قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 6

کہا جاتا ہے کہ وحی تو تھی لیکن پھر بحکمِ وحی آپﷺ نے لکھوانے کا ارادہ ترک کر دیا اس سے تو سیدنا عمرؓ کی تائید وحی الہٰی سے ہوگئی جو منقبت کی دلیل ہے جیسے معراج کے وقت پانچ نمازوں کا حکم پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اصرار سے بار بار کمی پھروحیِ الہیٰ سے پانچ پر فیصلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تفقہ کی دلیل ہے اور نسخ قبل الحکم کی ہی ایک مثال ہے فکذا مانحن فیہ سنی۔

علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تحریر لکھوانے کا ارادہ نبوی یا وحی سے تھا یا اجتہاد سے تو اسی طرح نہ لکھوانے کا ارادہ بھی یا دوبارہ وحی سے ہو یا اجتہاد سے ہوا۔ (فتح الباری: جلد، 8 صفحہ، 101)

شیعہ علماء بھی ارادہ ترک کو وحی کے ذریعے مانتے ہیں۔ 

چنانچہ فلک النبات: جلد، 1 صفحہ، 237 پر ہے:

واما سكوته عليه السلام بعد التنازع ما كان من عندہ بل كان بوحی کما بین فی مقامہ۔

ترجمہ: اور حضورﷺ کا حاضرین کے اختلاف کے بعد خاموش رہنا یعنی تحریر نہ لکھوانا اپنی طرف سے نہ تھا بلکہ وحی خداوندی کے تحت تھا جیسا کہ اپنے مقام پر واضح ہے۔

یہ حضرت عمرؓ کی کرامت ہے کہ کٹر شیعی عالم نے یہ بات لکھ کر سیدنا عمرؓ سے تمام الزامات کا صفایا کر دیا بلکہ یہ رائے خدا اور رسول کو پسند آکر موافقات عمریہؓ میں شامل ہوگئی جیسے ازواجِ مطہرات کے لیے پردہ کا مشورہ مقامِ ابراہیم پر نماز پڑ ھنے کا مشورہ اور اساریٰ بدر کو قتل کرنے کا مشورہ خدا کو اتنا پسند آیا کہ اس کا باقاعدہ حکم قرآن میں اتارا گیا اور شانِ فاروقیؓ نمایاں کی۔

کسی خاص داعیہ کے پیشِ نظر ظاہر الفاظ پر عمل نہ کرنا نافرمانی اور منافی ایمان نہیں ہوتا حدیبیہ کے موقعہ پر صراحتاً حضرت علیؓ کو حضورﷺ نے لفظ رسول اللہ مٹانے کا حکم دیا تھا مگر آپؓ نے قسمیہ انکار کیا پھر حضورﷺ نے وہ لفظ خود مٹایا یہاں شخصی حکم ہے آپؓ نے فرمان نبویﷺ کی تعمیل سے قسمیہ انکار کیا حضورﷺ نے اسے قبول نہ کر کے وہ لفظ خود مٹایا اگر یہاں حضرت علیؓ کی شخصیت کے پیشِ نظر محبتِ رسولﷺ کے جذبہ سے اس کی تعبیر کی جاتی ہے اور حضرت علیؓ کو نافران اور منافق نہیں کہا جا سکتا تو پھر واقعہ قرطاس میں قد غلبہ الوجع آپ کو سخت تکلیف ہے سیدنا ابنِ عباسؓ بھی اشتد برسول اللہ۔ حضورﷺ کی بیماری سخت ہوگئی سے اسی کو بیان کر رہے ہیں سے حضرت عمرؓ کی محبتِ نبویﷺ پر استدلال کیوں نہ کیا جائے۔ (دلائل النبوۃ بیہقی)

جب کہ آپ کو شخصی حکم نہیں اور نہ پھر آپ نے اس حکم کو ضروری سمجھ کر عمل کرایا کہا جاتا ہے کہ اہلِ سنت بھی حضرت امیرِ معاویہؓ کے انکار کو ادب سے تعبیر کرتے ہیں مگر ہم تو اس سے کم تر واقعہ ہذا میں بھی ادب کا لحاظ کرتے ہیں شیعہ ایک بزرگ سے محبت اور دوسرے سے دشمنی کی بناء پر تفریق کریں تو اس ضد کا تو کوئی علاج نہیں ہمارے یہاں دونوں بزرگوں کا رد عمل ایک ہی جذبہ سے ہے کشف الغمہ: صفحہ، 453 پر ہے کہ جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے سوا اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کھڑکیاں مسجد کی طرف سے حضورﷺ نے بند کرنے کا حکم دیا تو سیدنا حمزہؓ نے غصہ میں حضورﷺ سے فرمایا اے محمدﷺ آپ ہم کو نکالتے ہیں بنی مطلب کے لڑکوں کو ٹھہراتے ہیں؟ کیا شیعہ حضرت حمزہؓ پر بھی فتویٰ لگائیں گے

قوموا عنی میرا خیال چھوڑو کا نزلہ بھی سیدنا عمر فاروقؓ پر گرایا جاتا ہے حالانکہ مفصل روایت میں اسی مطلب کو حضورﷺ نے یوں واضح فرمایا ہے دعونی فالذی انا فيه خير مما تدعونتی الیہ۔

ترجمہ: مجھے چھوڑو میں مراقبہ الہیٰ کی حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم بلاتے ہو یعنی تحریر بظاہر یہ خطاب ان ہی لوگوں سے ہے جو قلم دوات تو نہ لائے مگر تحریر چاہتے تھے تو آپﷺ نے فرمایا اس بات کو جانے دو یہ قوموا عنی ایسا ہی ہے جیسے آپﷺ نے فرمایا قرآن کی اس وقت تک تلاوت کرو جب تک دل تمہارا خوش ہو اور فاذا اختلفتم فقوموا عنه۔

ترجمہ: اور جب زبان و دل میں اختلاف ہو تو تلاوت چھوڑ دو۔ (بخاری: جلد، 2 صفحہ، 1095) 

اس حقیقت کے باوجود بھی یہ کام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا سیدنا عمر فاروقؓ کو طریدِ رسول کہنا انتہائی خباثت ہے۔ 

امر دوم: نسبت بزیان کی حقیقت، صحاح ستہ وغیرہ حدیث کی جو اصولی کتابیں ہیں ان میں اس واقعہ کی بعض روایتوں میں حضرت عمرؓ کا قول اسی قدر ہے کہ آپ کو سخت تکلیف ہے اصولی طور پہ ہمیں قرآن کافی ہے لفظ اھجر، قالوا کے بعد آیا ہے یعنی اور لوگوں نے یوں کہا اور بعض محدثین نے اسے مقولہ عمرؓ قرار دیا ہے روایات صحیحہ کے مقابل ان کا قول معتبر نہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں: کہ کسی روایت میں یہ نہیں کہ یہ لفظ سیدنا عمرؓ کا

مقولہ ہے۔

شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ نے بھی تحفہ اثناء عشریہ میں یہی لکھا ہے۔ (طبقات: صفحہ، 373) 

لغت و استعمال میں ہجر کے معنیٰ فراق ضد وصال چھوڑنا اور ترک کرنا آتا ہے کبھی قید اور مرض میں بغیر ارادہ کلام پر بھی بولا جاتا ہے۔ 

مصباح اللغات: صفحہ، 977 میں ہے ہجرہ (ن) ہجروا ہجرانا قطع تعلق کرنا، چھوڑنا، ہجر الشیئی ترک کرنا، اعراض کرنا، زوجہ، بغیر طلاق دیئے ہوئے الگ ہونا اور فیروز و الغات: جلد، 2 صفحہ، 553 میں ہے ہجر جدائی کرنا کسی سے قطع تعلق کرنا ہذیان کا معنیٰ تب ہوتا ہے کہ مصدر ہجرا، ہجیراً ہجیراً مصدر سے استعمال ہو حوالہ مذکورہ ورنہ ترک و جدائی کے معنوں میں آتا ہے کبھی مفعول ذکر ہوتا ہے کبھی نہیں جیسے: سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ۞(سورۃ المؤمنون: آیت، 67) کی قرآنی مثال آ رہی ہے جو لوگ کتبِ لغت سے صرف ہذیان والے معنیٰ پر زور دیتے ہیں یہ ان کی بد دیانتی محض تعصب اور حضرت عمرؓ سے دشمنی پر مبنی ہے ورنہ لفظ مشترک کے معنیٰ سیاق و سباق قائل اور مفعول فیہ کے مناسب حال متعین ہوتے ہیں اپنے باطل مقصد کے پیشِ نظر لغت سے محض مطلوبہ معنیٰ چن لیے جائیں تو شریعتِ اسلامیہ کا کوئی عقیدہ اور عمل ثابت نہ ہو سکے گا اسی تکنیک کے پیشِ نظر قادیانی ختمِ نبوت کے اور منکرینِ حدیث حدیثِ نبوی اور نماز کی متفقہ ہیت کے بھی منکر ہیں کیونکہ صلوٰۃ کا معنیٰ چوتڑ بلانا لغت میں لکھا ہے۔

صفحہ 2 از 6