مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 15 از 16

(ریاض النضرہ غنیتہ الطالبین)

9: حاکم نے حضرت سفینہؓ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺ نے مسجد کی بنیاد میں ایک پتھر رکھا تو پھر فرمایا کہ حضرت ابوبکرؓ ایک پتھر میرے پتھر کے پہلو میں رکھیں پھر فرمایا کہ حضرت عمرؓ ایک پتھر حضرت ابوبکرؓ کے پتھر کے پہلو میں رکھیں پھر فرمایا کہ حضرت عثمانؓ ایک پتھر حضرت عمرؓ کے پتھر کے پہلو میں رکھی۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ میرے خلیفہ ہوں گے 

10: محدث بزار نے اور طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک روز نبیﷺ تنہا بیٹھے ہوئے تھے کہ میں گیا اور آپﷺ کے پاس بیٹھ گیا اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ آئے اور سلام کیا پھر حضرت عمرؓ آئے تو سلام کہا پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے سلام کہہ کر وہ بھی بیٹھ گئے رسول خداﷺ کے سامنے سات کنکریاں تھیں ان کو آپﷺ نے اٹھایا ہتھیلی میں رکھا تو وہ کنکریاں تسبیح پڑھنے لگیں یہاں تک کہ میں نے ان کی آواز شہد کی مکھی کی سی سنی پھر آپﷺ نے وہ کنکریاں زمین پر رکھ دیں تو وہ خاموش ہو گئیں پھر آپﷺ نے وہ کنکریاں حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ میں رکھیں تو ان کے ہاتھ میں بھی وہ تسبیح پڑھنے لگیں یہاں تک کہ میں نے ان کی آواز شہد کی مکھی کی سی سنی پھر آپﷺ نے ان کو زمین پر رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں پھر آپﷺ نے ان کو حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں رکھ دیا تو ان کے ہاتھ میں بھی وہ تسبیح پڑھنے لگیں یہاں تک کہ میں نے ان کی آواز شہد کی مکھی کی سی سنی پھر آپﷺ نے ان کو زمین پر رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں پھر آپﷺ نے ان کو اٹھا کر حضرت عثمانؓ کے ہاتھ میں رکھا تو ان کے ہاتھ میں بھی وہ تسبیح پڑھنے لگیں یہاں تک کہ میں نے ان کی آواز شہد کی مکھی کی سی سنی پھر آپﷺ نے ان کو زمین پر رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں۔

فقال رسول اللهﷺ هذه خلافة النبوة۔

ترجمہ: پس رسولِ خداﷺ نے فرمایا کہ یہ خلافت نبوت کی ہے۔ 

اور ابنِ عساکر نے اس اور زیادہ روایت کیا ہے کہ آپﷺ نے فرداً فرداً ہم لوگوں کے ہاتھ میں ان کنکریوں کو رکھا مگر کسی ایک کنکری نے بھی ہمارے ہاتھوں تسبیح نہ پڑھی۔ 

(بحوالہ تفسیر آیاتِ قرآنی: 455، 457 از مولانا عبد الشکور لکھنویؒ)

11: عن حذيفةؓ قال قال رسول اللهﷺ انى لا ادری مابقاںٔی فیکم فاقتدو بالذین من بعدی ابی بکرؓ و عمرؓ۔ (ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 229)

ترجمہ: حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ کتنا عرصہ تم میں زندہ رہوں گا تو تم میرے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پیروی کرنا۔

ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے علاوہ حضرت حذیفہؓ سے ربعی بن حراش کے واسطہ سے دو سندیں ذکر کی ہیں۔

شیخینؓ کو خلیفہ بنانے پر یہ حدیث مرفوع بالکل صریح دلیل ہے تبھی تو سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر عمل کر کے ان کی خلافت پر کلی اتفاق کیا بایں معنیٰ ان کی خلافت کو اجماعی یا شورائی کہا جاتا ہے۔

11: حضرت جابر بن عبداللهؓ حضورﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ آج ایک نیک آدمی حضورﷺ کی ذات مراد ہے کو خواب آئی کہ حضرت ابوبکرؓ کو رسول اللہﷺ کے ساتھ جوڑا گیا اور حضرت عمرؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ اور حضرت عثمانؓ کو حضرت عمرؓ کے ساتھ جوڑ گیا سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہﷺ کے پاس سے اٹھے تو یہ تعبیر دیتے تھے کہ رجلِ صالح رسول اللہﷺ ہیں اور بعضوں کا بعض کے ساتھ جوڑ کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ اس شریعت کے والی اور خلفائے نبویﷺ ہیں جو اللہ نے نبیﷺ کو دے کر بھیجا ہے۔ 

(ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 281 باب الخلفاء)

یہ تمام احادیث خلافتِ راشدہ کی حقانیت اور خلفاء کے ولی عہد نبوی ہونے پر صاف صاف دلالت کرتی ہیں رہا یہ کہ پھر خلفاء نے بیعت لیتے وقت ان کو پیش کیوں نہ کیا تو اس کی رکاکت ظاہر ہے کیونکہ خلفاء کو خود اپنے منہ میاں مٹھو بن کر اپنے لیے یہ حدیث پڑھنے اور کشمکش برپا کرنے کی ضرورت نہ تھی پھر بھی ان میں صرف چند کارناموں اور فتوحات پر مشتمل ہیں جب تک فتوحات عمل میں نہ آئیں تو کوئی کیسے فاتح یا خلیفہ مبشر فی الاحادیث ہونے کا دعویٰ کرے شیعہ کے یہاں احادیثِ مصطفیٰﷺ سے احادیثِ ائمہ کا درجہ زیادہ ہے لہٰذا اس ضمن میں حضرت علیؓ کی بھی ایک حدیث پیش خدمت ہے۔ (بقیہ ارشاداتِ ائمہ سوال 3 کے جواب میں ملاحظہ کریں ہے)

خبردار! میں ان شخصوں سے ضرور جنگ کروں گا ایک وہ جو ناحق پر دعویٰ کرے اور دوسرا وہ جو حق کو دوسروں سے روکے۔(نہج البلاغہ) 

تاریخ شاہد ہے کہ حضرت علیؓ نے خلفائے ثلاثہؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جنگ نہیں کی معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک ان کی خلافت برحق اور صحیح تھی۔

خلافت اور اجماع:

سنی شیعہ کتب حدیث سیرت اور تاریخ سے یہ مصرح ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دیگر سب خلفاء پر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سب اُمت نے اتفاق فرمایا شیعہ بھی اس کے معترف ہیں تبھی تو سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اُمت سے ناراض اور ان کو گالیاں دیتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں اجماع سے کوئی خلیفہ نہیں بن سکتا لیکن ہم کہتے ہیں بالفرض اگر قرآن و سنت سے کوئی نص اور اشارہ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافتِ راشدہ پر نہ ہو تب بھی سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اتفاق و اجماع سے خلافتِ راشدہ کی حقانیت قطعی اور یقینی ہے۔ اولاً: امت گمراہی سے محفوظ ہے تو اجماع برحق ہوا جیسے تفصیل گزر چکی ہے۔ 

صفحہ 15 از 16