ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 9

یہاں سے معلوم ہو چکا کہ حضرت حسینؓ کو دعوتِ خلافت کا چکمہ دینے والے فقط شیعانِ کوفہ ہی تھے نیز یزید سے آپ کو اختلافِ اموی اور ہاشمی قرابت پر نہ تھا جیسے شیعہ خاندانی دشمنی کا اشتہار دیتے ہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ کے نافذ کرانے اور قرآن و سنت کے مطابق حکومت کرنے پر مبنی تھا اس باب میں راقم الحروف کا بھی یہی نظریہ اور ایمان ہے اور سیدنا حسینؓ کے متعلق اہلِ سنت و الجماعت کو یہی نظریہ رکھنا چاہیئے کہ ان کے عقیدہ عظمت و عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واہلبیتؓ اور ہوئی نفسانی سے پاکدامنی کا تقاضہ یہی ہے یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ حضرت حسینؓ نے یہ اقدام اپنے والد کا تختِ خلافت حاصل کرنے کے لیے مناسب موقعہ جان کر کیا جو سقیفہ کے موقعہ پر آپ کے والد سے غضب کیا گیا تھا جیسے شیعہ کا باطل نظریہ ہے اور کہتے ہیں کہ حضرت حسینؓ سقیفہ کے دن ہی شہید ہو گئے تھے اور اس کو محض سیاسی اور دنیوی حکومت کے حصول کا ذریعہ سمجھا جائے کہ جیسے محمود احمد عباسی کا غلط نظریہ ہے دراصل رفض و خروج کے یہ خیال ایک ہی ہیں صرف تعبیر کا فرق ہے اب سنی نقطہ نظر کی مزید وضاحت یہ ہے کہ اہلِ کوفہ اگر اپنے غلط پروپگینڈہ سے یہ نظریہ سیدنا حسینؓ کے ذہن میں نہ بٹھاتے کہ یزید بد عمل نافرمان اور خلافت کا غیر اہل ہے تو آپ کبھی اس کے خلاف نہ اٹھتے خواہ طبعی ناگواری کی وجہ سے بیعت سے کنارہ کشی کرتے لیکن جب آپ کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ وہ احکام شرع میں لاپرواہ ہے۔

مملکت کا ایک بڑاحصہ عراق اس کو نہیں مانتا تو اس بناء پر آپ نے خروج جائزہ جانا اور شرعاً آپ معذور ہی نہیں ماجورو مثاب بھی ہوئے گو حقیقت اس کے خلاف تھی اول سے آخر تک اہلِ کوفہ کا دھوکہ تھا۔ پھر واپسی بھی چاہی مگر مقدر نہ تھی بہر حال اپنے نظریہ کے تحت سیدنا حسینؓ نے یزید پر طعن کرتے ہوئے برحق امام کی تعریف میں بڑی وضاحت سے فرمایا: کہ امام وہ مقتدر حاکم ہی ہوتا ہے جو لوگوں میں قرآن و سنت کے مطابق حکومت کرے شریعت پر خود بھی عمل کرے اور لوگوں کو بھی چلائے اس تعریف نے شیعہ کی ایک خود ساختہ تاویل اور من گھڑت معنیٰ کو باطل کر دیا کہ خلافتِ ظاہری اور ہے جو خلفائے ثلاثہؓ کو ملی اور خلافتِ باطنی اور ہے جو آئمہ اہلبیتؓ کو ملی۔

نیز حضرت شیرِ خدا سے بھی ان منافقوں کے الزام کا دفعیہ کر دیا کہ آپ خلافتِ ظاہری میں صحیح اسلام بقول ان کے مذہب شیعہ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معتقدین کے ڈر سے نافذ نہ کر سکے۔(ملاحظہ ہو مجالس المومنین: صفحہ، 56) 

کیونکہ معاذ اللہ اگر یہ الزام صحیح ہو تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت باطل ہو گئی۔

الغرض حضرت حسینؓ کی نظر میں خلیفہ پابندِ شریعت سیاسی حاکم ہوگا نہ کہ حکومت سے محروم اور غار میں چھپے رہنے والا۔

ب: امام سے برسر کار بھی شیعہ تھے:

القصہ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر علی اختلاف الروایات 18 ہزار، 30 ہزار اور 80 ہزار شیعانِ کوفہ نے برائے حضرت حسینؓ بیعت کی انہوں نے خوشی سے جلد بازی کرتے ہوئے صورتِ حال حضرت حسینؓ کو لکھ بھیجی عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہیں شیعی امام نہیں ہوتے آپ کوفہ چل پڑے سب دوستوں اور ہمدردوں نے کوفہ جانے کی مخالفت کی مگر آپ نہ مانے۔

وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے

ملا باقر علی مجلسی نے مندرجہ ذیل حضرات کی مخالفت و مانعت تفصیل سے لکھی ہے:

1: زرارہ بن صالح

2: محمد بن حنفیہ آپ کے بھائی

3: عبداللہ بن عباس آپ کے چچا ہوئے 

4: عبداللہ بن زبیر 

5: عبداللہ بن عمر  

6: فرزدق شاعر اہلبیت

7: عبدالله بن عمر و بن العاص 

8: آپ کے بھائی کی

9: عبداللہ بن جعفر طیار 

10: عون بن عبدالله محمد بن عبداللہ بن جعفر طیار۔ (جلاء العیون) 

جب آپ میدان کربلا میں پہنچ گئے اور حر بن یزید کے ایک ہزار لشکر نے آپ کا گھیراؤ کیا تو اکثریت آپ کو خط لکھنے اور بلانے والوں کی تھی حمد و ثناء کے بعد آپ نے ان سے فرمایا میں تمہارے پاس از خود نہیں آیا تمہارے پے درپے وعدوں اور خطوط کے بھروسے پہ آیا ہوں اگر اپنےعہد پر قائم ہو تو پورا کرو اور اگر پھر گئے ہو تو میں واپس ہوتا ہوں وہ غدار خاموش رہے کوئی جواب نہ دیا۔(جلاء العیون: صفحہ، 376)

حر سمیت سب لشکر نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی حر نے کہا مجھے خداکی قسم ان خطوط اور قاصدوں کا علم نہیں حضرت نے عتبہ بن سمعان کے ہاتھوں بارہ ہزار خط کی تھیلی منگوا کر بکھیر دی اور خطوط سے ایک ایک کا نام لے کر پکارا مگر سب خاموش رہے ۔ (کذا فی منتھی الامال جلد:1 صفحہ: 330)

حر نے کہا بخدا مجھے خطوط کا علم نہیں تاہم میں آپ کو واپس نہیں جانے دیتا نہ لڑتا ہوں حضرت حسین رضی اللہ عنہ قادسیہ کے راستے سے بائیں طرف چل پڑے وہ بد بخت آپ کو بلانے والا لشکر بھی ساتھ ہوگیا حر نے کہا ان سے نہ لڑنا ورنہ آپ قتل ہو جائیں گے حضرت نے جرأت سے فرمایا میں خدا کے حکم سے ان منافقون بلا کر غداری کرنے والے شیعوں سے ضرور جنگ کروں گا اور قتل ہونے سے نہیں ڈرتا اس کے بعد بھی لشکر نے حضرت کے پچھے نماز پڑھی اس موقعہ پر حضرت حسینؓ کے مکی ساتھی طلال بن نافعؓ بجلی نے کہا اے حسینؓ! آپ کے والد ماجد نے بھی ان بیعت توڑنے والے ظالموں اور دین سے خارج ہونے والوں سے تا وفات زحمت اٹھائی آج آپ بھی اسی گروہ کے ساتھ مبتلاء ہو چکے ہیں جو بھی بد عہدی اور تیری بیعت توڑے گا خود نقصان اٹھائے گا۔(جلاءالعیون: صفحہ، 381، منتھی الامال: جلد، 1 صفحہ، 332، 333)

یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کے ناکثین قاسطین اور مارقین بھی شیعانِ کوفہ ہی ہیں جو رافضی ان لفظوں کا مصداق حضرت طلحہٰؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت امیرِ معاویہؓ اور خوارج کو قرار دیتے ہیں وہ اپنے اسلاف کا جرم چھپانے کے لیے ظلم کرتے ہیں ہاں مارقین خوارج بھی ہیں جو خاص شیعانِ کوفہ تھے جب عمر بن سعد چار ہزار کا لشکر لایا اور سیدنا حسینؓ سے آنے کا مقصد پوچھنا چاہا تو جس سپاہی یا افسر کو بھیجتا

صفحہ 2 از 9