اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان…

اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان مخالفت کرے تو ایسے شخص کی کیا سزا ہے مگر یاد رہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جنگیں کی ہیں واقعات جنگ جمل و صفین و نہروان کو پیش نظر رکھ کر فتویٰ صادر فرمائیں کہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ انصاف مطلوب ہے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

معلوم ہوا کہ نظریہ اور عمل میں دو سال تک حضرت حسنؓ کے مخالف رہنے والے بھی دشمن نہیں بلکہ محبِ شیعہ ہیں حتیٰ کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے کمانڈر انچیف سیدنا قیس بن سعد کے متعلق شوستری نے لکھا ہے کہ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت حضرت امیرِ معاویہؓ کے سپرد کی تو قیس اس عمل سے ناراض اور رنجیدہ ہو گئے اور دل جلے ہو کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق گستاخانہ باتیں کرتے اور آنحضرت کے لشکر سے علیحدہ ہو گئے مگر قیس کی قوم حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے جدا نہ ہوئی اور ان کے لیے سیدنا امیرِ معاویہؓ سے امان لے لی قیس مدینہ جاکر عبادت میں مشغول ہو گئے حتیٰ کہ 60 ہجری خلافتِ حضرت امیرِ معاویہؓ کے آخر میں وفات پائی۔

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 239)

یہاں بطورِ نمونہ صرف پانچ مثالیں پنچ تن کے حبداروں کے لیے کافی ہیں یہ اختلافات بظاہر بڑے اختلافات ہیں فریقِ ثانی یا پیغمبر ہے یا امام معصوم جن کی توہین یا قول وفعل کی ناپسندیدگی کفر ہے مگر وہ کونسا شیعہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت حسینؓ یا سفیان بن لیلیٰ اور سیدنا قیس بن سعد پر خارج از ایمان ہونے کا فتویٰ لگائے گا۔

(دیدہ باید)

ان شدید اختلافات کے باوجود اگر ان پر فتویٰ نہیں لگ سکتا اور یہی صحیح مذہب ہے کیونکہ یہ اختلافات اور تندی و تیزی البغض فی اللہ کے تحت ایمانی جذبات کے ترجمان ہیں اور علمِ غیب اور اسرار پر آگاہی نہ رکھنے والوں سے ان چیزوں کا صدور ہی ایک گونہ کمال ہے اسی طرح سیدنا طلحہٰ رضی اللہ عنہ حضرت زبیرؓ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے قاتلانِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے بغض فی اللہ کے تحت قصاصِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی تحریک چلائی کیونکہ عند الرسولﷺ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا مقام اور قصاصِ عثمانؓ پر آمادگی کی وجہ سے ہی بیعتِ رضوان اور 1500 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنتی ہونے کی قرآنی سند ان کو معلوم تھی اور وہ ایسا کرنے میں معذور تھے حضرت علیؓ بھی حضرت عثمانؓ کا مقام جانتے اور اس مسئلہ کی نزاکت سے خوب واقف تھے مگر آپ اپنے اجتہاد میں تاخیر مفید جانتے تھے لہٰذا آپ بھی معذور تھے ایک تیسرا گروہ غیر جانبدار رہنے والوں کا بھی تھا جو کسی طرف سے بھی شریک نزاع نہیں ہوا اپنے اجتہاد کی حد تک وہ بھی معذور تھا اہلِ سنت کے نزدیک تینوں گروہ اپنے اپنے اجتہاد پر عمل کرنے میں معذور و مامور تھے نیت سب کی نیک تھی اللہ کے ہاں تینوں مقبول ہیں جیسے حضرات حسنین کریمینؓ اختلافِ اعتقاد و عمل کے باوجود عند الله مقبول ہیں اور ان کا اختلاف مصلحت سے خالی نہیں۔ ہمارے حنفی علامہ ابنِ ہمام نے مسامرہ شرح مسایرہ میں کیا خوب کہا ہے: 

تلك دماء طهر الله منها ايدينا فلا نلوث به السنتنا۔ 

ترجمہ: ان خونوں سے اللہ نے ہمارے ہاتھ پاک رکھے ہیں تو ہم اپنی زبانیں ان سے ملوث نہیں کرتے اسی طرح منصف مزاج شیعہ بھی کہتے ہیں کہ ایک جماعت پر حق مشتبہ ہو گیا وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی نصرت سے رکے رہے دنیا میں تو وہ اس تخلف سے شرمندہ رہے لیکن آخرت میں عذاب سے محفوظ ہوں گے گو دنیا میں ملامت سے نہ بچ سکے۔

(کشف الغمہ: صفحہ، 322 لاردبیلی) 

جو کچھ ہوا تھا خالی نوشتہ تقدیر کے مطابق ہو چکا خلافتِ مرتضوی کی یہ خانہ جنگیاں قلب و جگر کو واقعی کباب بنا دیتی ہیں ان پر مجموعی اظہار افسوس بھی ناکافی ہے لیکن ان واقعات کو اچھال کر اپنے مخصوص مذہب کو رواج دینا مسلمانوں میں 1400 سال بعد نفرت و عداوت کے بیج بونا گڑھے مردے اکھاڑ کر پھر زخم ہرے کرنا نہ دین و دانش مندی کی بات ہے نہ قوم و ملک کی کوئی خدمت ہے جس میں شیعہ حضرات منہمک ہیں جمل و صفین کے 80 ہزار کشتگان کے متعلق ہم حسنِ ظنی رکھتے ہیں اصولاً ہمیں اس وقت کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے اپنی مظلومی کا نالہ و شیون کرنا چاہیئے مگر حاشا و کلا کوئی مسلمان ان قضیوں میں نہیں پڑتا کیونکہ امیر المؤمنینؓ دامادِ رسول زوجِ بتول آسمانِ شجاعت و قضاء کے آفتاب حضرت ابو ترابؓ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں اور ایک سنی مسلمان آپ پر حرف گیری نہیں کر سکتا لیکن تعجب یہ ہے کہ فریقِ ثانی صرف بہتّر حضرات شہداءِ کربلا کی آڑ میں 1300 سال سے مسلمانوں میں تفرقہ بازی اور شر انگیزی کا مذموم کاروبار اور 72 علاوہ جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین رحمہم اللہ ہاشمی وغیر ہاشمی علوی وغیر علوی بزرگان دین پر سبِ وشتم اور تضلیل و تفسیق کی بمباری کرتے آ رہے ہیں مگر اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں۔

 الزامی جواب:

باغی اس فرد یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو مسلمانوں کی باقاعدہ منظم حکومت کی مخالفت اور مقابلہ کرتا ہے شیعہ فاضل ظل حسنین زیدی نہج البلاغہ اردو کے مقدمہ: صفحہ، 145 پر تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب کے دوست انگلیوں پر گنے جانے والے تھے اور مخالف و دشمن لا تعداد تین طبقوں میں منقسم تھے اس شیعہ تصریح کے مطابق جب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی جماعت بہت کم تھی اور عام رعایا مخالف تھی تو آپ کی حکومت منتظم اور مستحکم نہ تھی ایسی حکومت کے خلاف انقلابی کوشش بھی بغاوت شمار نہیں ہوتی چہ جائیکہ سابق خلیفہ کے قتل کا طلب انصاف اور قصاصِ تحریک کی شکل میں بغاوت سمجھا جائے حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ باصطلاحِ شرع باغی تھے یا نہیں یہ شیعہ اور مسلمانوں کا اختلافی مسئلہ ہے۔ 

لیکن حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی بارہ سال سے باقاعدہ منظم خلافت کے خلاف بغاوت کرنے والے بلوائی بالاتفاق باغی تھے۔

صفحہ 3 از 4