مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1:…

مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 16

شرعِ نبویہ کے بجائے شرحِ امامیہ شیعہ کا معمول ہے کیونکہ مسلمان تو وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ الخ۔(سورۃ الحشر: آیت 7)

ترجمہ: جو تم کو رسول دیں وہ لو اور جس سے وہ روکیں رک جاؤ۔ پر عمل پیرا ہیں مگر شیعہ مذہب کے امام جعفرؒ فرماتے ہیں:

ما جاء بہ علیؓ اخذہ وما نھی عنہ انتھی عنہ۔

جو شریعت سیدنا علیؓ لائے ہیں میں وہ لیتا ہوں اور جس سے وہ روکیں رکتا ہوں۔

مسلمان تو صرف حضورﷺ کو افضل الخلق اور آپﷺ کے برابر سب پیغمبروں کو بھی نہیں مانتے مگر شیعہ امام فرماتے ہیں۔

جوی لہ من الفضل ما جری لمحمد ولمحمد الفضل علی جمیع من خلق اللہ وکذلک یجری الائمہ للھدے واحد العد واحد۔

ترجمہ: حضرت علیؓ کی وہی فضیلت ہے جو محمدﷺ کی ہے محمدﷺ خدا کی تمام مخلوق پر سوائے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فضیلت رکھتے ہیں یہی مساویانہ مرتبہ اور شان یکے بعد دیگرے ائمہ ہدیٰ کی ہے۔

 مسلمان تو حدیثِ مصطفیٰﷺ کو ہی حرزِ جان اور واجب العمل جانتے ہیں مگر شیعہ حضرات احادیث ائمہ کے قائل اور ساری شریعت ان سے لیتے ہیں۔

 مسلمان تو مصدر اتباعِ فاتبعونی کے تحت صرف حضورﷺ کو مانتے ہیں مگر شیعہ امام حضرت علیؓ کی دعوت دیتے ہیں۔

کان امیر المؤمنین الباب الذی لا یؤتی الا منہ وسبیلہ الذی الامن سلک بغیرہ یھلک۔ (اصولِ کافی: صفحہ، 117 ط لکھنؤ)

ترجمہ: امیر المؤمنین ہی صرف وہ دروازہ ہیں جس میں داخل ہونا پڑتا ہے اور وہ راستہ ہیں جس پر چلنا ضروری ہے سنو جو اس راستے کے بغیر چلا ہلاک ہوا۔

 مسلمان تو انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کو اپنانے میں فخر جانتے ہیں مگر شیعہ امام کا فتویٰ ہے۔

لیس شی من الحق فی ید الناس الا ما خرج من عند الائمہ وان کل شیء لم یخرج من عندھم فھو باطل۔ (کلمہ از اصولِ کافی: صفحہ، 392)

ترجمہ: لوگوں کے ہاتھ میں کوئی بھی سچی بات نہیں بجز اس کے جو ائمہ اہلِ بیتؓ سے نکلے اور ہر وہ چیز جو ان سے نہ نکلے وہ باطل ہے۔

شیعہ ائمہ کے پاس یہ حق حسبِ بیان سابق تعلیماتِ نبویﷺ سے تو ہو ہی نہیں سکتا اس سے جدا کوئی چیز ہے جو ان ائمہ پر نازل شدہ صحائف سے ماخوذ ہے چنانچہ شیعہ کا یہ قطعی عقیدہ ہے کہ ہر امام پر ایک مستقل صحیفہ نازل کیا گیا اور وہ اسی پر عمل کرتے تھے۔

کلینی نے سند معتبر کے ساتھ روایت کی ہے کہ حریز نے حضرت صادقؒ سے پوچھا آپ لوگ جلدی وفات کیوں پا جاتے ہیں حالانکہ لوگوں کو آپ کی احتیاج زیادہ ہے۔

حضرت فرمود ہر یک ازما صحیفہ دارد کہ آنچہ باید در مدت حیات خود بعمل آورد در آں صحیفہ است چوں آں صحیفہ تمام مے شود میداند کہ وقت ارتحال اوست۔ (جلاءالعیون: فصل سوم)

ترجمہ: حضرت نے فرمایا ہم میں سے ہر ایک کے پاس ایک آسمانی کتاب ہے کہ جو کچھ امام کو اپنی زندگی میں کرنا ہوتا ہے وہ سب اس میں لکھا ہوتا ہے جب وہ صحیفہ تمام ہو جاتا ہے تو امام کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس کے مرنے کا وقت قریب ہے۔

نیز جلاءالعیون: صفحہ، 419 حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حالات میں ہے دوسری معتبر روایت میں ہے کہ رسول جلیلﷺ کی وفات کے وقت جب جبرائیل علیہ السلام ایک وصیت نامہ لائے اس کے بارہ اجزاء پر بہشت کی 12 طلائی مہریں لگائیں کہ ہر امام اپنی مہر کو اٹھائے گا اور جو کچھ اس کے نیچے لکھا ہوگا اسی پر اپنی زندگی میں عمل کرے گا معلوم ہوا کہ شیعہ ائمہ کے پاس حق وہ صحائف اور مہر زدہ وصیت نامے ہیں وہ ان پر ہی عمل کرتے اور شیعہ سے کرواتے ہیں۔ 

منزل بر پیغمبرﷺ قرآن اور تعلیمات نبویہﷺ سے ان کو کیا تعلق؟ کیا مرزا غلام احمد قادیانی انکارِ ختمِ نبوت ادعاءِ نبوت مسلمانوں سے الگ اسلام کی تاسیس کرنے اور مسلمانوں کی تکفیر کرنے میں فرقہ شیعہ کی گرد کو بھی پہنچ سکا ہے؟ نہیں وہ تو ان کے سامنے طفلِ مکتب ہے۔

اجماع و قیاس کا انکار:

یہاں تک قرآن و حدیثِ مصطفیٰﷺ کے شیعہ مذہب کی بنیاد نہ بن سکنے کا بیان تھا اب اجماع و قیاس کا بیان سنیئے مسلمان امت کے اجماع کے شیعہ حضرات کھلے منکر ہیں وہ تقریباً ہر مسئلے میں اصول و فروع میں حتیٰ کہ کلمہ طیبہ تک میں امتِ محمدیہﷺ سے الگ ہیں اجماعِ امت ان کا دشمن ہے اور وہ اس کے دشمن ہیں ہاں "متعہ" بلاولی اور گواہوں کے غیر خاوند والی عورت کا کسی مرد سے مقررہ اجرت پر مقررہ وقت میں رضامندی سے جنسی تعلق "بداء" خدا کا مستقبل سے بے خبر ہونا "تقیہ" سچائی چھپا کر جھوٹ ظاہر کرنا تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جسے مسائل میں وہ اجمعت الامامیہ اتفق اہل الامام اجمع اہل التشیع فرما کر اجماعِ شیعہ کے قائل ہو جاتے ہیں ملاحظہ ہو کتبِ فقہ و اصول شیعہ

 اہلِ سنت کے سامنے تو قیاس کی مذمت کرتے ہیں مگر قرآنِ کریم اور حدیثِ مصطفیٰﷺ کے برخلاف اپنے ہر مسئلہ کو ڈھکوسلوں سے ثابت کرتے ہیں فالی اللہ المشتکی ورنہ تقریر ہو یا تحریر کسی بھی شرعی مسئلہ میں ان کو عقلی دلیل دینے کا اپنے مذہب کی رو سے کوئی حق نہیں پہنچتا۔

آمدم بر سرِ مطلب:

خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافتِ راشدہ قرآنِ حکیم سے بھی ثابت ہے اور حدیث مصطفیٰﷺ سے بھی اجماعِ صحابہ اور اجماعِ اہلِ بیتؓ سے بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ قرآنی آیاتِ خلافت کی پیشنگوئیاں ہیں جس کا مفاد اور اوصافِ خاصہ مجموعی طور پر تمام خلافتِ راشدہ میں پائے گئے پیشنگوئی میں عموماً ابہام اور عدمِ تعین ہوتا ہے مکمل ہونے پر اس کی صحیح صورتِ حال سامنے آتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ پیشنگوئی فلاں کے حق میں پوری ہوئی اس سے قبل محض آغاز پر کچھ کہنا حاضرین کے علم میں غیر یقینی سا ہوتا ہے اور غیر موزوں لگتا ہے جیسے حضورﷺ کی بعثت رسالت کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا و بشارت حضرت عیٰسی علیہ السلام کی بشارت تورات میں حضورﷺ کی رسالت کی پیشینگوئی اور 10ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے آکر غلبہ پانا مذکور ہے لیکن اس کے باوجود آپﷺ آغاز پر فرمایا کرتے تھے: 

وَمَاۤ اَدۡرِىۡ مَا يُفۡعَلُ بِىۡ وَلَا بِكُمۡ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ الخ۔(سورۃ الاحقاف: آیت 9)

صفحہ 6 از 16