قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 6

ترجمہ: اور قرآن کے ذریعے اللہ پاک نے دینِ اسلام کو کامل کر دیا اور پیغمبرﷺ کو اس حالت میں وفات دی کہ آپﷺ قرآن کی تبلیغ سے فارغ ہو چکے تھے جو ہدایت اور نجات کا سبب ہیں۔

شیعہ کے ہاں اہم خطبہ فدک میں سیدہ فاطمہؓ فرماتی ہیں خدا کی کتاب ناطق اور قرآن صادق ہے اسی قرآن کے ذریعے خدا کی منور حجتیں پائی جاتی ہیں بیان شدہ واجبات معلوم ہوتے ہیں اور ان محرکات کی اطلاع ہوتی ہے جن سے ڈرایا گیا ہے اور اسی قرآن سے اللہ کے مقرر کردہ مستحبات معلوم ہوتے ہیں۔

(بحوالہ وہی منصف: صفحہ، 28) 

کیا یہ عظیم تصریحات حسبنا کتاب اللہ کی تائید اور تصدیق نہیں اور کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی حدیث نبوی کے منکر سمجھے جائیں گے۔ (واللہ الہادی)

ایک لغو رسالہ کا محاسبہ:

اب یہاں تک ہماری اس تقریر سے بحمداللہ ہر قسم کے مطاعن کافور ہو گئے حضورﷺ کا دامن ترکِ تبلیغ وحی کے الزام سے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دامن گستاخی اور دوستی کے طعن سے پاک و صاف ہوگیا مزید کچھ کہنے کی حاجت نہیں مگر چونکہ شیعہ عداوتِ حضرت عمرؓ کی آڑ میں اس قرطاس پر بہت کچھ فضولیات سے اپنے دل کی سیاہی کے دھبے ڈالتے ہیں اور در حقیقت وہ سینکڑوں وجوہِ قرطاس سیاہ کر کے یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ:

1: حیاتِ پیغمبرﷺ میں بسترِ علالت پر آقائے دو جہاں کے روبرو دینِ الہٰی کے نونہال کی جڑ پر پہلی کاری ضرب دینداروں کی ایک جماعت نے لگائی اور اسی صدمہ سے باغبانِ گلشن دین دنیائے بے مروت سے رخصت ہوئے۔

2: واقعہ قرطاس جسں نے مسلمانوں کے لیے گمراہی و ضلالت کا وہ دروازہ کھول دیا جسے قیامت تک بند کرنا عام بشر کے اختیار میں نہیں ہے۔

3: اسی وقت سے اسلام پر مصائب و آزمائشوں کی گھٹائیں چھانا شروع ہوگئیں اور ملت میں تنازع و انتشار کا بویا ہوا بیچ دیکھتے ہی دیکھتے شاخوں سے بھرپور درخت بن گیا۔

 4: تم اگر یہ تحریر قلم بند ہو جاتی تو مخالفین کے منصوبے خاک میں مل جاتے لہٰذا امید برآری کے لیے حضور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا مشن کھل کر لیا یہ ایک عیار قلم کار کے الفاظ ہیں جس نے اس واقعہ قرطاس پر 110 صفحے ایسے ہفوات سے سیاہ کر کے اپنے آقائے خمینی کی طرح حضورﷺکی ناکامی کا بار بار اعلان کیا اور حیاتِ نبویﷺ میں اسلام کو قتل کر کے چپکے سے حضورﷺ کو رخصت کر دیا ہے وہ سیدنا عمرؓ کو ایک طے شدہ منصوبے میں کامیاب کہتا ہے اور سب امت کی گمراہی کا ذمہ دار آپ کو ٹھہراتا ہے۔ حالانکہ سنت اللہ یہ رہی ہے کہ منصوبہ و تدبیر میں خدا و رسول پر کوئی غالب نہیں آسکتا مخالف و منافق ہمیشہ ناکام رہے ہیں یہود نے حضرت علیؓ سے سازش کرنا چاہی مگر اللہ کی سازش کامیاب رہی۔ وَمَكَرُوۡا وَمَكَرَاللّٰهُ ‌ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمَاكِرِيۡنَ ۞

(سورۃ آلِ عمران: آیت، 54)

ترجمہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ قوم کی تقدیر ناکام ہوئی

وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ‌ ۞(سورۃ الانبیاء آیت 70)

ترجمہ: اور انہوں نے ابراہیم علیہ السلام سے سازش کی ہم نے ان کو بڑے گھاٹے میں کر دیا۔ 

صالح علیہ السلام اپنی قوم پر غالب ہے

وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ۞(سورۃ النمل: آیت، 50) 

ترجمہ: اور انہوں نے سازش کی ہم نے بھی سازش کی کہ ان کو پتہ بھی نہ چلا فرعوں کے بالمقابل حضرت موسیٰ علیہ السلام کامیاب رہے

وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِىۡ تَبَابٍ ۞ (سورۃ غافر: آیت، 37)

ترجمہ: فرعون کی سازش تباہ ہوگئی۔

الغرض منکرینِ قرآن و رسول کا یہ گروہ ایک طرف معاذ اللہ حضرت عمرؓ کو بقول مجلسی کافر منافق اور سازشی کہتا ہے مگرخدا و رسول کے بالمقابل ان کو تاقیامت کامیاب بھی کہتا ہے اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ خدا و رسولﷺ کا دراصل منکر ہے تبھی تو وہ کسی صحابی کو مانتا ہے نہ قرآن اور 23 سالہ آپﷺ کی تعلیم و تبلیغ میں کسی ہدایت کا قائل ہے واقعہ قرطاس اور حضرت عمرؓ سے دشمنی کو تو محض ذاتِ رسولﷺ سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک بہانہ بنا دیا گیا ہے۔

چند نا جائز باتوں پر تنبیہ:

1: شرح نہج البلاغہ لابنِ ابی الحدید اور مروج الذہب مسعودی کے حوالہ سے حضرت عمرؓ کی منصوبہ بندی کا ذکر کیا ہے حالانکہ یہ محض اتفاق تھا کہ حضرت عمرؓ عبادت کو آئے تھے تو یہ بات ہو گئی ورنہ نہ آپ نے چھیڑی تھی نہ حضورﷺ کے دل کی بات جانتے تھے۔ پھر بالا دونوں کتابیں شیعہ کی ہیں ابنِ ابی الحدید معتزلی شیعہ ہیں اور شیعہ کتاب کی شرح لکھی ہے جبکہ مسعودی اثناء عشری شیعہ ہیں لہٰذا حضرت عمؓر کے خلاف ان کی کوئی بات حجت نہیں ہو سکتی۔ 

2: مسند احمد: جلد، 2 صفحہ، 346 کے حوالہ سے یہ عبارت مع ترجمہ بھی ہے:

مخالف عليها عمر بن الخطابؓ حتىٰ رفضها کہ سامانِ کتابت لے کر حضرت عمرؓ نے پھینک دیا حالانکہ یہ صریح بد دیانتی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے شفقت نبوی سے اس تجویز سے اختلاف کیا حتیٰ کہ حضور نے چھوڑ دی۔

3: صواعقِ محرقہ باب تاسع فصل ثانی کے حوالے سے حدیث تقلین لکھی ہے اور یہ استدلال کیا ہے کہ حضور اس صحیفہ میں حضرت علیؓ کی خلافت و امامت کا تعین فرمانا چاہتے تھے حالانکہ حدیثِ ثقلین اگر صحیح ثابت بھی ہو تو اس کا مفہوم دوسرا ہے کہ قرآن و علیؓ دونوں سے پوچھتے رہنا کہ اسلام اور میری تعلیم کیا ہے اس پر تاہنوز بحمداللہ امت کا عمل ہے مگر خلافت و امامت سے اس کا کوئی تعلق نہیں علاوہ ازیں ابنِ حجر مکی رحمہ اللہ نے اس کی سند بھی نہیں بتائی اور ایک حصے کی سند بتا کر ایک راوی کو ضعیف کہا ہے تو قابلِ استدلال نہ رہی۔

صفحہ 5 از 6