ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 9

4: شعیان کوفہ جرم قتل کا اقرار کرتے ہیں:

چوتھی بات یہ ہے کہ خود ان شیعانِ کوفہ نے اقبالِ جرم کر کے حسرت اور ندامت کے وہ خونی آنسو بہائے جن کے دھبے صفحاتِ تاریخ سے آج تک نہیں مٹیں گے اوپر کیا حوالہ جات کے علاوہ چند اور بھی ملاحظہ ہوں: 

1: کوفیوں کی ایک جماعت ایک غیبی آواز سے چونک اٹھی اور کہنے لگے اللہ کی قسم جو کچھ ہم نے اپنے ساتھ کیا کسی اور نے نہیں کیا ہم نے جنت کے جوانوں کے سردار کو قتل کیا ابنِ زیاد ولد زنا کے لیے پس وہاں انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ابنِ زیاد پر خروج کریں لیکن اس سے کچھ فائدہ نہ ہوا۔ (جلاء العیون: صفحہ، 430)

2: نور اللہ شوستری نے مجالس المؤمنین میں لکھا ہے کہ شہادتِ حضرت حسینؓ کے بعد شیعوں کی لیڈر سلیمان بن صرد خزاعی نے اپنے شیعوں کو جمع کر کے کہا ہم نے حضرت حسینؓ کو عہد و پیمان سے بلایا پھر بے وفائی کر کے ان کو شہید کیا اتنا بڑا جرم نہ ہوگا بجز اس کے کہ ہم اپنے آپ کو قتل کریں چنانچہ بہت سے شیعہ فرات کے کنارے جمع ہوئے اور بنی اسرائیل سے متعلقہ آیت:

 فَتُوۡبُوۡآ اِلٰى بَارِئِكُمۡ فَاقۡتُلُوۡٓا اَنۡفُسَكُمۡؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌلَّـكُمۡ عِنۡدَ بَارِئِكُمۡ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت، 54)

ترجمہ: پس تم خدا کے دربار میں یوں توبہ کرو کہ اپنے آپ کو مارو یہی تمہارے لیے خدا کے ہاں بہتر ہے اپنے اوپر منطبق کی پھر ایک دوسرے کے کتنے قتل ہوئے اور زخمی ہوئے یہ جماعت تاریخ میں توابین کہلاتی ہے۔(بمعناہ)

صدہا ارمانوں میں سے جس نے کہ مجھے ذبح کیا

قتل کے بعد کوئی دیکھے ندامت اس کی۔

شعیہ کا عذر لنگ بدتر از گناہ:

آئیے ذرا اس بحث میں شیعہ کا جواب عذرِ لنگ بھی معلوم کرتے چلیں حال ہی میں شعیانِ پنجاب کے ایک فاضل محقق نے "تجلیاتِ صداقت" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو بزعم خویش شہرہ آفاق کتاب "آفتابِ ہدایت" مصنفہ مناظر اسلام مولانا کرم الدین دبیرؒ چکوالی کا 50 سال کے بعد جواب لکھا ہے جس میں بڑے ہاتھ پاؤں مار کر برسوں کی محنت اور تفتیش کو ترتیب دے کر قرضہ آفتاب سے سبکدوش ہونے کی سعی لا حاصل کی ہے حقائق اور دلائل کا جواب ان کے بس کی بات نہیں ہاں حضور اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ خلفائے راشدینؓ اور دیگر متعلقین رسالت کو جو غلیظ گالیاں سنائی ہیں وہ قابلِ دیدنی ہیں ایک شیعہ سے اس کے علاؤہ اور توقع ہی کیا ہو سکتی ہے مسئلے زیرِ بحث میں ہم اس کتاب کے کچھ افکار آپ کے سامنے رکھتے ہیں جناب محمد حسین ڈھکو صاحب نے "برعکس نام نہند زنگی کافور" کہ مصداق قاتلانِ سیدنا حسینؓ کے سنی مذاہب ہونے پر پانچ تاریخ شواہد بتائے ہیں: 

1: حکومتی شیعہ پارٹی نے یزید کو مسلم کی بیعت اور نعمان بن بشیر کی کشتی کی اطلاع دی تھی

2: ابنِ زیاد کے قاصد نے حضرت عثمانؓ کو تکی زکی مظلوم امیر المؤمنین کہا تھا۔

3:عروہ بن قیس احمسی جس نے حضرت حسینؓ کو دعوتی خط لکھا تھا نے رفیق حضرت حسینؓ زہیر بن قین سے کہا تھا:

ہمارے خیال میں تم اہلبیت کے جماعتی نہ تھے آپ تو عثمانی تھے زہیر نے کہا کیا تم میرے ان کے ساتھ ہونے سے معلوم نہیں کر سکتے۔

4: نافع بن ہلال جملی کے جواب میں ایک شخص مذاہب بن خلص نے انا علی دین عثمانؓ کا نعرہ لگایا۔

5: ابنِ زیاد نے فاتحانہ خطبہ پڑھتے ہوئے یزید کی تعریف کے بعد کہا و قتل الحسین بن علیؓ و شیعتہ۔ خدا نے حضرت حسینؓ اور ان کی جماعت کو قتل کرا دیا۔(طہری) 

اس سے بڑھ کر اس بات کا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ حضرت حسینؓ کے ہمراہ شہید ہونے والے شیعہ تھے اور قتل کرنے والے وہ تھے جن کے مذہب میں یزید حق کا علمدار اور خلیفہ وقت تھا۔ (تجلیاتِ صداقت: صفحہ، 547)

الجواب: اولاً یہ نام نہاد پنج تنی ٹولی صرف پانچ شواہد ہی دکھا سکا حالانکہ ایسے عثمانی پانچ نہیں بلکہ 50 اور 500 حضرت حسینؓ کے مقابل ثابت کر دکھائے جائیں تو علامہ مجلسی اور شیخ عباس قمی وغیرہ کی تحقیقاتِ مذکورہ کی روشنی میں جواب نہیں بن سکتا کیونکہ جب مقابل امام بڑی اکثریت بلانے والے شیعہ اہلِ بیت ہی کی تھی قافلہ اہلِ بیت نے ان کو ہی قاتل و غدار بتایا جیسے تصریحات پھر ملاحظہ ہوں تو پھر عذرِ گناہ بدتر اس گناہ کا کیا معنیٰ زہیرین قین واقعی مخلص عثمانی تھا شیعہ کی سیاست سے تعلق نہ تھا لیکن جب اس نے شعیانِ کوفہ کی غداری دیکھی تو حضرت عثمانؓ سے محبت کے باوجود حضرت حسینؓ مظلوم کے ساتھ مل گیا جیسے خود حر بن یزید عثمانی ہو کر شعیانِ کوفہ کے دعوتی خطوط سے بے خبر تھا پھر جب اسے شیعی دھوکے کا علم ہوا تو وہ سیدنا حسینؓ کا ساتھی اور اپنے لشکر کا مخالف بن کر ان کے ہاتھوں سے شہید ہوا اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا جماعتی ہونے میں تفاد نہیں ہے۔

ثانیاً: جو کہ شیعہ سیاسی پارٹی کو کہتے ہیں جہاں سیاسی جماعت میں شیعہ علی کی اصطلاح چلی وہاں حضرت امیرِ معاویہؓ حضرت عثمانؓ کے حامیانِ قصاص کو بعض دفعہ شیعہ معاویہؓ و عثمانؓ کہا جانے لگا جیسے پیپلز پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کی آج کل اصطلاح ہے اس معنیٰ میں شاہد میں حکومت کی طرف داروں کو شیعتی سے یزید نے تعبیر کیا ہے اور اس معنیٰ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر شاہد میں ابنِ زیاد نے شیعہ کا لفظ بولا ہے ورنہ نہ تو یزید کے حامی اصطلاحی شیعہ تھے اور نہ حضرت حسینؓ کے ساتھی اصول اور فاروق میں مسلمانوں سے الگ مخصوص شیعہ مذہب رکھتے تھے

اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ابنِ زیاد کی زبانی شیعہ کے لفظ سے اصحابِ حضرت حسینؓ کو مخصوص شیعہ رافضی ثابت کرنا اور شیعہ اھلبیت کہلانے والے لشکر مقابلِ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو صرف تین آدمیوں کے عثمانی ہونے پر سنی المذہب ثابت کرنا خالص سینہ زوری اور حقائق کا منہ چڑھانا ہے حالانکہ آپ کا سر قلم کرنے والا شیعہ عقیدہ رکھتا تھا۔ 

سنان سر مبارکش راجدا میکر دومیگفت کہ سر ترا جدا میکنم و میدانم کہ تو فرزندِ رسولخدائی ومادر و پدر تو بہترین خلقند۔ (جلاء العیون: صفحہ، 410)

ترجمہ: سنان حضرت حسینؓ کا سر مبارک جدا کرتے وقت یہ کہہ رہا تھا کہ میں تیرا سر جدا کر رہا ہوں حالانکہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ تو رسولِ خدا کا فرزند ہے اور تیرے ماں باپ سب خلائق سے افضل ہیں۔

صفحہ 5 از 9