قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 6

اگر حسبنا کتاب اللہ ایک امتحان کا جواب تھا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے درست دیا تو اسی واقعہ قرطاس میں اس بزرگ نے کس سیاست کے تحت ارشاد فرمایا کہ اس مرد کو ہذبان ہو گیا دیکھو

(بخاری شريف الفاروق: صفحہ، 112)

الجواب: شیعہ کا انتہائی گندہ اور معرکۃ الآرا طعن ہے پہلے پوری حدیث ملاحظہ کریں تاکر شیعی دھوکہ سامنے آجائے۔

قال ابن عباسؓ اشتد برسول اللهﷺ وجعه يوم الخميس فقال أیتونی بكتاب اكتب لكم كتابا لن تضلوا بعدها ابدا فتنازعوا ولا ينبغی عند نبی تنازع فقالوا اهجر رسول اللهﷺ قال دعونی فالذی انا فيه خير مما تدعوننی اليه واوصىٰ عند موته بثلاث اخرجوا المشركين من جزيرة العرب واجيزوا الوفد بنحو ما كنت اجيزهم ونسيت الثالثة۔(بخاری: جلد، 1 صفحہ، 32)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ راوی ہیں کہ جمعرات کو مرضِ وفات میں حضورﷺ کو تکلیف سخت ہوگئی تو آپﷺ نے فرمایا ایک کاغذ لادیں تم کو تحریر لکھ دوں تو ہرگز میرے بعد بھی گمراہ نہ ہو گئے پس حاضرین آپس میں بحث کرنے لگے حالانکہ بنیﷺ کے پاس جھگڑا مناسب نہ تھا توکہنے لگے کیا آنحضرتﷺ چھوڑ کر جانے والے ہیں ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ سے پوچھ لو تو آپﷺ نے فرمایا میرا خیال چھوڑو جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جدہر تم

بلاتے ہو یعنی کتابت پھر آپﷺ نے وفات سے پہلے یہ وصیت کی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو وفود کو ٹھرایا کرو جیسے میں ٹھہرایا کرتا تھا حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں میں تیسری بات بھول گیا۔

یہ حدیث جلد، 1 صفحہ، 449 اور جلد، 2 صفحہ، 638 پر تو انہی الفاظ کے ساتھ ہے مگر جلد، 2 صفحہ، 846 اور جلد، 2 صفحہ، 1095 پر یہ الفاظ ہیں

قال عمرؓ ان النَّبِیﷺ قد غلبه الوجع وعندكم القرآن حسبنا کتاب الله فاختلف أهل البيت واختصموا فمنهم من يقول قربوا يكتب لكم رسول اللهﷺ كتابا لن تضلوا بعده ومنهم من يقول ما قال عمرؓ فلما اكثر وا اللغط والاختلاف عند النَّبِیﷺ قال قوموا عنی وفج رواية أهجر استفهموه۔

ترجمہ: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضورﷺ کو سخت تکلیف ہے اور ہمارے پاس قرآن جو اصولاً ہدایت میں ہمیں کافی ہے اس میں اہلبیت نے اختلاف کیا اور جھگڑنے لگے کچھ کہتے تھے کہ حضورﷺ کو قلم دوات لا کر دو تا کہ آپﷺ نوشتہ لکھ دیں تو اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے اور کچھ حضرت عمرؓ کی بات دہراتے تھے جب شور اور اختلاف زیادہ کیا حضورﷺ کے پاس تو آپﷺ نےفرمایا مجھ سے اٹھ جاؤ اور ایک روایت میں ہے کیا آپ دنیا سے ہجرت کرنے والے ہیں پوچھ لو۔

روایت کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ حضورﷺ نے سخت بیماری کی حالت میں ایک وصیت لکھوانے کے لیے قلم دوات مانگی سیدنا عمرؓ نے حضورﷺ کی تکلیف اور درد کے پیشِ نظر حاضرین سے بطورِ ادب و مشورہ کہا کہ چونکہ ہمارے پاس کتاب اللہ قرآنِ کریم کافی ہے حضورﷺ کو لکھوانے کی تکلیف نہ دی جائے حاضرین میں دو گروہ ہو گئے ایک نے لانے پراصرار کیا دوسرے نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تائید کی جب شور اور اختلاف بڑھ گیا قلم دوات کسی نے نہ لا کردی تو آپﷺ نے اٹھ جانے کا حکم دیا پھر لکھوانے کا تقاضہ کرنے والوں سے کہا مجھے اپنے حال پر رہنے دو پھر آپﷺ نے تین باتوں کی زبانی وصیت فرما دی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو باہر سے آنے والے وفود کی میری طرح تنظیم اور خاطرداری کرو تیسری راوی بھول گیا۔

یہ ارشاد آپﷺ نے بطورِ امتحان فرمایا تھا سیدنا عمر فاروقؓ نے اس کا صحیح جواب دیا چنانچہ تائیدِ حضرت عمر فاروقؓ میں آپﷺ نے لکھوانے کا ارادہ ترک کر دیا یا شفقت و ہمدردی کے تحت تھا مگر حاضرین کے شور کے پیشِ نظر اس پر عمل نہیں کروایا وہ وحی نہ تھا اور نا حکمِ ضروری تھا ورنہ سیدنا عمرؓ کا رد کر کے ضرور لکھواتے اور حاضرین کے شور کی بھی پرواہ نہ کرتے ہمارے ہاں تو خاص اشکال نہیں اتفاق سے محفل میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا مگر یہ شیعہ جو جانِ نثارانِ نبویﷺ پر اعتراض کرنے میں نہایت حریص و ہوشیار ہوتے ہیں اور ایسے مواقع میں پر کا کوا اڑاتے ہیں اس واقعہ میں خوب مسخ و تحریف کر کے سیدنا عمرؓ کو نشانہ بنا کر کہتے ہیں:

1: حضرت عمر فاروقؓ نے فرمانِ نبوﷺ کو رد کر کے گویا وحی الہٰی کو رد کر دیا۔

 2: حضورﷺکی طرف العیاذ باللہ ہذیان نیند یا بیماری میں بے اراد دنکلنے والی بات کی نسبت کی۔

3: تحریر میں رکاوٹ ڈال کر امت کو گمراہی پر ڈال دیا۔

اب ان تینوں باتوں کی الگ الگ حقیقت ملاحظہ ہو:

امر اول: نہ وحی تھی نہ خاص حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مخاطب تھے:

ائتونی جمع حاضر کا صیغہ ہے سب حاضرین کو قلم دوات لانے کا حکم تھا جس میں اہلِ بیتؓ بھی شامل تھے بلکہ مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 90 اور البدایہ: جلد، 5 صفحہ، 238 پر یہ تصریح موجود ہے کہ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں مجھے حضورﷺ نے حکم دیا کہ میں آپﷺ کے پاس کوئی چیز لاؤں جس میں آپﷺ وہ ارشاد لکھوائیں کہ امت ان کے بعد گمراہ نہ ہو فرماتے ہیں مجھے اندیشہ ہوا کہ حضورﷺ میرے جاتے ہی فوت نہ ہو جائیں تو میں نے کہا کہ آپ زبانی بتا دیں میں محفوظ کر کے یاد رکھوں گا پھر آپ نے نماز زکوٰۃ اور غلاموں کے حقوق کے متعلق وصیت کی واقعہ قرطاس کی اس میں ایک گونہ توضیح ہوگئی اور قرین قیاس یہی ہے کہ کاغذ قلم لانے کا حکم اپنے افرادِ خانہ اور قرابت داروں کو ہو نہ دوسروں کو کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ اس موقعہ پر موجود نہ تھے تو کیا حضرات حسنینؓ، حضرت عباسؓ اور کوئی بھی ہاشمی نہ تھا، جب تھے تو انہوں نے قلم دوات لا کر کیوں نہ دی۔

2: آپﷺ نے یہ صرف اجتہاد سے فرمایا تھا وحی نہ تھی اگر وحی ہوتی یا ضروری تحریر ہوتی تو آپﷺ جمعرات کے بعد پیر تک چار دن زندہ رہے اس وقت یا بعد میں ضرور لکھوا دیتے قولِ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ یا اہلِ خانہ کے شور کی پرواہ نہ کرتے کیونکہ وحی الہٰی کا سنانا حاضرین کی مرضی پر موقوف نہیں۔

صفحہ 1 از 6