ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں…

ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 9

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ کچھ حاطب الیل مؤرخین کے بیان کے مطابق یزید نے سر مبارک کے ساتھ بے حرمتی کی اور مخدراتِ عصمت کے ساتھ نامناسب مکالمہ بھی کیا قطع نظر اس کے ثبوت و عدم ثبوت کے یہ ایک حقیقت ہے کہ یزید نے سیدنا حسینؓ کے قتل کا صریح حکم ہرگز نہیں دیا صرف نئے گورنر کا تقرر اہلِ کوفہ کی بغاوت فرد کرنے کا حکم یا بصورتِ انکار بیعتِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو زندہ اپنے پاس پہنچانے کا حکم مؤرخین نے لکھا ہے ہر حکومت اپنی مخالفت کو روکنے کے لیے ایسے احکام دیتی ہے خواہ مقابلے میں کوئی بھی ہو اسے قتلِ حضرت حسینؓ کے متعلق مظنہ نہ تھا مولانا سید مین الدین شاه ندوی تاریخ اسلام: جلد، 1 صفحہ، 368 پر رقم طراز ہیں۔ 

یہ حادثہ عظمیٰ یزید کی لاعلمی میں اور بغیر اس کے حکم کے پیش آیا تھا کیونکہ اس نے صرف بیعت لینے کا حکم دیا لڑنے کی اجازت نہ دی تھی اس لیے جب اس کو اس حادثہ کی اطلاع دی گئی تو اس کے آنسو نکل آئے اور اس نے کہا اگر تم حضرت حسینؓ کو قتل نہ کرتے تو میں تم سے زیادہ خوش ہوتا (بحوالہ طبری: جلد، 7 صفحہ، 375 ) الغرض يزيد حضرت حسینؓ کے قتل پر راضی نہ تھا اسنے اھل بیتؓ کے ساتھ ہر ممکن عمدہ سلوک کیا لیکن اس کے عہد میں اہلبیتؓ کی پامالی ہوئی خاندانِ رسولﷺ کے ساتھ شدید ظلم و تشدد ہوا اوران کی ناقابلِ تلافی بے حرمتی ہوئی اس حسنِ سلوک کے باوجو اہلِ بیتؓ کی عزت کا مداوا اور بدنامی کا ازالہ کسی صورت سے نہیں ہو سکتا یزید کی حماقت اور ابنِ زیاد کی رعونت و سرکشی نے ملتِ اسلامیہ کی وحدت کو اور عزتِ اہل بیتؓ کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا ہم دفاع یا طعن کے بجائے معاملہ خدا کے سپرد کرتے ہیں جو ہر سںٔی اور صالح کو بدلہ دے گا۔

العرض قافلہ اہلبیتؓ نے مدینہ ہی میں سکونت اختیار کی یہاں کسی کی طرف سے اہل بیتؓ کو گزند نہ پہنچا کیا اہلِ مکہ و مدینہ یعنی اہلِ سنت سے بڑھ کر بھی اہلِ بیتؓ کے لیے کوئی محسن و خیر خواہ ہوا ہے؟ آخر حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ حضرت زین العابدینؒ حضرت محمد باقرؒ و حضرت جعفر صادقؒ نے مسکن پدر عراق و کوفہ چھوڑ کر مدینہ کی رہائش کیوں اختیار کی تھی؟ مکہ و مدینہ کے مرکزِ اہلِ سنت ہونے پر قاضی نور اللہ شوستری کی شہادت ملاحظہ ہو:

اما مکه و مدینه محبت ابوبکرؓ و عمرؓ براشیاں غالبست۔ 

ترجمہ: مکہ اور مدینہ والوں میں حضرت ابوبکرؒ و حضرت عمرؓ کی محبت کا غلبہ ہے ان کو ہی افضل مانتے ہیں۔  (مجالس المؤمنین: صفحہ 55 حال کوفہ)

یہاں شیخینؓ کی محبت غالب کیوں نہ ہو امام الانبیاء کا مولد، مسکن و ماوی ہیںپانی کی جگہ نمناک آگ جلنے کی جگہ گرم ہوتی ہے سایہ میں ظلمت اور دھوپ میں نورانیت ہوتی ہے صداق اہلِ سنت پر اس سے بڑی شہادت کیا چاہئے؟



صفحہ 9 از 9