کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ…

کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ) اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا على النِّفَاقِ لَا تَعلمُهم نحن نَعلم  سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّوۡنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيۡمٍ‌ ۞ (سورۃ التوبہ: آیت 101)

ترجمہ: اور بعض اہل مدینہ میں سے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اے رسول تم ان کو نہیں جانتے ہم ان کو خوب جانتے ہیں عنقریب ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

بڑے عذاب سے مراد بعد از موت قبر اور حشر کا عذاب مراد ہے۔ اس سے قبل ان کو جلدہی زندگی میں جودوہرا عذاب خدا ان کو دے گا کیا وہ آسمان پر اٹھا لینے یا زمین میں دھنسا دینے کے لیے کافی نہیں؟

منافقین حضورﷺکے زمانے میں ہی اپنے عزائم میں ناکام اور مقتول و مردود ہوئے اور کچھ بعد وفات نیست و نابود کر دیئے گئے اس پر ارشاداتِ ربانی ملاحظہ ہوں: 

اس بحث میں تمام آیات کا ترجمہ شیعہ مقبول دہلوی کا ہے:

قُلْ لَّنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 16)

ترجمہ: تم یہ کہ دو کہ اگر تم موت یا قتل سے بھاگتے ہو تو یہ بھاگنا تم کو ہرگز نفع پہنچائے نہ گا اور اس صورت میں تم کو فائدہ حیات بھی کم دیا جائیگا۔ 

لَـنُغۡرِيَـنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 60)

ترجمہ: تو ہم ضرور تم کو ان کے در پر کر دیں گے پھر اس شہر میں تمہارے پڑوس میں نہ رہیں گے مگر بہت ہی کم۔

مَّلۡـعُوۡنِيۡنَ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ۞(سورۃ الاحزاب: آیت 61)

ترجمہ: اور ہر طرف سے ان پر لعنت ہوتی رہے گی وہ جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ایسے قتل کیے جائیں گے جیسے قتل کیے جانے کا حق ہے۔

وَّيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ الۡمُشۡرِكٰتِ الظَّآنِّيۡنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوۡءِ‌ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ السَّوۡءِ‌ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ وَلَعَنَهُمۡ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا ۞(سورۃ الفتح: آیت 6)

ترجمہ: اور منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کی نسبت برے سے گمان کیا کرتے ہیں خوب سزا دے ان کی بدیوں کا پھر ان ہی پر پڑے گا اور اللہ ان پر غضب ناک ہوگا اور ان کے لیے جنم تیار کر رکھا ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جھنم کا برا ٹھکانا تو اخروی سزا ہے لیکن غضبِ خداوندی اور لعنت تو حیات دنیا میں سے ہی ان پر شروع ہو گئی حضور نے حکم قرآنی وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ کی تعمیل میں ہیں ان پر سختی کی محفلوں سے نکالا جمعہ کے اجتماع میں ایک مرتبہ 36 آدمیوں کو بنام الگ کیا وہ مسلم معاشرے میں علانیہ رسوا اور ذلیل ہوئے اور ذلت کی موت سے بلا جنازہ زیرِ زمین ہوتے گئے حتیٰ کہ بقایا عہدِ صدیقی میں کھلے ارتداد انکارِ زکوٰۃ اور جھوٹے متنبیوں کی اتباع کی وجہ سے مقتول و ملعون ہوئے۔

منافق مخزول و مردود ہوئے:

گل از گلزارے کے تحت ان آیاتِ کریمہ سے معلوم ہوا کی منافقوں کو اللہ نے شتاب دہرا عذاب دیا ان کا رشتہ حیات ختم کر دیا گیا وہ بجز معمولی عرصہ کے مسلمانوں کے آس پاس رہ ہی نہ سکے بائیں صورت بھی ان پر لعنت و پھٹکار پڑتی رہی وہ جہاں پائے گئے پکڑے گئے کما حقہ قتل و غارت سے برباد ہوئے مشرکین کی طرح اللہ نے منافقوں کو دنیا میں عذاب دیا سازشوں کا وبال خود ان پر ہی پڑا اور وہ خدا کے غضب و لعنت کے اشکنجے میں گرفتار ہوئے جہنم کا آخری عذاب اس پر مستزاد ہو گا۔

بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے بصیرتِ قرآنی سے محروم معترض بصیرت قلبی سے غور کریں کہ قرآنِ پاک نے منافقوں کی نشاندہی میں کوئی دقیقہ باقی چھوڑا؟ اور کیا ان کو آسمان کا اٹھانا اور زمین کا نگلنا قرآن نے بیان نہ کر دیا؟

معلوم ہوا کہ موجبِ قرآن کے منافق حضورﷺ کے زمانہ میں ہی ختم ہوگئے اور کچھ وفاتِ نبوی کے بعد کھلے مرتد ہو کر مقتول و مردود ہوئے منظم جماعت کی شکل میں ان کا وجود باقی ہینہ رہا کہ وہ علی الاعلان اسلام کی مخالفت کرتے یا بقول شیعہ مرتضیٰ دشمنی ان کے قول و عمل سے ٹپکتی یا وہ منافقانہ اسلامی حکومت میں مل کر اپنا اثر پھیلاتے کیونکہ ایسا نا ممکن تھا قرآنِ حکیم کی کھلم کھا تکذیب لازم آتی لہٰذا گنتی کے چند افراد نامعلوم طور پر حصے دین تقیہ پر عمل کرکے رہتے ہوں گے مرنے پر صاحب السر حضرت حذیفہ بن الیمانؓ ان کی نشان دہی کر دیتے تو ان کا جنازہ بھی نہ پڑھا جاتا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مزید سختی کرتے۔(البدایہ والنہایہ زاد المعاد وغیرہ)

رہا یہ کہ تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے اور مؤمن بن گئے تو گزارش یہ ہے کہ مندرجہ ذیل آیت کی روشنی میں امکان ضرور ہے کہ بچے کھچے منافقین میں سے کچھ افراد مخلص تائب و مؤمن ہو گئے ہوں۔

وَيُعَذِّبَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ اِنۡ شَآءَ اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞(سورۃ الاحزاب؛ آیت 24)

ترجمہ: اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول کر لے بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

اگر شیعہ بھائی کو یہ آیت چبھے تو وہ قرآنی الفاظ میں ہی رسی آسمان کی طرف لٹکا کر گلے میں پھندا ڈال لے شاید اس کا غیظ و غضب اس تدبیر سے ختم ہو جائے۔(حج: رکوع، 2) بنو ہاشم کو وفاتِ نبویﷺ کے بعد حکومت کے مدِ مقابل ایک پارٹی کہنا صریح جھوٹ ہے۔

طبری کی معہودہ روایت کے پیشِ نظر جب بنو ہاشم کے سردار سیدنا علی المرتضیٰؓ نے بھی بیعت کر لی تو سب بنو ہاشم نے بھی کر لی بنو ہاشم سمیت سب امت کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اتفاق اور ان کی بیعت سوال نمبر 2 کےجواب میں با حوالہ گزر چکی ہے ہاں شیعہ کا یہ خیال ہے کہ سب امت میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ و حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے تقیہ کر کے بغیر رضائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی۔

صفحہ 2 از 4