قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قصہ قرطاس (مولانا مہر محمد)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 6

4: بحسبنا کتاب اللہ کا بار بار مذاق اڑایا ہے کہ حضرت عمرؓ نے مخالفتِ رسول کی اور حجتِ حدیث کا انکار کیا حالانکہ یہ مفہوم مخالف خود شیعہ ذہن کی ایجاد ہے ورنہ حَسۡبُنَا اللّٰهُ وَنِعۡمَ الۡوَكِيۡلُ ۞ (سورۃ آلِ عمران: آیت، 173) کہنے والوں کو رسول اللہﷺ کا منکر تو نہ کہا جائے گا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہر موقعہ پر سختی سے سنتِ رسول کے پابند تھے پھر کمالِ ادب سے حضورﷺ کو خطاب نہیں کیا بلکہ حاضرین سے کہا وعندكم القران حسبنا کتاب اللہ اور اس سے اشارہ آیت اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ الخ۔ (سورۃ المائدہ: آیت، 3) کی طرف تھا اس صفائی کے باوجود بھی اگر سیدنا عمر فاروقؓ پر ردِ حکم رسولﷺ کا الزام ہے حالانکہ آپ کو قلم دوات لانے کا خاص حکم نبوی نہ تھاتو پھر یہ الزام سیدنا علیؓ پر بھی آئے گا کیونکہ آپ اہلِ خانہ تھے۔

تحریر وصیت میں فائدہ بھی بقول شیعہ آپ کا تھا اور آپ کو لانے کا حکم خصوصی تھا سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی کا شیعی عذر بالکل لغو ہے بلکہ آپ حاضر تھے فرماتے ہیں:

علیؓ بن ابی طالب قال امرنی النبیﷺ ان اتیہ بطبق یکتب فیہ مالا یضل امتہ من بعدہ فخشیت ان تفوتنی نفسہ قال قلت انی احفظ واعی قال اوصی بالصلوٰة وماملکت ایمانکم۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپﷺ کی خدمت میں ایک طشتری لاؤں جس پر آپﷺ ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد آپﷺ کی امت گمراہ نہ ہو حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے خوف ہوا کہ آپﷺ کی ذات مجھ سے جدا نہ ہو جائے اس لیے میں نے عرض کیا کہ آپﷺ زبانی ارشاد فرمائیں میں حفظ رکھوں گا اور یاد رکھوں گا تو آپﷺ نے فرمایا میں تم کو نماز کی اور اپنے ماتحت غلاموں سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔

اس حدیث نے بخاری و مسلم کی روایات کے ابہام کو دور کر دیا کہ حکم کے اصل مخاطب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے نیز یہ کہ آپ بھی قلم دوات نہ لانے والے گروہ میں تھے حضرت علیؓ نے نہ لکھوا کر دراصل سیدنا عمرؓ کی تائید کی اور دونوں کی رائے حضورﷺ نے پسند فرما کر خاموشی اختیار کی اس سے ضمنا یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوموا عنی کا مخاطب وہ گروہ تھا جو لکھولنے کے حق میں تھا مگر شور میں پڑ کر نہ لاسکا توآپﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو میری مراقبہ حق میں حالت اس سے بہتر ہے جس تحریر کی طرف مجھے آمادہ کرتے ہو۔

اگر شیعہ کو ردِ وحی پر اب بھی اصرار ہے تو مجبوراً یہ دو قصے ہم سناتے ہیں کہ ایسا الزام تو سیدنا علیؓ پر بھی یقیناً آتا ہے۔

1: حضورﷺ ایک دن حضرت علیؓ کے گھر تشریف لے گئے نیند سے اٹھا کر تہجد کی پابندی کی تاکید فرمائی اس پرسیدنا علیؓ نے کہا والله لا نصلى الا ما كتب الله لنا اللہ کی قسم ہم تو فرض نماز کے سوا اور کوئی ہرگز نہ پڑھیں گے ہمارے دل خدا کے ہاتھ میں ہیں اگر نمازِ تہجد کی توفیق دیتا تو پڑھتے جب آپﷺ نے یہ جواب سنا تو ران پر ہاتھ مارتے ہوئے مکان سے لوٹے اور فرماتے تھے انسان سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔ (بخاری) 

2: شیعہ کی اپنی روایت بھی سنیے جو محمد بن بابویہ نے امالی میں اور دیلمی نے ارشاد القلوب میں نقل کی ہے کہ حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو 7 درہم دیے کہ حضرت علیؓ کو دو تاکہ وہ اس رقم سے اپنے اہل کے لیے غلہ خریدے کیونکہ ان پر بھوک غالب ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ حضرت علیؓ کو دے کر حضورﷺ کا حکم سنا دیا جب حضرت علیؓ لے کر باہر نکلے تو ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ کون ہے جو صحیح وعدہ پر قرض دے حضرت علیؓ نے وہ در ہم قرض دے دیئے۔

(بحوالہ حدیث قرطاس از علامہ محمود احمد) 

اس قسم کے متعدد واقعات کتبِ فریقین میں موجود ہیں اگر حضرت علیؓ کی شخصیت کا خیال نہ رکھا جائے اور شیعوں کی طرح خارجی ذہن سے سوچا جائے تو حضرت علیؓ پرسنگین الزامات قائم ہو سکتے ہیں۔ مثلاً حضورﷺ کے حکم کے باوجود حضرت فاطمہؓ اور حضراتِ حسنین کرمینؓ پر خرچ نہ کیے آپﷺ کو رنج پہنچایا حکم عدولی کی اپنے عیال کی حق تلفی کی مال غیر میں تصرف کیا اہلِ بیت کو بھوکا کیا یہاں اگر جذبہ ایثار کہہ کر اچھی تعبیر کریں تو سیدنا عمرؓ کے لیے بھی حضورﷺ کی سخت تکلیف اور بیماری کے پیشِ نظر حسبنا کتاب اللہ کو جذبہ محبت نبویﷺ سے تعبیر کریں۔

3: امامت و خلافت بلا فصل کے خواب دیکھنے والے نبوت کی تمام تبلیغی زندگی کو اس کی بھینٹ چڑھاتے ہیں مگر پھر بھی کامیابی نہیں ہوتی۔

دعوت ذوالعشیرہ سے لے کر اعلان خمِ غدیر تک بار بار رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کی خلافت کا اعلان فرمایا لیکن اب آخری تحریر کے ذریعے حضرت امیر ہی کی خلافت کا تعیین وصیت کے ذریعے کرنا چاہتے تھے۔ اگریہ تحریر قلمبند ہوجاتی تومخالفین کے منصوبے خاک میں مل جاتے ۔ مدتوں کی آس ٹوٹ جاتی خوابوں کی تعبیر اُلٹ جاتی اور تمام کیے کرائے پر یکمیشت پانی پھر جاتا لیکن اب حضرت عمرؓ کے بول پڑنے پر حضورﷺ کے سب کیے کرائے پر پانی پھر گیا (معاذ اللہ) 

4: چور کی داڑھی میں تنکا غیرمسلموں کی زبان سے اپنی نبوت دشمنی کا کیسے صاف اقرار کرتے ہیں جب وہ لوگ جن کے لیے وصیت کی جا رہی تھی اس کو معلوم کرنے کے روادار نہ تھے اور سننا تک نہیں چاہتے تھے تو پھر وصیت کیوں کی جاتی اگر کوئی بعد میں تحریر ہوتی تو غیر مفید رہتی ہی نہیں مخالفینِ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ایک بہانہ مل جاتا کہ دیکھیں وحی و قرآن و نبوت تو محض ایک آڑ تھی محمدﷺ تو محض دنیوی اقتدار کے خواہشمند تھے آخر ان کا وہی انجام ہوا جو دنیا طلب لوگوں کا ہوتا ہے ان کے بسترِ مرگ کے گردان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اس حکومت دنیوی کے لیے تلوار چل گئی یہی کچھ شیعہ آج بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق کہہ رہے ہیں شیعہ کی ان ہفوات کو اب بند کر کے قارئین سے معذرت چاہتا ہوں۔


صفحہ 6 از 6