مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 12 از 16

ترجمہ: کہ ہم نے زمین کے مشرق و مغرب کا مالک اور وارث اس قوم کو بنا دیا جو زمین میں کمزور گنے جاتے تھے پارہ، 9 تینوں آیات میں اَلۡاَرۡضِ سے مراد مصر کی زمین ہے الغرض آیت میں ایسا کوئی قرینہ اور لفظ نہیں کہ اصحابِ رسولﷺ کو چھوڑ کر اصحابِ مہدی کو عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞(سورۃ الانبیآء: آیت 105)کا مصداق بنایا جائے اس سے تو دجل و تلبیس کا الزام معاذ اللہ قرآن پر آتا ہے کہ جن کو بشارت و انعام سنایا جا رہا ہے ان کے کسی فرد کا بھی اس میں حصہ نہیں تو ان عقلی اور نقلی وجوہ سے ثابت ہوا کہ اس سے مراد اصحابِ رسولﷺ اور لشکرِ فاروقی ہے اور ان کی خلافتِ راشدہ سچی اور موعود الہٰی ہے جس کا منکر منکرِ قرآن ہے وللہ الحمد

آیت 9: كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞

(سورۃ المجادلہ: آیت 21)

ترجمہ: یہ تو اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور بضرور غالب رہیں گے شیعہ مفسر طبرسی اس کے شانِ نزول میں لکھتے ہیں روایت ہے: کہ جب مسلمانوں کو خندق میں دکھلایا گیا کہ خدا ان پر شہر فتح کرے گا تو مسلمانوں نے دعویٰ کیا کہ ضرور بالضرور ان پر روم و ایران کو فتح کرے گا تو منافق کہنے لگے کیا تمہارا خیال ہے کہ روم اور فارس ان بعض شہروں کی طرح معمولی ہیں جن پر تم غالب ہوئے تو اللہ پاک نے یہ آیت مبارکہ اتاری مجمع البیان: پارہ، 28 صفحہ، 19 اس سے معلوم ہوا کہ قیصر و کسریٰ کی فتح درحقیقت خدا اور رسولﷺ کی فتح اور غلبہ تھی حضرت عمرؓ اور آپ پ کے لشکر مؤمنین کو اس کا مظہر اور آلہ بنایا گیا تو خلافتِ راشدہ کی حقانیت اظہر من الشمس ہوگئی۔   

آیت 10: هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا۞(سورۃ الفتح: آیت 28)

 ترجمہ: وہ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اور دیکھ بھال کے لیے اللہ کافی ہے۔ترجمہ مقبول 

شیہ مفسر طبرسی اس کی تین تفسیریں کرتے ہیں:

1: یعنی دین اسلام کو دلائل اور براہین کے ساتھ تمام دینوں پر غالب کر دے۔ 

2: دین کو غلبہ شوکت اور دنیا کے شہروں میں اشاعت و ترقی دے کر غالب کرے۔ 

3: کہ اس کی تکمیل مہدی کے نکلنے پر ہوگی پس زمین میں سوائے دینِ اسلام کے اور کوئی دین نہ رہے گا۔ 

(مجمع البیان: پارہ، 26، صفحہ، 79) 

تبصرہ: پہلی تفسیر کی ضرورت نہیں کیونکہ دلائل و براہین سے غلبہ اسلام تو روزِ ازل سے حاصل تھا کون سی دلیل کو کفار توڑ سکتے تھے۔

دوسری تفسیر ہی یقینی اور معتبر ہے کہ اسی کی ضرورت تھی تاکہ کفار کو مرعوب و مغلوب کر دیا جائے اور وہ اسلام کو مٹانے کے پروگرام ناکام ہو جائیں۔ 

تیسری تفسیر دوسری کے مخالف نہیں کیونکہ گو تکمیل خاص مصلحت کے تحت اس وقت ہو مگر دین کے غلبہ و اشاعت کا سلسلہ تو حضرت رسولِ اکرمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سے شروع ہو چکا ہے اور دشمنان مٹ گئے ہیں اب اگر زمانہ آخر میں یہود و نصارٰی کا پھر غلبہ ہو جائے زمین ظلم سے بھر جائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و امان مہدی کے ذریعے خدا دوبارہ اسلام کا اظہار و انقلاب برپا فرما دے تو وہ جدا بات ہے اور دیگر دلائل صریحہ سے ثابت ہے اس آیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

آیت11: اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا الخ۔

(سورۃ غافر: آیت 51)

ترجمہ:  بے شک ہم زندگانی دنیا میں اپنے رسولوں کی بھی مدد کرتے رہتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی جو ایمان لائے ہیں۔

شیعہ مفسر طبرسی فرماتے ہیں کہ ہم ان کی مدد کئی طرح کرتے ہیں کیونکہ مدد حجت اور استدلال سے ہوتی ہے اور جنگ میں غلبہ سے بھی ہوتی ہےجیسے حکمت کا تقاضا ہواور اللہ سبحانہ و تعالیٰ مصلحت جانتے ہوں اور مہربانی کرنے تائید کرنے اور دل کو مضبوط کرنے سے بھی ہوتی ہےاور دشمنوں کو ہلاک کر دینے سے بھی ہوتی ہےاور یہ سب قسم کی امدادیں منجانب اللہ انبیاء اور مؤمنین کو حاصل ہوئی تھیں۔

(مجمع: جلد، 24 صفحہ، 206)

اس آیت کے تحت ہم کہتے ہیں کہ خود حضورِ اکرمﷺ اور مؤمنین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اللہ نےیہ سب نصرتیں عطاء فرمائی تھیں وہ حجت و استدلال سے غالب ہوئے جنگوں میں کفار پر مظفر ہوئے تائیدِ ربانی سے ان کے دل مضبوط ہوئےاور ان کے دشمن ان کی تلواروں سے ہلاک ہوتے رہے اور یہ سب کچھ خلافتِ راشدہ ہی کی تشریح ہے جس کی حقانیت کی یہ آیت بھی ضامن ہےکیونکہ اگر ان کو اس کا مصداق نہ مانا جائے تو یہ مٶکد وعدہ و بشارت نصرت سچی نہ ہوگی کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شیعوں کو تو تاہنوز ان میں سے کسی قسم کی مدد حاصل نہ ہو سکی۔

آیت 12: كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت 29)

ترجمہ: کہ وہ کھیتی کے مانند ہیں کہ اس نے اپنی کونپل نکالی پھر طاقتور اور مضبوط ہو کر اپنے تنے پر کھڑی ہو گئی اب کھیتی کرنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے تاکہ ان کے ذریعے سے کفار کو غصہ دلائے۔(ترجمہ مقبول)

مفسر طبرسی لکھتے ہیں: واحدی کہتے ہیں کہ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دی ہے بس کھیتی تو محمدﷺ ہیں اور پودے اس کے اصحاب اور آس پاس رہنے والے مؤمن ہیں جو انتہائی کمزوری اور قلت میں تھے جیسے شروع میں چری فصل کمزور ہوتی ہے پھر موٹی اور مضبوط ہو کر بوٹا مارتی ہے یعنی ایک سے کئی شاخیں بن جاتی ہیں تو اسی طرح مؤمنین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے سے مل کر مضبوط ہو گئے اور خوب سخت طاقتور ہو گئے اور اپنے خلافت اسلام پر پورے کھڑے ہو گئے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی ترقی کی وجہ سے کفار کو چڑائے یعنی خدا نے ان کو بہت کثیر بنا دیا اور مضبوط کر دیا تاکہ یہ خدا کی اطاعت پر اتفاق اور اپنی کثرت کی وجہ سے کافروں کو غصہ دلائیں۔

(مجمع البیان: پارہ، 26 صفحہ، 80)

صفحہ 12 از 16