حادثہ جمل و صفین
مولانا مہرمحمد میانوالیقرآنِ پاک میں قدرت کا ارشاد ہے:
وَمَنۡ يَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ خَالِدًا فِيۡهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيۡمًا ۞
(سورۃ النساء: آیت، 93)
ترجمہ: جو کوئی مار ڈالے مسلمان کو جان کر سزا اس کی دوزخ ہے ہمیشہ رہنے والا بیچ اس کے اور غصہ ہوا اللہ اوپر اس کے اور لعنت کی اس کو اور تیار رکھا ہے واسطے اس کے عذاب بڑا۔
(ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ)
ارشاد فرمائیں کہ اگر مؤمن کو عمداً قتل کرنے والا لعنتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا تو جمل و صفین اور تہران کے کل مقتول ستاون ہزار آٹھ سو سات کے قاتل کہاں جائیں گے کیا کلامِ مجید کے قوانین سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مستثنیٰ ہیں فیصلہ دو۔
خلافت مرتضوی میں خانہ جنگیوں کا حکم
الجواب: اہلِ سنت کا معتدل فیصلہ اور مخقہ جواب اس سلسلہ میں صرف اسی قدر ہے کہ یہ آیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے وقائع کو شامل نہیں
اولاً: اگر شامل مانا جائے تو قرآنِ پاک کی ان بیسوں آیات سے تعارض اور مخالفت لازم آتی ہے جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مقبول الایمان قطعی جنتی: رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ کی بشارات دی گئی ہیں پھر تاویل و توجیہ ایک آیت کی آسان ہے لیکن اور سینکڑوں محکم آیات سے اعراض خالص بے دینی ہے لہٰذا اس آیت سے ان آیاتِ کثیرہ کے معارض استدلال باطل ہوا۔
ثانیاً: آیت ہذا کی شرطیں وقائع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر صادق نہیں آسکتیں کیونکہ اہلِ نہروان میں بالاتفاق ایمان کی شرط نہیں تھی اہلِ جمل کے ساتھ معرکہ میں قصد و ارادہ نہ تھا جیسے عنقریب بیان ہو گا اہلِ صفین میں گو ایمان کامل اور فی الجملہ قصد و تعمد پایا گیا مگر وہ تاویل پر مبنی تھا سورۃ الحجرات کی آیت میں تاویلاً قتال کا جواز ہے مع ہذا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا نہج البلاغہ میں اہلِ صفین کے متعلق فیصلہ تو ان کو قطعی مؤمن و مسلمان بتاتا ہے بالاتفاق مؤمن آخر کار جنتی اور جہنم سے آزاد ہوگا تو حضرت علیؓ کے اعتقاد میں بھی یہ آیت اہلِ صفین کو شامل نہ رہی۔ثالثاً: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں نیک نیتی سے قتال ہو گیا آیت میں قتل پر وعید ہے قتل و قتال میں فرق نہ کرنا بے انصافی ہے لیکن افسوس کہ شیعہ حضرات اس معقول فیصلہ کو لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کا مصداق در خور اعتناء نہیں سمجھتے مجبوراً انہی کے گھر سے تحقیقی و الزامی جواب پر قلم سپرد کیا جاتا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعض میں مست اور مدعی حبِ علی سوال میں تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر ہی (العیاذ باللہ) اپنا بالا فتویٰ لگا رہا ہے کیونکہ سیدنا علیؓ بہت بہادر اور شیر جنگ تھے شیعہ کے ہاں افضلیت حضرت علیؓ کی اہم وجہ یہی ہے ان جنگوں میں سفک دماء سیدنا علیؓ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف سے ہوا بلکہ بروایت شیعه خود حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تمام ذمہ داری اپنے اوپر لینے کا اعتراف فرمایا ہے:
عن زر انه سمع عليا عليه السلام قال انا فقاءت عين الفتنة ولولا انا ما قتل اهل النهر وان واهل الجمل۔ (كشف الغمہ: صفحہ،331)
ترجمہ: حضرت زربن جیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا میں نے ہی فتنہ کی آنکھ پھوڑی ہے اگر میں نہ ہوتا تو اہلِ نہروان قتل ہوتے نہ جمل والے۔
اہل نہروان کے قاتل:
اہلِ نہروان بھی کوئی کافروں کی قوم نہ تھی نہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے ساتھی وہ حضرت علیؓ کے خاص الخاص شیعہ اور اصحاب تھے جو امامت کو منصوص من اللہ عہدہ کہتے تھے اور اس کے متعلق کسی ثالثی پنچایت یا شوریٰ کے فیصلوں کو باطل جانتے تھے علی بن عیسیٰ اردبیلی کشف الغمہ میں رقمطراز ہیں:
اذا انخذل طائفة من خاصة اصحابه في اربعة الاف وهم العباد والنساك فخرجوا من الكوفة وخالفوا عليا عليه السلام وقالو الاحكم الا لله ولا طاعة لمن عصى الله وانحاذ اليهم نيف عن ثمانية الاف ممن یری رأيهم فصاروا اثنی عشر الفا۔
(كشف الغمہ: صفحہ، 364)
ترجمہ: جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خاص اصحاب میں سے 4 ہزارکی جماعت الگ ہو گئی جو بڑے نیک اور عبادت گزار تھے تو کوفہ سے نکل کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کھلی مخالفت شروع کر دی اور کہتے تھے فیصلہ تو صرف اللہ کا مانا جاتا ہے جو بندے اللہ کی نافرمانی کریں ان کی اطاعت کیسی ان کے ساتھ آٹھ ہزار ان کے ہم خیال اور بھی لشکرِ علوی سے مل گئے تو ان کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی۔
ان ہی شیعہ غداروں سے حضرت علیؓ کو وہ جنگ لڑنی پڑی جس کے متعلق صحیح احادیث میں پیشین گوئی موجود ہے کہ ان کو وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے قریب ہوگی چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کو قتل کر کے اللہ کا شکر ادا کیا:
عن أبی الدرداء قال كان على لما فرغ من أهل النهروان حمد الله واثنی علیہ۔
(تاریخ طبری: جلد، 5 صفحہ، 89)
ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علیؓ اہلِ نہروان خارجیوں کی جنگ سے فارغ ہو گئے تو شکریہ میں خدا کی حمد و ثناء کی۔
شیعہ کا خارجی بن کر قاتل علی رضی اللہ عنہ ہونا:
انہی خاصانِ علیؓ اور شیعہ غداروں سے عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی جیسا بدبخت تھا جو کہ کوفہ کا باشندہ تھا
حضرت عثمانؓ کے مخالف گروہ کے ہاتھوں مصر من محب علیؓ ہونے کی ٹرینینگ حاصل کی پھر خاص شیعہ علی میں بھرتی ہو کہ مدینہ اور کوفہ میں کئی سال حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت اور پہرداری کی خدمت ادا کرتا رہا پھر مذکورہ بالا سبب کی وجہ سے خارجی ہوا پھر سیدنا علیؓ کو شہید کیا بغض سیدنا عثمانؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ میں اس قدر پکا تھا کہ قتلِ علیؓ کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کو قتل کرنے کی اجازت چاہتا ہے لیکن حضرت حسن المجتبیٰؓ نے یہ کار خیر نزد شیعہ ادا نہ کرنے دیا اس محبِ علیؓ نے قتلِ حضرت علی المرتضیٰؓ کے بعد شہادت علیؓ پر رونے اور ماتم کرنے کی طرح ڈالی۔
جلاء العیون کے اقتباسات ملاحظہ ہوں:
اور بصائر الدرجاتبسند ہائے معتبر روایت کرده است چون محمد بن ابی بکر گرو ہے از اشراف مصرا بخدمت امیر المومنين فرستاد عبد الرحمٰن بن ملجم درمیان ایشان بود: صفحہ، 183
کئی معتبر سندوں کے ساتھ بصائر الدرجات میں روایت ہے کہ جب حضرت محمد بن ابی بکرؓ نے مصر کے معززین کی ایک جماعت حضرت امیر المؤمنین کی خدمت میں بھیجی ان میں عبدالرحمٰن بن ملجم بھی تھا۔
2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اس نفرین کے باوجود اس نے تین مرتبہ حضرت علیؓ کے دوستدار ہونے کی قسم کھائی۔
تا آنکه سه مرتبه بخدمت آنجناب آمد در مرتبه سوم با حضرت بیعت کرد چون پشت کر د حضرت بار دیگر اور ابطلبید و سوگندها داد که بیت نشکند۔(صفحہ، 185)
ترجمہ: تین مرتبہ وہ حضرت کی خدمت میں آیا تیسری مرتبہ حضرت کے ہاتھ پر بیعت کی جس وقت واپس ہوا تو حضرت نے پھر بلا کر قسمیں دلوائیں کہ بیعت نہ توڑنا۔
3: بعد از قتل آن ملعون گریست و گفت با امیر المؤمنین آیا تو نجات میتوانی داد کسی را که در جهنم است پس امیر المومنین برائے آن ملعون به امام حسینؓ سفارش کر۔(صفحہ، 203)
ترجمہ: حضرت علیؓ پر حملہ کے بعد وہ رونے لگا اور کہتا تھا اے امیر المؤمنین کیا آپ جہنم میں جانے والے کو نجات دے سکتے ہیں شیعہ کا آج بھی یہی عقیدہ ہے امیر المؤمنین نے اس ملعون کے لیے حضور حسنؓ سے سفارش کی۔
اسی سلسلہ میں ہے کہ ابنِ ملجم نے کہا میں نے تمہارے باپ کو قتل کرنے کا خدا سے عہد کر رکھا تھا وہ پورا کر دیا آپ اے سیدنا حسنؓ، مجھے چاہیں تو قتل کریں اگر معاف کریں تو میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس جاتا ہوں اور اس کو قتل کر کے اس کے شر سے تجھے راحت دیتا ہوں۔ (صفحہ، 218)
کوفی مصری اور بصری بلوائیوں کو اصحاب رسول سے جھوٹی تعبیر کر کے حضرت عثمانِ غنیؓ پر طعن کرنے والو! اپنے اس بڑے قسم خور محبِ علیؓ دشمنِ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور عزادار علی کے مذہب پر بھی غور و فکر کر کے حسرت و ندامت کے آنسو بہایا کرو
یہاں تک اہلِ نہروان کا بیان ہوا جن کے قاتل حضرت علیؓ پر معترض صاحب کا فتویٰ صادر کرتے ہیں شاید اس وجہ سے ان سے عقیدت و ہمدردی ہو گی کہ وہ شیعہ کے پیشوایان اول اور عقیدہ امامت کو منجانب اللہ خدائی عہدہ مانتے تھے اور شوری رائے زنی کے قائل نہ تھے جو آج بھی شیعہ کا عقیدہ ہے سے قیاس کن ز گلستان من بہار مرا اور شاید یہی وجہ ہو کہ نماز پنجگانہ کے بعد حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ حضرت عائشہؓ حضرت حفصہؓ وغیرہم بزرگانِ دین پر شیعہ لعنت بھیجتے ہیں لیکن اس فہرست میں ابنِ ملجم کا نام نہیں ہے۔ (فروع کافی: صفحہ، 246)
اہل جمل کے قاتل:
شہدائے جمل کی داستان بڑی درد ناک ہے جب شہادت حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے بعد بلوایانِ سیدنا عثمانؓ مدینہ منورہ پر قابض ہو گئے اور حضرت عثمانِ غنیؓ کے حامیوں اور جمہور مسلمانوں پر سختی ہونے لگی اور لوگ مدینہ سے بھاگنے پرمجبور ہو گئے جیسے ایک فراری عبید بن ابی سلمہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کے استفسار پر فرمایا۔
اخذوا اهل المدينة بالاجتماع على على والقوم الغالبون على المدينة۔
(طبری: جلد، 5 حوادث، 36ھ)
ترجمہ: بلوائیوں نے پکڑ دھکڑ سے اہلِ مدینہ سے سیدنا علیؓ کی بیعت کروائی ہے اور وہ مدینہ پر پوری طرح قابض ہیں اور اس حالت کے عینی شاہد حضرت طلحہٰؓ اور حضرت زبیرؓ جیسے بزرگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ام المؤمنین سے آ کر عرض کی:
فقالا وراءنا انا تحملنا بقلتنا هر ابا من المدينة من غوغاء و اعراب و فارقنا قوما جیاری لا یعرفون مقاولا ينكرون باطلا ولا يمنعون انفسھم۔ (طبری: جلد، 5 ايضاً)
ترجمہ: کہنے لگے ہمارے پیچھے مدینہ کی حالت یہ ہے کہ ہم اپنی قلت کی وجہ سے مدینہ سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں وہاں اجڈ گنواروں کا زور ہے ہم ایسی قوم سے جدا ہو کر ائے ہیں جو حیران ہیں حق نہیں پہچانتے باطل کا ارتکاب نہیں کرتے نہ فساد سے اپنے نفسوں کو روکتے ہیں۔
ان تاریخی شہادتوں کے علاوہ نہج البلاغہ میں بھی یہ حقیقت مسطور ہے کہ جب حضرت علیؓ سے اہلِ مدینہ نے قصاصِ عثمانِ غنیؓ کا مطالبہ کیا تو فرمانے لگے ابھی یہ کیسے ممکن ہے۔
هم یملكوننا ولا نملكهم۔
ترجمہ: ہمارے وہ مالک بنے ہوئے ہیں گویا حکومت ان کی کٹھ پتلی ہےاور ہم ان پر قابو یافتہ نہیں ہیں۔
ان حالات میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ کے سفر سے واپسی کا رخ کیا خلافتِ اسلامیہ کے وقار حضرت عثمانؓ مظلوم کے قصاص میں حضرت علیؓ کی اعانت اور بلوائیوں سے ان کی رہائی جیسے مقاصد حسنہ کے پیشِ نظر مکہ مکرمہ میں لشکر کی فراہمی شروع کی لیکن فتنہ بازوں نے حضرت علیؓ کو غلط رپورٹ پہنچائی آپ نے بھی عجلت سے کام لیتے ہوئے اہلِ مدینہ کو حضرت طلحہٰؓ حضرت زبیرؓ اور ام المؤمنین کے ساتھ جنگ کے لیے ابھارا مگر اہلِ مدینہ نے تنے چند کے سوا ساتھ نہ دیا۔
(البدایہ، و ابنِ اثیر: جلد، 5 صفحہ، 164)
مجبوراً آپ نے کوفہ سے بلوائیوں کے رشتہ داروں کا لشکر فراہم کر کے بصرہ پر چڑھائی شروع کردی بزرگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے روکنے سے بھی نہیں روکے طبری سے کچھ تفصیلات ملاحظہ ہوں۔
حضرت محمد اور حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مدینہ میں تھے آپ کو خبر ملی کہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ قصاصِ عثمانِ غنیؓ کی تیاری میں بصرہ جانا چاہتے ہیں اور مقصد آپ کو معلوم ہوا جس پر حضرت طلحہؓ، حضرت زبیؓر، حضرت عائشہؓ اور ان کے سردار اور تابعدار متفق تھے یعنی قصاصِ عثمانؓ تو حضرت علیؓ نے جو تیاری شام پر چڑھائی کے لیے کر رکھی تھی اسی تیاری سے بصرہ پر چڑھائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ کوفیوں، بصریوں کے 700فوجی تھے آپ کا خیال تھا کہ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیؓر کا محاصرہ کر کے ان کو اس اقدام سے باز رکھیں گئے۔
(طبری: جلد، 4 صفحہ، 455، 477)
اسی دوران حضرت عبداله بن سلامؓ نے حضرت علیؓ کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر فرمایا:
يا امير المومنين لا تخرج منها فو الله ان خرجت منها لا ترجع إليها ابد اولا يعود اليها سلطان المسلمین ابدا فسبوه فقال دعوا الرجل فنعم الرجل من أصحاب محمد۔
اے امیر المؤمنین آپ مدینہ سے نہ نکلیں اللہ کی قسم اگر آپ یہاں سے نکل پڑے تو کبھی پلٹ کر نہ آئیں گے اور مسلمانوں کے خلافت کبھی مدینہ نہ آئے گی لوگ عبداللہ کو گالیاں دینے لگے تو حضرت علیؓ نے فرمایا اس آدمی کو کہنے دو حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے یہ بہت اچھا آدمی ہے۔
اسی روایت میں ہے کہ اور تو اور آپ کے فرزندِ اکبر حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی اس خروج کے مخالف تھے اور روکتے ہوئے فرمایا ابا جان آپ میری ہر بات میں مخالفت کرتے ہیں میں نے محاصرہ حضرت عثمانؓ کے وقت آپ کو باہر چلے جانے کا کہا تا کہ لوگ قتل کا الزام آپ پر نہ لگائیں میں نے کہا اس وقت تک لوگوں سے بیعت نہ لیں جب تک باہر کے لوگ بیعت نہ کریں میں نے کہا حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے آپ کے ہاتھوں سے نکل جانے پہ آپ خاموشی سے گھر بیٹھ رہیں تا آنکہ وہ صلح کر لیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا؛
والله ما زلت مقهورا من ولیت منقوصا لا اصل الى شيء مما ينبغی وأما قولك واجلس في بيتك فکیف بما قد نزلنی او من تریدنی الخ۔
(طبری: جلد، 4 صفحہ، 456 البدایہ والنہایہ: جلد 7، صفحہ، 334)
ترجمہ: اللہ کی قسم جب سے میں حاکم بنا ہوں مجبور کیا جاتا ہوں اپنے مرتبے سے کم ہو رہا ہوں کرنے کے کام تک میری رسائی نہیں رہی تیری یہ بات کہ میں گھر میں بیٹھ رہوں تو خلافت کی ذمہ داری سر پر پڑھنے کے بعدیہ کیسے ہوسکتا ہے کیا تو چاہتا کہ عورتوں کی طرح دبک بیٹھوں۔
الفرض ان تلخ حقائق کی روشنی میں بلوائیوں کے اصرار اور دباؤ سے آپ بصرہ کی طرف جلدی میں چل تو پڑے لیکن جب فریقین کے بزرگ آپس میں ملے تو پتہ چلا کہ اختلاف فی نفسہ کچھ بھی نہیں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قصاص لینے کے منکر نہیں نہ سیدنا طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیرؓ رضی اللہ عنہا وام المؤمنین حضرت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے باغی اور مخالف ہیں بلکہ وہ تو فراہمی لشکر سے حضرت علیؓ کی حکومت سے قصاص کے مسئلہ پر تعاون کرنا چاہتے ہیں چنانچہ مصالحت کی بات چیت مکمل ہو گئی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ علیہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیج کر بتلایا کہ وہ بلاشبہ صلح و اتفاق کے لیے آئی ہیں پس یہ لوگ بھی خوش ہو گئے اور وہ لوگ بھی
(طبری: جلد، 4 صفحہ، 489)
پھر حضرت علیؓ نے لوگوں میں خطبہ دیا حمد و ثناء کے بعد زمانہ جاہلیت کی بد بختی اور بداعمالی کا ذکر کیا پھر اسلام کا ذکر کرتے ہوئے اس کی وجہ سے مسلمانوں کی آپس میں محبت اور ایک جماعت ہونے کا ذکر کیا۔
و ان الله جمعهم بعد نبيهم على الخليفة ابى بكر الصديقؓ ثم بعدہ عمر بن الخطابؓ ثم علیؓ عثمانؓ ثم حدث ھذا الحدث الذی جری علی الامة اقوام طلبوا الدنیا وحسدوا علی الفضیلتہ التی من اللہ بها واراد وارد الاسلام والاشياء علی ادبارها والله بالغ امرہ ثم قال الا انی مر تحل غدا فار تحلو او لا يرتحل معى أحد اعان علی قتل عثمان بشی ء من امور الناس۔
(طبری: جلد، 4 صفحہ، 493 البدايہ: جلد، 7 صفحہ، 339 ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 1079 ابنِ اثیر: جلد، 3)
ترجمہ: اور بے شک اللہ نے اپنے نبی کے بعد مسلمانوں کو خلیفہ ابی بکر صدیقؓ پر پھر حضرت عمرؓ پھر حضرت عثمانؓ پر جمع کر دیا پھر امت پر یہ اختلاف کا حادثہ پیش آیا یہ فتنہ باز دنیا کے طالب ہیں اس امت پر اللہ کی نعمت اتفاق پر حسد کرتے ہیں اسلام اور اس کی اصلاحات کو پسِ پشت ڈال کر جاہلیت کا دور لانا چاہتے ہیں پھر فرمایا سنو میں کل واپس ہونے والا ہوں تم بھی واپس چلو اور میرے ساتھ ان میں سے کوئی بھی نہ چلے جنہوں نے کسی قسم کی قتلِ عثمانؓ میں مدد کی ہے۔
یہی تمام مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس خطبہ کے بعد ہی بلوائیوں جو حضرت علیؓ کے لشکری تھے کے لیڈر اکٹھے ہوئے جیسے اشتر نخفی شریح بن ابی اوفیٰ عبد الله بن سبا المعروف بابن سودا سالم بن ثعليه، علباء بن الہثیم وغیرہ ڈھائی ہزار نفوس کے لگ بھگ ان میں صحابی کوئی نہ تھا الحمدللہ تو کہنے لگے یہ کیا بات ہے حضرت علیؓ اللہ کی قسم کتاب اللہ کو قصاصِ حضرت عثمانؓ کے طالبوں سے زیادہ جانتے ہیں اور اس بات پر عمل کرنے کے زیادہ قریب ہیں اور تم انکا فرمان سن چکے ہو بالآخر اس فیصلہ پر متفق ہوئے کہ دونوں لشکروں میں گھل مل کر سو جاؤ رات کو کسی وقت اٹھ کر تلوار چلانا شروع کر دو حضرت علیؓ کے لشکری کہیں حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ نے غداری کی اور کہیں حضرت علی المرتضیٰالمرتضیٰؓ نے غداری کی تم اس تدبیر سے قصاص سے بھی جاؤ گے وہ مسلمان اس فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے جو تمہارا مقصود ہے چنانچہ یہی کچھ ہوا ہر ایک نے فریق مخالف سے غدر سمجھ کر دفاعاً تلوار چلائی (جملہ تواریخ ) تاریخِ اسلام از شاه معین الدین احمد ندوی سے چند
اقتباسات ملاحظہ ہوں:
قعقاع بن عمرو کی کوشش سے حضرت عائشؓہ، حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ نے اپنے اصلاحی اقدام کو مصالحت کی شکل دی اور ہر شر انگیز مشورہ کوردکر دیا، حضرت علیؓ نے اپنی جماعت کو پر امن رکھنے کے لیے ایک دن اس کے سامنے تقریر کی کہ ان لوگوں سیدنا طلحہٰؓ و سیدنا زبیرؓ کے بارے میں اپنے ہاتھ اور زبان کو قابو میں رکھو پیش آنے والے واقعات کا صبر کے ساتھ انتظار کرو اور پیش دستی سے بچو آج جو شخص جنگ کی ابتداء کرے گا کل خدا کے نزدیک وہ دشمن سمجھا جائے گا غرض فریقین ہر ممکن طریقہ سے جنگ کی روک تھام اور صلح کی کوشش کرتے رہے اس درمیان میں بہت سے محتاط مسلمان اس جنگ سے کنارہ کش ہوگئے چنانچہ احنف بن قیس چھ سو آدمیوں کی جماعت لے کر علیحدہ ہو گئے اب حضرت علیؓ ذی قار سے بصرہ پہنچ چکے تھے۔ آپ اور حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ میں صلح کی آخری گفتگو ہوئی اور مختلف فیہ مسائل پر بحث و مباحثہ ہونے کے بعد بالاتفاق طے پایا کہ امت کی فلاح صلح ہی میں ہے مصالحت کی تکمیل کے بعد فریقین اپنے اپنے لشکر گاہوں پر مسرور و مطمئن واپس گئے اور اطمینان وسکون کے ساتھ سوئے مگر سبائیوں کے لیے یہ صلح بڑی شاق تھی اس لیے انہوں نے طے کیا کہ صبح ہونے سے پہلے ہی اندھیرے میں دونوں فوجوں پر حملہ کر دیا جائے چنانچہ ان لوگوں نے راتوں رات اندھیرے میں دونوں فوجوں پر حملہ کر دیا اور صبح ہوتے ہوئے ہنگامہ بپا ہو گیا اس غیر متوقع حملہ نے دونوں کو گھبرا دیا کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ واقعہ کیا ہے حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس وقت بھی روکنے کی کوشش کی حضرت علیؓ پکار پکار کر کہتے تھے کہ لوگو رک جاؤ حضرت عائشہ صدیقہؓ فوراً اونٹ پر بیٹھ کر روکنے کے لیے پہنچیں لیکن اس ہنگامہ میں کون کسی کی سنتا، اصل حقیقت کی کسی کو خبر نہ تھی اس لیے ہر فریق نے یہی گمان کیا کہ دوسرے نے بد عہدی کی۔
ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے جان نثاروں کی جانبازی اور جنگ کا خاتمہ:
سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی اونٹ پر سواری مال کار جاں نثاروں کی حوصلہ افزائی میں تبدیل ہوگئی اور ہر طرف سے محمل پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی تیروں کی کثرت سے محمل ساہی بن گیا تھا جاں نثاروں نے جانبازی کا حق ادا کر دیا قبیلہ بنی ضبہ اور ازد نے اونٹ کو اپنے حصار بچاؤ میں لے لیا اس کی حفاظت میں دو ہزار سات سو ازد اور دو ہزار بنی ضبہ نے جانیں فدا کیں اونٹ کی مہار پکڑنا گویا موت کے منہ میں جانا تھا لیکن جاں نثاروں نے تانتا نہ ٹوٹنے دیا جیسے ہی ایک گرتا تھا فورا دوسرا اس کی جگہ لیتا تھا اس طریقہ سے چالیس آدمیوں نے یہ سعادت حاصل کی۔
حضرت علیؓ نے دیکھا کہ جب تک اونٹ اپنی جگہ پر قائم رہے گا اس وقت تک یہ خونریزی بند نہیں ہو سکتی اس لیے انہوں نے حکم دیا کہ اونٹ کے پاؤں زخمی کر کے اسے گرا دیا جائے اس حکم پر چند آدمی آگے بڑھے اور ایک شخص اعین بن ضبہ نے اونٹ کے پاؤں زخمی کر دیے وہ بلبلا کر بیٹھ گیا اس کے بیٹھتے ہی لڑائی کا رنگ بدل گیا اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی فوج کی ہمت چھوٹ گئی۔
(تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 260)
القصہ قاتلانِ عثمانؓ نے اور حضرت علیؓ کے فوجیوں کی سازش سے یہ خونی معرکہ پیش آیا جس میں دس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔
کشف الغمہ کے شیعہ مؤرخ نے بڑے فخر سے اس خونریزی کے متعلق لکھا ہے:
جنگ خوب گرم ہوئی حتیٰ کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں اور وہ گر پڑا سب میدان خون سے سرخ ہو گیا جمل والے بصری، شکست کھا گئے جمل کے مقتول لشکر کی تعداد 16790 تھی اور وہ کل 39 ہزار تھے حضرت علیؓ کے ساتھیوں سے 1070قتل ہوئے جبکہ 20 ہزار تھے۔ (کشف الغمہ: صفحہ، 330)
فریقین کے مقتولوں کے متعلق اس میں جانبداری اور کذب و مبالغہ ضرور کار فرما ہے لیکن وجہ ظاہر ہے کہ جمل والوں پر اچانک صلح کے بعد یہ سوتے ہوئے حملہ ہوا اور حضرت علیؓ کا معقول لشکر بیدار اور فتنہ بھڑکانے میں تھا اس نے نیند میں غافل مسلمانوں کو ذبح کر کے بہادری کا بڑا ڈپلوما حاصل کیا۔
تاریخ کے ان حقائق کی روشنی میں یہ خونی معرکہ قاتلانِ حضرت عثمانؓ کی سازش کا مرہون منت تھا اہلِ سنت و الجماعت کے اعتقاد کے مطابق ذمہ دار اور گنہگار وہی بلوائی ہیں جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فوجی تھے نہ سیدنا علی المرتضیٰؓ پر ہم کوئی طعن کرتے ہیں نہ بلوائیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر کوئی ذمہ داری یا الزام ہے شیعہ کو اگر زیادہ اصرار ہی ہے تو ان تفصیلات میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ممانعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باوجود مدینہ سے لشکر لانا پھر اپنے لشکریوں کے مکر سے بقول شیعہ عالم الغیب اور مشکل کشا ہونے الغیب اور مشکل کشا ہونے کے باوجود بے خبر رہنا اور سازش کو ختم نہ کرنا حتیٰ کہ 18 ہزار یا 10 ہزار مسلمانوں کا گاجر مولی کی طرح کٹ جانا آج بھی ان خونی معرکوں کو مزے سے بیان کرنا اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اس بہادری پر فخر کرنا معائنہ کر کے انصاف سے شیعہ ہی بتلائیں کہ اس خونریزی کا ذمہ دار کون ہوا قیامت کے دن یہ 18 ہزار کا خون کس کے سر ہو گا۔ اور ان کا منقولہ فتویٰ قرآنی کس پر چسپاں ہوا۔
پس منظر جنگ صفین:
صفین کی نوعیت بھی یہی ہے کہ قاتلانِ عثمانؓ کی سازش سے رونما ہوا آپ غور کریں کہ حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہی جنگِ جمل سے پہلے اہلِ شام پر لشکر کشی کی مدینہ سے تیاریاں کیوں ہو رہی تھیں حضرت امیرِ معاویہؓ نے تو خونریزی سے بچتے ہوئے اہلِ جمل کی بھی آکر مرد نہیں کی پھر بھی ایک عظیم لشکر یہیں سے شام کو چہل قدمی کرتا ہے اور صفین کے مقام پر اس کو جنگ پر ابھارا جاتا ہے۔
ان علياؓ حرض الناس يوم صفين فقال ان الله قد دلکم علی تجارة تنجيكم من عذاب اليم۔
(طبری: جلد، 5 صفحہ، 16)
ترجمہ: بے شک حضرت علیؓ نے لوگوں کو صفین کے دن جنگ پر ابھارا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی تجارت بتائی ہے جو تمہیں درد ناک عذاب سے نجات دے گی۔
طبری: جلد، 4 صفحہ، 563 پر ہے:
کہ حضرت علیؓ نےجمل سے فراغت کے بعد ہی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو بصرہ پر خلیفہ بنایا اور وہاں سے ہی کوفہ چلے وہاں جنگِ صفین کیلئے تیاری کی اور لوگوں سے مشورہ لیا ایک جماعت نے مشورہ دیا کہ خود نہ جائیں لشکروں کو بھیج دیں دوسروں نے جانے کا مشورہ دیا حضرت علیؓ نے جانے پر ہی اصرار کیا، پھر لوگوں کا لشکر تیار کر کے چل پڑے جب سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر ملی تو اس نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلا کر مشورہ کیا تو اس نے کہا جب آپ کو خبر ملی ہے کہ وہ خود آ رہے ہیں تو آپ بھی خود چلیں اور اپنی عقل اور تدبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
(طبری: جلد، 4 صفحہ، 563)
شانِ صحابیت کا تقاضہ تھا کہ مصالحت کی گفت و شنید ہو چنانچہ بہت سے حضرات نے مصالحت کی کوشش کی مگر سبائی جماعت نے اپنی تمام تر قوتیں اس میں صرف کردیں کہ طرفین میں محبت اور رعایت کے بجائے دشمنی اور نفرت کا جذبہ تیز ہو جائے چنانچہ یہ غدار اور مفسده برداز گروہ اپنی مکروہ کوششوں میں کامیاب ہو گیا اور مصالحت کی ساری جد و جہد نقش بر آب ثابت ہوئی۔
(تاریخ اسلام اردو از نشتر: جلد، 2 صفحہ، 237)
چند تاریخی حقائق ملاحظہ ہوں:
1: شام کے ایک عابد و زاہد بزرگ ابو مسلم خولانؒی چند آدمیوں کو ساتھ لے کر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مخالفت سے باز رہنے کا اصرار کیا تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے جواب دیا کہ میں فضیلت میں ان کی برابری کا مدعی نہیں ہوں ۔ آپ کو معلوم ہے کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ مظلوم شہید کیے گئے ان لوگوں نے کہا ہاں حضرت امیرِ معاویہؓ نے کہا ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قاتلوں کو ہمارے حوالے کیا جائے ہم ان کی خلافت تسلیم کریں گے ابو مسلم خولانؒی نے کہا تم اسے لکھ کر دے دو میں حضرت علیؓ کے پاس لے کر جاؤں گا چنانچہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے یہ خط لکھا: اما بعد! خلیفہ سیدنا عثمانؓ تمہارے یہاں تمہاری موجودگی میں قتل کیے گئے تم ان کے گھر کا شور و غل سنتے رہے اور اپنے قول و عمل سے نہ روکا میں سچی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم سچائی اور اخلاص سے ان کی مدافعت کیے ہوتے تو ہم میں کوئی تمہاری مخالفت نہ کرتا۔ دوسرا الزام تم پر یہ ہےکہ تم نے قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کو پناہ دی اور وہ اس وقت تمہارے قوت و بازو و تمہارے اعوان و انصار اور تمہارے مشیر کار ہیں ہم کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم حضرت عثمانؓ کے خون سے برأت کرتے ہو اگر تم اس میں سچے ہو تو قاتلوں کو قصاص کے لیے ہمارے حوالے کر دو ہم سب سے پہلے تمہاری بیعت کے لیے تیار ہیں اگر ایسا نہیں کرتے تو ہمارے پاس تمہارا جواب صرف تلوار ہے خدائے واحد کی قسم ہم لوگ بحر و بر سے سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں کو تلاش کر کے قتل کریں گے یا خود جان دے دیں گے۔
ابو مسلم یہ خط لے کر کوفہ گئے اور حضرت علیؓ کی خدمت میں پیش کر کے عرض کیا کہ آپ خلیفہ ہیں اگر آپ اس کے حقوق پورے کریں تو اللہ کی قسم یہ منصب ہم کسی دوسرے کے لیے پسند نہیں کرتے۔ سیدنا عثمانؓ مظلوم شہید کیے گئے ان کے قاتلوں کو آپ ہمارے حوالے کیجئے آپ ہمارے امیر ہیں اس کے بعد اگر کوئی شخص آپ کی مخالفت کرے گا تو ہم آپ کے مدد گار ہیں اور آپ کے لیے بھی دلیل اور معقول عذر ہو جائے گا۔
یہ مطالبہ سن کر حضرت علیؓ نے ابو مسلم کو ٹھرا لیا اور فرمایا کل اس کا جواب دوں گا دوسرے دن ابو مسلم جامع کوفہ میں آپ سے ملے یہاں دیکھا کہ دس ہزار مسلم آدمی نعرہ لگا رہے ہیں کہ ہم سیدنا عثمانؓ کے قاتل ہیں یہ رنگ دیکھ کر ابو مسلم نے کہا معلوم ہوتا ہے انہیں میرے آنے کا سبب معلوم ہو گیا ہے اور انہوں نے اپنے بچاؤ کی یہ تدبر نکالی ہے حضرت علیؓ نے فرمایا میں نے ہر چند اس معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن قاتلوں کا حوالہ کرنا میرے امکان ہی میں نہ تھا اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے خط کا یہ جواب دیا کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں میں نے کسی کو ان کے خلاف نہیں بھڑکایا البتہ جب زیادہ ہنگامہ برپا ہوا تو میں خانہ نشین ہو گیا مجھ کو خوب معلوم ہے کہ قاتلینِ حضرت عثمانؓ کے حوالہ کرنے کے مطالبہ کو تم اپنے حصول مقصد کا ذریعہ بنانا چاہتے ہو اگر تم اس فتنہ انگیزی سے بے راہ روی سے باز نہ آؤ گے تو جو سلوک باغیوں سے کیا جاتا ہے وہ تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔
(تاریخ اسلام ندوی بحوالہ اخبار الطوال: صفحہ، 173، 174)
2: البدایہ والنہایہ: جلد 7 صفحہ، 299 تاریخِ طبری وغیرہ میں ہے کہ حضرت ابو درداءؓ اور حضرت ابو امامہ باہلیؓ جیسے بزرگ حضرت علیؓ کی طرف سے نمائندے بن کر حضرت امیرِ معاویہؓ کے پاس گئے اور کہا اے حضرت امیرِ معاویہؓ آپ اس شخص سے کیوں لڑتے ہیں جو بخدا آپ سے اور آپ کے باپ کے اسلام لانے میں مقدم ہیں آپ سے بڑھ کر حضورﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں اور اس امر کے تجھ سے زیادہ مستحق ہیں شاید ان بزرگوں کا خیال ہو گا کہ اس طرز سے حضرت امیرِ معاویہؓ کو شوقِ خلافت ہے مگر حضرت امیرِ معاویہؓ نے اپنی زبان سے اس خدشہ کی تردید کر دی آج بھی کچھ لوگ یہی سمجھتے ہیں اگر انسان کا قول و عمل جب اس کے خلاف ہو تو دلوں پہ بدگمانی جائز نہیں اسے علیم بذات الصدور ہی خوب جانتا ہے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے فرمایا میں خلافت کے لیے نہیں لڑتا میں تو صرف حضرت عثمانؓ کے خون پر آپ سے لڑ رہا ہوں کیونکہ آپ نے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو پناہ دے رکھی ہے تم دونوں حضرت علیؓ کے پاس جاؤ اور کہو کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے ہمیں قصاص دلا دو پھر اہلِ شام میں سے سب سے پہلا شخص میں ہوں گا جو حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت کرے گا چنانچہ وہ دونوں حضرت علیؓ کے پاس گئے اور یہ پیغام پہنچایا تو حضرت علیؓ نے فرمایا وہ یہ ہیں جن کو تم دیکھ رہے ہو ہیں ایک انبوہِ کثیر اٹھ کھڑا ہو اور کہنے لگے ہم سب سیدنا عثمانؓ کے قاتل ہیں جو کوئی چاہے ہم سے قصاص لے لے حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ یہ ماجرا دیکھ کر واپس ہوگئے اور کسی طرف سے جنگ میں شرکت نہ کی۔ (البدایہ وغیره) مزید تفصیل ہماری کتاب عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دیکھیں۔
3: حضرت امیر المؤمنین امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے اپنے گمان میں دیندار اور نیک نیت ہونے کا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اعتراف کیا ہے چنانچہ شیعہ کتاب کشف الغمہ: صفحہ، 509 پر ہے:
الا ان اعجب العجب ان معاویہ بن سفیانؓ و عمرو بن العاصؓ السهمی یحرضان الناس على طلب الدين بزعمهما وانی والله لما اخالف رسول اللهﷺ قط ولم اعصه فی امرہ قط۔
ترجمہ: کیا ہی عجیب تر بات ہے کہ حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے گمان کے مطابق لوگوں کو دین کے مطالبے پر ہی ابھارتے ہیں حالانکہ میں نے بھی کبھی حضورﷺ کی مخالفت اور کسی حکم میں آپ کی نافرمانی نہیں کی۔
4: اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو سفراء حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے وہ ایسے تلخ اور تہدید آمیز گفتگو کرتے تھے جس سے بجائے صلح اور سکون کے خواہ مخواہ جنگ اور اشتغال انگیزی کی فضا پیدا ہو جاتی ان میں شبث بن ربعی کی تلخ کلامی اور فساد انگیزی سب مؤرخین نے لکھی ہے حالانکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سفیر یہ وہی صاحب ہیں جو کے تحکیم کےموقعہ پر خارجی بن گے پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر بھی مخالف ہو گئے پھر شعیانِ حسین میں سے ہو کر کوفہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا تھا پھر بر وقت آپ سے غداری اور بے وفائی کر کے نصرت سے باز رہے اور آپ نے ایسے اس کا دعوتی نوشتہ دکھا کر شرمندہ کیا تھا (جلاء العیون) افسوس کہ بد قسمتی سے قاتلانِ عثمان اور بلوائی نام نہاد ایسے شیعان اہلبیت رضی اللہ عنہم بنے جن کی سازشوں اور غداریوں بلکہ تلواروں سے اھلبیت رضی اللہ عنہم اور دیگر مسلمانوں کے خون سے تاریخ کا ایک ایک ورق رنگین ہے مگر غضب یہ ہے کہ شیعہ آج بھی انہی لوگوں کی عقیدت کا دم بھرتے اندوہناک حادثات کو اچھالتے اور اپنے تخریب کار وجود پر فخر کرتے ہیں جب صلح کی کوشش ناکام ہوگئی تو جنگ کا آغاز بھی سنیئے۔
فاخذ علیؓ يامر الرجل ذ الشرف فيخرج معه جماعة ويخرج اليه من اصحاب معاويةؓ آخر معه جماعة فيقتتلان في خيليهما ورجالهما۔
(طبری: جلد، 4 صفحہ، 574)
ترجمہ: پس حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک ایک بہادر مرد کو حکم دیتے تھے اس کے ساتھ ایک جماعت نکلتی تھی پھر حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف سے بھی ایک ایک آدمی با جماعت نکلتا تھا تو یہ سوار اور پیادہ جنگ کرتے تھے۔
مایہ ناز شیعہ علی اور آپ کا باڈی گارڈ شمر ذی الجوشن (قاتلِ حسین )بھی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتا اور عربی کے اشعار پڑھنا تھا۔ (طبری: جلد، 4)
جن کا ترجمہ اردو شاعر نے یہ کیا ہے:
علی میرا امام ہے اور میں علی کا غلام علی کے واسطے لڑتا ہوں میں بلشکرِ شام
ان متفرق جھڑیوں میں مسلمان ایک دوسرے کے احترام میں تیزی نہ دکھاتے پھر ایک دوسرے کے مقتولوں کی تجہیز و تکفین میں بھی رات کو شریک ہوتے تھے سات ماہ اسی حالت میں گزر گئے تا آنکہ ایک رات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کن جنگ کی ٹھانی اور لیلۃ الحریر میں مشہور حملہ کیا اور اتنی خوف ناک جنگ ہوئی کہ ستر ہزار نفوس کام آئے اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ ۞ اس کے باوجود حضرت علیؓ کو حسبِ منشاء فتح نہ ہوئی۔
(قاضی نور اللہ مجالس المؤمنین: صفحہ، 204 میں لکھتے ہیں:
گر در صفین ظفر نیافت او در حنین فتح نیافت۔
ترجمہ: اگر حضرت علیؓ نے صفین میں فتح نہ پائی تو حضورﷺ نے بھی حنین میں فتح نہ پائی۔
واضح رہے کہ جنگِ جمل و صفین میں حضرت علیؓ کے بالمقابل حضرات تو صرف خونِ عثمانؓ کا بدلہ چاہتے تھے اہلِ جمل کا نظریہ گزر چکا ہے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط بھی آپ نے پڑھا ایک اور حوالہ ملاحظہ ہو:
وأما الطاعة لصاحبكم فانا لا نراها ان صاحبكم قتل خليفتنا و فرق جماعتنا واوى ثارنا وقتلتنا وصاحبكم يزعم انه لم يقتله فنحن لا نرد ذلك عليه ارايتم قتلة صاحبنا الستم تعلمون انهم ا اصحاب صاحبكم فيدفعوا الينا فنقتلهم به ثم نحن نجيبكم إلى الطاعة والجماعة۔(طبری: جلد، 5 صفحہ، 6)
ترجمہ: تمہارے صاحب حضرت علیؓ کی اطاعت ہم جائز نہیں سمجھتے کیونکہ اس نے ہمارے خلیفہ کا قتل کیا ہماری جماعت کو تتر بتر کر دیا ہمارے قاتلوں اور حملہ آوروں کو پناہ دی تمہارے بزرگ کا خیال ہے کہ اس نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو قتل نہیں کیا تو ہم اس کے منکر نہیں ہیں لیکن بتلاؤ تو تم نے سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو دیکھا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ وہ تمہارے صاحب کے فوجی ہیں وہ ہمارے سپرد کر دیئے جائیں تاکہ ہم انہیں قصاصِ عثمانؓ میں قتل کریں پھر ہم تمہاری اطاعت اور جماعت میں شرکت کریں گے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر (العیاذ باللہ) لعنتی اور جہنمی کا فتویٰ لگانے والے شیعہ معترض آنکھیں کھول کر دیکھیں اور انصاف سے کہیں کیا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اطاعت مشروط بالقصاص نہ کر دی پھر بھی قصاص نہیں لیا گیا جبکہ نہج البلاغہ کی تصریح کے مطابق آپ قصاص لینا واجب جانتے تھے۔
قارئین کرام ! کتبِ شیعہ و تاریخ کے حوالوں سے تمام حقائق آپ کے سامنے ہیں آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ حضراتِ طالبین قصاص اپنے موقف میں کسی قدر معذور اور درست تھے اور کس قدر غلطی پر تھے۔
یہی وہ تلخ حقائق ہیں جن کی بناء پر مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بحث میں پڑنے سے علمائے اہلِ سنت نے منع فرمایا ہے کیونکہ فریقین سے بدظنی پیدا ہوتی ہے اگر ایک فریق مشکلات کی بناء پر معذور ہے تو دوسرے گروہ کوبھی محترم صحابیت اور حد شرعی کے نفاذ کا مطالبہ اور "اصلاحی اقدام" کرنے میں معذور جاننا چاہیئے اور زبان طعن نہ کھولنی چاہیئے اہلِ سنت نے ان جنگوں کے اس اندرونی پسِ منظر کو جانتے ہوئے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپ کے مخلص ساتھیوں اور طالبینِ قصاص کے حق میں یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ یہ خانہ جنگیاں اجتہادی غلطی کا نتیجہ میں طرفین سے طلب صواب ہی میں یہ کام ہوا نیت ہر ایک کی نیک تھی دونوں کے مقتول بھی جنتی ہیں اور طعن و تشنیع بھی کسی پر روا نہیں۔
(کتب عقائد اہلِ سنت)
کیوں کہ خدائے علام الغیوب ان کا یہ حال جاننے کے باوجود ان کو رضا و جنت کی سند قرآن میں دے چکا تھا تو آیتِ تعمد قتل کی زد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آتے ہی نہیں تفصیلی مواد کے لیے ملاحظہ ہو راقم کی کتاب عدالتِ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بابِ پنجم، اگر اہلِ سنت کا یہ فیصلہ نہ ہوتا تو مسلمانوں کی عظیم اکثریت حضرت علیؓ سے اسی طرح الگ یا بدظن ہوتی جیسے خود ان کے عہدِ حکومت کے آخر میں سوائے صوبہ حجاز اور کچھ عراق کے پبلک حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف فدا ہو گئی تھی۔
(ازالتہ الخفاء) کیونکہ شاذ و نادر ہی کوئی گھر یا قبیلہ ایسا ہو گا جس کا کوئی آدمی ان جنگوں میں نا مارا گیا ہو طبری میں تصریح ہے کہ حضرت علیؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی درخواست پر مصالحت کر کے ان کی حیثیت مستقل طور پر تسلیم کر لی تھی گویا آخری عمل نے اول کو منسوخ کر دیا
عن ابى اسحاقؒ لما لم يعط أحد الفريقين صاحبه الطاعة كتب معاويةؓ الی علیؓ اما اذا شئت فلك العراق ولى الشام وتكف السيف عن هذه الامة ولا تهرق دماء المسلمين ففعل ذالك وتراضيا علىؓ ذالك فاقام معاويةؓ بالشام بجنوده يجيبها وماحولھا و على بالعراق يجيبها ويقسمها بين جنوده۔
(طبری: جلد، 5 صفحہ، 140)
ترجمہ: محدث ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں جب فرکین میں سے کوئی بھی دوسرے کا مطیع نہ ہوا تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت علیؓ کو لکھا آپ چاہیں تو عراق پر آپ حکومت کرتے رہیں اور میں شام پر حاکم ہوں آپ اس امت پر تلوار چلانا چھوڑ دیں اور مسلمانوں کا خون نہ بہائیں حضرت علیؓ نے اسے مان لیا اور دونوں اس فیصلے پر رضامند ہو گئے حضرت امیرِ معاویہؓ اپنے لشکر سمیت شام میں حاکم رہے وہاں کے محاصل جمع کرتے اور حضرت علیؓ عراق میں محاصل جمع کرتے اور لشکر میں تقسیم کرتے۔
بڑے درد سے یہ لفظ لکھنے پڑتے ہیں کہ جب حضرت علیؓ سریر آرائے خلافت ہوئے تو صوبہ شام کے سوا سب مستحکم و پائیدار مملکت اسلامیہ آپ کے زیرنگیں آئی لیکن آخری ایام میں مؤرخین کی تصریح کے مطابق کچھ عراقی و حجاز کے علاوہ سب مملکت آپ کے تصرف سے نکل کر حضرت امیرِ معاویہؓ کے زیر نگین آگئی جیسے طبری کے حوالہ بالا سے بھی معلوم ہو چکا۔
شیعہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ناراضگی:
قدرت کی یہ نیرنگی بھی دیکھئے آغازِ خلافت میں جو لوگ آپ کے معتمد خاص اور شیعہ علیؓ کہلائے اور ان کی موجودگی میں حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے قدیم رفقاء کو بھی دربارِ علوی میں جگہ نہ مل سکی اور جمل و صفین کے خونی معرکوں میں انہوں نے ہیرو کا پارٹ ادا کیا آج وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے معتوب بد اعتماد اور غدار ثابت ہوئے اور آپ ان سے جان چھڑانے کے لیے موت کی آرزو کرتے تھے۔
شیعہ کے خاتم المحدثین لکھتے ہیں:
ور احادیث معتبره وارد شده است که چون علیؓ از نافرمانی و نفاق و کفر و شقاق اصحاب خود دل تنگ شد و لشکر معاویہؓ بر اطراف نواحی ملک آنحضرت غارت میاورند واصحاب آنحضرت یاری او نمے نمودند بر منبر فرمود بخدا سوگند مے دارم که حق تعالیٰ مرا از میان شما بیرون برد و در ریاض رضوان جادھد پس فرمود خداد ندا من از ایشان بتنگ آمده ام و ازیشان از من بتنگ آمده اند و من ازیشان ملال یافته ام وایشاں ازمن ملال یافته اند خدا وندا مرا ازیشان راحت بخش و ایشان را مبتلا کن بکسے کہ مرا یاد کنند۔
(جلال العيون: صفحہ، 184)
ترجمہ: معتبر حدیثوں میں والد ہیں کہ جب حضرت علیؓ اپنے ساتھیوں کی نافرمانی منافقت کفر اور مخالفت سے تنگ دل ہوگئے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کا لشکر حضرت کے ملک پر یلغار کر رہا تھا اور حضرت کے ساتھی آپ کی مدد نہیں کر رہے تھے خود مشکل کشا ہو کر غیروں سے طلب مدد؟ شیعوں کے لیے معمہ ہے تو آپ نے منبر پر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے تم سے اٹھالے اور جنت کے باغوں میں جگہ دے پھر فرمایا اے اللہ میں ان سے تنگ آگیا ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آگئے ہیں میں ان سے دل برداشتہ ہو گیا ہوں اور یہ مجھ سے دل برداشتہ ہیں اے اللہ مجھے ان سے وفات دے کر آرام بخش اور ان کو ایسے شخص سے مبتلا کر کہ مجھے یاد کریں بقول شیعہ عہدِ معاویہؓ میں شیعہ پر سختی کی وجہ دعائے مرتضوی ہی ہے۔
نہج البلاغہ فروعِ کافی روضہ کافی و غیرہ کے جو خطبات ان شیعہ علیؓ کی مذمت اور غداری و نفاق پر آپ نے دیئے ہیں یہاں ان کی تفصیل کا موقعہ نہیں۔ صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ اور تو اور اشتر نخعی جیسے خاص مصاحبِ علوی کے متعلق بھی خود علماء شیعہ نے نفاق و تردد کا اظہار کیا ہے حالانکہ بہ روایت صاحبِ مجالس المؤمنین حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا اشتر کو مجھے سے وہی نسبت ہے جو مجھے حضور اکرمﷺ سے تھی شوستری صاحب لکھتے ہیں: اشتر کے ان اوصاف و کمالات کے باوجود سید عارف میر مختوم قدس سرہ نے اشتر کے متعلق ترددو انفاق اور تنزلزل کی نسبت کی ہے وہ شخص بڑا کمینہ ہے جو امتحان و آزمائش کے وقت ثابت قدم نہ رہے۔ حضرت شاہِ اولیا سے ان کی زندگی میں اس قدر خوارق باتیں اور ظاہری زندگی کے کاموں میں کمزوری ظاہر ہوئی کہ آپ کے تمام دوستوں کے قدم ڈگمگا گئے حتیٰ کہ ما لک اشتر بھی بجز حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے جو آپ کے فرزند روحانی اور یکے از اسماءِ حسنیٰ تھے اور جو لوگ ولایتِ خاصہ کا دودھ نہیں پیتے وہ نفاق و ارتداد سے محفوظ نہیں رہتے۔
(مجالس المؤمنین: صفحہ، 289)
نہج البلاغہ کے ایک خطبہ کے موافق آپ چاہتے تھے کہ اپنے دس دس فوجی دے کر حضرت امیرِ معاویہؓ سے ایک ایک فوجی کا سودا کر لیں کیونکہ ان کے فوجی عمال وفادار و منتظم تھے۔(ونحوہ فی البدایہ)
کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان پر عطایا کی بارش کی ہوئی تھی لہٰذا وہ دولت کے لیے اتنے وفادار تھے مگر دولت کی عطاء میں حضرت علی المرتضیٰؓ حضرت امیرِ معاویہؓ سے کم فیاض تو نہ تھے پانچ پانچ صد درہم انعام پر صفین کے شرکاء بھرتی ہوئے تھے۔ نصربن مزاحم نے واقعہ صفین میں ایک لطیفہ لکھا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی فوج میں سے ایک شخص بھاگ گیا تو اس کی لڑکی نے پوچھا یا ابت این الخمسمائة۔
ترجمہ: ابا! 500 روپیہ کہاں ہے؟ کہنے لگا میں تو بھاگ آیا ہوں وہ ثابت قدموں کے لیے ہے۔
تعجب ہے کہ شیعہ کے خیال میں حضرت امیرِ معاویہؓ کے پاس صرف دنیا تھی مگر وہ وفاداری اور اطاعت میں ضرب المثل تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کے پاس دنیا و آخرت دونوں تھیں مگروہ غداری کرتے تھے۔ شاید اسکی وجہ یہی نہ ہوکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ پر بدگمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان بلوائیوں سے وفا اطاعت اور ایمان و اخلاص کی دولت چھین لی تھی۔
ایک شبہ کا ازالہ:
ممکن ہے شاید آپ کہیں کہ پھر حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافت راشدہ کیسی تھی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں خلافت و حکومت کی صلاحیت کم تھی؟ مگر یہ رائے سطحی اور قلت تدبر کا نتیجہ ہے گو حضرت شاہ ولی اللہؒ جیسے محققین کی نظر میں خلافت کے دو درجے ہیں خلافتِ خاصہ اور خلافتِ عامہ خلافتِ خاصہ تو حضرتِ عثمانؓ پر ختم ہوگئی۔ جس میں خلفاء کے مثالی اوصاف کے ساتھ مملکت میں نہایت امن و استحکام تھا مگر خلافتِ عامہ حضرت علیؓ پر ختم ہوئی جس میں خلیفہ کے مثالی اوصاف کے باوجود ملک کا نظم ونسق خلل پذیر ہوگیا تھا لیکن در حقیقت حضرت علیؓ بہت معذور تھے ان منافقین کے جھرمٹ میں پھنسے رہنے کے باوجود جس طرح حضرت علیؓ نے خلافت کے وقار کو سنبھالا اور کانٹوں کے درمیان اس گل ترکی حفاظت کی وہ آپ کی کمال لیاقت اور مدبری کی دلیل ہے اگر ان کی جگہ کوئی ایسا شخص خلیفہ ہوتا جو اہلیت میں ان سے کم ہوتا تو یقیناً مدینہ کی طرح مملکتِ اسلامیہ سے بھی خلافت کا خاتمہ ہو جاتا اور اس کی جگہ سبائیوں کی فاسق اور گمراہ حکومت قائم ہو جاتی سبائیوں کے پیدا کردہ حالات میں جتنا کام آپ نے کیا اور جس حد تک انہوں نے مفسد گروہ کے شہر سے امت کو محفوظ رکھا اس سے زائد کا تصور نہیں ہو سکتا بلاشبہ آپ کا یہ بڑا کارنامہ ہے باقی یہ بات صحیح ہے کہ جس طرح فضیلت عند اللہ کے اعتبار سے ان کے پیش رو خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مرتبہ ان سے بلند ہے اس طرح تدبیر مملکت کی حیثیت سے بھی وہ حضرات حضرت علیؓ سے بلند و برتر نظر آتے ہیں۔
از افادات مولانا سندیلوی شیخ الحدیث لکھنؤ۔
عہدِ مرتضوی پر ایک نظر:
مولانا شاہ معین الدین ندوی تاریخِ اسلام میں لکھتے ہیں تعمیری کاموں کے لحاظ سے آپ کا عہد آپ کے پیشروں کے مقابلے میں ناکام رہا اور یہ ان حالات کا لازمی نتیجہ تھا جن میں آپ کو منصب خلافت ملا تھا اور جو بعد میں پیش آتے رہے ایسے مخالف حالات میں بڑے سے بڑا مدبر فرمانروا بھی مشکل سے عہدہ برآ ہو سکتا تھا اور جس حد تک بھی آپ نے ان کا مقابلہ کیا وہ بھی کسی دوسرے فرمانروا سے ممکن نہ تھا پھر علل و اسباب کے تجزیہ میں مشکلات کا حضرت ابو بکرؓ کے دور سے موازنہ کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں: عہدِ رسالت کے بعد سے اسلامی روح مضمحل ہو چکی تھی بہت سے اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو خلافت کے رکنِ اعظم تھے اٹھ چکے تھے اور انکی جگہ نئی پود لے رہی تھی جس میں اپنے اسلاف کا سا اخلاص اور سچا جوش و ولولہ تھا ان کے اعراض بالکل مختلف تھے متعدد اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حالات نے حضرت علیؓ سے جدا کر دیا تھا حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ جو عشرہ مبشرہ میں تھے آپ سے الگ ہو گئے حضرت علیؓ کے ساتھ جو بزرگوار تھے ان کا دین و تقویٰ مسلم لیکن ان میں بہت کم صاحبِ تدبیر و سیاست تھے پھر اپنے ضمیر کی آواز کے مقابلہ میں حضرت علیؓ صاحبِ تدبیر و سیاست بزرگوں کا مشورہ تک نہ قبول کرتے تھے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو آغازِ خلافت میں مشورہ دیا کہ بغیر بیعت لیے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو معزول نہ کیجئے ورنہ وہ آپ کے خلاف ایک فتنہ کھڑا کر دیں گے لیکن آپ نے قبول نہ فرمایا جس کا نتیجہ جنگِ صفین کی صورت میں ظاہر ہوا حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ جیسے مدبر کو محض نوجوانوں کے ورغلا نے سے مصر سے ہٹا دیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصر ہاتھوں سے نکل گیا تمام عثمانی عمال کو معزول کر کے اپنے خلاف بنالیا آپ کے حاشیہ نشینوں اور مشیروں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ نوجوان نسل جدید الاسلام عرب اور نو مسلم عجمی بھی تھے جن کے دلوں میں اسلام کے لیے کوئی تڑپ نہ تھی بلکہ وہ صرف اپنی غرض کے لیے ساتھ تھے۔
آپ میں نہ حضرت ابوبکرؓ جیسا تحمل اور تواضع تھا جو مخالفین کو بھی اپنا بنا لیتا تھا اور نہ حضرت عمرؓ جیسا دبدبہ و شکوہ تھا جس سے بڑے بڑے لوگ تھراتے تھے حضرت عمرؓ جب حضرت امیرِ معاویہؓ کو طلب کرتے تھے تو ان پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا لیکن وہی حضرت امیرِ معاویہؓ نے آپ کے خلاف اٹھ کر ایک انقلاب عظیم برپا کردیتے ہیں آپ میں خود اعتمادی بہت تھی جو رائے قائم کر لیتے تھے پھر اس میں کسی کا مشورہ نہ قبول فرماتے تھے جس سے بعض اوقات نقصان اٹھانا پڑتا تھا ان سب سے زیادہ آپ کو نا کام رکھنے والے وہ نومسلم مجوسی تھے جو محبت اہلِ بیتؓ کی آڑ میں مسلمانوں سے اپنی قومی تباہی کا انتقام لینا چاہتے تھے جنہیں حضرت علیؓ کیا اسلام سے بھی کوئی ہمدردی نہ تھی بہت سے جدید الاسلام عرب بھی اپنی غرض کے لیے آپ کے ساتھ ہو گئے تھے انہی لوگوں نے اہلِ بیتؓ اور بغیر اہل بیتؓ کا سوال پیدا کر کے مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کا خاتمہ کیا حضرت عثمانؓ کو شہید کر کے خانہ جنگی کا دروازہ کھولا پھر حضرت علیؓ کی لاعلمی میں آپ کے ساتھ ہو کر اختلاف کی آگ بھڑکائی اگر یہ عنصر نہ ہوتا تو جمل و صفین کے واقعات پیش نا آتے۔
ضمیر کے فیصلہ کے مقابلہ میں آپ مصلحت اندیشی کو بالکل راہ نہ دیتے تھے گو یہ صداقت کا بڑا درجہ ہے اور اگر ان دونوں میں تصادم نہ ہو تو ایک فرمانروا کے لیے مصلحت وقت کا لحاظ ضروری ہے لیکن آپ پر دل کے جذبات کی سچائی کا اتنا غلبہ تھا کہ اس کے مقابلہ میں مصلحت وقت کو نظر انداز فرما دیتے تھے مثلاً عمالانِ عثمانی کی معزولی خصوصاً حضرت امیرِ معاویہؓ کی بر طرفی مصلحت کے بالکل خلاف تھی لیکن آپ نے تخت نشین ہونے کے ساتھ یک قلم تمام عثمانی عمال کو معزول کر دیا جو کل آپ کے خلاف ہو گئے آپ جس تقویٰ دینداری اور عدل کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے تھے حالات کے تغیر سے لوگوں میں اس کے قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہ گئی تھی ایران کے شیعہ محقق محمدجواد مغنیہ نے فی ظلال نہج البلاغہ: جلد، 1 صفحہ، 175 پرعلی والخلافتہ کے عنوان سے لکھا ہے: امام کی بیعت خلافتِ ذی الحجہ 35 ہجری میں ہوئی اور رمضان سن 40 ہجری میں شہادت پائی خلافت پانچ سال رہی چار ماہ بعد اصحابِ جمل سے جنگ کی پھر صفین میں حضرت امیرِ معاویہؓ اور اہلِ شام سے جنگ کی پھر نہروان میں خوارج سے لڑے تو کیا فضاء چھٹ گئی؟ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مسائل سلجھ گئے اور ان عظیم جنگوں کے بعد ہر مشکل ختم ہوگئی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کے بعد اور خوفناک اور کڑوا مرحلہ پیش آیا خوارج وغیرہ حق سے منحرفین لوگوں کے اندرونی حملے علی الاعلان تھے جو بندوں کے امن کو تہ و بالا کرتے تھے۔
حضرت امیرِ معاویہؓ باہر سے حملہ آور تھا ہلاکت موت گھبراہٹ اور بزدلی لگاتار تھی حضرت کا لشکر سست کم ہمت اور نا کام ہو چکا تھا آپ کے ساتھی کہتے تھے ہم نے سنا اور نافرمانی کی جسے بنی اسرائیل کہتے تھے خوبیاں صرف اللہ اور اس کے کلام کی ہیں۔
(جلد، 1 صفحہ، 176 طبع بیروت)
شیعہ حضرات اپنے ممدوحِ اعظم کے متعلق جیسا کچھ لکھیں ہمیں اس سے بحث نہیں ہم اہلِ سنت کو بہر حال حضرت علیؓ کی تحریم و تعظیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہیئے کیونکہ وہ چہارم خلیفہ راشد عادل تھے شیعہ رافضی اگر ان کو خدا و رسول کی صفات میں شریک کر کے غالی محب و گمراہ ہیں خارجی ان کے ایمان و اعمال صالحہ کی نفی کر کے موردِ لعن ہیں تو من کل الوجوہ آپ کی ناکامی اور خلیفہ راشد نہ ہونے پر پروپیگنڈہ کرنے والے سنی نما ناصبی مؤلفین بھی راہِ راست پر نہیں ہیں جب کہ آپ کی خلافت کی درستی پر اجماعِ امت ہے اور مندرجہ ذیل علماء نے اس پر شافی بحثیں کی ہیں: علامہ نوویؒ ابنِ ہمامؒ امام غزالیؒ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ ابنِ تیمیہؒ علامہ سیوطیؒ حضرت شاہ ولی اللہؒ ازالۃ الخفاء: صفحہ، 32 پر لکھتے ہیں اثباتِ خلافتِ عامہ برائے خلفاء اربعہ از اجل بدیہات است۔
خلفائے اربعہ راشدین کے لیے خلافتِ عامہ کا ثبوت بالکل واضح ترین بات ہے۔
مقام کی مناسبت سے خلافتِ مرتضوی کا ذکرِ خیر ہوا مگر حضرت امیرِ معاویہؓ کو شرعی باغی اور ملعون قرار دینا درست نہیں جو شیعہ لوگ حضرت امیرِ معاویہؓ اور اہلِ جمل و صفین کو نشانہ طعن بناتے رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو بدستور ابتغاءِ قصاصِ عثمانؓ میں حسنِ نیت کی بدولت کامیابی دے رہے ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہو کر رہا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ پوری ملتِ اسلامیہ کے ایک دن خلیفہ بن جائیں گے کیونکہ ربِ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞(سورۃ الاسراء: آیت 33)
ترجمہ: جو ظلماً قتل کیا جائے اس کے وارث کو ہم قوت بخشتے ہیں پس وہ قتل میں حد سے نہ گزرے بلاشبہ منجانب اللہ اس کی مد د ہوگی۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قطعی فیصلہ:
شرکاءِ اور شہداءِ جمل و صفین کے متعلق معترض کو قاضی امت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اس قطعی فیصلے پر ایمان لا کر اپنے کفر سے توبہ کر لینی چاہیئے جسے آپ نے گشتی مراسلہ کے طور پر پوری مملکت میں پھیلایا۔
و من كتاب له عليه السلام کتبہ الى الامصار يقص فيه ماجرى بينه و بين اهل صفين وكان بدء امرنا التقينا و القوم من اهل الشام و الظاهر ان ربنا واحد و نبينا واحد ودعوتنا فی الاسلام واحدة ولا نستزيدهم فی الایمان بالله والتصديق برسوله ولا يستزيد وننا الامر واحد الاما ختلفنا فيه من دم عثمانؓ ونحن منہ براء۔(نہج البلاغہ: جز، 3 صفحہ، 125)
ترجمہ: آپ کا ایک خط یہ بھی ہے جو آپ نے گشتی مراسلہ کے طور پر اپنے مملکت میں پھیلایا اور اس میں جنگِ صفین کی روائیداد بیان کی کہ ہماری اور شامیوں کی جنگ ہو گئی اور ظاہر ہے کہ ہمارا رب ایک ہے اور ہمارا پیغمبرﷺ ایک ہے ہماری اسلام میں دعوت ایک ہے ہم ان سے خدا اور رسول پر ایمان میں اضافہ نہیں چاہتے نہ ہم سے یہ اضافہ چاہتے ہیں مذہب و عقیدہ میں سب اتفاق ہے بجز اس کے دمِ عثمانِ غنیؓ میں ہمارا اختلاف ہو گیا اور ہم اس الزام سے پاک ہیں
حضرت علیؓ کے اس فرمان نے حضرت امیرِ معاویہؓ اور اہلِ شام کو بر حق اور کامل مومن بنا دیا اور اختلاف کی وجہ بھی بتا دی کہ وہ قصاصِ عثمانؓ ہے نہ کہ خلافتِ علوی کا انکار اور اپنے لیے دعویٰ خلافتِ اس فیصلہ کا منکر منکرِ علیؓ ہے اور منکرِ علیؓ شیعہ کے ہاں جہنمی ہے اب بتلائیے جب اہلِ شام مؤمن کامل ہوئے تو ان کے قاتل پر کیا فتویٰ ہو گا معترض صاحب فتویٰ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لگانا چاہتے ہیں مگر اپنے ممدوح سمیت خود اس کی زد میں آگئے ہے۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔
ہمارے نزدیک قرآنی آیت اور اس کا فتویٰ جماعتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نہیں لگ سکتا جیسے عنقریب سوال 64 کے تحت مفصل آئے گا۔