دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو…

دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں تو وہ دونوں جھوٹے تو ہو سکتے ہیں مگر دونوں سچے نہیں ہوا کرتے جب ایسا ہے تو جنگ جمل و صفین کے طرفین کے بارے میں دونوں کس طرح سچے ہوئے جو صاحب غلطی پر تھے ان کی نشاندہی تو کرو کہ فلاں بزرگ سےخطا ہوئی کیا قاتل و مقتول دونوں جنت میں جائیں گے؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

الجواب: اس کا جواب بھی سوال نمبر 11 اور 14 کے ضمن میں آ چکا ہے مزید وضاحت یہ ہے کہ منطقی اصول کے مطابق تناقض و تضاد کے لیے آٹھ وحدتوں کا اجتماع شرط ہے ان میں ایک جہت بھی ہے اگر جہت و حیثیت بدل جائے تو دونوں باتیں صادق ہو سکتی ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خلافت کا نظم و نسق بچانے کے لیے تلوار اٹھاتے ہیں اور بحیثیتِ خلیفہ سچے ہیں حضرات طالبینِ قصاص انتظامِ مملکت میں خلل یا خلیفہ بدلانے کے لیے یہ اقدام نہیں کرتے بلکہ خلافت کے وقار کو سنبھالنے اور باغیوں سے قصاص لے کر خلافت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ناگزیریہ راہ اختیار کرتے ہیں جب کہ قتال کی وجہ مختلف ہو گئی تو اختلاف علی شیء واحد نہ رہا اپنے اپنے مؤقف میں دونوں سچے ہوئے مشتہر صاحب کا خیالی دستور انسانی اور اصولِ فلسفہ باطل ہو گیا ہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ کتبِ عقائد اہلِ سنت میں لکھا ہے کہ ان مشاجرات میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مصیب تھے اور دیگر حضرات خاطی تھے اس میں صواب و خطا کا یہ معنیٰ نہیں کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ و دیگر حضرات کی خلافت غلط تھی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی درست تھی کیونکہ وہ سب حضرات اور دیگر مؤرخین تصریح کرتے ہیں کہ خلافت و امامت میں طرفین کا دعویٰ اور نزاع نہ تھا بلکہ نزاعی مسئلہ صرف دمِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تھا بلوائیوں کے حضرت علیؓ کے ساتھ حسنِ تعلق اور حمایت کی بناء پر اہلِ شام یہ گمان کرنے لگے کہ قتلِ عثمانؓ حضرت علیؓ کی سازش سے (العیاذ باللہ) ہوا حضرت امیرِ معاویہؓ نے اختلاف کو صرف اسی نکتہ میں منحصر کر کے اپنی صفائی پیش کی۔ 

الامر واحد الا ما اختلف فیہ من دم عثمانؓ ونحن منہ براء۔

ترجمہ: ہر بات متفقہ ہے بجز قتلِ عثمانؓ میں اختلاف کے اور ہم اس الزام سے پاک ہیں۔ 

حاشا و کلا کوئی بھی سنی مسلمان اس گناہِ عظیم میں حضرت علیؓ کو ملوث نہیں مانتا حضرت امیرِ معاویہؓ نے بھی اس صفائی کے جواب میں فرمایا: فنحن لا نرد ذالک علیہ الخ۔

ترجمہ: ہم آپ کی پاک دامنی کا انکار نہیں کرتے لیکن قاتلانِ عثمانؓ جو حضرت علیؓ کے ساتھی ہیں ملنے چاہیں تاکہ ہم ان کو قصاصاً قتل کر کے خلیفہ کی اطاعت اور جماعت میں شامل ہو جائیں۔

(طبری: جلد، 5 صفحہ، 6)

لیکن صد افسوس تو یہ ہے کہ آج کے نام نہاد محبانِ علیؓ اہلِ اسلام اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے کمالِ بغض کی وجہ سے صراحتاً حضرت علیؓ کی پاک دامنی اور قتل سے برات کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ میں ذاتی اور اعتقادی دشمنی تھی وہ قتل کے مستحق تھے بلوائی حضرت علیؓ کے خاص طرفدار تھے اور محمد بن ابی بکر یہ محمد ابتداءً بری نیت سے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تھا مگر آپ کے جھڑکنے سے واپس ہو گیا اور اشتر نخعی جو قتلِ عثمانؓ میں شریک تھے۔

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 284 )

وہ حضرت علیؓ کے خاص مقرب اور سپہ سالار تھے۔(مجالس المؤمنین: صفحہ، 278، 284)

 اب آپ ہی غور کریں اگر یہ بیان درست ہے اور شیعہ کو اسی پر بصدِ افتخار اعتماد ہے تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر بالواسطہ قتل کا الزام لگانے میں خود شیعہ نے مواد فراہم نہیں کیا پھر اہلِ شام کا شبہ یا الزام بلا دلیل نہیں کہا جا سکتا جسے غلط کہا جائے۔

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں نہ ہو۔ 

خطا وصواب کا معنیٰ:

حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ و ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی خطاء کا مطلب یہ ہے کہ وہ قصاص میں جلد باز تھے اور حضرت علیؓ کو قادر علی القصاص جانتے ہوئے ٹال مٹول کا الزام دے رہے تھے حضرت امیر نے اس کے جواب میں یہی کہا کہ میں قادر نہیں ہوں اس قوم سے میں کیسے قصاص لے سکتا ہوں جو ہمارے مالک بنے ہوئے ہیں اور ہم ان پر قابو یافتہ نہیں ہیں۔ (نہج البلاغہ)

 ورنہ نفسِ قصاص میں اختلاف نہ تھا حضرت علیؓ نے حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مؤقف کو سمجھتے اور تسلیم کرتے ہوئے جمل کے موقع پر خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف ان پر امت کا اتفاق قاتلینِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پر لعن و طعن اور ان کو اپنے ساتھ نہ چلنے کی تاکید کر دی تھی کما تقدم ہمارے شیعہ معترض کو اگر یہی اصرار تھا تو ہم نے خاطی کی نشاندہی اور اس کی وجہ بیان کر دی اب ان کو یہ اختلاف و شقاق چھوڑ کر دوبارہ اہلِ سنت مسلمانوں میں مل جانا چاہیئے بشرطیکہ حق و انصاف کی طلب ہو اگر وہ خاطی کی نشاندہی سے صرف ان پر لعن طعن کرنا چاہتے ہوں تو ایسا کرنا بڑی گمراہی ہوگی کیونکہ خطاء و نسیان لازمہ انسانی ہے انسان صرف حسنِ نیت کا مکلف ہے فکر و عمل میں بھول چوک سے پاک دامن رہنے کا مکلف نہیں ہاں درست کار کو دہر اجر ملتا ہے اور خطاء کار کو ایک گنا ملتا ہے امامت کو منصوص من اللہ اور زندہ شارع امام کا ہر زمانہ میں وجود تسلیم کرنے والے شیعہ بھی جو غیر منصوص مسائل کے لیے مجتہدین کے اجتہاد کا ڈھونگ رچاتے ہیں وہ بھی خطاء و صواب کے دونوں پہلو تسلیم کر کے ایک کو اختیار کرتے ہیں اور یہی اعتقاد رکھتے ہیں۔

کاملین سے سہو کا وقوع:

اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ متقدمین شیعہ انبیاء علیہم السلام کے خطاء و نسیان تک کے قائل ہیں: چنانچہ آیت و اما ینسینک الشیطن کی تفسیر میں شیعہ کے سب سے مستند عالم شیخ الطائفہ محقق طوسی نے تفسیر تبیان: جلد، 4 صفحہ، 179 پارہ، 7 میں اور علامہ طبرسی نے مجمع البیان: پارہ، 7 صفحہ، 14 میں سہوِ انبیاء کی تصریح کی ہے ملاحظہ ہو ہم سنی کیوں ہیں؟ صفحہ۔ 29۔ 

خیر جب اہلِ سنت اور معتمد علماءِ شیعہ کے اتفاق سے خطاء و نسیان انبیاء علیہم السلام تک سے جائز ہے اور قرآنِ پاک اسی کی تائید کرتا:

وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهٗ عَزۡمًا ۞

ترجمہ: حضرت آدم علیہ السلام بھول گئے ہم نے ان کا ارادہ نہ پایا۔

صفحہ 1 از 4