ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 9

جنابِ من جب شیعہ کہلانا صداقت کی دلیل نہیں نہ اپنے تئیں شیعہ ظاہر کرنے سے کوئی حقیقی شیعہ بن جاتا ہے تو پھر شیعہ کہلاتے کیوں ہو؟ شیعہ کہلا کر گروہ بندی کی تاسیس و تعمیر کیسے؟ ظاہر و باطن میں اھلِ بیت کی اتباع کر کے متبع اہلِ بیت کیوں نہیں کہلا تے اگر حضرت علیؓ و حضرت حسینؓ کے اصحاب ان کے مقتدی شاگرد طرفدار بن کر آلِ زیاد کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ بن کر بھی کوئی حقیقی شیعہ نہیں بن سکتا تو آج کل ظاہر شریعتِ جعفری کے بھی تارک صرف عشرہ محرم میں عالمی رسوم اور سیاہ پوشی کی وجہ سے شیعہ علیؓ کہلانے والے کیسے حقیقی شیعہ ہیں؟ ماتمی محافل و جلوسوں کا انبوہِ کثیر بقول شما بھیڑ یا دھیان اور جدھر ایک چلا اُدھر سب کا مصداق کیوں نہیں؟ کیا ان میں اور قرنّ اول کے شیعانِ علیؓ و حسینؓ میں یہی فرق ہے کہ یہ عہدِ حاضر کے شیعہ قرآن کی تحریف اور کمی بیشی کے قائل ائمہ اہلبیت کو حضورﷺ کے درجہ و منصب میں شریک ماننے والے امہاتُ المومنینؓ اور خلفائے ثلاثہؓ پر تبرا کرنے والے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیز تمام امتِ محمدیہﷺ کو اپنے سواء دائرہ ایمان و نجات سے خارج مانتے ہیں اور وہ اصحابِ ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بالتریب برحق خلفاء تسلیم کرتے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو خلیفہ بلا فصل کے بجائے رابع تسلیم کرتے تھے اور حضرت امیرِ معاویہؓ اور آپؓ کی آل کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور حمایتِ اہلِ بیت کرتے تھے جب یہ حقیقت ہے تو ہم بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود حضرت علیؓ و حضرت حسینؓ کے شیعہ اولیٰ کو اپنا دینی بھائی اور مسلمان تصور کرتے ہیں صدیوں بعد کی پیداوار روافض کو نہیں مانتے۔

عذر و نفاق کی اہم وجہ:

اہلِ حق کے ساتھ اس قرب کے باوجود اہلِ بیت کے ساتھ غداری اور بے وفائی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان میں غالب عنصر نو مسلم یہود و مجوس کا منافقانہ رنگ میں آگیا جن کا مقصدِ وحید تشیع اور سیاسی اختلافات کی آڑ میں مسلمانوں کے ملی اتحاد و اتفاق کو تہ و بالا کرنا تھا شہادتِ سیدنا عثمان ذی النورینؓ حادثہ جمل، و صفین، و نہروان، انہی کی سازشوں کا نتیجہ ہے وہ جب علیؓ نہیں ہیں بعضِ حضرت امیرِ معاویہؓ کے تحت مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے تھے حادثہ کربلا کے بعد بھی وہ اسی لیے متمنی تھے ظاہر ہے کہ جب اہلبیت سے محبت ان کے کمالات کی وجہ سے نہیں محض حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ حضرت امیرِ معاویہؓ اور یزید کے مقابل مستحق خلافت ہونے کی وجہ سے عقیدت ہو تو یہ مفادات کے تحت سیاسی محبت یہی رنگ لاتی ہے۔

 نہ اِدہر نہ اُدہر اس میں وفاداری کیسی؟ لہٰذا ہم تاریخی مطالعہ میں بیانگ دہل اور علیٰ وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ شیعہ علیؓ و حب اہلبیت کے دعویٰ کے ساتھ جو تحریک بھی اٹھی اور جو گروہ بھی آگے بڑا وہ بالآخر غدار ہو کر ناکام ثابت ہوا قدرت وفاداری کا مادہ ہی سب کر لیا شیعی ائمہ کی تاریخ اس پر گواہ ہے آج شیعہ لاکھوں کروڑوں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں گر اپنے امام عصر سے ایمان و وفا کا تصدیق نامہ تو لا کر دکھائیں وہ تو 1200 سال سے نامعلوم غار میں 313 مخلص مومنوں کی انتظار میں ہیں مگر افسوس تا ہنوز ایران جیسی مستقل شیعہ ریاست اور خمینی کے اقتدار ہونے کے باوجود 313 مؤمن پیدا نہ ہوسکے اور نہ امام کو یہ یقین ہے کہ میرے ظاہر ہونے سے دار الخلافہ طہران مجھے مل جائے گا۔

آخر میں لمحہ فکریہ کے عنوان سے محقق صاحب کا وہ بڑا جھوٹ بھی ملاحظہ ہو جس سے شہدائے کربلا کی ارواحِ مقدسہ کو بھی اذیت ہوگی۔ (صفحہ: 112)

یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان خطوط لکھنے والوں میں جو بعض لوگ واقعی شیعہ تھے ان میں سے کسی ایک شخص کی موجودگی بھی واقعہ کربلا میں امام کے مقابلہ پر ثابت نہیں ہے بلکہ ان میں سے بعض جیسے جبیب بن مظاہر سید بن عبد الله عبدالرحمٰن بن عبدالله وامثالھم کے ہمرکاب ہو کر شہید ہوئے اور دوسرے بعض بعض موانع و عوائق کی وجہ سے نصرتِ امام کا فریضہ ادا نہ کر سکے اور بعد میں انتقامِ امام کے جذبہ سے سرشار ہو کر اٹھے اور توابین کہلائے۔( تجلیاتِ صداقت: صفحہ، 549)

قارئین! چند ورق مجھے الٹ کر حضرت حسینؓ کے لشکر سے مکالمے اور خطوط کے حوالے نام بنام ان کو پکارنا اور شیث بن ربعی حجار بن اکبر جیسے لوگوں کو شرمندہ کرنا اور بد دعائیں دینا ملاحظہ کر کے محقق فاضل کو دروغ گوئی پر دادِ تحسین دیں چہ دلاو راست دزدے کہ بکف چراغ وارد۔

محقق صاحب حقیقی شیعہ کی کوئی پہچان اور علامت تو بیان کر دیتے توابین کالفظ ہی ان کو مجرم ثابت کر رہا ہے وہ خود قتل کا اعتراف کر ہے ہیں اپنے آپ کو قتل اور خون ریزی کرنے کے باوجود مجلسی صاحب فائدہ نبخشید یعنی گناہ معاف نہ ہوا کا فتویٰ لگا چکے ہیں پھر بھی ان قاتلِ امام شیعہ کو لعنت کرنے کے بجائے لعن طعن سے بچاتے ہوئے بعض موانع و عوائق کا عذر کرنا اور بعض اعتبار سے مجبور و محصور ماننا فرقہ بندی کی بدترین مثال ہے ان مجرموں سے محض رشتہ تشیع کی وجہ سے فریضہ دفاع ادا کر کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ عالی مقام کو سلطان المحققین صاحب نے کیا انتہائی دکھ نہیں پہنچایا ؟" فاعتبروا یا اولی الابصار

اہل سنت نے امام کی نصرت کیوں نہ کی؟

اب سوال کا آخری جز قابلِ جواب ہے کہ اس وقت کروڑوں اہلِ سنت نے امام کی نصرت کیوں نہ کی یہاں معترض نے پہلی صدی میں ہی کروڑوں اہلِ سنت کا وجود تسلیم کر کے ان کی قدامت و صداقت اور مذہبِ شیعہ کے جدید و بدعت ہونے پر مہر تصدیقِ ثبت کر دی ہے والفضل ما شهدت به الاعداد۔

رہا یہ امر کہ اہلث سنت نے نصرت نہ کی تو وضاحت یہ ہے کہ کوفہ شیعستان تھا ملا نور اللہ شوستری رقمطراز ہیں:

و بالجمله تشیع اہلِ کوفہ حاجت باقامت دلیل ندار دوسنی بودن کو فی الاصل محتاج بدلیل است اگرچه ابوحنیفه کوفی باشد۔ 

(مجالس المومنین: صفحہ، 56 بیان کوفہ)

خلاصہ یہ کہ تمام اہلِ کوفہ کا شیعہ ہونا دلیل دینے کا محتاج نہیں ہے اور کوفی الاصل کا سنی ہونا دلیل کا محتاج ہے اگرچہ امام ابو حنیفہ کوفی ہو۔

صفحہ 7 از 9