مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 16

حضرت شاہ عبد العزيزؒ صاحب تحفہ اثناء عشریہ میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کے مخاطب بعض قبائل اعراب ہیں جیسے اسلم جہینہ مزینہ غفار اور اشجع اور طرفین کے مؤرخین کا اجماع ہے کہ نزولِ آیت کے بعد سرورِ کائناتﷺ کے عہد میں بجز غزوہ تبوک کے ایسا غزوہ نہیں ہوا جس میں اعراب کو دعوت دی گئی ہو۔ اور غزوہ تبوک اس آیت پر منطبق نہیں ہے کیونکہ ارشاد ہے تم جنگ کرو گے اپنے حریفوں کے ساتھ یا وہ مسلمان ہو جائیں گے مگر ان میں سے ایک بات بھی تبوک میں نہ ہوئی معلوم ہوا وہ دوسرا محرکہ ہے تو یقیناً یہ داعی خلفاء ثلاثہؓ میں سے ہے کہ جس نے اعراب کو مرتدین کے مقابلے میں دعوت جہاد دی جیسے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں اور خلیفہ ثانیؓ کے عہد میں اہلِ فارس و روم کے ساتھ جنگ کی اعراب کو دعوت دی گئی۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی ازالۃ الخفاء میں تقریر کا حاصل بھی یہی ہے کہ نزولِ آیت کے بعد غزوہ خیبر میں تو اعراب کو دعوت ہی ممنوع تھی

قُلْ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا كَذٰلِكُمۡ قَالَ اللّٰهُ مِنۡ قَبۡلُ‌ الخ۔(سورۃ الفتح: آیت 15)

فتح مکہ میں جنگ کی صورت نہ تھی غزوہ حنین و طائف میں بارہ ہزار مسلح اسلامی لشکر کے مقابلے میں بنو ثقیف کمزور و ارذل تھے نہ کہ صاحبان باسِ شدید گو مسلمانوں کو کثرت کے گھمنڈ میں ابتداءً کچھ نقصان اٹھانا پڑا تو معلوم ہوا کہ یہ آیت عہدِ نبوی کے بجائے خلافتِ راشدہ کے متعلق پیشین گوئی ہے:

آیت: 5 يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞

(سورۃ المائدہ: آیت 54)

ترجمہ: اے ایمان لانے والوں جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہیں، خدا عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن کو وہ دوست رکھتا ہے، اور اس کو وہ دوست رکھتے ہیں۔ مومنوں کے لیے وہ رحم دل ہیں، اور کافروں کے لیے سخت راہِ خدا میں جہاد کرتے ہیں، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ یہ فضلِ خدا ہے جس کو چاہے عطا کرے اور خدا تعالیٰ صاحبِ علم و وسعت ہے، (ترجمہ مقبول صفحہ: 39) عہدِ نبوی کے بعد مرتد ہونے والے لوگوں سے جہاد کرنے والے مؤمنوں کی اس آیت میں خوب توصیف و تحمید کی گئی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ ان سے جہاد صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ اور آپ کے لشکر نےکیا منکرین زکوٰۃ مرتدین اور جھوٹے متنبیوں سے بلا خوف ملامت کنندگان حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس ثابت قدمی اور جرات و حوصلہ سے مقابلہ کیا اور ایک دن میں فوج کے دستے تیار کر کے مختلف محاذوں پر بھیجے، اور ہر طرف سے فتح پائی، یہ ایسا کارنامہ ہے کہ دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے حضرت عمرؓ کا مقولہ مشہور ہے کہ میں اپنی عمر کے نیک اعمال سیدنا ابوبکرؓ کو صرف ایک رات اور دن کے عمل کے بدلے میں دینے کو تیار ہوں رات وہ کہ جس میں غارِ ثور میں حضورﷺ کی تنہا رفاقت و پاسبانی کی اور دن وہ جس میں مرتدین کے ساتھ جہاد کیا (مشکٰوۃ) یہ دولتِ جہاد صرف حضرت ابوبکرؓ کو حاصل ہوئی نہ حضرت علیؓ اور دیگر یازدہ شیعی ائمہ کو کیونکہ عہدِ نبویﷺ کے بعد حضرت علیؓ کو بھی نہ کُفار سے جہاد نصیب ہوا نہ سختی کرنے کا موقعہ ملا وہ تو ملامت کرنے والوں کے خوف کی وجہ سے بقول شیعہ اصلی اسلام کو بھی ظاہر و نافذ نہ کر سکے۔ (روضہ کافی صفحہ: 59، 60) 

اہلِ جمل و صفین پرچسپاں کر کے حضرت علیؓ کو اس کا مصداق بنانا بھی قطعاً غلط ہے کیونکہ شیعہ اعتراف کے مطابق اہلِ جمل صرف باغی تھے اور باغی بنصِ قرآن مؤمن ہے کافر و منافق نہیں۔

(کشف الغمہ روضہ کافی: صفحہ، 180)

اور اہل شام بھی مومن و خاطی تھے جیسے تفصیلاً گزر چکا تو معلوم ہوا اس آیت کے مصداق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ کا لشکر کامل مؤمن خدا کے محب اور محبوب مؤمنوں پر مہربان اور کافروں پر سخت مجاہد فی سبیل اللہ طعن و علامت سے بے نیازہ اور خدا کے خصوصی فضل سے مشرف ہیں واللہ الحمد مولانا عبدالشکور لکھنؤی اس آیت قتال مرتدین کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اسے حضرت مہدی کے عہد پر بھی چسپاں نہیں کیا جاسکتا اول یہ کہ آیت لفظ منکم بتلا رہی ہے کہ یہ پیشنگوئی صرف زمانہ نزول کے مخاطبین کے ساتھ خاص ہے اگر عام مانا جائے تو خلافِ مشاہدہ اور بطلان لازم آئے گا آج کے مرتدین پر کون سی قوم مسلط ہوتی ہے دوم بفرضِ محال عام بھی مانیں تو بھی آیت میں شرط و جزا کے بیان کے مطابق جب کبھی فتنہ ارتداد ہو تو اس پر قوم مسلط ہونی چاہئیے اور یہ مسلم ہے کہ آخر عہدِ نبوی اور خلافت اولیٰ میں فتنہ ارتداد ہوا لہٰذا ان پر قوم موصوف کا تسلط ضروری ہوا المختصر متواتر واقعات کا انکار نا ممکن ہے شیعہ کے مفسرین و مؤرخین اسے عہدِ صدیقی کے متعلق تسلیم کر رہے ہیں۔ 

(منہاج الصادقین وغیرہ ملخص تفسیر: 327 تفسیر آیاتِ قرآنی) 

وَيَوۡمَئِذٍ يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞(سورۃ الروم: آیت 4)

بِنَصۡرِ اللّٰهِ‌ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ۞(سورۃ الروم: آیت 5)

وَعۡدَ اللّٰهِ‌ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞(سورۃ الروم: آیت 6)

ترجمہ: اور اس دن ایمان والے اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے وہ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے اور وہ زبردست اور بڑا حکمت والا ہے یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کبھی وعدہ کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے ہی نہیں۔

(ترجمہ مقبول: صفحہ، 484) 

یہ آیت غزوہ روم اور مسلمانوں کی فتح سے متعلق ہے کہ ایک وقت آئے گا فارس پر مسلمان غالب و حاکم ہوں گے اور وہ مغلوب و محکوم چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو عہدِ فاروقی میں پورا کیا اگر آپ کی خلافت برحق نہ ہوتی یا وہ ناقص الایمان ہوتے تو قرآن کی میں ایسی پیشینگوئی قطعاً نہ آتی کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 270 پر ہے۔ 

کہ ابو عبیدہ نے سیدنا باقر صادقؒ سے اللہ کے ارشاد:

صفحہ 10 از 16