Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ) اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

کلام مجید شاہد ہے:

وَمِمَّنۡ حَوۡلَــكُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ‌‌ وَمِنۡ اَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ‌ مَرَدُوۡا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡ نَحۡنُ نَـعۡلَمُهُمۡ‌ سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّوۡنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيۡمٍ‌ ۞(سورۃ التوبہ: آیت 101)

 ترجمہ: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔

(ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ)

اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔ 

الجواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ عہدِ نبوی میں بالعموم یہود میں سے منافق ضرور تھے مگر مسلمانوں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں وہ ایک فیصد بھی نہ تھے غزوہِ بدر کے وقت 313 احد سن 3 ھجری کے وقت 700 غزوہِ خندق کے موقعہ پر تقریباً 3000 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے صلح حدیبیہ کے سفر میں 1500 یا 1800 کا نہایت ہی پاکیزہ لشکر تھا جن کو بیعتِ رضوان کا شرف حاصل ہو اور بالاتفاق سنی شیعہ روایات یہ حضرات قطعی دوزخ سے نجات یافتہ اور جلتی ہیں فتح مکہ کے موقعہ پر دس ہزار کا لشکر مدینہ سے آیا تھا پھر اہلِ مکہ اور دیگر اہلِ عرب: يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ۞(سورۃ النصر: آیت 2) کا مصداق فوجوں کی فوجیں مسلمان ہوتی گئی غزوہِ تبوک میں 30، 40 یا ستر ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے اور حجۃ الوداع میں ایک لاکھ سے بھی زائد تھے قاضی نور اللہ مجالس المؤمنین ہمیں لکھتے ہیں:

صاحب روضتہ الصفاء آورده کہ تعداد صحابہ درعدد معین معلوم نیست ولیکن ضبط عدد ایشاں در بعض غزوات واسفار واردشدہ مانند تبوک وحجتہ الوداع در تبوک سی ہزار یا چہل ہزار یا ہفتاد ہزار وحجتہ الوداع زیادہ ازصد ہزار ملازم حضرت رسول اللهﷺ بودند۔

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 153)

ترجمہ: شیعہ محقق صاحب روضتہ الصفاء لکھتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معین تعداد معلوم نہیں لیکن بعض غزوات اور سفروں میں ان کی تعداد کا ذکر ملتا ہے جیسے تبوک اور حجتہ الوداع تبوک میں علی اختلاف الروايات 30 ہزار یا 40 ہزار تھے اور حجتہ الوداع میں ایک لاکھ سے زیادہ حضورﷺ کے متبع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ 

(و صلی اللہ علیہ آلہ و اصحابہ وسلم)

اس کے برعکس مشہور منافقین میں عبداللہ بن ابی جد بن قیس دیعہ بن ثابت خذام بن خالد ثعلبہ بن مخاطب مدنی غیر بدری و مہاجر، مجمع و زید حارثہ کے بیٹے معتب بن قشثر عباد بن ازہر نبتل بن حارث بجاد بن عثمان۔ 

(تفسیرِ خازن: پارہ، 11 صفحہ، 265) وغیرہم کے نام ملتے ہیں یہ مسجد ضرار کے بانی تھے مدد کے لحاظ سے بعض روایات میں 300 بعض میں کم و بیش بہر صورت چند صد سے متجاوز نہ تھے گویا وہ مسلمانوں کی بہ نسبت ایک دو فیصد بھی نہ نکلے وہ باوجود سازشی ذہن رکھنے کے مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے سازشوں کا وبال خود انہی پر پڑتا تھا

منافقوں کے متعلق ارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَشَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡهُدٰى لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡــئًا وَ سَيُحۡبِطُ اَعۡمَالَهُمۡ ۞

(سورۃ محمد: آیت 32)

ترجمہ: بے شک جو لوگ کافر ہو گئے اور انہوں نے لوگوں کو راہ خدا سے باز رکھا اور بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی انہوں نے رسولﷺ کی نافرمانی کی وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہ بگاڑیں گے اور وہ ان کے اعمال بہت جلد اکارت کرے گا۔

شیعہ خیال کے برعکس منافقوں کے عزائم کو کامیاب بنانے کے بجائے اللہ تعالی نے جگہ ان کی تحمیق و تحجیل کی۔

1: وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلٰـكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞(سورۃ المنافقون: آیت 8)

ترجمہ: حالانکہ حقیقی عزت غلیہ اللہ کی ہے اور اس کے رسولﷺ کی اور مؤمنین کی لیکن منافق اتنا بھی نہیں جانتے۔

2: قَاتَلَهُمُ اللّٰهُ‌ اَنّٰى يُـؤۡفَكُوۡنَ ۞(سورۃ المنافقون: آیت 4)

ترجمہ: خدا ان کو غارت کرے کدھر بہکے جاتے ہیں۔

3: فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ‏ ۞(سورۃ المنافقون: آیت 3)

ترجمہ: اب اس کا ان کے دلوں پر چھاپہ لگا دیا گیا تو وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے۔

منافقوں کی تحمیق اور ناکامی کے متعلق مشتے نمونہ از خر وارے یہ اس لیے پیش کی ہیں تاکہ شیعہ کے اس خیال کا بطلان واضح ہو جائے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سوائے چند ایک العیاذ باللہ منافق 

اور دشمنِ علیؓ تھے وہ دن بدن اس پالیسی اور مخالفت رسولﷺ میں بڑھتے اور کامیاب ہو تے گئے۔ حتیٰ کہ حضورﷺ ان کی سازشوں کی وجہ سے استخلافِ علوی میں کامیاب نہ ہو سکے اور دل برداشتہ رخصت ہوئے۔ 

(ملاحظہ ہو جلاء العیون: صفحہ، 29) 

بعد وفات تو حضرت علیؓ مقہور اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین غالب تھے کیونکہ خلافتِ راشدہ کے بانی تھے کیونکہ خدا اور رسول کے بالمقابل کسی کا مکر نہیں چلتا گویا کہ یہ آیات آج شیعہ پر منطبق ہوتی ہیں۔

معترض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دشمنی کی وجہ سے قرآنِ پاک میں غور و فکر کی نعمت سے محروم ہے ورنہ خود اس کی پیش کردہ آیت میں اس اعتراض کا جواب موجود رہے۔

وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا على النِّفَاقِ لَا تَعلمُهم نحن نَعلم  سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّوۡنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيۡمٍ‌ ۞ (سورۃ التوبہ: آیت 101)

ترجمہ: اور بعض اہل مدینہ میں سے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اے رسول تم ان کو نہیں جانتے ہم ان کو خوب جانتے ہیں عنقریب ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

بڑے عذاب سے مراد بعد از موت قبر اور حشر کا عذاب مراد ہے۔ اس سے قبل ان کو جلدہی زندگی میں جودوہرا عذاب خدا ان کو دے گا کیا وہ آسمان پر اٹھا لینے یا زمین میں دھنسا دینے کے لیے کافی نہیں؟

منافقین حضورﷺکے زمانے میں ہی اپنے عزائم میں ناکام اور مقتول و مردود ہوئے اور کچھ بعد وفات نیست و نابود کر دیئے گئے اس پر ارشاداتِ ربانی ملاحظہ ہوں: 

اس بحث میں تمام آیات کا ترجمہ شیعہ مقبول دہلوی کا ہے:

قُلْ لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 16)

ترجمہ: تم یہ کہ دو کہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگتے ہو تو یہ بھاگنا تم کو ہرگز نفع پہنچائے نہ گا اور اس صورت میں تم کو فائدہ حیات بھی کم دیا جائیگا۔ 

لَـنُغۡرِيَـنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 60)

ترجمہ: تو ہم ضرور تم کو ان کے در پر کر دیں گے پھر اس شہر میں تمہارے پڑوس میں نہ رہیں گے مگر بہت ہی کم۔

مَّلۡـعُوۡنِيۡنَ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 61)

ترجمہ: اور ہر طرف سے ان پر لعنت ہوتی رہے گی وہ جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ایسے قتل کیے جائیں گے جیسے قتل کیے جانے کا حق ہے۔

وَّيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ الۡمُشۡرِكٰتِ الظَّآنِّيۡنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوۡءِ‌ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ السَّوۡءِ‌ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ وَلَعَنَهُمۡ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ۞(سورۃ الفتح: آیت 6)

ترجمہ: اور منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کی نسبت برے سے گمان کیا کرتے ہیں خوب سزا دے ان کی بدیوں کا پھر ان ہی پر پڑے گا اور اللہ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان کے لیے جنم تیار کر رکھا ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جھنم کا برا ٹھکانا تو اخروی سزا ہے لیکن غضبِ خداوندی اور لعنت تو حیات دنیا میں سے ہی ان پر شروع ہو گئی حضور نے حکم قرآنی وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ کی تعمیل میں ہیں ان پر سختی کی محفلوں سے نکالا جمعہ کے اجتماع میں ایک مرتبہ 36 آدمیوں کو بنام الگ کیا وہ مسلم معاشرے میں علانیہ رسوا اور ذلیل ہوئے اور ذلت کی موت سے بلا جنازہ زیرِ زمین ہوتے گئے حتیٰ کہ بقایا عہدِ صدیقی میں کھلے ارتداد انکارِ زکوٰۃ اور جھوٹے متنبیوں کی اتباع کی وجہ سے مقتول و ملعون ہوئے۔

منافق مخزول و مردود ہوئے:

گل از گلزارے کے تحت ان آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوا کی منافقوں کو اللہ نے شتاب دہرا عذاب دیا ان کا رشتہ حیات ختم کر دیا گیا وہ بجز معمولی عرصہ کے مسلمانوں کے آس پاس رہ ہی نہ سکے بائیں صورت بھی ان پر لعنت و پھٹکار پڑتی رہی وہ جہاں پائے گئے پکڑے گئے کما حقہ قتل و غارت سے برباد ہوئے مشرکین کی طرح اللہ نے منافقوں کو دنیا میں عذاب دیا سازشوں کا وبال خود ان پر ہی پڑا اور وہ خدا کے غضب و لعنت کے اشکنجے میں گرفتار ہوئے جہنم کا آخری عذاب اس پر مستزاد ہو گا۔

بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے بصیرتِ قرآنی سے محروم معترض بصیرت قلبی سے غور کریں کہ قرآنِ پاک نے منافقوں کی نشاندہی میں کوئی دقیقہ باقی چھوڑا؟ اور کیا ان کو آسمان کا اٹھانا اور زمین کا نگلنا قرآن نے بیان نہ کر دیا؟

معلوم ہوا کہ موجبِ قرآن کے منافق حضورﷺ کے زمانہ میں ہی ختم ہوگئے اور کچھ وفاتِ نبوی کے بعد کھلے مرتد ہو کر مقتول و مردود ہوئے منظم جماعت کی شکل میں ان کا وجود باقی ہینہ رہا کہ وہ علی الاعلان اسلام کی مخالفت کرتے یا بقول شیعہ مرتضیٰ دشمنی ان کے قول و عمل سے ٹپکتی یا وہ منافقانہ اسلامی حکومت میں مل کر اپنا اثر پھیلاتے کیونکہ ایسا نا ممکن تھا قرآنِ حکیم کی کھلم کھا تکذیب لازم آتی لہٰذا گنتی کے چند افراد نامعلوم طور پر حصے دین تقیہ پر عمل کرکے رہتے ہوں گے مرنے پر صاحب السر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ ان کی نشان دہی کر دیتے تو ان کا جنازہ بھی نہ پڑھا جاتا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مزید سختی کرتے۔(البدایہ والنہایہ زاد المعاد وغیرہ)

رہا یہ کہ تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے اور مؤمن بن گئے تو گزارش یہ ہے کہ مندرجہ ذیل آیت کی روشنی میں امکان ضرور ہے کہ بچے کھچے منافقین میں سے کچھ افراد مخلص تائب و مؤمن ہو گئے ہوں۔

وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ اِنۡ شَآءَ اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞(سورۃ الاحزاب؛ آیت 24)

ترجمہ: اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول کر لے بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

اگر شیعہ بھائی کو یہ آیت چبھے تو وہ قرآنی الفاظ میں ہی رسی آسمان کی طرف لٹکا کر گلے میں پھندا ڈال لے شاید اس کا غیظ و غضب اس تدبیر سے ختم ہو جائے۔(حج: رکوع، 2) بنو ہاشم کو وفاتِ نبویﷺ کے بعد حکومت کے مدِ مقابل ایک پارٹی کہنا صریح جھوٹ ہے۔

طبری کی معہودہ روایت کے پیشِ نظر جب بنو ہاشم کے سردار سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بھی بیعت کر لی تو سب بنو ہاشم نے بھی کر لی بنو ہاشم سمیت سب امت کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اتفاق اور ان کی بیعت سوال نمبر 2 کےجواب میں با حوالہ گزر چکی ہے ہاں شیعہ کا یہ خیال ہے کہ سب امت میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ و حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے تقیہ کر کے بغیر رضائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔

(ملاحظہ ہو روضہ کافی: صفحہ، 115 احتجاج طبرسی: صفحہ، 48 اصولِ کافی: صفحہ، 246 رجال کشی) 

مگر بیعت تو سب نے کر لی بنو ہاشم بھی مستثنیٰ اور الگ نہ رہے اور سوائے مشتہر معترض کے کسی شیعہ کی یہ تصریح کہ بنو ہاشم حکومت سے الگ پارٹی تھی میرے ناقص مطالعہ سے نہیں گزری بلکہ متعصب مجتہد قاضی نور اللہ شوستری نے کئی جگہ لکھا ہے:

حضرت امیر وسائر بنی ہاشم از روئے اکراه بابی بکرؓ بظاہر بیعت کر ندد۔(مجالس المؤمنین: صفحہ، 224)

ترجمہ: کہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور سب بنو ہاشم نے مجبوراً حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بظاہر بیعت کرلی۔

بغیر ثبوت و دلیل کے ان بزرگوں کی ظاہری بیعت کو باجبر و اکراہ اور دل کے مخالف کہنا گویا مسلمانوں کے ساتھ صرف ظاہری موافقت کا نفاق حضرت علیؓ اور آپ کے دوستوں کے لیے ثابت کرنا صرف شیعہ کو زیبا ہے کسی مسلمان کی جرآت نہیں۔

قرآن میں منافقوں کی علامات:

منافقوں کی تحقیق و تعین دو طرح ہی ہو سکتی ہے۔

  1. قرآن میں مذکور ان کے اوصاف و کردار کی روشنی میں۔
  2. قرآن میں ان کے انجام کی روشنی میں۔

 پہلی بات میں قرآن نے ان کے یہ اوصاف بیان کیے ہیں:

1: وہ بقول خود بڑے مومن و پاکباز بنتے ہیں:

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ الخ(سورۃ البقرہ آیت 8)

اور سورۃ آلِ عمران میں ہے کہ وہ یہودی منافق مؤمن کہلا کر صحابہ رسولﷺ سے دشمنی اور جلن رکھتے تھے۔

وَاِذَا لَقُوۡكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ‌ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ الخ۔(سورۃ آلِ عمران آیت 119)

2: وہ اپنے کفریہ عقائد پر تقیہ وکتمان کا غلاف چڑھا کر مسلمانوں کو اپنے متعلق دھوکہ میں رکھتے ہیں۔

يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 9)

ترجمہ: وہ خدا کو اور مؤمنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ 

3: وہ اصحابِ رسولﷺ سے دشمنی رکھتے ان کی حمایت و مدد سے مسلمانوں کو روکتے ہیں

تاکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جمعیت منتشر ہو جائے۔

هُمُ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا‌ الخ۔(سورۃ المنافقون: آیت 7)

ترجمہ: یہ وہی تو ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر اپنا پیسہ خرچ نہ کرو تاکہ وہ بھاگ جائیں۔

4: وہ خود کو معزز شریف قوم کہتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ذلیل و برا کہہ کر مدینۃ الرسولﷺ سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔

يَقُوۡلُوۡنَ لَئِنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ الخ۔

ترجمہ: یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ پلٹ کر گئے توجو زیادہ عزت دار ہے وہ مدینہ سے زیادہ ذلیل کو ضرور بہ ضرور نکال دے گا۔

5: وہ عہدِ نبویﷺ کے عام لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح ایمان نہیں لاتے نہ ان کی علمیت و بزرگی کے قائل ہیں بلکہ ان کو نادان و بے وقوف کہتے ہیں۔

6: وہ سنت رسولﷺ کی پیروی سے روکتے جماعت رسولﷺ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں۔

اَلَا اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ۞(سورۃ البقرہ: آیت 12)

ترجمہ: خبردار رہو بلاشبہ یہ لوگ مفسد ہیں مگر سمجھتے نہیں۔

7: وہ توحید و رسالت کے کلمہ اسلام کو پڑھ کر بے اعتبار و بے نجات مانتے اور دعویٰ ایمان میں جھوٹ بولتے ہیں۔

اِذَا جَآءَكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ ‌وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ ۞(سورۃ المنافقون: آیت 1)

ترجمہ: جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم ضرور اللہ کے رسول ہو یہ منافق ضرور جھوٹے ہیں

 8: وہ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 100)  اور ان کے نیکی میں پیروکاروں اہلِ سنت و الجماعت کو خدا کے پسندیدہ اور جنتی بالکل نہیں مانتے بلکہ ان سے دشمنی رکھتے ہیں تبھی تو اللہ نے پارہ، 11 رکوع، 2 میں آیت وَالسّٰبِقُوۡنَ کے بعد ان کٹر منافقوں کا ذکر کیا ہے جو معترض نے لکھا۔

9: وہ اہلِ بیتؓ نبوی ازواجِ الرسول امہات المؤمنین کی عصمت و کردار پر طعنہ و شبہ کرتے حضرت عائشہ صدیقہؓ و حضرت حفصہؓ کو برا بھلا کہ کر خدا و رسولﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ الخ۔(سورۃ الاحزاب: آیت 57)

ترجمہ: بالتحقیق جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے۔

10: وہ ایک زرع محمدی سے اگ کر فصل بہاری کے طرح تمام روئے زمین پر چھا جانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ کو انقلابِ نبوت کی تعمیر و ترقی سے جل سڑ کر لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت 29)

ترجمہ: تاکہ ان کے ذریعہ سے کفار کو غصہ دلائے کا طوق گلے میں لٹکاتے ہیں منافقین ان دس خصوصیات کے حامل تھے وہ تو انجامِ قرآنی قتل ذلت اور دہرے عذاب سے مر مرا گئے اب اگر شیعہ اسے نہ مانیں تو وہ خدارا بنظر انصاف دیکھیں کہ یہ اوصاف عشرہ خود ان میں پائے جاتے ہیں یا نہیں اور وہ منافقین کے سچے جانشین بنے یا نہیں؟ خصوصاً جب کہ حضرت جعفرصادقؒ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے متعلق کوئی آیت نہیں اتاری مگر وہ ان لوگوں کے حق میں ہے جو شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ (رجال کشی: صفحہ، 193)

شیعوں پر علامات نفاق منطبق ہیں:

منافقوں کی نشاندہی چاہنے والے شیعہ دوست اپنے اس عقیدہ پر غور کریں کہ بعد وفاتِ نبویﷺ اہلِ بیتؓ اور ان کے شیعوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، چن چن کر قتل کر دئیے گئے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں وہ پنپ نہ سکے پھر ان مظالم پر آج شیعہ کا ہزاروں صفحات کا لٹریچر گواہ ہے اور شیعہ کی گریاں اور نالاں ماتمی شکلیں شاہدِ عدل ہیں شیعہ کے خاتم المحدثین بھی روتے ہوئے ایک شیعہ امام سے ناقل ہیں:

سیدنا امیرِ علیؓ کی بیعت پھر قتل و غدر، حضرت حسنؓ کی بیعت پھر اہلِ کوفہ کا ان پر قاتلانہ حملہ حضرت حسینؓ کی بیعت پھر مریدوں کے ہاتھوں ان کی شہادت جیسے:

و آنہا کہ باٰوبیعت کردہ بودند شمشیر بروئے او کشیدند ہنوز بیعتہائے آنحضرت درگردن ایشاں بودکہ او راشہید کر دند بعد ازاں پیوستہ باہلِ بیتؓ ستم کردند و مارا ذلیل گردانید ندواز اموال خود محروم ساختنند وسعی درکشتن ماکر دندو مارا خائف وترساں واشتندو ایمن بنو دیم برخو نہائے خود وخو نہائےدوستان خود الخ۔

(جلاء العیون: صفحہ، 264) 

ترجمہ: اور جن لوگوں نے بواسطہ مسلم بن عقیل حضرت حسینؓ پر تلوار اٹھائی اور شہید کر ڈالا حالانکہ حضرت کی بیعت ابھی ان کی گردن میں تھی اس کے بعد مسلسل ان لوگوں نے اہلِ بیتؓ پر ظلم کیے اور ہم کو ذلیل کیا اور اپنے ہاتھوں سے ہمیں محروم کیا ہمارے قتل کی کوششیں کیں ہم کو خائف اور ڈرنے والا بنا رکھا ہم اپنے اور مخلص دوستوں کے خون سے مطمئن نہ رہے۔

سوال یہ ہے کہ منافقوں کے متعلق قرآنی پیشینگوئیاں بدترین سزائیں اور خوفناک انجام بقول شیعہ ان لوگوں پر تو صادق نہیں آ گئے؟ انصاف مطلوب ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

اگر ان پر صادق نہیں مانتے تو ان لوگوں پر بھی صادق نہیں آ سکتے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق تاجِ خلافت پہنایا اپنے مرتضیٰ و پسندیدہ دین کو ان کے ہاتھوں سے مظبوط کیا ان کے خوف کو امن سے بدلا ان کو صرف اپنا عابد اور شرک سے بیزار بتایا۔(نور: ع، 7) 

نصف دنیا میں اسلام کاجھنڈا ان کے ہاتھوں سے لہرایا قیصر و کسریٰ کے تاج ان کے قدموں میں ڈال دیئے سوائے رافضی شیعہ کے سب لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت و عظمت ڈال دی اور تا دم زیست اللہ کا فضل و احسان ان کے شامل حال رہا۔

تو معلوم ہوا کہ منافقوں کا معمولی ٹولہ عہدِ نبوی اور ان کے متصل ہی خدائی اطلاعات کے مطابق نیست و نابود ہوگیا اس کا مصداق نہ خلافتِ راشدہ کے بانی اور فاتح عرب و عجم اور عالمی مبلغینِ اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں نہ حضرات اہلِ بیت رضی اللہ عنہم شیعوں کا جھوٹ شیعہ کو مبارک ہو۔