مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 13 از 16

یہ آیت سورۃ النور کی آیتِ استخلاف ہی کی تفسیر و تشریح ہے کہ وہ بکثرت ہو کر فتوحات کے ذریعے دنیا پر لہلہاتی کھیتی کی طرح چھا گئے فصل بونے والے حضرت محمدﷺ کو تو یہ اچھے لگتے ہیں مگر کافر ان سے جلتے ہیں کیونکہ ان کے ممالک اور علاقے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قبضے میں آگئے اور معلوم دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں ختم ہو گئی تھیں اب شیعہ حضرات ہی انصاف کر کے بتلائیں کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعمیر و ترقی اور فتوحات کی ذکرِ خیر سے چڑتے ہیں اور خلافتِ راشدہ کو بالکل برحق نہیں مانتے اور ان کے عیوب کی تلاش میں سرگردان رہتے ہیں لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ کی موجودگی میں ان کو کیا خطاب دیا جائے؟جب حضورِ اقدسﷺ کو ان کی یہ ترقی اور کثرت پسند لگے اور آپ کو ان سے 3، 4، 10 نفوس کہہ کر فصل اجاڑنے کا مشغلہ جاری رکھیں تو کیسے کوئی آپ کو مؤمن بالرسول اور خیر خواہِ اسلام باور کرے گا؟

احادیث مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ:

سوال 3 کے جواب میں کچھ ذکر ہو چکی ہیں شیعہ اصول پر کچھ یہ ہیں۔

1: بعض ازواجِ مطہرات کو بتلایا کہ میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ خلیفہ ہوں گے۔

(حیات القلوب: جلد 2، صفحہ، 610 تفسیر قمی: صفحہ، 376 تفسیر مجمع البیان: صفحہ، 314 جلد، 3 سورۃ التحریم)

اصل الفاظ یہ ہیں: فقال ان ابا بکرؓ لی الخلافۃ بعدی ثم بعدہ ابوک فقالت من اخبرک بھٰذا فقال اللہ اخبرنی۔

اس بنیادی مسئلہ پر یہ سب سے قطعی دلیل کے فرمان و خبر نبوی ہے اگر خلافتِ صدیقؓ و فاروقؓ کو من جانب خدا اور رسولﷺ سچا اور فیصلہ شدہ مانا جائے تو مذہبِ شیعہ باطل ہے اگر شیعہ سچے ہوں تو خدا اور رسولِ اکرمﷺ کی صداقت ختم ہو جاتی ہے۔

2: آپﷺ نے سیدنا ابوبکرؓ کو ولی عہد کی طرح امامِ نماز بنایا جیسے ابنِ سعد طبری ابنِ اثیر ابنِ خلدون وغیرہ تمام کتبِ تاریخ میں مذکور ہے اور صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ میں ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو امامت کا حکم دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس امامتِ صغریٰ سے امامتِ کبریٰ پر استدلال کر کے آپ کی بیعت فرمائی۔

3: متعدد مواقع پر حضورِ اقدسﷺ نے قیصر و کسریٰ کی فتح کی بشارت دی اور اپنی طرف نسبت کی۔علامہ باقر علی مجلسی آیت قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ کے تحت فرماتے ہیں:

4: معتبر روایات کے موافق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی کہ فتحِ مکہ یا جنگِ خندق کے موقع پر حضورﷺ نے خبر دی کہ: 

خدا بمن و امامت من بدا و ملک بادشاہان عجم و روم و یمن و منافقان گفتند کہ محمد اکتفا بمکہ و مدینہ نمے کند و طمع ور ملک بادشاہاں میکند۔

(حیات القلوب: جلد، 6 صفحہ، 158، 180)

ترجمہ: خدا نے عجم روم اور یمن کے بادشاہوں کے ملک مجھے اور میری امت کو دے دیئے اور منافق کہتے تھے کہ محمدﷺ مکہ و مدینہ پر اکتفاء نہیں کرتا اور بادشاہوں کے ممالک کا لالچ رکھتا ہے۔ 

5: حضورِ اقدسﷺ کے فرمودہ کے مطابق عجم کے بادشاہ بڑی طاقت و شوکت کے باوجود ختم ہو گئے۔

(حیات القلوب: جلد، 2)

اور حق تعالیٰ نے چند آیات دیگر میں خبر دی ہے کہ بلادِ فارس و روم کے علاؤہ دیگر فتوحات اور نصرتیں خدا کی طرف سے ہوں گی جن کا ذکر میں نے بہار الانوار میں کر دیا ہے۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 160)

6: ایک عرب کے مشہور عالم عبد المسیح بن عمرو غسانی نے بشارت دی تھی پیغمبر آخر الزمان کے مبعوث ہونے پر ملک شام و عجم ان کے بادشاہوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا اور قیصر و کسریٰ گرنے والے کنگروں کی مانند وہ بادشاہی کریں گے پھر ان کی بادشاہی ختم ہو جائے گی جو کچھ ہونا ہے ہو کر رہے گا پھر مجلسی کہتے ہیں کہ ان کے 10 بادشاہ 14 سال میں ختم ہوئے باقی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک رہے اور نیست و نابود ہو گئے۔

(حیات القلوب: صفحہ، 56 جلال العیون: صفحہ، 40)

7: کئی مرتبہ حضورِ اقدسﷺ نے اہلِ عرب کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا اور رسول کو مان لو۔

بادشاہِ عرب و عجم شدید و در بہشت بادشاہ باشید۔

(حیات القلوب: صفحہ، 261، 263)

ترجمہ: تاکہ تم عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ اور بہشت میں بھی بادشاہ رہو گے۔

8: جنگِ خندق کے موقع پر کھدائی کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا نے پہلی چمک میں یمن کے محل مجھے دیئے دوسری میں شام کے محل مجھے دیئے تیسری میں مدائن کے محلات مجھے ملے اور عجم کی حکومتیں مجھے مل گئیں پھر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:

لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ۞(سورۃ التوبہ: آیت 33)

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 209 جلد، 2 صفحہ، 276 وغیرہ)

ترجمہ: کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو تمام ادیان و ملل پر غالب کر دے اگرچہ مشرک اسے ناپسند کریں۔

9: جب کسریٰ نے حضورﷺ کا مکتوب پھاڑ دیا تو آپﷺ نے فرمایا:

امت من بزودی مالک زمین او خواہند شد۔

(حیات القلوب: صفحہ، 441)

میری امت جلد ہی اس کی زمین کی مالک بن جائے گی۔

قیصر و کسریٰ کے قاصدوں سے فرمایا اپنے بادشاہوں سے جا کر کہو:

کہ بادشاہی من تابمنتہائے زمین خواہدر سید و ملک قیصر و کسریٰ تبصرف امت من درخواہد آمد۔

(حیات القلوب: صفحہ، 441)

ترجمہ: کہ میری بادشاہی زمین کی انتہاء پر پہنچے گی اور قیصر و کسریٰ کے مالک میری امت کے قبضے میں آ جائیں گے۔

قیصر و کسریٰ کی فتح کی پیشنگوئی کے متعلق یہ صرف ایک کتاب کی کچھ عبارات ہیں ورنہ قصہ کتبِ شیعہ میں بھی متواتر ہے باتفاق شیعہ سنی یہ فتوحات عہدِ فاروقی و عثمانی میں ہوئیں آپ نے ان کی نسبتِ فتح خود اپنی طرف یا اپنی امت کی طرف کی ہے جس سے خلافتِ راشدہ کی حقانیت اظہر من الشمس ہو گئی۔

10: شیعہ کی قدیم ترین معتبر تفسیر قمی مصنفہ علی بن ابراہیم استاذ کلینی جلد، 2 صفحہ، 178 سورۃ الاحزاب حالات خندق میں ہے:

کہ حضور نے کدال لے کر خود چٹان پر ماری تو بجلی چمکی اور ہم نے شام و قیصر کہ محلات دیکھے پھر دوسری دفعہ ماری تو بجلی چمکی اور ہم نے مدائن ایران کے محلات دیکھے پھر تیسری دفعہ ماری اور بجلی چمکی تو ہم نے یمن کے محلات دیکھے تو حضور اقدسﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ ان ممالک کو تم پر فتح کرے گا اور جو بجلی میں تم نے دیکھے۔

صفحہ 13 از 16