قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 6

حجتہ الوداع کے موقع پر هل بلغت اللهم اشهد فليبلغ الشاهد الغائب۔ 

ترجمہ: بے شک میں نے احکامِ رسالت پہنچا دئیے اے اللہ تو گواہ رہ پس اب حاضر غائب تک یہ احکام پہنچا دے کے مناظر بھی آسمان و زمین نے دیکھ لیے آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امت کو بھی تکمیلِ دین کی بشارت سنا دی۔ 

"بدرستیکہ شمار اگز اشتم برارہ روشن راست و چناں واضح گردانیدم براۓ شمادین راکہ شبش مانند روزش روشن است پس اختلاف مکنید بعد از من۔"

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 561)

ترجمہ: یقیناً میں نے تم کو روشن اور سیدھی راہ پر چھوڑا اور تمہارے دین کو تمہارے لیے ایسا نمایاں کیا کہ اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے پس میرے بعد اختلاف نہ کرنا افسوس کہ شیعہ ہی نے امامت کا مسئلہ نکال کر سب امت سے اختلاف کیا۔

نیز ایک فرشتہ نے اھلبیت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:

و حضرت رسول از دنیا نرفت تا آنکہ دین را از براۓ شما کامل گردانید وراہ نجات راز براۓ شما بیان کرد واز براۓ ہیچ جاہلے حجتے نگزاشت۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 700)

ترجمہ: حضرت رسول اس وقت تک دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک تمہارے لیے دین کو کامل نہ کر دیا اور نجات کا راستہ تمہارے لیے بیان کر دیا اور کسی جاہل کے لیے کوئی حجت نہ چھوڑی۔

 ان آیاتِ قرآنیہ اور ارشاداتِ مصطفویہ کی روشنی میں کیا اس بات کی گنجائش ہے کہ ایک اصولِ ہدایت یا بنیادی فیصلہ جس پر امت کے مؤمن اور خارج از ایمان ہونے کا مدار ہے بیان نہ کیا ہو لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ یہ محض امتحان تھا سیدنا عمرؓ نے درست جواب دیا یا پھر ایسی بات تھی جس کابیان بہتر تھا اور عدمِ تحریر مضر نہ تھی اور اللہ کو اس کا لکھوانا منظور نہ تھا چنانچہ چار دن مزید زندہ رہنے کے بعد بھی آپﷺ نے نہیں لکھوائی نہ عدمِ تحریر پر کسی صدمہ یا نقصان کا اظہار فرمایا۔

مقصد تحریر کیا تھا؟

اور وہ کیا تحریر ہے؟ روایت میں جن تین باتوں کا ذکر زبانی ہے وہ مراد ہوں تو بہت بہتر ہے زبانی امت تک پہنچ تو گئی ہیں مگر شیعہ و سُنی فریقین کا خیال ہے کہ خلافت کا فیصلہ کرنا تھا تاکہ نزاع پیدا نہ ہو اہلِ سنت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ اپنے باپ اور بھائی کو بلاؤ تاکہ میں تحریر لکھ دوں تاکہ کوئی اور دعویٰ یا نہ تمنا کرسکے لیکن پھر آپﷺ نے ارادہ ترک کر دیا اور فرمایا اللہ پاک اور مسلمانوں کو سیدنا ابوبکرؓ کے بجائے دوسرا خلیفہ بنانے پر انکار ہو گا۔ (بخاری، مسلم، مسند حمیدی)

چنانچہ اسی مضمون کی ایک اور روایت ہے میں نے ارادہ ترک کر دیا کیونکہ خداد مسلمان صرف حضرت ابوبکرؓ کو چنیں گے۔(جلد، 2 صفحہ، 846)

شیعہ کا ہےخیال ہے کہ سیدنا علیؓ کے لیے خلافت لکھنی تھی مگر وہ تحریر نہ ہو سکی اور امت سیدنا علیؓ کے بجائے سیدنا ابوبکرؓ پر اتفاق کر کے گمراہ ہوگئی لیکن شیعہ کا یہ خیال اگر درست مانا جائے تو حضورﷺ پر بڑا حرف آتا ہے کہ آپﷺ نے ہر صورت وہ لکھا کر اتمامِ حجت کر کے گمراہی سے امت کو بچانے کا اہتمام کیوں نہ کیا خصوصاً جب کہ سیرت، تاریخ اور شیعہ کی تحریرات ملاحظہ ہو جواب سوال نمبر 2 کی روشنی میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ ہی کو مسلمان سے بہتر جانتے تھے نہ لکھوانے کا نقصان شیعہ کو ہوا اہلسنت کا نہیں کیونکہ حضراتِ شیخینؓ کے متعلق آپ کے خیالات سچے ثابت ہوئے پھر حضورﷺ نے امامِ نماز بنا کر عملی تصدیق کردی اور خواصِ حلقہ میں ان کی خلافت کی بشارت بھی دے دی شانِ نزول سورت تحریم تفسیر قمی مجمع البیان کہا جاتا ہے کہ آپﷺ پر ہذیان کا الزام لگایا گیا وہ اگر لکھاتے بھی توکوئی نہ مانتا جواب یہ ہے کہ آپﷺ اتمامِ حجت کا فریضہ تو ادا کر دیتے کیا لوگوں کے ساحر مجنون کہنے پر آپﷺ نے تبلیغ چھوڑ دی تھی یا آخر دم تک اتمامِ حجت کرتے رہے؟ 

اگر اب بھی معترض کی تسلی نہ ہو تو وہ مندرجہ ذیل امور پر غور کرے:

چند سوالات:

1: اتیونی کا امر استحبابی تھا تو ترک امتثال جرم نہیں اگر وجوبی ہے تو سب حاضرین بشمولِ اھلِ بیت مجرم ہیں۔ 

2: اس پر کیا قرینہ ہے کہ حضرت علیؓ انتہائی تکلیف کے عالم میں حضورﷺ کے پاس نہ ہوں پھر حضرت ابوذرؓ حضرت عمارؓ حضرت سلمانؓ حضرت مقدادؓ جیسے بزرگوں کی غیر موجودگی پر کوئی دلیل ہے اگر نہیں تو تنہا حضرت عمرؓ پر طعن کیوں؟ 

3: شیعہ ہر جگہ اہلِ بیت سے مرعومہ پنج تن مراد لیتے ہیں یہاں صرف دیگر حضرات مراد کیوں لیے جاتے ہیں سیدہ فاطمہؓ و حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما کا تو موجود ہونا ضروری ہے پھر کیوں وہ یہ خدمت بجا نہ لائے؟

4: یہ مطالبہ اجتہادی تھا یا بحکمِ وحی اگر اجتہادی تھا تو استدلال غیر تام ہے لیکن اس سے رجوع ممکن ہے اگر بحکمِ وحی تھا تو تعمیل ضروری تھی یا نہ اگر ضروری تھی تو حضورﷺ نے نہیں کیوں کروائی اگر وحی سے عدمِ تعمیل ہوئی تو سیدنا عمرؓ اعتراضات سے بری ہو گئے۔ 

5: اگر تحریر میں رکاوٹ پیش آگئی تو زبانی ارشاد کیوں نہ فرمایا؟

6: جب بقول شیعہ خمِ غدیر میں خلافتِ علوی کا فیصلہ ہو چکا تھا تو تحریر کا کیا معنیً؟

7:اگر سیدنا عمرؓ حسبنا کتاب اللہ کہنے پر مجبور ہوں حالانکہ یہ:

اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ الخ۔ (سورۃ العنكبوت: آیت، 51)

ترجمہ: کیا ان کو ہمارا کتاب نازل کر دینا کافی نہیں کا ترجمہ اور جواب ہے۔

تو حضرت علیؓ نے قرآنِ پاک کے متعلق یہ کیوں فرمایا کہ کتاب اللہ تمہارے سامنے گواہ ہے جس کی زبان گونگی نہیں وہ مکان ہے جس کے ستون گرتے نہیں یعنی ہر بات میں اور دنیا و آخرت کی ہر چیز میں راہ دکھاتی ہے۔

(نہج البلاغہ شرح فیض الاسلام نقوی:جلد، 1 صفحہ، 403) 

قرآن کے لئے اللہ کے اپنا نور اور دین کامل کر دیا اور حضورﷺ کو اس وقت وفات دی جب آپ مخلوق خدا کو احکام خدا پہنچا چکے۔

(نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 592 شرح فیض الاسلام)

علمه نقی فیض الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 594 پر اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

دین اسلام رابسبب آں کامل گردانید و پیغمر خودﷺ رادر حالے قبض فرمور کہ از تبلیغ احکام قرآن کہ موجب ہدایت و ستگاری امست فراغ یافتہ بود۔

صفحہ 4 از 6