ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 9

بایں علت ابا میکردند زیرا که اکثر از آنہا بوند کہ بحضرت نوشتہ بودندو حضرت را بعراق طلبیدہ بووند چوں قرہ بن قیس آمدو پر سید حضرت فرمود اہل دیارِ شمانا مہائے بے شمار بمن نوشتند و بمبالغہ بسیار مرا طلب کر دند اگر نمے خواہید برمیگردم۔

ترجمہ: تو وہ سب اس وجہ سے انکار کر دیتے کہ ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہوں نے حضرت کو خط لکھ کر عراق بلایا تھا جب قرہ بن قیس آیا اور پوچھا تو حضرت نے فرمایا تمہارے شہر والوں نے مجھے بہت سے خط لکھے اور بڑے مبالغے اور اصرار کے ساتھ بلایا تو آیا ہوں تو اگر تم نہیں چاہتے تو میں واپس جاتا ہوں۔(جلاء العیون)

جب عمر بن سعد کو یہ پیغام ملا تو خوش ہو کر اس نے کہا کہ خدا حضرت حسینؓ کے ساتھ جنگ سے بچا لے گا پھر ابنِ زیاد کو حضرت حسینؓ کی واپسی کا ارادہ لکھ دیا۔ (منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 334)

ایک روایت کے مطابق اس نے آپ کو قید کرنے کا حکم دیا دوسری کے مطابق رہائی اور واپسی پر راضی ہو گیا مگر حضرت علیؓ کا سالا اور جمل و صفین میں سیدنا علیؓ کا دست و باز و (طبری: جلد، 5 صفحہ، 28) شمرذی الجوشن اڑگیا کہ حسینؓ سے یزید کی بیت لی جائے ابنِ سعد نے مخالفت کی مگر وہ ابنِ زیاد کے پاس جا کر نئے احکامِ جنگ بصورتِ انکار لے آیا ابنِ زیاد نے اہلِ کوفہ کو لالچ دیا اکثر ان بے دینوں غداروں نے اپنے دین و بیعتِ سیدنا حسینؓ کو دنیا کے بدلے بیچ دیا کیونکہ 9/10 حصے دین تقیہ پر عمل کیا جیسے خلیل قزوینی نے لکھا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا باعث شیعہ امامیہ کی کوتاہی ہے تقیہ وغیرہ کی وجہ سے (صافی شرح کافی) اور اس بدترین کام قتلِ حسینؓ کے مرتکب ہوئے سب سے پہلے شمرذی الجوشن 4000 کافروں کے ساتھ باہر آیا ابھی تک تو شیعہ مؤمن تھے اب کافر بن گئے حضرت حسینؓ کو بلانے والا شیث بن ربعی بھی چار ہزار کوفیوں پر امیر تھا۔(جلاءالعیون: صفحہ، 282)

مسیب بن نخبہ بھی عمر بن سعد کے ساتھ کربلا میں آیا ہوا تھا (مجالس المؤمنین) اور سب سے پہلے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سرتن سے جدا کرنے کے لیے گھوڑے سے یہی اترا تھا (خلاصتہ المصائب: صفحہ، 37) عروہ بن قیس جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس دعوتی خط لکھنے کی وجہ سے ابنِ سعد کا قاصد بن کر بندامت نہ جا سکا تھا مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مقابل فوج کا سردار تھا (خلاصۃ المصائب) قیس بن اشعث فوج یزید میں شامل ہو کر سیدنا حسینؓ سے لڑا حتیٰ کہ یہ ظالم بعد شہادت حضرت حسین مظلوم رضی اللہ عنہ کے جسمِ اطہر سے چادر مبارک بھی کھینچ کر لے بھاگا۔ (خلافت المصائب: صفحہ، 192)

الغرض فرزندِ شیعہ ابنِ زیاد یہ حضرت علیؓ کا پروردہ معتمد شیعہ اور آپ کی جانب سے بصرہ کا گورنر تھا تادمِ زیست حضرت علیؓ اس پر خوش رہے مگر حضرت حسنؓ سے خلع خلافت کے بعد جب یہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے ساتھ مل گیا تو شیعہ نے اس کو حرامی بنا دیا نامعلوم کس مصلحت سے حضرت علیؓ نے بن باپ حرامیوں کے تعاون سے حکومت کی کے حکم سے شمر ذی الجوشن جیسے شیعہ کے مشورے اور نگرانی سے شیعانِ کوفہ نے حضرت حسینؓ سے جنگ کی ٹھان لی تو سیدنا حسینؓ کے ساتھی بریر بن حضیر نے فرمایا: کیا تم راضی نہیں ہو کہ اہلبیتؓ اپنے وطن واپس ہو جائیں۔

اے کوفیوں! تم پر افسوس کہ قسمیں اٹھا اٹھا کر تم نے جو وعدے کیے تھے اور خطوط لکھے تھے تم ان کو بھول چکے ہو تمہارے بے شرموں نے اھلبیت پیغمبر کو لکھا کہ ہمارے وطن آو ہم اپنی جائیں فدا کریں گے

اب جب کہ وہ آچکے تم ان کو پانی سے بھی منع کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ زیاد بداصل کے بیٹے کو ان پر مسلط کرو تم برے لوگ ہو خدا تمہیں قیامت میں سیراب نہ کرے۔(جلاء العیون: صفحہ، 39)

یہاں سے معلوم ہوا کہ میدانِ جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابل اور پانی بند کرنے والے کوفی شعیہ اور شیعہ ہی تھے ليس فيهم شامی ولا حجازي بل كلهم من أهل الكوفة۔ 

(از خلاصة المصائب) ان تمام کوفیوں میں شامی اور حجازی ایک بھی نہ تھا، نیز یہ کہ حضرت حسینؓ تو تین باتوں میں سے ایک پر ضرور عمل کرنا چاہتے تھے۔

1: دمشق میں یزید کے پاس زندہ روانگی اور مناسب تصفیہ

2: آزاد علاقے میں رحلت

3: مکہ مکرمہ کو واپسی۔

مگر اہلِ لشکر نے سب درخواستیں مسترد کر دیں (طبری) اور ذلت سے بیعت کرنے پر زور دیا تو آپؓ نے فرمایا خدا کی قسم اپنے آپ کو تمہارے ہاتھوں میں نہ دوں گا اور کمینہ ذلیل نہ بنوں گا اور غلامانہ طور پر اطاعت کا طوق گردن میں نہ ڈالوں گا۔ 

(جلاء العیون: صفحہ، 39 منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ، 347)

اب ہر منصف مزاج سے غور کی اپیل کی جاتی ہے یہ جو شیعہ کا بلاسند و ثبوت پروپگینڈہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اسلام کی خاطر بچے ذبح کرانے کو گھر سے بھی کفن باندھ کر چلے تھے اس میں کتنی صداقت ہے؟ اگر وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کو رہا کر دیتے اور آپ رضی اللہ عنہ زندہ واپس آجاتے تو کیا زندہ اسلام پھر مردہ ہو جاتا؟ اور آپ کے اہل و عیال سمیت سلامت بچ جانے پر صفحہ ہستی سے مٹ جاتا۔

فاعبتبروا یا اولی الابصار

در اصل یہ لوگ اپنے اسلاف کے ذلیل ڈرامے پر پردہ ڈالنے اور حکومت کو ہی سارا الزام دینے کے لیے یہ دروغ گوئی کرتے ہیں اور عمداً اہلبیت کرامؓ کو خاک و خون میں تڑپا کر اور تڑپتا دکھا کر فخر کرتے اور اپنا معاشی دگر دہی مفاد حاصل کرتے ہیں ورنہ جہاں سانحہ کربلا انتہائی الم ناک داستان ہے اور اپنے اندر صبر و استقامت حق گوئی تقیہ شکنی، جرات مندی، کے علاوہ بیسیوں عبرتوں کا مرقع ہے وہاں اسلام کے لیے انتہائی نا قابلِ تلافی نقصان کہ صرف تاریخِ اسلام ہی بد نام نہیں ہوئی بلکہ امتِ مسلمہ، سبطِ پیغمبر کے نور سے محروم ہو کر خطرناک اصولی گروں میں بٹ کر رہ گئی۔

شہادتِ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نقصانات کے سلسلے میں مجلس حضرت سجاد سے ترجمانی کر کے لکھتے ہیں۔

و کثبتن او عالمیاں گمراه شدند و دینِ خدا ضائع شد و سننِ رسولِ خدا شد و بدع بنی امیہ ظاہر گردید بایں جہات میگریست۔

(اجلاء العیون: صفحہ، 453)

ترجمہ: آپ رضی اللہ عنہ کے شہید ہو جانے سے اہلٹ جہاں گمراہ ہو گئے اور خدا کا دین ضائع ہو گیا اور رسولِ خدا کی سنتیں معطل ہو گئیں اور بنی امیہ کی

صفحہ 3 از 9