مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 14 از 16

خلافت راشدہ کی حقانیت پر اہل سنت کی 12 احادیث:

1: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں دیکھا کہ ایک کنوئیں پر کھڑا ہوں ۔ ڈول رکھا ہے ۔ میں نے اس سے پانی کھینچا جانتا اللہ نے چاہا ۔ پھر ابن ابی قحافہ (ابو بکر صدیق ؓ نے وہ لے لیا تو ایک دو ڈول انہوں نے نکالے مگر ان کے بھرنے میں کچھ صنعف تھا اللہ ان کو معاف کرے پھر وہ ڈول بہت بڑا بن گیا تو اسے عمر بن الخطابؓ نے لے لیا میں نے کسی زور آور کو نہیں دیکھا کہ وہ عمرؓ کی طرح زور وطاقت سے بھرتا ہو۔ یہاں تک کہ سب لوگ سیراب ہو گئے۔ بخاری ومسلم از ابوہریرہؓ و ترمذی از ابن عمرؓ)

اس حدیث میں صریح اشارہ شیخینؓ کی خلافت کی طرف ہے اور حضرت عمرؓ کی خلافت کی قوت اور کثرتِ فتوحات کا بھی بیان ہے اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کا ضعف خلافتِ فاروقیؓ کے مقابلہ میں کثرتِ فتوحات نہ ہونے کی وجہ سے بیان فرمایا ہے گو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو مدتِ خلافت صرف دو برس تین ماہ ملی۔

کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 216 تہران میں محشی علی اکبر غفاری صاحب فرماتے ہیں چٹان والی یہ حدیث متواتراتِ میں سے ہے اسے خاصہ اور عامہ سب نے بہت سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے شیخ صدوق نے بھی اپنی سند سے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کیا ہے انتہیٰ۔ 

2. ابو داؤد نے حضرت ابو بکرؓ سے یہ روایت کی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ میں نے خواب دیکھا گویا ایک تراز و آسمان سے اتری اس میں آپﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وزن کیے گئے تو آپﷺ وزنی رہے پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تولے گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وزنی رہے سیدنا پھر عمرؓ اور سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ وزن کیے گئے تو سیدنا عمر فاروقؓ وزنی رہے اس کے بعد وہ تراز اُوپر اٹھالی گئی اس خواب کو سن کر ترازو کے اٹھ جانے سے رسول خداﷺ کو رنج ہوا اور آپﷺ نے فرمایا کہ یہ خلافتِ نبوت ہے اس کے بعد خدا جس کو چاہے گا بادشاہت دے گا۔ 

(ترمذی ابوداؤ در مشکوٰة: صفحہ، 560)

ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ خود رسولِ خداﷺ نے بھی ترازو میں تولے جانے کا خواب ذکر فرمایا تھوڑا سا فرق عنوانِ بیان کا ہے اس روایت میں خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کا بیان ہے۔

3: حاکم رحمہ اللہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں مجھے قبیلہ بنو مصطلق کے لوگوں نے رسولِ خدا ﷺ کے پاس بھیجا کہ آپ کے بعد ہم اپنی زکوٰۃ کس کو دیں آپﷺ نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو میں نے یہی جاکر ان سے کہ دیا انہوں نے کہا جاؤ پوچھو کہ اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہو جائے تو پھر کس کو دیں آپﷺ نے فرمایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں نے کہا پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد کس کو دیں آپﷺ نے فرمایا حضرت عثمانِ غنیؓ کو۔

مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمۃ اللہ یہ روایت لکھ کر فرماتے ہیں اس مضمون کی روایات بہت ہیں کسی میں زکوٰۃ کا حوالہ اپنے بعد خلفائے ثلاثہؓ پر فرمایا ہے کسی میں اپنے قرض کی ادائیگی کا کسی میں کسی اور معاملہ کا یہ سب ولی عہدی کے دلائل ہیں بعض روایات میں ہے کہ پوچھا گیا حضرت عثمانؓ کے بعد تو فرمایا کہ حضرت عثمانؓ کے بعد ہو سکے تو مر جاؤں یعنی ان کے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے۔

4: حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے وہ کہا کرتے تھے کہ خدا کی قسم حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ کی خلافت کتاب اللہ میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب نبی اکرم ﷺ نے ایک راز کی بات اپنی بعض بیویوں سے کی تھی وہ یہ کہ آپﷺ نے حضرت حفصہؓ سے کہا کہ تمہارے والد اور حضرت عائشہ صدیقہؓ کے والد میرے بعد لوگوں پر حاکم ہوں گے اس کو کسی سے بیان نہ کرنا یہ روایت علامہ واحدی نے لکھی ہے کتبِ شیعہ سے حوالہ جات گزرچکے ہیں۔

5: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبیﷺ نے اپنی وفات سے کچھ دیر پہلے فرمایا کہ بہ تحقیق میں نے ارادہ کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو بلاؤں اور عہدنامہ لکھوا دوں تا کہ دعویدار کچھ نہ کہیں اور تمنا کرنے والے کچھ تمنا نہ کریں پھر میں نے کہا کہ اللہ انکار کرے گا اور مسلمان رد کر دیں گے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی خلیفہ بنے۔

 (بخاری: جلد، 2 صفحہ، 850)

6: حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول خداﷺ کے پاس آئی اور اس نے کسی معاملہ میں آپﷺ سے گفتگو کی آپﷺ نے اسے حکم دیا کہ پھر آنا اس نے کہا اگر میں آپ کو نہ پاؤں مطلب یہ کہ آپ کی وفات ہو جائے تو آپﷺ نے فرمایا مجھے نہ پاؤ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آنا یہ حدیث بخاری: جلد، 1 صفحہ، 516 ترمذی ،ابو داؤد اور ابنِ ماجہ نے روایت کی ہے۔

7: بیہقی اور ابونعیم نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ عنقریب تمہارے اندر بارہ مقتدر خلیفہ ہوں گے حضرت ابوبکر صدیقؓ تو میرے بعد تھوڑے دن پائیں گے اور وہ عرب کی چکی چلانے والا اچھی زندگی پائے گا اور شہید ہو کر میرے گا ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ وہ چکی چلانے والا کون شخص ہے فرمایا حضرت عمر بن الخطابؓ پھر آپﷺ حضرت عثمان بن عفانؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم سے لوگ درخواست کریں گے کہ ایک قمیص جو اللہ نے تمہیں پہنائی ہے اتار دو لیکن قسم اس کی جس نے حق کے ساتھ مجھے بھیجا اگر تم اس کو اتارو گے تو جنت میں داخل نہ ہو گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ سے نکل جائے چنانچہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے مظلومانہ شہادت پالی مگر قمیصِ خلافت نہ اتاری حضرت عمرؓ کو عرب کی چکی چلانے والا اور قطب حضرت علیؓ نے بھی فرمایا ہے: فکن قطبا واستدر الوحى من العرب۔

(نہج البلاغہ قسم اول: صفحہ، 282)

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول خداﷺ دنیا سے نہیں گئے یہاں تک کہ مجھے یہ خبر دے گئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپﷺ کے بعد خلیفہ ہوں گے ان کے بعد حضرت عمرؓ ہوں گے ان کے بعد حضرت عثمانؓ ہوں گے ان کے بعد میں ہوں گا مگر میری خلافت پر سب کا اتفاق نہ ہوگا۔ 

صفحہ 14 از 16