہر وغیرہ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو دشمن جبار کہہ کر پہلا خط لکھا:

 این نامه ایست بسوئے حسین بن علیؓ از سائر شیعان او و از مومنان و مسلمانان۔

ترجمہ: یعنی یہ خط سیدنا حسین بن علیؓ کی خدمت میں آپ کے تمام شیعوں مؤمنوں مسلمانوں نے لکھا ہے کہ اس وقت ہمارا امام و پیشوا معلوم ہوا کہ ان کے خیال میں بھی امام کا تصور سیاسی حاکم تھا اگر مثل نبی کا تصور ہوتا تو نفی نہ کرتے یہ تصور بہت بعد کی پیداوار ہے کوئی نہیں ہمارے پاس آئیں ہم سب آپ کے مطیع ہیں آپ کے آنے پر حاکم کوفہ نعمان بن بشیر کو نکال دیں گے والسلام

(جلاء العیون: صفحہ، 356 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 303)

یہ خط عبداللہ مسمع ہمدانی اور عبد اللہ بن دال لے کر حضرت کی خدمت میں چلے پھر دونوں کے بعد قیسں بن مصر عبد اللہ بن شداد عمار بن عبداللہ کو کوفہ کے بڑے بڑے رؤسائے 150 خط دے کر مکہ روانہ کیا پھر دو دن کے بعد ہانی بن ہانی سبیعی سعید بن عبد اللہ حنفی کو اہلِ کوفہ نے حضرت کی خدمت میں یہ لکھ بھیجا تسمیہ کے بعد یہ خط حضرت حسینؓ کی خدمت میں ہے از شیعان و فدویان و مخلصان آپ جلدی اپنے دوستوں اور ہوا خواہوں میں پہنچیں سب لوگ آپ کے منتظر ہیں۔

 پھر شیث بن ربعی حجار بن الابجر یزید بن حارث، عروہ بن قیس عمرو بن حجاج اور محمد بن عمرو نے اسی مضمون کے خط آپ کی خدمت میں بھیجے۔

(جلاء العیون: صفحہ، 357 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 303) 

سیدنا حسینؓ ان خطوط کے جواب میں متردد تھے حتیٰ کہ ایک دن میں 600 خطوط ان غداروں کے حضرت کو پہنچے جب ان کا مبالغہ حد سے گزر گیا اور بہت سے قاصد آپ کے پاس پہنچے اور 12 ہزار خطوط حضرت کو پہنچ چکے تب آپ نے یہ جواب لکھا:

ایں نامه ایست از حسین ابن علیؓ بسوئے گروہ مومناں و مسلماناں و شیعان۔

ترجمہ: سیدنا حسین بن علیؓ کی طرف سے یہ خط تمام مؤمنوں مسلمانوں اور شعیوں کو بھیجا جاتا ہے کہ:

آپ کے سب خطوط مجھے ملے میں تمہاری طرف اپنے معتمد بھائی سیدنا مسلم بن عقیلؓ کو بھیجتا ہوں اگر وہ میری طرف لکھیں کہ عقلمند بزرگوں اور شریف و ذمہ دار لوگوں نے یہ لکھوائے ہیں تو میں ان شاء اللہ جلدی تمہارے پاس آجاؤں گا اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔

کہ امامے نیست مگر کسے کہ حکم کند درمیان مردم بکتاب خدا و قیام نماید درمیان مردم خدا بعدالت و قدم از جاده، شریعت مقدسہ بیرون نگزارد و مردم را بر دین حق مستقیم وارد والسلام۔

(جلاء العیون: صفحہ، 357 و منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 303 )

کہ امام صرف وہی ہوگا جو لوگوں میں کتاب خدا کے مطابق فیصلے کرے لوگوں میں عدل قائم کرے اور شریعت کے طریقے سے باہر قدم نہ رکھے اور لوگوں کو دین حق پر جمائے رکھے۔

امامت کے متعلق آپ کا نظریہ:

صفحہ 1 از 9