دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو…

دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں تو وہ دونوں جھوٹے تو ہو سکتے ہیں مگر دونوں سچے نہیں ہوا کرتے جب ایسا ہے تو جنگ جمل و صفین کے طرفین کے بارے میں دونوں کس طرح سچے ہوئے جو صاحب غلطی پر تھے ان کی نشاندہی تو کرو کہ فلاں بزرگ سےخطا ہوئی کیا قاتل و مقتول دونوں جنت میں جائیں گے؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

 تو غیر انبیاء علیہم السلام حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہؓ سے اس کا صدور بدرجہ اتم جائز ہے خود حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے صفین میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

فلا تکفوا عن مقالہ بحق او مشورہ بعدل فانی لست فی نفسی بنوق ان اخطی ولا امن من ذالک من فعلی الا ان یکفی اللہ من نفسی الخ۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 357 و نہج البلاغہ)

ترجمہ: مجھے سچی بات کہنے سے اور منصفانہ مشورہ دینے سے باز نہ رہو کیونکہ میں غلطی کرنے سے بالا نہیں ہوں اور نہ میں اپنے کاموں میں چوکنے سے بے فکر رہتا ہوں مگر یہ اللہ تعالیٰ مجھے کافی ہو۔

قرآن و سنت سے کسی معین گروہ کی بالیقین تصویب اور دوسرے کی تغلیط ثابت نہیں جو کچھ قرآن و سنت میں بالیقین مذکور ہے وہ: وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ الخ۔

ترجمہ: ہر ایک سے اللہ نے بھلائی جنت کا وعدہ کیا ہے۔ کے تحت سب کا نیک مؤمن جنتی مغفور اور مرضی عند اللہ ہونا ہے قرآن نے ان کے مدحیہ پہلو پر زور دے کر بدگوئی کو حرام بتایا ہے تو خود حضورﷺ نے ان پر طعن و تشنیع اور بدگوئی سے منع فرمایا ہے شیعہ مذہب سے تائب ہونے والے ان کے علامہ مجتہد مہدی حسن خان صاحب آیات بینات: جلد، 1 میں حضورﷺ کی یہ حدیث نقل فرماتے ہیں:

من سبنی فاقتلوہ ومن سب اصحابی فاجلدوہ۔

ترجمہ: جو مجھے برا کہے اسے قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے اسے کوڑے لگاؤ چنانچہ اہلِ سنت و الجماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر بھلائی سے کیا جائے اور مشاجرات میں پڑنے اور کسی گروہ پرطعن و تشنیع سے ضرور ہی بچا جائے۔

(تفصیلات کے لیے عدالتِ صحابہؓ از مؤلف ملاحظہ کریں)

خطائے اجتہادی پر دشمنی اورطعن و تشنیع اس بناء پر بھی جائز نہیں کہ بڑے بڑے کاملین بھی اس سے نہ بچ سکے حتیٰ کہ عند الشیعہ معصومین اور خاندان اہلِ بیتؓ میں بھی یہ باتیں پائی گئیں سابقہ سوال میں گزشتہ پانچ مثالیں اسی نوعیت کی ہیں انہیں پھر ملاحظہ کر کے مندرجہ ذیل مثالوں سے بھی دل و نگاہ روشن کریں:

6: حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام بناء بر قول اصح بزرگ پیغمبر علیہ السلام ہیں مگر دونوں کے مخصوص عطائی علم شرعی اور تکوینی میں فرق تھا اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی خدمت میں بھیج دیا ان کے ہر کام پر رضا اور خاموشی کا معاہدہ بھی ہو گیا مگر حضرت خضر علیہ السلام کا کشتی توڑنا بچے کو مار ڈالنا غیر مروت لوگوں کی دیوار درست کر دینا صرف یہ تین کام ہی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملاحظہ کیے تو اپنے علم و اجتہاد سے انہیں غیر شرع سمجھ کر ہر دفعہ اعتراض کیا اور معاہدہ کی پابندی کا خیال نہ رہا آخر کار حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام میں جدائی ہو گئی۔( القران: کہف، 106)

اس واقعہ میں بڑے فوائد اور مصلحتیں ہیں من جملہ یہ کہ ایک کامل کو اپنے علم و اجتہاد کی بناء پر دوسرے کا اسے اختلاف و مناقشہ درست ہے عند اللہ دونوں مقبول ہیں کسی کی تغلیط و تردید نہیں کی جا سکتی مسئلہ مشاجرات گو سنی عقیدہ کے مطابق غیر معصوم کا معصوم بچہ قیاس ہے مگر دونوں غیر معصوم فریقین کے پاس اپنے دعویٰ پر معصوم کی نص اور حجت تو موجود ہے فثبت التشابہ کیونکہ اللہ کا حکم ہے: وَ لَـكُمۡ فِى الۡقِصَاصِ حَيٰوةٌ الخ(سورۃ البقرہ: آیت 179)

 ترجمہ: بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اور شرعی قانون ہے حد کا جاری کرنا واجب ہے۔

7: بھیڑوں کے قضیہ میں حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک فیصلہ دیا مگر اس کے برعکس حضرت سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ دیا قرآنِ پاک نے فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ‌‌ الخ۔ (سورۃ الانبیآء: آیت 79)

ترجمہ: وہ فیصلہ ہم نے سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی تائید کی کیا حضرت داؤد علیہ السلام کے فیصلے کی تغلیط یا اس پر طعن و تشنیع عند الشیعہ جائز ہوگی؟

8: حضرت آدم علیہ السلام کو ایک درخت کا پھل کھانے سے روکا گیا تھا آپ نے خاص جزی درخت سمجھا لیکن عند اللہ پوری نوع کی نہیں تھی چنانچہ خطاء اجتہادی سے کھا بیٹھے پھر استغفار کی تو اللہ نے معاف فرما دیا۔  

9: حضرت سید الرسل علیہ الف الف تحیہ نے غزوہ تبوک کے موقعہ پر منافقین کو جھوٹے حیلے بہانوں کی وجہ سے گنجائش سمجھ کر نہ جانے کی اجازت دے دی اللہ تعالیٰ کو یہ اجازت ناپسند تھی معمولی تنبیہ کے بعد معاف فرما دیا:

عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَ‌ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡـكٰذِبِيۡنَ‏ ۞

(سورۃ التوبہ آیت 43)

ترجمہ: اللہ آپ کو معاف کرے آپ نے ان کو کیوں اجازت دی اجازت نہ دینی چاہیئے تھی تا وقتیکہ سچے آپ کے سامنے نکھر جاتے اور جھوٹوں کو آپ جان لیتے۔

بہرحال قرآنِ پاک میں ایسی کئی مثالیں مل سکتی ہیں جن میں بڑے بڑے اکابرین سے بعض اوقات فہم و اجتہاد میں چوک ہو گئی اور ان کا فیصلہ یا عمل مرجوع قرار پایا مگر وہ معاف ہے نہ اس پر طعن درست ہے اور نہ ان کی شان میں کچھ کمی آئی تو مسئلہ زیرِ بحث میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اکابرینِ دین کی جنس سے ہیں گو انبیاء علیہم السلام کی نوع سے نہیں علی قدر مراتب ان کا احترام اور ان سے دفاع بھی ضروری ہے اور ان کی اجتہادی خطائیں بنصِ قرآنی معاف ہیں۔

وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡكُمۡ‌ وَ اللّٰهُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

(سورۃ آلِ عمران: آیت 152)

10: حضرت حسینؓ نے اہلِ عراق کے ہزار خطوط سے متاثر ہو کر اپنے تفکر و اجتہاد سے یزید پر خروج جائز سمجھا مگر خاندانِ مرتضوی اور بنو عبدالمطلب میں سے چند افراد نے آپ کی موافقت کی حضرت علیؓ کہ دامادوں اور بیٹوں میں سے جو اس وقت موجود تھے کسی نے ساتھ نہ دیا حالانکہ حضرت محمد بن حنفیہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے فضلاء بھی موجود تھے شیعہ مذہب میں یقیناً یہ حضرات خاطی تھے مگر میں نہیں سمجھتا کہ 72 نفوس کے سوا جن میں 40 افراد غیر اہلِ بیت نسبی ہیں حضرت علیؓ کی اولاد اور خاندان بنو ہاشم کے سینکڑوں افراد کو شیعہ حضرات کفر و نفاق دشمنی اور جہنم کی بھینٹ چڑھا دیں گے۔

صفحہ 2 از 4