جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا…

جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا علیؓ انت وشيعتك هم الفائزون اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تو اور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں کیا ایسی کوئی حدیث حنفی شافعی حنبلی مالکی کے لیے بھی مل سکتی ہے اگر نہیں تو دیوبندی بریلوی نجدی سحروردی چشتی قادری نقشبندی حضرات کے لیے ہی تلاش کر کے اطمینان دلا دیجیئےـ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

(جلاء العیون: صفحہ، 179) 

حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا بھی کوئی شیعہ نہ تھا ورنہ خلافتِ امیرِ معاویہؓ کے سپرد کر کے شیعستانِ عراق و کوفہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں پناہ گزین نہ ہوتے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا بھی کوئی شیعہ نہ تھا ورنہ 72 اصحابِ مکہ اور افرادِ خاندان کے ساتھ کوفی شیعہ کے ہاتھوں مظلومی کی شہادت نہ پاتے حضرت زین العابدینؒ کا بھی کوئی شیعہ تھا ورنہ وہ یزید کی غلامی اور بیعت کا طوق گلے میں نہ ڈالتے۔

(روضہ کافی: صفحہ، 235)

امام پنجم سیدنا باقر صادقؒ کے بھی کوئی وفادار نہ تھے ورنہ وہ اوصافِ شیعہ میں یوں نہ فرماتے:

قال فيهم التمييز وفيهم التبديل وفيهم التمحيص تاتی علیھم سنون تفنيهم و طاعون يقتلهم۔

 (اصولِ کافی باب المؤمن و علامته)

 ترجمہ: ان میں چھانٹی ہوگی ان میں مذہب کی تبدیلی ہوگی ان کو پر کھا جائے گا ان کو فنا کر دینے والی قحط سالی ان پر مسلط ہوگی اور طاعون ان کو قتل کرے گا۔

امام ششم حضرت جعفر صادقؒ کے بھی تین شیعہ مؤمن نہ تھے ورنہ وہ تقیہ حلال نہ جانتے اور کوئی حدیث نہ چھپاتے۔

(کافی باب قلۃ المؤمنین: صفحہ، 242) 

امام ہفتم نہم دہم یازدہم کےبھی کوئی پیروکار شیعہ نہ تھے ورنہ ان کے خیر و شر کا کچھ شیعہ لٹریچر سے ثبوت ملتا۔

امام ہشتم علی رضا کے بھی کوئی مخلص شیعہ نہ تھے ورنہ وہ اپنے شعیوں کے ریزلٹ اور انجام کا یوں اعلان نہ کرتے اگر آپ میرے شیعہ کی پہچان کریں تو سب کو فیل پائیں اور اگر ان کو پرکھیں تو سب کو مرتد پائیں اور اگر ان کی چھانٹی کریں تو ہزار میں سے ایک بھی نہ نکلے اور اگر ان کو چھاننی سے چھانیں تو کوئی بھی نہ بچے بجز اس کے جو میرا ہو یہ مدت سے تکیہ پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں ہم شیعہ علیؓ ہیں حالانکہ شیعہ علیؓ تو صرف وہی ہے جو اپنے قول و فعل کو سچ کر دکھائے۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 128 حضرت امام العصر والزمان مہدی الغائب کے 255 سے تاہنوز علی اختلاف الروايات 3، 30، 313 مؤمنین شیعہ بھی بیک وقت نہیں ہوئے اور ورنہ حضرت امام باہر نکل کر ظلم و کفر کا خاتمہ اور عدل و توحید کا ڈنکا بجا دیتے اصولِ کافی باب التمحيص و الامتحان: جلد، 1 صفحہ، 370 میں ہے کہ امام جعفر صادقؒ سے سوال ہوا کہ قائم کے ساتھ کتنے لوگ ہوں گے؟ فرمایا نضر لسیر تھوڑے سے آدمی ہوں گے راوی نے کہا لوگوں میں مہدی کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہیں فرمایا یقینی بات ہے شیعہ لوگوں کو پرکھا چھانٹا اور چھانا جائے گا اور بہت سی مخلوق چھانٹی سے نکل جائے گی۔

 بارہ ائمہ کے شیعہ کی سب تعداد آپ کے سامنے ہے جو چند صد بھی نہیں بنتے کیا صرف یہی واحد مسلمان ہیں جو شیعہ علیؓ یہ جنتی اور کامیاب ہیں اور خلفائے ثلاثؓہ کو ماننے والی کروڑوں اربوں کی تعداد میں امتِ محمدیہ شیعہ کے خیال میں جہنم میں جائے گی تو پھر اصولِ کافی کی اس صحیح حدیث کا کیا مفہوم ہوگا۔ 

والناس صفوف عشرون و مائة الف صف ثمانون الف صف من امة محمد واربعون الف صف من سائر امم۔ (كتاب فضل القرآن: صفحہ، 596)

ترجمہ: سب لوگوں کی ایک لاکھ بیس ہزار صفیں ہوں گی 80 ہزار صفیں حضرت محمدﷺ کی امت کی ہوں گی اور 40 ہزار سب امتوں کی۔ 

یہ لوگ وہ ہیں جو بالآخر جنت کے حقدار ہوں گے 80 ہزار صف مذہبِ اہلِ سنت کے پیروکاروں کی ہی ہو سکتی ہے جو امتِ محمدیہ کہلانے پر فخر بھی کرتے ہیں شیعہ کی فہرست بالا کے مطابق ایک صف بھی نہ بنے گی پھر وہ کیسے کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 

فائدہ مہمہ:

 حديث: انت وشيعتك هم الفائزون کی حقیقت بیان ہو چکی اب آپ کے افادہ کے لیے چند موضوع احادیث بھی ذکر کی جاتی ہیں جن سے شیعہ مسلمانوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں تاکہ آپ ان کی چالوں میں نہ آئیں تقیہ کی آڑ میں شیعہ حضرات نے وضع حدیث کے سلسلے میں بڑا کمال دکھایا اور شریعتِ محمدیہ کے برعکس ائمہ کے نام سے مستقل شریعت اور دفتر احادیث تصنیف کر ڈالے۔ 

علامہ نودی رحمۃ اللہ شرح مسلم: جلد، 1 صفحہ، 83 پر لکھتے ہیں:

رافضہ سب فرقوں سے جھوٹا فرقہ ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھی کا قول ہے:

 اللہ شیعہ رافضہ کو برباد کرے کتنا بڑا علم ضائع کر ڈالا یعنی افتراء بر علیؓ کی وجہ سے آپ کی طرف ہر منسوب بات مشکوک معلوم ہونے لگی۔

 امام شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں اس امت میں جتنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا گیا اتنا کسی پر نہیں حضرت علامہ اپنے دور کی بات کرتے ہیں ورنہ شیعہ نے جتنا سیدنا باقر صادقؒ و سیدنا جعفر صادقؒ پر افتراء کیا وہ جزوِ مذہب بنا سیدنا علی المرتضیٰؓ پر اس کا عشر عشیر بھی نہیں باندھا گیا یا وہ انقلابات دہر کے بھنور میں پھنس کر موجودہ شیعہ تک بھی نہ پہنچ سکا۔ 

علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں رافضیوں کا جھوٹ ضرب المثل ہے علامہ ابنِ مبارک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں صحیح دین حدیث کے ماننے والوں کا ہے مناظرہ اور حلیہ بازی ڈھکوسلہ بازوں کا حصہ ہے اور جھوٹ رافضیوں کا شعار ہے حمادبن سلمہ کہتے ہیں مجھ سے ایک شیخ نے بیان کیا جو رافضی مذہب سے توبہ کر چکا تھا کہ جب ہم اکھٹے ہوتے اور ایک بات کو پسند کرتے تو ہم اسے حدیث بنا کر روایت کر دیتے۔

(السنتہ قبل التدوین: صفحہ، 197)

 شیعہ بن کر ذئمہ اہل بیتؒ پر کذب و افتراء کا اقرار موجودہ محققین شیعہ کو بھی ہے چنانچہ ایرانی عالم سید احمد الحسینی رجال کشی کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں:

ولم يسلم الأئمة ايضا من ناس دسوا انفسهم فی اصحابهم واخذسا يختلفون عليهم الا كاذيب و يردون عنهم الاحاديث و يوجدون البدع و الآرا الضالة حتیٰ ان بعض الدجالين وضع الوفا من الاحاديث ونسبها الى من لم یتفوه بحرف واحد منها۔

(تقدیم: صفحہ، 3 طبع تہران)

ترجمہ: ائمہ اہلِ بیتؓ بھی ان لوگوں سے محفوظ نہ رہ سکے جنہوں نے اپنے آپ کو آپ کے ساتھیوں میں گھسیٹر دیا اور ان پر جھوٹی حدیثیں گھڑنے لگے اور بناوٹی روایتیں ان سے نقل کرنے لگے بدعتوں اور گمراہ عقائد کو ایجاد کیا یہاں تک کہ ان بعض دجالوں نے ہزاروں احادیثیں بنا کر اس امام کی طرف منسوب کیں جس نے ان کا ایک حرف بھی منہ سے نہ نکالا۔

صفحہ 2 از 4