جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا…

جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا علیؓ انت وشيعتك هم الفائزون اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تو اور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں کیا ایسی کوئی حدیث حنفی شافعی حنبلی مالکی کے لیے بھی مل سکتی ہے اگر نہیں تو دیوبندی بریلوی نجدی سحروردی چشتی قادری نقشبندی حضرات کے لیے ہی تلاش کر کے اطمینان دلا دیجیئےـ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

جواب: یہ حدیث صحیح نہیں ہے صحاح ستہ اور دیگر کتبِ مداولہ اہلِ سنت میں اس کا وجود نہیں ہے شیعہ دوست کو اس کا حوالہ دینا چاہیئے لیکن چور مال مسروقہ کا اتہ پتہ کیسے بتا سکتے ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کتبِ موضوعات سے اسے نقل کر کے دلیل بنا دیا بالعموم شیعہ کی عادت یہی ہے کہ وہ اپنی خود ساختہ حدیثوں کو اس قدر شہرت دیتے ہیں کہ وہ عام لوگوں میں مشہور ہو جاتی ہیں پھر ان کے کید و مکر سے آگاہی کے لیے بڑے بڑے محدثین کو ایسی کتابیں لکھنی پڑتی ہیں جن میں صرف بناوٹی حدیثوں اور ان کے گھڑنے والوں کا تذکره ہوتا ایسی کتابوں کو کتبِ موضوعات کہتے ہیں جیسے علامہ سیوطی کی اللالی المصنوعہ فی الاحاديث الموضوعة اور ملا على قاریؒ کی تذکره موضوعات وغیرہ ان کتابوں سے متہم بالوضع حدیث سے استدلال انتہائی خیانت ہوتی ہے اور شیعہ کو اہل بيتؒ کے فضائل میں حدیثیں بنانے اور اس متاع کاسد کو مارکیٹ میں لانے کا اس قدر ملکہ حاصل ہے معتزلی علامہ ابنِ ابی الحديد کو شرح نہج البلاغہ: جلد، 3 صفحہ، 17 پر اعتراف کرنا پڑا ہے:

واعلم ان اصل الاكاذيب فی احادیث الفضائل كان من جهة الشيعة فانهم وصنعوا فی مبدء الامر احادیث مختلفة فی صاحبهم حملهم على وضعها عداوة خصومهم۔

ترجمہ: واضح رہے کہ فضائل کے سلسلے میں جھوٹی احادیث بنانے کی بنیاد شیعہ کی طرف سے ہوئی کیونکہ اولاً انہوں نے ہی مختلف حدیثیں اپنے صاحب حضرتِ علیؓ کے حق میں بنائیں اور اس بناوٹ پر ان کو مخالفین کے ساتھ عناد اور دشمنی نے آمادہ کیاـ

نجات شیعہ کی یہ موضوع حدیث بلفظہ تو کتبِ صحاح یا موضوعات میں نہ مل سکی البتہ اس کے ہم معنیٰ یہ موضوع حدیثیں دستیاب ہوئی ہیں۔

1: شعبی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے راوی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا اہل سنت و الجماعت ہوں گے اور نام نہاد شیعہ تو اب بھی رافضی مشہور ہیں شرک سے معمور قتل میں معذور اور جنت سے دور ہیں۔

2: ہمارے شیعہ قبروں سے نکلیں گے تو ان پر کوئی گناه و عیب نہ ہوگا الخ اس میں محمد بن سالم اور محمد بن على کندی دونوں ضعيف ہیں کنانی کہتے ہیں محمد بن سالم ابو سہل کوفی ہیں جو مستردک ہے محمد بن علی کو حافظ ذہبی اور ابنِ حجر نے بقول ازدی ضعیف کہا ہے ذہبی تلخيص موضوعات میں یہ روایت لانے کے بعد کہتے ہیں اس کی سند اندھیری ہے اور متن جھوٹ ہے۔

(تنزیہ الشریعہ عن الاخبار الشنیقہ الموضوعہ: جلد، 1 صفحہ، 419 مؤلفہ علی بن محمد بن عراق کنانی المتوفی 963)

 سوال والی حدیث کتبِ صحاحِ ستہ اہلِ سنت میں تو نہیں ہے ہاں شیعہ کی کافی کتاب الروضہ: صفحہ، 305 میں مرفوعِ نبوی ہونے کے بجائے حضرت جعفر صادقؒ سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ بنی عباس کا اختلاف غیبی ندا قائم کا خروج یقینی باتیں ہیں راوی نے پوچھا وہ ندا کیا ہے امام نے فرمایا اول دن میں آسمان سے ایک منادی ندا دے گا الا ان عليا و شيعته هم الفائزون۔

ترجمہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ان کی پارٹی کامیاب ہے۔ اور پھر دن کے آخر میں منادی آواز دے گا الا ان عثمانؓ وشيعته هم الفائزون۔

ترجمہ: سنو عثمانؓ اور ان کے ساتھی کامیاب ہیں۔

 اس میں شیعہ کے مقابل حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اور آپ کی جماعت کی کامیابی کا بھی ذکر ہے چونکہ وہ آخری دن میں ہوگا تو شیعہ علیؓ کے متعلق پہلا اعلان باطل یا منسوخ سمجھا جائے گا اور یہ اعلان خروجِ مہدی کے وقت ہوگا تو آپ کا مذہب بھی تو لاء عثمانؓ ہوگا اور آپ کے ساتھ تو لاء عثمانؓ رکھنے والی سب مسلمانوں کی جماعت بالآخر کامیاب ہوگی اور نام نہاد شیعہ علیؓ اس وقت بھی ناکام ہوں گے وللہ الحمد۔ 

على تقریر التسليم حدیث کا یہی مفہوم درست ہے کیونکہ اخروی نجات کے متعلق دو فرقوں کا تقابل اور دونوں کی کامیابی کا اعلان غیر معقول ہے اور حدیث کا سیاق و پسِ منظر امام برحق کی موجودگی میں دنیوی کامیابی کو متعین کرتا ہے ورنہ یہ حدیثِ روایت کے لحاظ سے موضوع ہے کیونکہ قرآنِ پاک نے شیعہ کے بجائے ان کے دشمن اصحابِ محمدﷺ کی کامیابی کی بشارت دی ہے۔

 اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞

(سورۃ المجادلہ: آیت 22)

ترجمہ: یہ اللہ کا لشکر ہے سنو! اللہ کا لشکر ہی غالب ہونے والا ہے۔

 اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏ ۞

(سورۃ التوبہ: آیت 20) 

 ترجمہ: یہی لوگ درجہ میں اللہ کے ہاں سب سے بڑے ہیں اور یہی کامیاب ہیں۔

قرآنِ پاک کے یہ ارشادات تاریخ کی کسوٹی پر پورے اترے کامیابی نے اصحابِ محمدﷺ اور خلفائے اسلام کے قدم چومے قیصر و کسریٰ کے تاج ان کے قدموں تلے روندے گئے آج کے 95 کروڑ مسلمان ان کی ہی قربانیوں اور فتوحات کی بدولت اسلام کے سایہ میں ہیں تو ان کے مخالف شیعہ کا وجود خود بخود کذب کا آئینہ ہے اور کبھی ان کو متبع اسلام ہونے کی حیثیت سے کامیابی اور ترقی نہ ہو سکی حتیٰ کہ ان کے سب اماموں نے بقول حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت مہدی مستور فی الغار اپنے اپنے زمانہ کے دان کے خیال میں، ظالم امام کی بیعت کی۔

(جلاء العیون: صفحہ، 261 المجالس المؤمنین: صفحہ، 443 تا بدگیرشیجان چه رسد۔

اصلی شیعہ اور ان کی تعداد:

واضع رہے کہ شیعی ائمہ کی واقعی تعلیمات کی روشنی میں شیعہ ہر چُوڑے بھنگی مراسی گوئیے پنج تن کے نام پر بھکاری مادر زاد ننگے ملنگانِ علیؓ تارکِ شریعت قلندر نسب پرست نام نہاد سید متعہ و عیاشی میں مست امراء کو نہیں کہتے جو بالعموم عشرہ محرم میں ماتمی مجالس اور شور و غوغا برپا کر کے فرضی جنت کا ٹکٹ نماز روزہ سے پاک اور مونچھیں لمبی داڑھی صاف ذاکروں سے حاصل کر لیتے ہیں۔ بلکہ ائمہ کے دین میں شیعہ وہ ہوتا ہے جو براہِ راست معصوم امام زمانہ سے تعلیم شریعت حاصل کرے پھر اس پر مکمل عمل کرے اور امام سے کما حقہ وفاداری کرے چنانچہ کافی: جلد، 2 باب الطاعتہ والتقویٰ میں یہ صراحت ہے کہ خدا کا نافرمان ہمارا دشمن ہے ہماری محبت صرف عمل اور پرہیز گاری سے ملتی ہے بایں معنیٰ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے عمر بھر صرف تین یا چار شیعہ تھے روضہ کافی: صفحہ، 33 باقی تمام جمِ غفیر کو وفات سے پہلے آپؓ نے کفر و نفاق کی سند دی۔ 

صفحہ 1 از 4