مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 16

جواب: یہ ہے کہ شیعہ کے بقول خود ہزاروں علماء و مجتہدین میں سے صرف چار کا تحریف کا انکار کرنا اس عقیدے کو اور پختہ کرتا ہے ان چاروں کا انکار بھی محض تقیہ کے طور پر ہے ورنہ قائلین تحریف پر انہوں نے کفر یا گمراہی کا فتویٰ کیوں نہیں لگایا موجودہ شیعہ علماء کا انکارِ تحریف بھی محض تقیہ اور تلبیس پر مبنی ہے کیونکہ حالیہ علماء میں سے میں مرزا احمد علی جیسے مجتہدین کے قرآن پر اعتراضات مشہور اور شائع شدہ ہیں مولوی مقبول کا ترجمہ و حاشیہ آیاتِ محرفہ کی نشاندہی کے ساتھ بار بار چھپ رہا ہے اور اس پر دسیوں شیعہ کے متعدد علماء کے دستخط اور تصدیقات موجود ہیں۔(طبع قدیم دہلی)

اور آیاتِ محرفہ کی انہوں نے تردید نہیں کی کیا یہ سب کاروائی اس حقیقت کے جتلانے کے لیے کافی نہیں کہ شیعہ کا اعتقادِ تحریف یقینی ہے اور انکار محض تقیہ اور مسلمانوں کے الزام سے بچنے کے لیے بمنزلہ ڈھال کے ہے اور شیعہ اس قرآنِ پاک کو کیسے مکمل اور کمی بیشی سے محفوظ مانیں جب کہ ان کے اعتقاد میں پورا قرآن سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جمع کیا اور آج امام مہدی کے پاس موجود ہے وہ قربِ قیامت ظہور فرما کر وہ اصلی قرآن لوگوں کو پڑھائیں گے اصول کافی صفحہ 228 پر یہ باب موجود ہے۔

باب انہ لم یجمع القرآن کلہ الا الائمہ علیھم السلام وفیہ عن ابی جعفر یقول ما ادعی احد من الناس انہ جمع القرآن کلہ کما انزل الاکذاب وما جمعہ وحفظہ کما انزل الاعلی بن ابی طالب والائمہ من بعدہ وفیہ عن ابی جعفر انہ قال ما یستطیع احد ان یدعی ان عندہ جمیع القرآن کلہ ظاھرہ وباطنہ غیر الاوصیاء۔

ترجمہ: اس بات کا بیان کہ سوائے ائمہ علیہم السلام کے کسی نے سب قرآن جمع نہیں کیا۔ اس بات میں امام باقر ؒکی یہ حدیث ہے۔ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سے سوائے کذاب کے کوئی بھی یہ دعویٰ نہ کرے گا کہ اس نے منزل شدہ پورا قرآن جمع کیا۔ تنزیل کے مطابق اس کی جمع اور حفاظت سوائے علیؓ ابن ابی طالب اور ان کے بعد والے ائمہ کے کسی نے نہیں کی اور ایک دوسری روایت میں امام باقرؒ نے فرمایا سوائے آئمہ شیعہ کے کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس ظاہر وباطن پورا قرآن موجود ہے ۔

 بلکہ قاضی نور اللہ شہید ثالث نے شیعی احادیث کے تعارف کے سلسلہ میں یہ اعتراف کیا ہے۔ کہ اج سنی شیعہ سب کا دین محرف اور غیر منزل من اللہ ہے۔

 امام باقر ؒنے فرمایا حضورﷺ کے بعد لوگ پہلی امتوں کے نقشِ قدم پر چلے پس خدا کے دین میں تغیر و تبدل کیا اور کمی بیشی کر دی اور اللہ کے دین میں کچھ اضافہ کیا اور کچھ کمی کر دی آج کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس پر سب لوگ قائم ہیں مگر وہ منجانب اللہ اتری ہوئی وحی کے خلاف ہے زرارہ جو بات تمہیں کہی جائے مانتے جاؤ خدا تم پر رحم کرے تاآنکہ وہ مہدی آ جائے تو تم کو ازسر نو اللہ کا صحیح دین پڑھائے گا۔

(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 345 ترجمہ زرارہ)

ایک شبہ کا ازالہ:

کہا جاتا ہے کہ کتبِ اہلِ سنت میں بھی تحریف کی روایات پائی جاتی ہیں لیکن یہ محض جھوٹ اور مغالطہ ہے کتبِ اہلِ سنت کی ضعیف ترین روایت بھی اس مضمون کی نہیں ملے گی کہ قرآن کی فلاں آیت ان الفاظ سے نازل ہوئی تھی اور لوگوں نے اس کو یوں بدل دیا درحقیقت ہماری روایات میں دو قسم کی باتیں ہیں۔

1: نسخ: یعنی اللہ تعالیٰ بعض آیات اتار کر کچھ عرصہ کے لیے اس پر عمل کروائے پھر اس کے خلاف آیت نازل فرما کر سابق کی مدتِ عمل ختم کر دے یا اسے بالکل بھلا دے گا جیسے ایک پیغمبر کی شریعت دوسری کے لیے نسخ کا سا عمل کرتی ہے یہ حقیقت قرآن پاک سے ثابت ہے۔

ا: مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَا الخ۔

ترجمہ: ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے نہ بھلاتے ہیں جب تک اس سے بہتر یا ویسی ہی نازل نہ کر دیں۔

ب: سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓى ۞ (سورۃ الاعلیٰ: آیت 6)

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ الخ(سورۃ الاعلیٰ: آیت 7)

ترجمہ: اے رسولﷺ ہم عنقریب تم کو پڑھائیں گے پھر تم نہ بھولو گے مگر جو خدا چاہے۔

ج: اور روضہ کافی: صفحہ، 270 پر ہے کہ قرآن میں ناسخ و منسوخ کا سلسلہ پایا جاتا ہے لہٰذا آیات نسخ کو مبحث تحریف میں پیش کر کے جدال کرنا نہایت نا انصافی ہے۔

2: اختلافِ قرات:  

قرآنِ پاک عربی زبان میں اترا ہر زبان میں لغت گرائمر اور ادائیگی کے لحاظ سے معمولی سا فرق ہوتا ہے قرآنِ پاک میں بھی بعض قبائل کے محاورات و لہجے لغت اور صرفی و نحوی وجوہ کے پیشث نظر زبر زیر پیش کا معمولی سا اختلاف بعض روایات میں ملتا ہے یہ سب اختلاف ہے قرات کے قبیلہ سے ہے کیونکہ اس میں معنوی فرق خاص نہیں پڑتا برخلاف شیعہ کی لفظی تحریف کے کہ اس کی وجہ سے ان کے اعتراف کے مطابق "عقیدہ امامت " ولایت اہلِ بیتؓ کو قرآن سے خارج کر دیا گیا اور کفر کے ستون اس میں کھڑے کر دیے گئے۔(روضہ کافی)

 علاوہ ازیں قرآنِ پاک عہدِ نبوی سے تاہنوز قطعی الثبوت اور قطعی التواتر ہے اور ہم اسے ہی قرآن کہتے ہیں نور الانوار وغیرہ میں ہے:

ھو القرآن المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلا متواترا بلا شبھہ۔

ترجمہ: کتاب اللہ قرآنِ پاک ہے جو رسول اللہﷺ پر اترا اور مصاحف میں لکھا گیا ہے اور آپ سے منقول ہو کر آ رہا ہے اور بلا شبہ متواتر ہے۔

 روایتیں اختلافِ قرات کی ہوں یا نسخ کی بہرحال وہ اخبار احاد ہیں متواتر اور قطعی قرآن نہیں لہٰذا ان سے معارضہ شیعہ حضرات کے عقیدہ تحریف سے نہیں ہو سکتا جو ان چھ اقراروں کے ساتھ مبینہ حقیقت ہے۔   

1: روایاتِ تحریف 200 سے زائد ہیں۔

2: روایاتِ تحریف قرآن شیعہ کے مستند سے مستند کتاب اصولِ کافی تک میں ہے جو امام مہدی کی مصدقہ ہے۔

 3: تحریفِ قرآن پر ہی صاف دال ہیں۔

 4: قرآن کی طرح متواتر ہیں۔

 5: شیعہ ان کے مطابق تحریفِ قرآن کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔

6: قرآن کا محرف ہونا نقل کے علاوہ عقل کے بھی موافق ہے کیونکہ دشمنانِ شیعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھوں جمع شدہ اور منقول ہے۔ اس مسئلہ کے مزید تشریح ہم سنی کیوں ہیں کے صفحہ 165 تا صفحہ 171 میں ملاحظہ کریں۔

احادیث نبیﷺ کا انکار:

صفحہ 4 از 16