مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 16

الجواب: شیعہ دوست کے اعتراف کے مطابق الحمد للہ اہل سنت کے مذہبِ برحق کی بنیاد چار چیزیں ہیں جیسے مکان کی چار دیواریں بنیاد ہوتی ہیں قرآنِ حکیم اور حدیثِ مصطفیٰ کا بنیاد مذہب حقہ ہونا تو واضح ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوۡهُ الخ۔

(سورۃ الانعام: آیت 155)

ترجمہ: اور یہ کتاب جسے ہم نے نازل فرمایا ہے با برکت ہے پس اس کی پیروی کرو۔

وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ الخ۔

(سورۃ الحشر: آیت 7)

ترجمہ: جو تمہیں رسولﷺ دیں لے لو اور جس سے منع کریں باز آ جاؤ۔

اجماعِ امت بھی تیسرے نمبر یہ بنیاد ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت کے کسی ذو معانی یا مشکل مسئلہ کا فیصلہ کرنا ہو تو سب امت کے اتفاق سے یا اہلِ علم حضرات کی اکثریت سے جو فیصلہ ہو گا وہی برحق اور مرادٹ خدا و رسول سمجھا جائے گا یا کوئی نیا مسئلہ در پیش ہو اور قرآن و سنت سے اس کا واضح حکم نہ مل سکے تو امت کے معتمد علماء اس کا جو فیصلہ بالاتفاق کریں گے وہ حجت سمجھا جائے گا۔

اجماع کا جواز عقلاً بھی ہے اور سمعًا بھی عقلی دو دلیلیں ہیں:

1: قرآنِ حکیم اور جملہ دینِ خداوندی ہم پچھلوں تک چند وسائط سے پہنچا اور ان وسائط کا قطعی یقینی اور محفوظ عن الخطاء والحصبیان ہونا ضروری ہے پہلا واسطہ حضرت جبریل علیہ السلام کا ہے جو قطعی امین ہیں آنکه اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ ۞(سورۃ التکویر: آیت 19)

ذِىۡ قُوَّةٍ عِنۡدَ ذِى الۡعَرۡشِ مَكِيۡنٍ ۞(سورۃ التکویر: آیت 20)

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيۡنٍ ۞(سورۃ التکویر: آیت 21)

ترجمہ: بے شک وہ روایت ہے ایک بزرگ فرشتے جو صاحب طاقت خدا کے ہاں معزز اپنے حلقہ میں متبوع ورئیس ہے اور پھر امانت دار ہے۔ 

دوسرا واسطہ خود سرور دو عالمﷺ کا ہے جن کا جملہ گناہوں سے اور تبلیغ رسالت میں ہر قسم کی بھول چوک سے معصوم و محفوظ ہونا متفقہ مسئلہ ہے۔

وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ۞(سورۃ النجم آیت 3)

اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰىۙ ۞(سورۃ النجم آیت 4)

دین کے بارے میں پیغمبر یہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے بلکہ وہ تو وحی ہوتی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے۔

تیسرا واسطہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہے جو نزولِ قرآن و شریعت کے عینی شاہد ہیں براہِ راست زبانِ رسالت مآب سے تحصیل سماع تلقی بالقبول کر کے دین و دنیا کی تمام کامرانیان سمٹینے والے ہیں حجتہ الوداع کے موقعہ پر ان کو مبلغِ امت ہونے کی سند اور اجازت بھی مل گئی فَلْيُبلغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ حاضرین غائبین تک میرے یہ احکام پہنچا دیں۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 536 خطبہ حجۃ الوداع)

اس طبقہ اولیٰ کی طرح بدستور ہمارے زمانہ تک اور تاقیام ساعت آئندہ نسلیں اس بات کی مکلف ہیں کہ وہ پہلوں سے دین و شریعت سیکھ کر پچھلوں تک پہنچائیں ہر زمانہ میں کروڑوں نفوس کا ایک چیز سیکھنا اعتقاد رکھنا اور پھر عمل کر کے دوسروں تک پہنچا دینا یہی اجماعِ امت کی حقانیت و صداقت پر دلیل ہے اگر حضرت جبرئیل علیہ السلام و محمد مصطفیٰﷺ کی طرح یہ واسطہ قطعی نہ ہو اور امت مجموعی طور پر تبلیغِ دین میں غلطی اور سہو سے پاک نہ ہو تو ہم لوگ ایمان لانے کے مکلف نہ ہوں اس لیے کہ کس یقین سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرآن خدائی کلام ہے حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول و پیغمبر تھے اور یہ وہی بعینہٖ دین و شریعت ہے جو چودہ سو سال قبل حضورِ اکرمﷺ پر نازل ہوا لہٰذا اجماعِ امت اور تواتر کا یقینی محبت ہونا ضروری ہے۔

حضورِ اکرمﷺ پر نبوت ختم ہوگئی اب آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا نہ کتاب اترے گی جس میں زمانے کے نئے مسائل تفصیلی جزئیات کی شکل میں بیان کیے جائیں گے اسلام قیامت تک رہے گا کروڑوں مسلمان بھی قیامت تک رہیں گے زمانہ کے انقلابات مختلف قوموں کے ساتھ میل جول بین الاقوامی تہذیب و تمدن سائنس کی روز افزوں ترقی برقی ایجادات دشمنِ اسلام طاقتوں کے بالمقابل تحفظِ اسلام کیلئے عصرِ حاضر کے سانٹفک طریقے وغیرہ ہزاروں مسائل ہیں جو رفتار زمانہ کے ساتھ عہدہ صحابہ سے لے کر تاہنوز پیدا ہوتے آر ہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ان مسائل کے حل کے لیے بنیادی ماخذ گو قرآن و سنت ہی ہیں اور سینکڑوں دفعات ان میں مل سکتی ہیں لیکن ان کی نشاندہی جزئیات کی تفصیل و تشریح اور ان کا تعیین ان پر عمل کے طریقے سب امت کے معتمد علماء کے اتفاق و اجماع سے منصہ شہود پر آئیں گے مسائلِ جدیدہ کے حل کے لیے اگر اجماعِ امت اور قیاس کا لچک آمیز اصول موجود نہ ہو تو اسلام ایک جامد مذہب ہی قرنِ اول کے لیے بن کر رہ جائے گا اور زمانے کی ترقی و رفتار کا چلنج قبول نہ کرسکے گا ہاں شرط یہ ہے کہ اجماع و قیاس قرآن و سنت کے تابع ہی ہوں گے گویا ان کی نسبت یہ دو فرعیں ہیں قرآن و سنت کی کسی واضح تعبیر اور حقیقت کے برعکس نہ اجماع ہو سکتا ہے اور نہ معتبر ہے اور نہ قیاس و اجتہاد کی گنجائش ہے۔

سمعی اور نقلی دلائل: اجماعِ امت کی حقانیت پر دلائل تو بے شمار ہیں یہاں چند پہ اکتفاء کی جاتی ہے ربِ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ‌ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 155) 

ترجمہ: اور جو شخص واضح ہدایت کے بعد رسول اللہ کی مخالفت کرے اور مؤمنوں کے راستے سے الگ چلے ہم اسے اُدکر پھیریں گے جدہر جائے اور جہنم میں داخل کریں گے۔

صفحہ 1 از 16