اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان…

اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان مخالفت کرے تو ایسے شخص کی کیا سزا ہے مگر یاد رہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جنگیں کی ہیں واقعات جنگ جمل و صفین و نہروان کو پیش نظر رکھ کر فتویٰ صادر فرمائیں کہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ انصاف مطلوب ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

جنگ جمل کے اسباب و علل

جواب: یہ سوال سوال 11 ہی کا چربہ ہے وہاں مفصل بحث گزر چکی ہے پھر ملاحظہ کر کے اور سوچ کر فیصلہ دیں کہ کیا ان حضرات کی طرف سے علی الاعلان خلیفہ وقت کی مخالفت ہوئی یا امام برحق حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے باغی قاتلوں سے قصاص کا جائز اور آئینی مطالبہ تھا؟ ام المومنینؓ کا مؤقف ان کی تقریر میں، قاضی نور اللہ جیسے غالی مؤلف نے بھی نقل کیا ہے کہ جب بصرہ کے مرتضوی گورنر حضرت عثمانؓ بن حنیف نے آپ کے بصرہ آنے کا مقصد پوچھا تو فرمایا۔

جمعے از سفہائے بلاد و بقاع از اطراف و اکناف و رباع اجتماع نموده واراقہ دم عثمانؓ بن عفان بے گناہ کرده اند و من اور مومنانم سپاه جمع آورده ام تا ازاں جمع انتقام کشم۔ 

(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 226)

ترجمہ: مختلف مقامات اور علاقوں کے بے وقوف اور جہلا اکٹھے ہوئے اور سیدنا عثمان بن عفانؓ کا بے گناہ خون بہایا میں مؤمنوں کی ماں ہوں لشکر اٹھا کر لائی ہوں تاکہ اس بلوائی جماعت سے بدلہ لوں۔

حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ نے بھی اپنے اسی مؤقف پر بصرہ میں تقریر کی تو اہلِ بصرہ کی ایک بڑی جماعت آپ کے ساتھ ہوگئی (ایضاً 226) پھر اسی مؤقف کی حقانیت پر ایمان کا یہ نتیجہ تھا کہ لاتعداد اصحابِ جمل اسی دن شہید ہوئے اور جس کجاوے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سوار تھیں وہ مسلسل لشکرِ علوی کی طرف سے تیروں کی وجہ سے چھلنی ہو گیا تھا بنو ضبہ اونٹ کی لید ہاتھ میں لے کر یوں کہتے تھے کہ ام المؤمنینؓ کے اونٹ کی لید مشک سے بھی زیادہ خوشبو دار ہے اس پر فخر کرتے ہوئے اونٹ کی مہار پکڑتے تھے بہادری کے جوہر دکھاتے اور اس کے سامنے شہید ہوتے جاتے تھے اور قاتلِ سیدنا عثمانؓ اشتر نخعی یہ خونریزی کر رہا تھا۔ 

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 286 ترجمه اشتر)

تاریخِ طبری وغیرہ کے حوالہ جات سے حضرت امیرِ معاویہؓ کا مؤقف بھی گزر چکا ہے اور نہج البلاغہ کے حوالہ سے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قصاص سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو واجب جاننا اور اپنے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اختلاف کو صرف دمِ حضرت عثمانؓ میں منحصر کر دینا بیان ہو چکا ہے۔ 

ملا باقر علی مجلسی: جلد، 2 صفحہ، 149 اردو میں لکھتے ہیں مگر فضیلت و مناقب آنحضرتﷺ کا وہ سیدنا امیرِ معاویہؓ بھی منکر نہ تھا اور ماسوائے قتلِ سیدنا عثمانؓ میں شریک ہونے کے اور کوئی فسق آپ سے منسوب نہ کر سکتا تھا بلکہ وہ اسی پر قانع تھا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ اس کی امارت برقرار رکھیں اور وہ حضرت کی محبت کر کے حضرت کی خلافت کا اقرار کرے اور لوگ حضرت کے مناقب و فضائلِ مکرر اس کے سامنے ذکر کرتے تھے اور وہ ان کا انکار بلکہ ان کو ناپسند نہ کرنا تھا شیعہ کے خاتم المحدثین کی تحریر پکار پکار کر رہی ہے کہ حضرت علیؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ کا اختلاف صرف دمِ سیدنا عثمانؓ میں تھا حضرت امیرِ معاویہؓ حضرت علیؓ کی خلافت کے منکر اور آپ کے مخالف ہرگز نہ تھے بلکہ آپ کے ماتحت امیر رہنا اور بیعت کرنا چاہتے تھے لیکن آپ کو تو مجبوراً اپنا دفاع کرنا پڑا جیسے تفصیل سوال 15 میں آرہی ہے۔

قدیم و جدید تاریخ کی روشنی میں یہ عالمی سیاسی اصول مسلم ہے کہ حکومت رعایا کے جذبات کا احترام کرے ان کو ذہنی سکون مہیا کرتے ہوئے ان کے واقعی مطالبہ کو پورا کرے تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ شہادت حضرت عثمانؓ کے بعد مملکتِ اسلامیہ میں انتقام اور غیظ و غصہ کی آگ بھڑک اٹھی تھی اہلِ مدینہ اور اطراف و جوانب کے لوگ اس خلیفہ برحق سیدنا عثمانؓ مظلوم کا قصاص چاہتے تھے جس کا 12 سالہ دورِ حکومت نہایت ہی پرامن اور مالی فراوانی و خوشحالی کا گہوارہ تھا حتیٰ کہ زکوٰۃ لینے والا بھی کوئی نہ ملتا تھا اور مسلمانوں پر چاروں طرف سے فتوحات کے دروازے کھلے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد جو قصاصِ سیدنا عثمانؓ کی شرط پر سیدنا علیؓ کے ساتھ ہوئے تھے مگر جب آپ قصاص پر قادر نہ ہو سکے تو مجبوراً وہ بھی آپ سے علیحدہ ہو گئے اور طالبانِ قصاص کے حق میں اپنا فیصلہ دیا بلوائیوں کے مکر و فریب سے خونی حادثات کے بعد بھی قانونی طور پر حکومت سے یہ مسئلہ حل نہ ہوا اور رعایا مطمئن ہوئی۔ حتیٰ کہ کوفہ اور اہلِ حجاز کے سوا سب صوبے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی تحویل میں چلے گئے اور شیعہ کے خیال میں تو حضرت علیؓ کے حامی بہت کم تھے اس حقیقت کوـ مخالفت خلافت کا غلط رنگ دے کر قاضی نور اللہ صاحب بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں جب خلافت حضرت امیرِ معاویہؓ تک پہنچی تو جمہور مسلمان سیدنا کی تابعداری سے الگ رہے اور سیدنا طلحہٰؓ سیدنا زبیرؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ باغی کی موافقت کو حضرت امیرِ معاویہؓ کی تابعداری پر ترجیح دی حتیٰ کہ کتبِ سیرت میں مؤرخین نے لکھا ہے:

کہ با حضرت امیر از قبیلہ قریش در حرب صفین پنج نفر ہمراہی نمودند و سیزده قبیلہ از ایشاں با خانہ و کوره ہمراہ معاویہؓ بودند۔

(مجالس المؤمنین: جلد، 9 صفحہ، 274)

صفحہ 1 از 4