کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ…

کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ) اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

(ملاحظہ ہو روضہ کافی: صفحہ، 115 احتجاج طبرسی: صفحہ، 48 اصولِ کافی: صفحہ، 246 رجال کشی) 

مگر بیعت تو سب نے کر لی بنو ہاشم بھی مستثنیٰ اور الگ نہ رہے اور سوائے مشتہر معترض کے کسی شیعہ کی یہ تصریح کہ بنو ہاشم حکومت سے الگ پارٹی تھی میرے ناقص مطالعہ سے نہیں گزری بلکہ متعصب مجتہد قاضی نور اللہ شوستری نے کئی جگہ لکھا ہے:

حضرت امیر وسائر بنی ہاشم از روئے اکراه بابی بکرؓ بظاہر بیعت کر ندد۔(مجالس المؤمنین: صفحہ، 224)

ترجمہ: کہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور سب بنو ہاشم نے مجبوراً حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بظاہر بیعت کرلی۔

بغیر ثبوت و دلیل کے ان بزرگوں کی ظاہری بیعت کو باجبر و اکراہ اور دل کے مخالف کہنا گویا مسلمانوں کے ساتھ صرف ظاہری موافقت کا نفاق حضرت علیؓ اور آپ کے دوستوں کے لیے ثابت کرنا صرف شیعہ کو زیبا ہے کسی مسلمان کی جرآت نہیں۔

قرآن میں منافقوں کی علامات:

منافقوں کی تحقیق و تعین دو طرح ہی ہو سکتی ہے۔

  1. قرآن میں مذکور ان کے اوصاف و کردار کی روشنی میں۔
  2. قرآن میں ان کے انجام کی روشنی میں۔

 پہلی بات میں قرآن نے ان کے یہ اوصاف بیان کیے ہیں:

1: وہ بقول خود بڑے مومن و پاکباز بنتے ہیں:

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ الخ(سورۃ البقرہ آیت 8)

اور سورۃ آلِ عمران میں ہے کہ وہ یہودی منافق مؤمن کہلا کر صحابہ رسولﷺ سے دشمنی اور جلن رکھتے تھے۔

وَاِذَا لَقُوۡكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ‌ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ الخ۔(سورۃ آلِ عمران آیت 119)

2: وہ اپنے کفریہ عقائد پر تقیہ وکتمان کا غلاف چڑھا کر مسلمانوں کو اپنے متعلق دھوکہ میں رکھتے ہیں۔

يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 9)

ترجمہ: وہ خدا کو اور مؤمنوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ 

3: وہ اصحابِ رسولﷺ سے دشمنی رکھتے ان کی حمایت و مدد سے مسلمانوں کو روکتے ہیں

تاکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جمعیت منتشر ہو جائے۔

هُمُ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا‌ الخ۔(سورۃ المنافقون: آیت 7)

ترجمہ: یہ وہی تو ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر اپنا پیسہ خرچ نہ کرو تاکہ وہ بھاگ جائیں۔

4: وہ خود کو معزز شریف قوم کہتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ذلیل و برا کہہ کر مدینۃ الرسولﷺ سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔

يَقُوۡلُوۡنَ لَئِنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ الخ۔

ترجمہ: یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ پلٹ کر گئے توجو زیادہ عزت دار ہے وہ مدینہ سے زیادہ ذلیل کو ضرور بہ ضرور نکال دے گا۔

5: وہ عہدِ نبویﷺ کے عام لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح ایمان نہیں لاتے نہ ان کی علمیت و بزرگی کے قائل ہیں بلکہ ان کو نادان و بے وقوف کہتے ہیں۔

6: وہ سنت رسولﷺ کی پیروی سے روکتے جماعت رسولﷺ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں۔

اَلَا اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ۞(سورۃ البقرہ: آیت 12)

ترجمہ: خبردار رہو بلاشبہ یہ لوگ مفسد ہیں مگر سمجھتے نہیں۔

7: وہ توحید و رسالت کے کلمہ اسلام کو پڑھ کر بے اعتبار و بے نجات مانتے اور دعویٰ ایمان میں جھوٹ بولتے ہیں۔

اِذَا جَآءَكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ ‌وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ ۞(سورۃ المنافقون: آیت 1)

ترجمہ: جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم ضرور اللہ کے رسول ہو یہ منافق ضرور جھوٹے ہیں

 8: وہ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ الخ۔(سورۃ التوبہ: آیت 100)  اور ان کے نیکی میں پیروکاروں اہلِ سنت و الجماعت کو خدا کے پسندیدہ اور جنتی بالکل نہیں مانتے بلکہ ان سے دشمنی رکھتے ہیں تبھی تو اللہ نے پارہ، 11 رکوع، 2 میں آیت وَالسّٰبِقُوۡنَ کے بعد ان کٹر منافقوں کا ذکر کیا ہے جو معترض نے لکھا۔

9: وہ اہلِ بیتؓ نبوی ازواجِ الرسول امہات المؤمنین کی عصمت و کردار پر طعنہ و شبہ کرتے حضرت عائشہ صدیقہؓ و حضرت حفصہؓ کو برا بھلا کہ کر خدا و رسولﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ الخ۔(سورۃ الاحزاب: آیت 57)

ترجمہ: بالتحقیق جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے۔

10: وہ ایک زرع محمدی سے اگ کر فصل بہاری کے طرح تمام روئے زمین پر چھا جانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ کو انقلابِ نبوت کی تعمیر و ترقی سے جل سڑ کر لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت 29)

ترجمہ: تاکہ ان کے ذریعہ سے کفار کو غصہ دلائے کا طوق گلے میں لٹکاتے ہیں منافقین ان دس خصوصیات کے حامل تھے وہ تو انجامِ قرآنی قتل ذلت اور دہرے عذاب سے مر مرا گئے اب اگر شیعہ اسے نہ مانیں تو وہ خدارا بنظر انصاف دیکھیں کہ یہ اوصاف عشرہ خود ان میں پائے جاتے ہیں یا نہیں اور وہ منافقین کے سچے جانشین بنے یا نہیں؟ خصوصاً جب کہ حضرت جعفرصادقؒ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے متعلق کوئی آیت نہیں اتاری مگر وہ ان لوگوں کے حق میں ہے جو شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ (رجال کشی: صفحہ، 193)

شیعوں پر علامات نفاق منطبق ہیں:

منافقوں کی نشاندہی چاہنے والے شیعہ دوست اپنے اس عقیدہ پر غور کریں کہ بعد وفاتِ نبویﷺ اہلِ بیتؓ اور ان کے شیعوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، چن چن کر قتل کر دئیے گئے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں وہ پنپ نہ سکے پھر ان مظالم پر آج شیعہ کا ہزاروں صفحات کا لٹریچر گواہ ہے اور شیعہ کی گریاں اور نالاں ماتمی شکلیں شاہدِ عدل ہیں شیعہ کے خاتم المحدثین بھی روتے ہوئے ایک شیعہ امام سے ناقل ہیں:

صفحہ 3 از 4