دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو…

دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں تو وہ دونوں جھوٹے تو ہو سکتے ہیں مگر دونوں سچے نہیں ہوا کرتے جب ایسا ہے تو جنگ جمل و صفین کے طرفین کے بارے میں دونوں کس طرح سچے ہوئے جو صاحب غلطی پر تھے ان کی نشاندہی تو کرو کہ فلاں بزرگ سےخطا ہوئی کیا قاتل و مقتول دونوں جنت میں جائیں گے؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

11: حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اہلِ شام پر لشکر کشی کی اور صفین کے مقام پر خوفناک جنگ لڑی اور مُسلمانوں کی خون ریزی کو جائز سمجھا نور۔ نظر فرزند اکبر حضرت حسن المجتبٰی رضی اللہ عنہ کے روکنے پر بھی نہ رکے لیکن زمامِ امامت جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آئی تو آپ نے برضا اور رغبت حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی ان کے ہاتھ پر بیعت کی اپنے لشکر کی ناراضگی طعنہ بازی اور قاتلانہ حملے کے چر کے بھی سہے لیکن امت کی خون ریزی سے بچنے کے لیے یہ عظیم کام کیا مسلمانوں کے خون ریزی پر دل دادہ شیعوں کی جذبر اور طعنہ بازی کے جواب میں کیا خوب ارشاد فرمایا:

غرض من اطاعت امر حق تعالیٰ است بہ حفظ خونہائے مسلماناں پس راضی باشید بقضائے خدا: 

(جلاءالعیون: صفحہ، 263)

ترجمہ: اس صلح و بیعت سے میری غرض حق تعالیٰ کے حکم کی اطاعت ہے جو کہ مسلمانوں کے خون کی حفاظت کرنا ہے بس خدا کے فیصلے پر راضی ہو جاؤ

اب شیعہ ہی انصاف سے بتائے کہ اس کلی تضاد اور پدر و پسر کہ اختلاف و عمل میں کون حق پر ہے کون باطل پر کیا زمانہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ میں حضرت امیرِ معاویہؓ اور دیگر مسلمان زیادہ نیک ہو گئے تھے؟ یا عہدِ مرتضوی میں خدا نے مسلمانوں کی خونریزی کی وحی کی تھی اور اب منسوخ ہو گئی؟

12: حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس بے نظیر حسنی سنت کے برعکس پھر علمِ جنگ بلند کیا شیعہ کے نزدیک سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید میں چنداں فرق نہیں اور پھر دونوں بھائیوں کے عمل کا یہ تضاد اپنے اپنے اشتہاد کی صوابدید کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا یہاں کسی ایک کو غلط کار کہا جائے گا یا نہیں؟ اگر نہیں تو فریقین ہے جنگ جمل و صفین کے متعلق کچھ مت کہیں۔

13: عام شیعی پروپگنڈا کی روشنی میں سیدنا حسینؓ نے اپنی جان اپنے اہل و عیال کو خدا کے سپرد کرتی ہے مگر یزید کے آگے نہیں جھکے آپ کے جانشین بالغ حضرت علی زین العابدینؒ نہ صرف یہ کہ والد کے ساتھ جنگ میں شریک ہو کر شہید نہیں ہوئے بلکہ دمشق میں شاہی دسترخوان پر یزید کے ساتھ 15 دن تک کھاتے پیتے رہےتاریخ سے نفرت کا ثبوت نہیں ملتا بالآخر زمین و آسمان نے وہ دن بھی دیکھا کہ آپ نے موافقت کر کے اپنے والد کے عمل کو منسوخ کر دکھایا حادثہ حرہ میں یزید کے خلاف تحریک میں شامل نہیں ہوئے یزید نے بھی لشکر کو خصوصی تاکید کی تھی کہ حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ میرا وفادار ہے اس کی حفاظت کرنا۔

(تاریخِ اسلام نجیب آبادی)

شیعہ مؤلف بھی یہ حقیقت یوں مسخ کرنے پر مجبور ہو گئے:

قد اقررت لک ماسالت انا عبد مکرہ فان شئت فامسک وان شئت فبع۔

(روضہ کافی: صفحہ، 235)

ترجمہ: جو کچھ تو نے بیعت کا مطالبہ کیا میں نے مان لیا میں آپ کا مجبور غلام ہوں آپ چاہیں تو اپنے پاس رکھ لیں چاہے تو بیچ دیں۔

حالانکہ واضح ہے کہ ایک ہی شخص کے متعلق دونوں باپ بیٹے کا یہ متضاد طرزِ عمل ایک کو یقیناً خطا کار ٹھراتا ہے مگر امامیہ عقیدے میں دونوں معصوم اور برحق ہیں اس میں تقیہ کا سہارا بھی ان سے مذاق کرنا ہے آخر وہ کون سی نص اور وحی تھی جس کی بنا پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے تقیہ حرام تھا اور حضرت زین العابدینؒ کے لیے واجب تھا یہ کہنا بھی باطل ہے کہ اگر یزید کی مخالفت کرتے تو قتل ہو کر سلسلہ امامت ختم ہو جاتا اس لیے کہ شیعی عقیدہ میں موت و حیات امام کے اختیار میں ہوتی ہے اور امامت کی وصیت بیٹے کے لیے لازم نہیں اپنے بھائی یا بھتیجے کو کر دیتے ہیں جیسے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کی تھی۔

14: سیدنا محمد بن حنفیہؒ نے امامت میں اپنے بھتیجے حضرت علی بن حسینؒ سے نزاع کیا اور ان کا پیروکار فرقہ کیسانیہ کہلاتا ہے اسی طرح حضرت زید بن زین العابدینؒ نے اپنے بھائی سیدنا محمد باقر صادقؒ اور اپنے بھتیجے سیدنا جعفر صادقؒ کی امامت کا انکار کیا خود دعویٰ امامت کر کے عباسیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور ان کے متعلق مرفوع حدیث میں حضور اکرمﷺ فرمایا اے حسینؓ تیری صلب سے پوتا ایک زید نامی شخص پیدا ہوگا جو مقتول شہید کیا جائے گا اور اس کی جماعت قیامت کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے جنت میں داخل ہوگی پھر سیدنا باقرؒ نے فرمایا میرے باپ پر اللہ پاک رحم فرمائے وہ بڑے ہی عبادت گزاروں میں سے تھے رات کو قیام کرتے اور دن کو روزہ رکھتے اور اللہ کے راستے میں کما حقہ جہاد بھی کرتے۔

(مجالس المؤمنین: جلد، 2 صفحہ، 257 قصہ زید)

سیدنا طلحہٰؓ سیدنا زبیرؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ پہ فتویٰ لگانے والے شیعہ حضرت محمد علی بن حنفیہؒ اور زید پر بھی یہی فتویٰ لگائیں گے دیدہ باید اگر نہیں تو وہ اصول کہاں گیا کسی ایک بھی امام کی امامت کا منکر خدا رسول کے منکر کی طرح کافر ہے۔

(حیات القلوب: جلد، 2) 

اسی طرح سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کے خانگی تنازعات جلا العیون وغیرہ میں بکثرت موجود اور مذکور ہیں ہمارا ضمیر ان کی نقل کرنا مناسب نہیں سمجھتا غور کا مقام ہے کہ ان تمام اختلافات میں یا طرفین شیعہ کہ ہاں معصوم ہیں کسی کو خاطی اور غلط کار نہیں کہا جا سکتا یا ایک طرف امام معصوم ہیں دوسری طرف معزز امام زادہ ہاشمی علوی ہیں علی الاعلان شیعہ اس پر کفر و فسق کا فتویٰ نہیں لگاتے جو امور تکفیر اور تخطیئہ سے یہاں مانع ہے وہی حضرت طلحہٰؓ و حضرت زبیرؓ حضرت امیرِ معاویہؓ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر طعن اور بدگوئی سے مانع ہے

 رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا الخ۔

(سورۃ الحشر: آیت 10)

صفحہ 3 از 4