ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 9

جب آپ لوگ کوفیوں کو سنی مانتے ہی نہیں پھر نصرت کا سوال کیسا؟ اگر اپنی کتب سے خالص الاعتقاد سنی بتائیں تو جواب دیا جائے گا۔ بروایت مجلسی در جلاء العیون: صفحہ، 377 ایک لاکھ تلواریں مہیا کر کے حکومت کے لیے آپ کو بلانے والے شیعہ پر یہ یقین نہ تھا کہ وہ خود ہی امام مظلوم کو شہید کر کے اسلام زندہ کر دکھائیں گے سب حضرات اہلِ مکہ نے اور حضرت علیؓ کے کئی صاحبزادو اور دامادوں نے آپؓ کو کوفہ جانے سے روکا جنکی تفصیل جلاء العیون صفحہ 368 تا 372 پر ہے اور نام ہم شروع بحث میں ذکر کر چکے ہیں مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ جانے پر اصرار کرتے ہے حضرت عبد اللہ بن جعفر نے اپنے دو صاحبزادوں کے ذریعے حاکم کہ عمر بن سعد سے امان نامہ لکھوا کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دیا اور حاکمِ مدینہ ولید نے از خود ابنِ زیاد کو کہا کہ سیدنا حسینؓ تیری طرف آرہے ہیں وہ رسولِ خداﷺ کی صاحبزادیؓ کے دلبند ہیں ان سے نہ الجھنا اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا مگر اس خط کا اس پر اثر نہ ہوا۔(جلاء العیون: صفحہ، 272)

اس قدر ہمدردی اور سدِ باب کے باوجود بھی بطورِ احتیاط سنی اہلِ مکہ نے 50، 60 کے لگ بھگ نوجوان حضرت حسینؓ کے ساتھ کر دیے جنہوں نے کبھی شیعہ بننے کا دعویٰ نہیں کیا اگر آخر دم تک شرط وفاداری میں حضرت حسینؓ کے ساتھ شہید ہوئے اہلسنت کے آرگن النجم لکھنؤ کے کربلا نمبر میں شہداءِ کربلا کی فہرست 105 نفردی ہے جن میں حضرت حسینؓ کے ساتھ 20 عدد ان کے اعزہ کے نام ہیں مثلاً ابوبکرؒ بن حسنؓ، عمرؒ بن حسنؓ، ابوبکرؒ، عمرؒ، عثمانؒ، صاحبزادگان حضرت علی رضی اللہ عنہم باقی 85 عدد غیر اہلِ بیت ہیں ان میں حبیب بن مظاہرؒ سعیدؒ و عبد الرحمٰن بن عبداللہؒ کوفہ کے چند حضرات ہیں باقی سب سنی الاصل مکی ہیں اور انصار صحابہ و تابعین کی اولادیں ہیں مثلاً محمد بن مقدادؒ انصاری سیف بن مالک انصاریؒ محمد بن انس انصاریؒ قیس بن ربیعؒ انصاری، عامر بن مسلمؒ جوہر بن مالکؒ فرغانہ بن مالکؒ نعیم بن عجلانؒ، ابو ثمامہؒ عمار بن ابی سلامتؒ، شیب بن حارثؒ، مالک بن سریعؒ، عمار بن حسانؒ زبیر بن حسانؒ، حماد بن انسؒ وقال بن مالک خالد بن عمرؒ مجمع بن عبدالله عائذیؒ وغيرہم ہیں۔

(كذا فى النجم لکھنؤ بابت محرم 1356ھ)

اس کھلی حقیقت کے باوجود شیعہ کے عناد اور کتمانِ حق جوان کے ہاں بڑی عبادت ہے کا یہ عالم ہے کہ ان بزرگوں کا نام لینا ہی شیعہ ذاکرین گناہ سمجھتے ہیں کوفہ شیعستان ہونے کی وجہ اہلِ سنت کی نصرت کا یہاں سوال نہ تھا ہاں جب قافلہ اہلبیت شہرِ دمشق میں پہنچا تو وہاں صدمہ سے ہر آنکھ اشکبار تھی خود یزید نے شیعہ کی بڑی عبادت ماتم جس کے ایک قطرہ آنسو سے سب صغائر و کبائر معاف ہو جاتے ہیں۔

(اجلاء العیون: صفحہ، 3) ادا کی طمانچہ بر روئے خود زد و گریست منہ پر طمانچے مار کر رونے لگا حضرت حسینؓ کا سر لانے والے قاتل کو قتل کرا دیا۔(جلاء العیون: صفحہ، 447) 

ابنِ مرجانہ پر لعنت کی اور انعام کے لالچیوں کو پھٹکار کا تمغہ دے کر دھتکار دیا پھر اہلِ بیت سے حسنِ سلوک کرتا رہا ان کو جگر کا غم نکالنے کی پوری اجازت دی حضرت زین العابدینؒ کو کئی دن تک اپنے ساتھ شاہی دستر خوان پر کھانا کھلاتا رہا آٹھ دن گزرنے کے بعد سب اھلبیت کو بلایا اور معافی چاہتے ہوئے شام میں ٹھرنے کی درخواست کی حضرت زینبؒ خواہر حسینؓ تو وہیں رہ پڑیں اور وہیں وفات پائی اور شام میں آج تک انکا مزار مرجع خلائق اور زیارت گاہ نام ہے باقی قافلہ کی روانگی کے لیے خوبصورت کجاوے تیار کرائے اور ان کو سفر خرچ دیا۔

حضرت زین العابدینؒ کی طلب پر حضرت حسینؓ کا سر مبارک ان کو دے دیا کوفی غنڈوں کے ہاتھوں لوٹے ہوئے سب مال کی ادائیگی کی اور وہ کپڑے بھی لوگوں سے وصول کر کے ادا کیے جو حضرت فاطمہؓ نے خود سوت کات کر بنوائے تھے مستورات کے برقعے لباس اور ہار وغیرہ زیورات واپس کرائے پھر دوصد سونے کے دینار حضرت زین العابدینؒ کو دیئے حضرت نے وہ قبول کر کے فقراء پر تقسیم کر دیئے پھر یزید نے دمشق ٹھرنے کا اختیار دیا حضرت نے مدینہ واپسی کو ترجیح دی۔ (اجلاء العیون: صفحہ، 449)

شیخ مفید اور دیگر شیعہ مؤرخین کی روایات کے مطابق یزید نے حضرت نعمان بن بشیرؓ صحابی کو بلا کر کہا کہ اہلِ شام کے نیک با اعتماد اور امین و دین دار آدمی کو اس قافلہ کے ساتھ مدینہ بھیجو۔

ایک روایت کے مطابق سیدنا نعمانؓ کو ہمراہ کیا پھر سیدنا زین العابدینؒ کو بلایا اور لوگوں کو ان کی ملامت اٹھانے کے لیے کہا لعنت ہو خدا کی ابنِ مرجانہ پر اللہ کی قسم قسم اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو حضرت حسینؓ جو کچھ مجھ سے مانگتے میں دے دیتا اور ان کے قتل پر ہرگز راضی نہ ہوتا اے زین العابدینؒ! ہمیشہ مجھ سے خط و کتابت کرتے رہنا اور اپنی ہر ضرورت مجھے لکھنا کہ پوری کی جائے گی پس جس آدمی کو ہمراہی قافلے کے لیے تیارکیا تھا اس کو بلا کر اہلغ بیت کے حق میں حسنِ سلوک کی خوب تاکید کی۔(اجلاء العیون: صفحہ، 405)

سنی مؤرخین نے بھی بالکل اسی طرح لکھا ہے غالباً یہ اسی حسنِ سلوک کا اثر تھا کہ جب اس حادثہ کے تین سال بعد 64ھ میں یزید کے فسق کی افواہ اڑنے پر اہلِ مدینہ نے بغاوت کر دی تو حضرت زین العابدینؒ نے اس میں کچھ حصہ نہیں لیا بلکہ اپنے متعلقین کو حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی طرح سختی سے روکا یزید کی فوجوں کو بھی یہی حکم تھا چنانچہ انہوں نے حضرت سجادا اور خاندانِ اہلِ بیتؓ سے کچھ تعرض نہیں کیا۔

گو شیعہ مؤلفین نے اس حقیقت کو یوں مسخ کر کے پیش کیا ہے کہ حضرت نے یزید سے قتل کے ڈر سے خود کو یزید کا غلام کہا۔

فقال له على بن الحسينؓ قد اقردت لك ما سالت انا عبد فان شئت فامسك و ان شئت فبع۔

(روضہ کافی: صفحہ، 235 ایران)

ترجمہ: حضرت علی بن حسينؓ نے فرمایا، جو چیزیں تو مانگتا ہے میں نے اُن باتوں کو تسلیم کر لیا میں تیرا مجبور غلام ہوں تو چاہے تو اپنے پاس رکھ اور چاہے تو بیچے دے (العیاذ باللہ)۔

صفحہ 8 از 9