جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا…

جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا علیؓ انت وشيعتك هم الفائزون اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تو اور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں کیا ایسی کوئی حدیث حنفی شافعی حنبلی مالکی کے لیے بھی مل سکتی ہے اگر نہیں تو دیوبندی بریلوی نجدی سحروردی چشتی قادری نقشبندی حضرات کے لیے ہی تلاش کر کے اطمینان دلا دیجیئےـ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

 احادیثِ شیعہ میں واقعی اختلاف و تضاد اور اصولی مختلف فرقوں کے وجود کی وجہ سمجھ میں آ گئی کیا وہ یہی شریعت یا بے عیب واسطہ ہے جس پر شیعہ فخر کرتے اور مسلمانوں کو اہل بیتؓ سے انحراف کا طعنہ دیتے ہیں۔

شیعہ کی موضوع احادیث:

1: آنا مدینۃ العلم و علیؓ بابھا

اسے امام ترمذیؒ نے جامع میں ذکر کر کے فرمایا ہے کہ یہ منکر غیر ثقہ راوی سے ہے امام بخاریؒ نے بھی یہ کہہ کر فرمایا ہے کہ کوئی وجہ صحت کی نہیں ابنِ معینؒ کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے جس کی کوئی اصل نہیں ابو سعید اور یحییٰ بن سعید بھی یہی کہتے ہیں ابنِ جوزیؒ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ 

(موضوعات کبیر از علا علی قاریؒ، ابنِ حجرؒ نے تہذيب التہذیب: جلد، 7 صفحہ، 428 پر اس حدیث کو موضوع کہا ہے۔

2: اے علیؓ آپ میرے بھائی میرے وصی میرے خلیفہ اور میرے بعد میرا قرض ادا کرنے والے ہیں۔

علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں ابنِ جوزیؒ نے کتاب الموضوعات میں اسے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے اور یہ موضوع ہے ابنِ حبانؒ کہتے ہیں مطر نامی راوی موضوعات روایت ہے اس سے روایت کرنا حلال نہیں ہے ابنِ عدی کی روایت بھی اسی مطر بن میمون سے ہے اس میں خلیفتی فی اھلی کے الفاظ ہیں۔ 

(المنتقى: صفحہ، 693)

مطر بن میمون کو امام بخاریؒ منکر الحدیث کہتے ہیں۔ (موضوعات کبیر: صفحہ، 41)

3: ایک پرندہ آپﷺ کے پاس لایا گیا آپﷺ نے دعا کی اے اللہ اس پرندے کا گوشت کھانے کے لیے کسی ایسے شخص کو میرے پاس بھیج جو مجھے اور تجھے سب لوگوں سے عزیز تر ہو۔

اتنے میں حضرت علیؓ تشریف لائے یہ حدیث سب محدثین کے نزدیک جھوٹی اور موضوع ہے مشہور محدث امام حاکم سے اس حدیث الطیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا یہ سے حدیث صحیح نہیں حالانکہ حاکم تشیع کی جانب مائل ہے مگر حاکم اور دیگر علمائے حدیث مثلاً نسائی و ابنِ عبد البر کا تشیع تفضیلِ علیؓ کی حد تک نہیں پہنچتا محدثین میں کوئی ایسا عالم نہ تھا جو حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ سے افضل قرار دیتا ہو۔ 

(المنتقیٰ: صفحہ، 695)

4: حضورﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حضرت علیؓ پر سلام بھیجنے کا حکم دیا اور فرمایا آپ سید المسلمین امام المتقین اور اہلِ جنت کے قائد ہیں شیعہ اس کی سند اور صحت ثابت نہیں کر سکتے بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ یہ روایت کسی صحیح کتاب اور قابلِ اعتماد مسند میں موجود نہیں اس کی اسناد میں متہم بالکذب راوی پائے جاتے ہیں اور مزید یہ کہ علماء اسے موضوع قرار دیتے ہیں اسی طرح اس کے یہ الفاظ وھو ولی کل مؤمن بعدی آنحضرتﷺ پر بہتان ہے۔

(المنتقیٰ: صفحہ، 697)

5: میرے اہلِ بیت کشتی نوح کی طرح ہیں جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جو پیچھے رہ گیا ڈوب گیا۔

شیخ اسلام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کشتی نوح والی حدیث صحیح نہیں اور حدیث کسی قابلِ اعتماد کتاب میں موجود نہیں۔

(منہاج السنۃ)

من احب حسنا و حسينا و والد كان معى في الجنة يہ محدث قطیعی نے کتاب الفضائل میں مسند احمد کے آخر میں اضافہ کے طور پر نقل کی ہے محدث ابنِ الجوزی رحمۃ اللہ نے اس روایت کو بواسطہ علی بن جعفر از موسیٰ موضوع قرار دیا ہے۔ 

(المنتقیٰ: صفحہ، 703)

7: حضرت ابو خدریؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ سے فرمایا تمہاری حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے محبت علامتِ ایمان ہے اور تمہاری عادت موجبِ کفر تیرے محب سب سے پہلے جنت میں جائیں گے اور تجھ سے عداوت رکھنے والے سب سے پہلے واصلِ جہنم ہوں گے۔

ہم کہتے ہیں یہ صریح جھوٹ ہے کوئی مسلم یہ بات کہہ سکتا ہے کہ خوارج و نواصب فرعون و ابوجہل جیسے رؤسا کفار سے پہلے دوزخ میں جائیں گے یا غالی اسماعیلیہ چھوٹے روافض اور فاسق امامیہ حبِ علیؓ کی بناء پر انبیاء کرام علیہم السلام سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔

8: خطیب خوارزم نے مرفوع روایت کی ہے کہ جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو نا پسند کرتا ہو وہ کافر ہے اور اللہ کے رسول کے خلاف جنگ آزمائی کر رہا ہے۔

9: بروایتِ انسؓ علیؓ کو آتے دیکھ کر حضورﷺ نے فرمایا میں اور علیؓ روزِ قیامت اپنی امت پر حجت ہوں گے۔

10: معاوية بن حيدة القشيری مرفوعاً روایت کرتے ہیں جو شخص سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے عداوت رکھتے ہوئے مر جائے تو یہ پرواہ نہ کریں کہ یہودی مرا ہے یا نصرانی۔

یہ تینوں روایات صحیح نہیں اس لیے کہ خطیب خوارزم کا ان روایات کو نقل کرنا ان کی صحت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس کی تصانیف موضوعات کا پلندہ ہیں جن کو دیکھ کر ایک حدیث دان شخص حیرت کا اظہار کرنے لگتا ہے اور بے ساختہ پکار اٹھتا ہے: هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞ وہ حقیقت شناس شخص جو واقعات سے آگاہ ہو اور آثار و اقوال میں مہارت رکھتا ہو اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اس قسم کی احادیث کذاب راویوں نے عصرِ صحابہ و تابعین کے اختتام کے بعد وضع کر لی تھیں۔

(کذا فی منهاج السنة لابن تیمیهؒ)

11: امام نسائی رحمۃ اللہ نے خصائصِ علیؓ میں عباد بن عبد اللہ اسدی سے روایت کی ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اور رسولِ خدا کا بھائی ہوں میں ہی صدیقِ اکبرؓ ہوں میرے بعد جو اس کا دعویٰ کرے گا وہ کاذب ہوگا میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔

یہ روایت امام احمد نے اپنی کتاب الفضائل میں ذکر کی ہے ابن الجوزیؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے عباد متہم بالکذب ہے ابن المدینی نے بھی عباد کو ضعیف الحدیث قرار دیا اس کی سند میں منہال راوی بھی ہے جو شیعہ کے نزدیک متروک ہے اثرم کا قول ہے کہ میں نے امام احمد بن حنبلؒ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا چھوڑئیے یہ ہے منکر الحدیث ہے۔ 

(المنتقیٰ: صفحہ، 7091)

درایتہً بھی حضرت علیؓ جیسے راست گفتار سے یہ بعید ہے کہ وہ اپنی خودستائی اور برتری کے لیے غلط بات کہیں۔

صفحہ 3 از 4