ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 9

بدعتیں ظاہر ہوگئیں ان وجوہ سے حضرت سجادؒ روتے تھے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سنت حضرت سجاد زین العابدینؒ یہی ہے کہ سانحہ کربلا سے اسلامی نقصانات یاد کر کے غم و گریہ کرنا چاہیے نہ کہ اسلام زندہ شد کے نعرے لگا کر فخر کے جشن و جلوس نکالنے چاہئیں۔

ج: قافلہ اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی شیعہ کوفہ کو اپنا قاتل بتاتا ہے:

1: حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے کوفیو! تم پر لعنت ہو اور تمہارے ارادوں پر اے بے وفا و ظالم اور غدارو تم نے مجبوری کے وقت اپنی مدد و نصرت کے لیے ہم کو بلایا جب ہم تمہاری بات مان کر تمہاری مدد و نصرت کے لیے آ گئے تو کینہ کی تلوار تم نے ہم پر کھینچی اور اپنے دشمنوں آلِ زیاد یہ ہمارے خلاف مدد کی۔(جلاء العیون: صفحہ، 391)

2: نیز فرمایا تم پر تباہی ہو جو بغیر کسی دشمنی کینہ اور جھگڑے کے عداوت کی تلوار انتقام کے نیام سے نکالی بلا سبب اہلِ بیتؓ کے قتل پر کمر بستہ ہو گۓ۔(ایضاً)

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ ذاکرین مجتہدین جو یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بدر و احد و صفین وغیرہ میں بنو امیہ کے کفار آباء کے قتل کے انتقام میں بنو امیہ نے اھلبیت کو کربلا میں شہید کیا بالکل لغو ثابت ہوا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے نہ شام سے آئے تھے نہ بنو امیہ تھے اور نہ وہ کسی بدلہ سے لڑتے تھے جیسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تقریر سے واضح ہے۔

3: بالآخر آپ رضی اللہ عنہ نے بددعا دی اے اللہ زمین کی برکت کو روک لے اور ان کو منتشر کر دے حاکموں کو بھی ان سے خوش نہ رکھ کیونکہ انہوں نے ہم کو مدد کے لیے بلایا تھا مگر کینہ کی تلوار خود ہمارے اوپر چلائی۔(ایضاً)

آج شیعہ فخر سے کہتے ہیں ہم تاریخِ اسلام کی ہر حکومت کے مظلوم رہے ہیں اس کی اصلی وجہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی یہ بد دعا ہے۔

4: نیز فرمایا تم پر ہلاکت ہو حق تعالیٰ دونوں جہاں میں میرا بدلہ تم سے لے گا وہ اس طرح کے خود اپنی تلواریں اپنی ذاتوں پر اور مؤمنوں پر چلاؤ گے اور اپنا خون خود گراؤ گے اور دنیا سے نفع نہ اٹھاؤ گے اور اپنی امیدوں کو نہ پہنچو گے جب مر کر آخرت میں جاؤ گے ہمیشہ کا عذابِ الہٰی تمہارے لیے مہیا ہے اور تمہیں تو بدترین کافروں والا عذاب ہوگا۔(جلاء العیون: صفحہ، 409)

آج زنجیروں چھریوں اور تلواروں سے ماتم میں خود کو لہولہان کرنے والے عزاداروں پر سیدنا حسینؓ مظلوم کی دنیاوی بددعا صادق ہوئی اور یقیناً صادق ہوئی آخرت والی بھی یقیناً سچی ہوگی۔ (اللھم آمین)

حضرت حسینؓ کی ان تقریروں اور بد دعاؤں کو سننے کے بعد بھی سب ظالموں نے بے دردی سے آپؓ کو مع اہلُ و عیال ذبح کر کے اسلام زندہ کر دکھایا تو خاتمہ جنگ کے بعد اسی قاتل لشکر نے حضرت علیؓ کے خالی گھوڑے ذوالجناح کو آگے آگے چلا کر ندامت سے رونا پیٹنا شروع کر دیا اور اس سطحِ ارضی پر سب سے پہلا یہی ماتمِ حسین رضی اللہ عنہ کا جلوس تھا جس کی یاد آج بھی ان کی روحانی اولاد مناتی ہے۔

5: اس جلوس کو دیکھ کر حضرت زین العابدینؒ نے فرمایا تم ہم پر بین کرتے ہو روتے ہو پس بتاؤ کس نے ہم کو قتل کیا ہے الحمدللہ ماتمی جلوس کو دیکھ کر غصہ کر کے انہی کو قاتل بتانے کی سنت سجا دی جس پر اصلی سنی عمل کرتے ہیں۔

6: پھر سیدہ زینبؓ نے بددعا دی اے کوفی غداروں مکارو تم ہم پر روتے ہو حالانکہ تمہارے ظلم سے اب بھی ہماری آنکھوں کا پانی ختم نہیں ہوا اور نہ تمہارے ظلم سے آہ ختم نہیں ہوئی تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جو دھاگہ کاٹ کر توڑ دیتی ہے تم نے بھی ایمانی رشتے کو توڑ دیا ہے اور کفر کی طرف پلٹ گئے ہو آیا تم ہم پر ماتم کرتے ہو جب کہ تم نے ہم کو قتل کیا ہے ہمارے غم میں روتے ہو اللہ کی قسم یہ ہوگا کہ تم بہت رؤ گے اور تھوڑا ہنسو گے عیب اور ذلت کو تم نے اپنے لیے خرید لیا یہ ذلت کا داغ کسی پانی آنسوؤں سے زائل نہیں ہو گا۔(جلاء العیون: صفحہ، 424)

جگرِ گوشہ سیدہ فاطمہؓ سیدہ زینبؓ مظلومہ کی بددعا اور پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوتی آ رہی ہے۔ 

7: حضرت فاطمہ بنت حسینؓ نے فرمایا تم نے ہم کو ایسے شہید کیا اور مال و متاع لوٹ کر ہم کو قید کیا ہے جیسے کل میرے دادا حضرت علیؓ کو تم نے شہید کیا ہمیشہ سے تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپک رہا ہے جلدی تم اپنے بدلہ کو پہنچو گے تم پر ہلاکت ہو منتظر رہو کہ خدا کے پے در پہ عذاب اور لعنت تم پر برسے گی آسمانی عذاب تمہارا استقبال کریں گے دنیا میں اپنے کرتوتوں سے تم اپنی ہی تلواریں اپنے اوپر چلاؤ گے اور آخرت میں عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوں گے۔ (جلا العیون: صفحہ، 425)

الحمدللہ سب کچھ ہو رہا ہے ایرانی خونی انقلاب اور اس کا خوفناک حشر آپ کے سامنے ہے

8: حضرت امِ کلثومؓ بنتِ سیدہ النساء فاطمہ رضی اللہ عنہا نے روتے ہوئے کجاوہ سے ندا دی کہ اے اہلِ کوفہ تمہارا برا حال ہو تمہارے منہ برے ہوں تم نے کیوں میرے بھائی حضرت حسینؓ کو بلایا اور اس کی مدد نہ کی اسے قتل کر دیا ان کے مالوں کو لوٹ لیا اور پردہ دار حرموں کو قید کر دیا تمہارے اوپر لعنت ہو تمہارے چہروں پر پھٹکار ہو۔(جلاء العیون: صفحہ، 426)

اس پر اہلِ کوفہ نے ہائے ہائے کر کے مزید رونا پیٹنا شروع کر دیا حسرت کی مٹی سر میں ڈالتے اور اپنا منہ نوچتے اور طماچے منہ پر مارتے اور واویلا اور ہائے تباہی کہتے اتنا روتے تھے کہ کسی آنکھ نے اتنا بڑا ماتم نہ دیکھا ہو اس منظر سے مشتعل ہو کر حضرت زین العابدینؒ نے لوگوں کو خاموش کرایا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

9: اے لوگو! میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ تم نے میرے باپ کو خط لکھا اس کو دھوکا دیا بڑے عہد و پیمان لکھے ان کے ساتھ بیعت کی آخر کار ان سے جنگ کی (ایضاً صفحہ، 424)

10: امِ کلثوم بنتِ علیؓ نے فرمایا اے کوفیو تمہارے مرد ہم کو قتل کرتے ہیں اور عورتیں ہم پر روتی ہیں خدا قیامت کے دن تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے گا۔(جلاء العیون: صفحہ، 426)

تلک عشرہ کاملۃ قارئین کرام قافلہ اہلِ بیتؓ کی زبانی ہم نے قاتلوں کی نشاندہی مفصل کر دی تاکہ کسی خون آشام اہلبیتؓ کو آئندہ انکار کے گنجائش ہو نہ تاویل کا راستہ ہو۔ واللہ الحمد۔

صفحہ 4 از 9