دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو…

دستور انسانی اور اصول فلسفہ ہے کہ کسی ایک چیز پر اگر دو آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں تو وہ دونوں جھوٹے تو ہو سکتے ہیں مگر دونوں سچے نہیں ہوا کرتے جب ایسا ہے تو جنگ جمل و صفین کے طرفین کے بارے میں دونوں کس طرح سچے ہوئے جو صاحب غلطی پر تھے ان کی نشاندہی تو کرو کہ فلاں بزرگ سےخطا ہوئی کیا قاتل و مقتول دونوں جنت میں جائیں گے؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

رہی بات یہ ہے کہ کیا قاتل و مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے تو ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ سوائے ان بلوائی غنڈوں کے جو لشکرِ عربی میں شامل تھے یا مبہم طور پر بد نیت مفسدوں کے وہ سب مقتولین جنت میں جائیں گے جو استحکامِ خلافت اور حدود اللہ کے اجرا کے لیے لڑے اہلِ جمل کا قصہ تو واضح ہے بلوائیوں کے مکر سے یہ جنگ خطا سے ہوئی اور خطاءً قاتل و مقتول جنتی ہوتے ہیں جیسے جنگِ احد میں سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کے والد مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اہلِ صفین کے متعلق ہماری روایات میں سیدنا علیؓ نے ارشاد فرما دیا:

قتلا و قتلی معاویۃ فی الجنۃ۔(رواہ طبرانی) 

ورجالہ وثقواوفی بعضہم خلاف۔

(مجمع الزوائد: صفحہ، 358 جلد، 9) 

ترجمہ: میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیرِ معاویہؓ کے لشکر کے مقتول جنت میں ہوں گے۔

اور نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 125 کہ خطبہ میں بھی ان کو کامل مؤمن فرمایا اور مؤمن کا جنت میں داخلہ بالاتفاق ہوگا۔

جنگِ جمل کے حالات میں تاریخِ طبری: جلد، 3 صفحہ، 167 میں ہے کہ آپ سے آپ کے ساتھی ابو سلامہ نے کہ کل جب ہم اور وہ مقابل ہوں گے تو دونوں انجام کیا ہوگا؟ فرمایا جو بھی خالصتاً للہ صاف دلی کے ساتھ قتل ہوگا وہ جنت میں جائے گا۔

(بحوالہ تاریخِ اسلام: صفحہ، 285 شاہ معین الدین ندوی نیز سیدنا علیؓ سے متواتر یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کو سیدنا طلحہٰؓ کی شہادت پر بہت صدمہ ہوا اور ان کے صاحبزادے سیدنا محمد رحمۃ اللہ سے فرمایا کرتے تھے کہ میں اور تمہارے والد جنت میں ہوں گے اور یہ آیت ہمارے متعلق ہی اتری ہے:

وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ۞

(سورۃ الحجر: آیت 47)

(بحوالہ مختصر التحفہ الاثنی عشریہ: صفحہ، 278)

ترجمہ: جو کچھ ان کے سینوں میں کدورت تھی ہم اس کو دور کر دیں گے اور بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔

اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی یہی آیت تلاوت فرماتے تھے جب عمرو بن جرموز محبِ علیؓ سبائی نے لشکر سے الگ نماز اور سجدہ کی حالت میں حواری رسول اور پھوپھی زاد برادر پیغمبرﷺ سیدنا زبیر بن عوامؓ کو شہید کیا اور خوشی سے آ کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی تو آپؓ نے غصہ سے فرمایا:

ا بشر یا قاتل ابنِ صفیہؓ بالنار فقال عمرو نقتل اعداءکم و تبشروننا بالنار۔

(اخبار الطوال: صفحہ، 149)

ترجمہ: صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل تجھے جہنم مبارک ہو عمرو نے کہا ہم تمہارے دشمنوں کو قتل کر رہے ہیں اور آپ ہمیں جہنم کی خوشخبری دے رہے ہیں پھر تنگ دل ہو کر اس نے خود کشی کر لی جمل و صفین کے متعلق تمام ابحاث میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے جملہ ارشادات کو پڑھ کر شیعہ حضرات کو اپنے عقیدے کی اصلاح کر لینی چاہیے آخرت کا معاملہ بہت سخت ہے زبانی محبت کا دعویٰ اور اعتقاد و عمل میں کھلی مخالفت کہیں ان کو جہنم کا ایندھن بھی نہ بنا دے واللہ الہادی۔

ان حادثات کے بعد تاریخِ طرفین کے بعض بعض حضرات کی ندامت کا پتہ بھی دیتی ہے اس پر بھی مغفرت اور قاتل و مقتول کا جنت میں داخلہ ضروری ہے حضورِ اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دو بندوں پر ہنستے ہیں ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں مقتول اللہ کے راستے میں لڑتا ہوا شہید ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ اور استغفار کی توفیق عطا کرتے ہیں وہ بھی اللہ کے راستے میں لڑ کر شہید ہو جاتا ہے۔

(ابنِ ماجہ: صفحہ، 83 طبع مصر)


صفحہ 4 از 4