اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان…

اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان مخالفت کرے تو ایسے شخص کی کیا سزا ہے مگر یاد رہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جنگیں کی ہیں واقعات جنگ جمل و صفین و نہروان کو پیش نظر رکھ کر فتویٰ صادر فرمائیں کہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ انصاف مطلوب ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

کہ جنگِ صفین میں سیدنا علیؓ کے ساتھ قریش کے صرف 5 آدمی تھے اور قریش کے 13 قبیلے بمع اپنے افراد خانہ اور اسباب کے سیدنا امیر ِ معاویہؓ کے ساتھ تھے حالانکہ مخالفت خلیفہ کا طعن بداہتہً غلط بات ہے کیونکہ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور سیدنا طلحہٰؓ و سیدنا زبیرؓ نے خلافت کا دعویٰ تو نہیں کیا تھا وہ تو صرف قصاصِ حضرت عثمانؓ کے طالب تھے پانچ آدمیوں کے سوا قریش کے تیرہ قبائل کا تمام آدمیوں سمیت طالبانِ بدلہ کی صف میں شامل ہونا یہ بتلانے کے لیے کافی نہیں کہ اس وقت کی پوری قوم اور رعایا کا مطالبہ قصاص ہی تھا سیدنا علیؓ بوجوہ چند تعجیل میں معذور تھے مگر اس مؤقف پر آپ کے ہم خیال بہت کم لوگ تھے اتنی واضح بات کو مخالفت خلیفہ کا طعن دینا یا طالبانِ قصاص کو حضرت علیؓ سے جنگوں کا مرتکب کہنا بہت بے انصافی کی بات ہے کیا عام پبلک سابقہ صدر مملکت کے قتل کے قصاص کا نئے صدر سے مطالبہ کرائے تو کیا یہ مخالفت صدر ہو گی ۔ اور وہ نہ کرسکے یانہ کرنا چاہے ، اور پبلک از خود تنظیم بنا کر مجرموں سے قصاص لینا چاہے تو کیا یہ حکومت سے اس کے فرض کی ادائیگی میں تعاون ہوگا یا اس کی مخالفت ہوگی اور کیا کسی حکومت کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس جائز مطالبہ پر پبلک پر لشکر کشی کر کے ان کو تہس نہس کر دے اگر ان سب امور کا جواب نفی میں ہے تو شیعہ حضرات ان حادثات کو سنی نقطہ نظر سے کیوں نہیں دیکھتے کہ یہ بلوائیوں کے مکر و فریب اور غلط فہمی کا منفی نتیجہ تھیں حقیقت اختلاف صرف دمِ حضرت عثمانؓ بلکہ اس کے طریق کار میں تھا اور باوجود مثبت کثیر مواد ملنے کے اس منفی انداز پر کیوں سوچتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی سب پبلک مخالف تھی بڑے بڑے اکابر اور سیاست دان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ناراض تھے پانچ آدمیوں کے سوا کوئی قریشی بھی آپ کا ساتھی نہ تھا اس طرزِ تفکر میں حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ پر اتنا حرف نہیں آتا جس قدر حضرت امیرِ معاویہؓ پہ آتا ہے لیکن شیعہ حضرات ہیں کہ حبِ علیؓ نہیں بعضِ معاویہؓ، اور دشمنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ کو ان کی وجہ سے نادان دوستی کے رنگ میں حضرت علیؓ و اہلِ بیتؓ کو مظلوم مضروب غیر مقبول رعایا کے دل میں غیر معزز اپنے مقاصد میں ناکام دوستوں کی اعانت سے محروم اور سب مسلمانوں کے مخالف و دشمن ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں اس طرزِ فکر اور اندازِ تحریر سے مقامِ اہلِ بیت میں اضافہ تو در کنار توہین در توہین ہوتی ہے ہاں شیعہ حضرات کو اپنی گروہ بندی اور جہال مسلمانوں میں تفرقہ بازی پھیلانے کا خوب حربہ ہاتھ آتا ہے۔

رہا یہ امر کہ خلیفہ رسول کی مخالفت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ حقائقِ بالا کی روشنی میں یہ حضرات مخالفوں کی فہرست میں نہیں آتے اور نہ حضرت علیؓ نے ان کو اپنا مخالف مانا ہاں قصاصِ حضرت عثمانؓ کے طریقِ کار میں یہ اختلاف ضرور تھا جو غلط فہمی اور اجتہادی اختلاف پر مبنی تھا ایسے اختلاف پر گو مار پیٹ اور قتال تک کی نوبت کیوں نہ آجائے اسے مخالفت اور دشمنی نہیں کہا جا سکتا مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام پیغمبر اور اپنے بڑے بھائی کی اس خیال پر سر اور داڑھی پکڑی اور زدوکوب کرنا چاہا کہ انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ میں کوتاہی کی۔ (القرآن)

2: ایک اسرائیلی کی نصرت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک قبطی کو بطورِ تنبیہ ایک مکا مارا اور وہ مر گیا پھر دوسرے دن اسی اسرائیلی نے آپ کو نصرت کے لیے بلایا تو اس شیعہ کو آپ نے: لَـغَوِىٌّ مُّبِيۡنٌ ۞ (سورۃ القصص: آیت 18)

ترجمہ: کھلا گمراہ کہا (القرآن: پارہ، 20)

اگر اس کی شرارت کا آپ کو پہلے دن پتہ چل جاتا تو قبطی کا قتل اور جلاوطنی کی نوبت نہ آتی۔

شیعہ اکابر کے اجتہادی اختلافات:

3: اہلِ تاریخ نے لکھا ہے جب حضرت حسنؓ حضرت امیرِ معاویہؓ کو خلافت سپرد کر کے بیعتِ خلافت کر لی تو حضرت حسینؓ بہت ناراض ہوئے اور فرماتے تھے کہ اگر میری ناک کٹ جاتی تو اس سے بہتر تھا جو میرے بھائی نے کیا حضرت حسینؓ نے فرمایا بھائی امام میں ہوں چپ رہ ورنہ پاؤں میں بیڑیاں ڈال دوں گا شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت حسینؓ کی بہ نسبت شعیہ حضرت حسنؓ کا نام بہت کم لیتے ہیں ان سے ناراض ہیں ان کے نام کی مجلس تعزیہ تقیہ ماتم عزاداری کارناموں اور قربانیوں کی تشہیر وغیرہ شیعہ سے ہم نے نہیں سنی۔

حتیٰ کہ شیعہ کے سب سے بڑے مؤلف کلینی نے کافی کے باب الزیارات میں سیدنا حسنؓ کے جنت البقیع میں مزار اور ان پر صلوٰۃ وسلام کا تذکرہ تک نہیں کیا ظاہر ہے اتنے شدید اختلافات میں بھی ایک بھائی کو دوسرے کا دشمن نہیں کہا جا سکتا۔

4: سیدنا حسنؓ کی اسی بیعت کے سلسلہ میں ایک کٹر شیعہ سفیان بن ابی لیلیٰ نے آپ کو یوں سلام دیا السلام علیک یا مذل المؤمنین۔

(جلاء العیون: صفحہ، 263 مجالس المؤمنین: صفحہ، 311) 

ترجمہ: اے مؤمنوں کو ذلیل کرنے والے تجھ پر سلام ہو اس کے باوجود شیعہ کے نزدیک یہ پکا شیعہ اور مؤمن ہے اس طنز و مخالفت حسنی کے باوجود وہ آپ کا دشمن نہیں۔

5: صلح و بیعتِ حسنی کے دو سال بعد تک بھی شیعانِ کوفہ تاسف و حسرت اور حضرت امیرِ معاویہؓ سے لڑنے کی آرزو کرتے حتیٰ کہ ان کے لیڈر سلیمان بن صرد خزاعی نے سیدنا حسنؓ کی خدمت میں آکر کہا آپ کی صلح سے ہمارا تعجب دور نہیں ہوا جب کہ 40 ہزار تنخواہ خور جنگجو آپ کے ساتھ ہیں مگر حضرت حسنؓ نے ان کو اپنے شیعہ اور دوست کہا۔

(جلاء العیون: صفحہ، 263)

صفحہ 2 از 4