کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ…

کلام مجید شاہد ہے: اور ان لوگوں سے کہ گرد تمہارے ہیں باد یہ نشینوں سے منافق ہیں اور بعض لوگ مدینہ کے بھی سرکشی کرتے ہیں اوپر نفاق کے تو نہیں جانتا ان کو ہم جانتے ہیں ان کو شتاب عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرے جاویں گے طرف عذاب بڑے کے۔ (ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحبؒ) اس آیت کریمہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی رسول خداﷺ کے زمانے میں منافق رہا کرتے تھے اس کے علاؤہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ مدینۃ الرسولﷺ میں کثرت سے منافق رہا کرتے تھے انتقال مصطفیٰﷺ کے بعد مسلمانوں کی دو پارٹیاں معرض وجود میں آئیں ایک حکومت کی اور دوسری بنی ہاشم کی پارٹی ارشاد فرمائیں کہ منافقین کی پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جو لوگ رسول اللہﷺ کے زمانے میں منافق تھے انتقالِ رسولﷺ کے بعد ان منافقین کو کیا آسمان نے اٹھا لیا یا انہیں زمین نگل گئی یا تمام منافقین حکومت سے تعاون کرتے ہی فرشتے 234 بن گئے ان منافقین کی نشان دہی تو کرو کہ وہ کہاں غائب ہو گئے جب کہ تاریخ شاہد ہے ان دو پارٹیوں کے علاؤہ کوئی تیسری پارٹی ہی رکھی تحقیق ضروری ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

سیدنا امیرِ علیؓ کی بیعت پھر قتل و غدر، حضرت حسنؓ کی بیعت پھر اہلِ کوفہ کا ان پر قاتلانہ حملہ حضرت حسینؓ کی بیعت پھر مریدوں کے ہاتھوں ان کی شہادت جیسے:

و آنہا کہ باٰوبیعت کردہ بودند شمشیر بروئے او کشیدند ہنوز بیعتہائے آنحضرت درگردن ایشاں بودکہ او راشہید کر دند بعد ازاں پیوستہ باہلِ بیتؓ ستم کردند و مارا ذلیل گردانید ندواز اموال خود محروم ساختنند وسعی درکشتن ماکر دندو مارا خائف وترساں واشتندو ایمن بنو دیم برخو نہائے خود وخو نہائےدوستان خود الخ۔

(جلاء العیون: صفحہ، 264) 

ترجمہ: اور جن لوگوں نے بواسطہ مسلم بن عقیل حضرت حسینؓ پر تلوار اٹھائی اور شہید کر ڈالا حالانکہ حضرت کی بیعت ابھی ان کی گردن میں تھی اس کے بعد مسلسل ان لوگوں نے اہلِ بیتؓ پر ظلم کیے اور ہم کو ذلیل کیا اور اپنے ہاتھوں سے ہمیں محروم کیا ہمارے قتل کی کوششیں کیں ہم کو خائف اور ڈرنے والا بنا رکھا ہم اپنے اور مخلص دوستوں کے خون سے مطمئن نہ رہے۔

سوال یہ ہے کہ منافقوں کے متعلق قرآنی پیشینگوئیاں بدترین سزائیں اور خوفناک انجام بقول شیعہ ان لوگوں پر تو صادق نہیں آ گئے؟ انصاف مطلوب ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

اگر ان پر صادق نہیں مانتے تو ان لوگوں پر بھی صادق نہیں آ سکتے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق تاجِ خلافت پہنایا اپنے مرتضیٰ و پسندیدہ دین کو ان کے ہاتھوں سے مظبوط کیا ان کے خوف کو امن سے بدلا ان کو صرف اپنا عابد اور شرک سے بیزار بتایا۔(نور: ع، 7) 

نصف دنیا میں اسلام کاجھنڈا ان کے ہاتھوں سے لہرایا قیصر و کسریٰ کے تاج ان کے قدموں میں ڈال دیئے سوائے رافضی شیعہ کے سب لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت و عظمت ڈال دی اور تا دم زیست اللہ کا فضل و احسان ان کے شامل حال رہا۔

تو معلوم ہوا کہ منافقوں کا معمولی ٹولہ عہدِ نبوی اور ان کے متصل ہی خدائی اطلاعات کے مطابق نیست و نابود ہوگیا اس کا مصداق نہ خلافتِ راشدہ کے بانی اور فاتح عرب و عجم اور عالمی مبلغینِ اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں نہ حضرات اہلِ بیت رضی اللہ عنہم شیعوں کا جھوٹ شیعہ کو مبارک ہو۔


صفحہ 4 از 4