مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 16

ترجمہ: آپ کی امت سب امتوں سے بہتر ہے۔

حق تعالیٰ نے سابقہ تمام امتوں پر امتِ محمدیہﷺ کو حسبِ روایت (مجلسی از حضرت علیؓ در حیات القلوب: صفحہ، 137، 139) جن 60 باتوں میں فضیلت بنتی ہے ان میں سے بعض یہ ہیں۔

9: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ الخ

(سورۃ آلِ عمران آیت 110)

وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ الخ۔

(سورۃ البقرہ آیت 143)

ترجمہ: تم سب امت ہو سے بہتر ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے بنائے گئے ہو اسی لیے ہم نے تم کو اعلیٰ امت بنایا کہ تم لوگوں پر روز قیامت گواہی دو۔

10: والیشان رابر گمراہی جمع نمی کند۔

ترجمہ: اور ان کو خدا گمراہی پر جمع نہ کرے گا۔

تلک عشرة کاملہ کیا ان واضح ارشاداتِ خداوندی فرامینِ نبویﷺ اور فرموداتِ مرتضوی کی موجودگی میں اس امت کی صداقت اور اجماع کی حقانیت میں کسی کو شک و شبہ ہو سکتا ہے کیا اجماعِ امت کو حجت نہ ماننے والے اب بھی مسلمان اور امتِ محمدیہﷺ کہلائیں گے؟

قیاس کی ضرورت اور مشروعیت اجتماع کے بیان میں قدر سے گزر چکی ہے۔

نقلاً صرف ایک آیت پیش کی جاتی ہے:

وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 83)

ترجمہ: اگر وہ اس بات کو رسولﷺ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو صاحبان علم ہیں لوٹاتےتو البتہ وہ لوگ جان لیتے جو ان میں سے مسائل نکالتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ اولو الامر صاحبان اجتہاد و قیاس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی سے ہوں گے اور وہ قرآن و سنت سے مشکل مسائل کا استنباط اور حل پیش کریں گے عام امت کو ان کی طرف رجوع اور پھر اتباع کرنی ہوگی شیعہ حضرات اس اصول کو عقل سے تعبیر کرتے ہیں گویا وہ عقل کو قرآن و سنت کے تابع کرنے کے بجائے نصوص کو عقل کے تابع بنا دیتے ہیں اور ان کی تاویلات کرتے ہیں جب کہ اہلِ سنت نئے مسئلے اور نصوص میں ایک مشترک علت تلاش کر کے عقل کے مطابق حلت و حرمت کا حکم اس پر لگاتے ہیں۔

شیعہ حضرات چاروں اصول کے منکر ہیں:

قارئین آپ کو تعجب تو ہوگا کہ چاروں اصول جب قرآن و سنت سے قطعاً ثابت ہیں تو شیعہ ان سے کیوں اعتراض کرتے ہیں درحقیقت وہ چاروں اصولوں کے منکر ہے تبھی تو وہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم مسلمانوں پر غیظ و غضب کے دانت بیستے رہتے ہیں خود تفصیل ملاحظہ ہو:

مسئلہ تحریف قرآن:

 1: یہ قرآنِ حکیم ان کے مذہب کی بنیاد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی صحت و صداقت پر ان کو اعتماد ہی نہیں وہ اپنی دو ہزار متواتر احادیث کی رو سے اسے محرف بدلا ہوا اور خدائی تنزیل سے کم و بیش مانتے ہیں۔

1: اصولِ کافی: جلد، 1 میں یہ باب مستقل باندھا گیا ہے باب فیہ نکت ونتف من التنزیل فی الولایہ اس بات کا بیان کہ قرآن کریم میں سے عقیدہ امامت کے متعلق آیات میں خاص الفاظ نکال دیے گئے ہیں یہ باب اصولِ کافی طبع جدید تہران جلد، 1 صفحہ، 412 سے صفحہ 436 تک پھیلا ہوا ہے اس میں سے 91 آیات محرفہ کی فہرست راقم نے تیار کی ہوئی ہے تفصیل کا موقعہ نہیں اسی کتاب میں اور مقامات پر بیسیوں آیات محرفہ کا ذکر اس کے علاوہ ہے۔

 2: شیعہ کے نہایت مستند ترجمہ و حواشی از مقبول دہلوی میں مسند کتبِ شیعہ کے حوالہ جات سے جگہ جگہ ان آیاتِ محرفہ کو نمایاں کیا گیا ہے تقریباً 42 عدد آیات راقم نے اپنی بیاض میں قلم بند کی ہوئی ہیں بطورِ نمونہ ملاحظہ ہو:

وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 23)

وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ الخ۔ (سورۃ النساء: آیت 66)

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا الخ۔(سورۃ النساء: آیت 168)

3: اصولِ کافی باب النوادر میں ہے:

عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال ان القرآن الذی جاء بہ جبریل علیہ السلام سبعہ عشرہ الف آیۃ۔

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ جو قرآن حضرت جبرائیل علیہ السلام حضورﷺ پر لائے تھے وہ 17 ہزار آیتیں تھیں۔ 

حالانکہ موجودہ قرآن پاک میں 6666 آیات ہیں شیعہ کے خیال میں دو تہائی قرآن لوگوں نے نکال دیا۔

4: قال السید المحدث الجزائری ما معناہ ان الاصحاب قد اطبقوا علی صحۃ الاخبار المستفیضتہ المتواتر الدالہ بصریحھا علی وقوع التحریف فی القرآن۔ 

(فصل الخطاب: صفحہ، 3) 

ترجمہ: محدث جزائری کے قول کا حاصل یہ ہے کہ سب شیعہ علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن کی تحریف پر صراحتاً دلالت کرنے والی احادیث صحیح مشہور اور متواترہ ہیں۔

وان الاخبار ذالک تزید علے الفی حدیث۔

ترجمہ: اور بلاشبہ یہ احادیث دو ہزار سے زائد ہیں۔

5: انھم اثبتوا فی الکتاب ما لم یقلہ اللہ لیلبلسوا علی الخلیفہ۔ 

(احتجاج طبرسی: صفحہ، 125)

اور جامعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کتاب میں وہ باتیں جما دی ہیں جو اللہ نے نہیں کیں تاکہ وہ مخلوقات کو دھوکہ دیں۔

6: فالفہ ذو اختیارھم وزادوا فیہ ما ظھر تناکرہ وتنافرہ والذی بداء فی الکتاب من الازراء علی النبی من فریت الملحدین۔

(احتجاج طبرسی: صفحہ، 130بحوالہ اہلِ سنت پاکٹ بک)

ترجمہ: پس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صاحبان اختیار نے اس قرآن کو جمع کیا ہے اور اس میں وہ باتیں زیادہ کردی ہیں جن کا صداقت اور فصاحت و بلاغت کے برخلاف ہونا ظاہر ہے حضورﷺ کی جو مذمت قرآن میں ظاہر ہے وہ ملحدوں کے افتراء کا نتیجہ ہے۔

معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں صرف کمی اور تحریف نہیں ہوئی بلکہ لوگوں نے اپنے کلام کا اضافہ بھی کر دیا ہے (توبہ توبہ)

ایک سوال: جب یہ قرآن شیعہ مانتے ہی نہیں تو ماننے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں پھر سب شیعہ کی تاریخ میں صرف چار عالم ایسے کیوں ہوئے جنہوں نے تحریف کا انکار کیا اور صاحب من لا یحضرہ الفقیہ نے اپنے رسالہ اعتقادیہ میں عقیدہ تحریف کا انکار اور مذمت کیوں کی ہے تو اس کا: 

صفحہ 3 از 16