ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 9

اب بتلائیں کیا یہ خالص شیعہ بنیادی عقیدہ نہیں ہے کہ حضرت فاطمہؓ و حضرت علیؓ تمام خلائق سے افضل ہیں اہلِ سنت کا تو نہیں ان کے ہاں سب سے افضل انبیاء علیہم السلام ہیں اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ درجہ چہارم میں سب امت سے افضل ہیں بنو امیہ تو بیٹی کی اولاد فرزند کا درجہ نہیں دیتے تھے شیث بن ربعی کی شیعت کسے معلوم نہیں صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ کا سفیرِ خاص تھا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اب سیدنا حسینؓ کو بلانے والا تھا مگر امام کے مقابل چار ہزار (4000) کے لشکر پر امیر بن کر آیا تھا۔(جلاء العیون) 

اور سب سے پہلے امام کا سر تن سے جدا کرنے کے لیے گھوڑے سے یہی اترا تھا۔ (خلاصۃ المصائب: صفحہ، 37)

حضرت حسینؓ کے سالے قیس بن اشعث کا تشیع کسے معلوم نہیں اس نے لڑائی کے بعد جسدِ اطہرِ سیدنا حسینؓ سے چادر بھی چھین لی۔(خلاصۃ المصائب: صفحہ، 192)

حضرت کے بالمقابل صرف وہی بے حیا کوفی تھے جنہوں نے نامہائے پر دغا حضرت حسینؓ کو لکھے تھے۔ 

نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے 

نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں۔

اہل کوفہ کا تشیع:

 اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے کوفہ کو دارالخلافت قرار دیا اور وہ شیعانِ علی کا مرکز سمجھا جاتا تھا مگر یہاں دو باتوں کا لحاظ ضروری ہے۔ 

1: یہ کہ اس دور میں بالعموم جو لوگ شیعانِ علی کہلاتے تھے وہ صرف اس معنیٰ کے اعتبار سے شیعہ تھے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مقابلے میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے ورنہ حقیقی معنوں میں وہ شیعہ نہ تھے بلکہ حضرت امیرِ معاویہؓ کو چوتا خلیفہ تسلم کرتے تھے نہ خلیفہ بلافصل ایسے لوگوں کی تعداد بہت ہی قلیل تھی جو صحیح معنوں میں شعیہ علی تھے۔

وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِىَ الشَّكُوۡرُ‏۞(سورۃ سبا: آیت، 13) (تجلياتِ صداقت: صفحہ: 53)

سبحان اللہ! یوں تو شیعہ بڑی چالاکی اور فخر سےکہتے ہیں کہ ہمارے مذہب کی ابتداء امامِ اول حضرت علیؓ نے وفاتِ نبویﷺ کے بعد ڈالی مگر جب "قاتلِ حسینؓ" ہونے کی تلوار سر پر پڑی تو فوراً مرکزِ خلافت علوی کے پاسبانِ خاص شیعانِ علیؓ کو بھی خلیفہ چہارم مانے والے اور خلیفہ بلا فصل کے منکر بتلایا شترمرغ کی مثال اس پر صادق آتی ہے اگر واقعی شیعانِ علیؓ سیاسی طور پر حریف حضرت امیرِ معاویہؓ اور حامیانِ علیؓ ہو کر آپ کو خلیفہ بلا فصل نہیں بلکہ خلیفہ چہارم مانتے تھے تو اظہر من الشمس ہو گیا کہ رافضی فرقہ شیعہ جو اصول و فروع میں مسلمانوں سے الگ مذہب رکھتا ہے بہت بعد کی پیدا وار ہے حضرت علیؓ و حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ کا یہ مذہب ہرگز نہ تھا نہ ان کے شیعوں اور پیروکاروں کا اور نہ ان ائمہ نے خلافت بلا فصل کی ان کو تعلیم دی تھی ورنہ وہ آپ کو چوتھا خلیفہ ماننے کے بجائے خلیفہ بلا فصل مانتے ائمہ کی شاگردی کے بعد یہ گمراہی کیوں؟

 اس اعترافِ حقیقت کے بعد صحیح معنوں میں شیرِ علیؓ کی بہت قلیل تعداد ہونے کا دعویٰ مضحکہ خیز ہی ہے۔

آیت وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِىَ الشَّكُوۡرُ‏۞(سورۃ سبا: آیت، 13) کو ہر گمراہ اقلیت پڑھتی ہے وجہ ترجیح ہونی چاہیئے وہ قلیل صحیح معنوں میں شیعہ وہی نہ ہوں جو حضرت علیؓ کو مشکل کشا، حاجت روا، عالم الغیب ،مختار کل ،پیکر انسانی میں نورِ خدا یعنی الہ مانتے تھے اور 70، 80 نفر تھے حضرت شیرِ خدا نے گڑھے کھود کر زندہ جلا دیا تھا۔(رجال کشی: صفحہ، 72)

دوسری بات کے سلسلے میں کہتے ہیں دوسرے شیعانِ کوفہ جیسے کچھ بھی تھے حضرت امیرِ معاویہؓ کو ان سے اصلی بعض تھا کہ انہوں نے اس کے مقابلے میں حضرت علیؓ کا ساتھ دیا تھا چنانچہ جب حضرت امیرِ معاویہؓ کو اسلامی ممالک پر تسلط ہوا اور اس نے نا معلوم باپ کے بیٹے زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو اہلِ کوفہ پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے "کان اشد الناس بلاء حينئذ اهل الكوفة" پھر شیعہ پر مظالم کی وضعی کہانی لکھنے کے بعد کہتے ہیں ان حالات میں بھلا کوئی عقلِ سلیم رکھنے والا شخص ایک لمحہ کے لیے بھی باور کرسکتا ہے تیس ہزار کا لشکرِ جرار برائے نصرت حضرت حسین رضی اللہ عنہ شیعانِ کوفہ سے تیار کیا گیا تھا پھر دعوتی خطوط لکھنے والوں کو بھیڑ چال سے تشبیہ دیتے ہوئے اور آلِ زیاد کے مظالم کا ورد کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کوفہ میں 18 بیس ہزار کی تعداد میں کیا شیعہ ہو سکتے تھے ہرگز نہیں کسی آدمی کے اپنے تئیں شیعہ ظاہر کرنے سے حقیقی شیعہ نہیں بن جاتا یہی وجہ ہے کہ امام کو بھی ان تمام پر اعتماد نہ تھا جب ہی تو حضرت مسلم رحمتہ اللہ علیہ کو جانچ پڑتال کے لیے روانہ کیا۔  (تجلیات: صفحہ، 548) 

واہ واہ کس چالاکی اور سخن سازی سے اہلِ کوفہ کے تشیع کا انکار کیا جا رہا ہے اسے کہتے ہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔

صفحہ 6 از 9