جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا…

جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار فرمایا ! یا علیؓ انت وشيعتك هم الفائزون اے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تو اور تیرے شیعہ ہی نجات یافتہ ہیں کیا ایسی کوئی حدیث حنفی شافعی حنبلی مالکی کے لیے بھی مل سکتی ہے اگر نہیں تو دیوبندی بریلوی نجدی سحروردی چشتی قادری نقشبندی حضرات کے لیے ہی تلاش کر کے اطمینان دلا دیجیئےـ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

12: حضورﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا تو پہلا شخص ہے جو بروزِ قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا تو صدیقؓ بھی ہے اور فاروقؓ بھی تو مؤمنوں کا لیسوب ہے ابنِ جوزی رحمتہ اللہ کہتے ہیں یہ حدیث موضوع ہے اس کی سند میں عباد بن یعقوب اور علی بن ہاشم دونوں ضعیف ہیں اس کی دوسری سند میں عبد اللہ بن داہر ہے جسے محدث ابنِ معین رحمۃ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔

بطورِ نمونہ متبرک عدد والی بارہ احادیث موضوعہ ذکر کی گئی ہیں 2، 10 ابنِ مظہر علی نے منبع الکرامہ میں خلافتِ علیؓ پر پیش کی ہیں جس کے رد میں شیخ الاسلام علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ المتوفی 728 نے شہرہ آفاق تصنیف منہاج السنة النبوية فج نفض الشيرة القدرية لکھی ہے ہماری تنقید اسی سے ماخوذ ہے۔

اہلِ سنت ہی فائزہ المرام ہیں:

معترض کا یہ کہنا کہ ایسی کوئی حدیث حنفی شافعی حنبلی مالکی حضرات کے لیے بھی مل سکتی ہے اگر نہیں تو دیوبندی بریلوی نجدی سہروردی چشتی قادری نقشبندی حضرات کے لیے تلاش کر کے اطمینان دلا دیجیئے ایک لغو بات ہے کیونکہ چاروں ائمہ مجتہدین کے پیروکار یا علمِ تصوف میں چاروں سلاسل کے سالکین آپس میں کوئی اُصولی اختلاف نہیں رکھتے نہ ایک دوسرے پر طعن کرتے ہیں بلکہ شیر و شکر کر ہو کر ایک دوسرے کے پیچھے ہی نمازیں پڑھتے ہیں جب یہ سب اہلِ سنت والجماعت ہی ہیں تو سب کے لیے ایک حدیثِ نبوی اور فیصلہ مرتضوی کافی ہے۔ ملاحظہ جو حضرت علیؓ فرمانے ہیں:

وسيهلك فی صنفان محب مفرط يذهب به الحب الى غير الحق غلو و مبغض مفرط بن هب به البغض إلى غير الحق وخير الناس فی حالا النمط الأوسط فالزهوه والزموا السواد الاعظم فان بيد الله على الجماعۃ و اياكم والفرقة فان الشاذ من الناس للشيطن الخ۔

(نہج البلاغہ: قسم اول، صفحہ، 216)

 ترجمہ: اور عنقریب میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے ایک وہ جو محبت میں غلو رکھتا ہو کہ محبت اس کو خلافِ حق راستہ پر لے جائے اور ایک وہ جو عداوت میں غلو رکھتا ہو کے عداوت اس کو خلافِ حق کی طرف لے جائے میرے متعلق سب سے اچھے وہ لوگ ہوں گے جو درمیانی راہ اختیار کریں گے۔

لہٰذا تم درمیانی راہ کو لازم سمجھو او سوادِ اعظم کی پیروی کو لازم جو کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے خبردار جماعت سے علیحدہ نہ ہونا جماعت سے علیحدہ ہونے والا شیطان کا شکار ہے جس طرح وہ بکری جو گلے سے علیحدہ ہو جائے بھیڑیے کا شکار بنتی ہے آگاہ ہو جاؤ جو شخص تم کو جماعت سے علیحدہ ہونے کی ترغیب دے اس کو قتل کر دو اگرچہ وہ میرے اس عمامہ کے نیچے ہو یعنی اگر چہ میں ہی کیوں نہ ہوں نہج البلاغہ میں دوسرے مقام پر حضرت علیؓ نے حضورﷺ سے یہ حدیث نقل فرمائی ہے:

اس یقینی ارشادِ مرتضوی کی رو سے خوارج اور شیعہ کا باطل ہونا اظہر من الشمس ہے کیونکہ ایک غالی محب کے اپنے اندر خدا اور رسولﷺ کی صفات کا بھی عقیدہ رکھتا ہے صحیح مسلمان سوادِ اعظم ہیں جو اہلِ سنت و الجماعت ہے اور آپ کے متعلق معتدل عقیدہ رکھتے ہیں سوادِ اعظم سے مراد بڑی جماعت ہی ہے جیسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تصریح فرما دی اور ان کی اِتباع کی فرضیت بتائی علمائے شیعہ بھی سوادِ اعظم سے اکثریتی جماعت اور اہلِ سنت مراد لیتے ہیں مثلاً شیعہ کے شہیدِ ثالث نور اللہ شوستری مجالس المؤمنین: صفحہ، 572 پر لکھتے ہیں:

فقیر گفٹ کہ اہلِ سنت ہمیشہ سوادِ اعظم بودہ اند: 

ترجمہ: فقیر کہتا ہے کہ اہلِ سنت پر دور میں سوادِ اعظم ہوئے ہیں ـ

اہلِ سنت جب سوادِ اعظم اور برحق و ناجی ہیں اور ارشادِ مرتضوی جیسے دنیا میں برحق نکلا آخرت کے اندر بھی برحق ہوگا اوراہلِ سنت فائز المرام اور جنات النعیم کے وارث ہوں گے اور جن محبانِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم پر حضرت امیر نے ہالک کا فتویٰ لگایا اور تاریخی حقائق کی روشنی میں وہ غدار و قاتل اہلِ بیتؓ ٹہرے ان سے بد دعائیں لیں اورآج بھی اتباعِ اہلبیتؓ سے محروم اور بدعات کے علمبردار ہیں 300 سال سے ناکامی ان کا مقدر بن چکی ہے اور ظلم و سفاکی سے بھر پور خمینی انقلابِ ایران کا وجود نا مسعود و جعلی فقہ جعفری کے لغو و ناکارہ ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے آخرت میں بھی ان کا یہی حشر ہوگا۔

وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا ۞

(سورۃ الاسراء آیت 72)

ترجمہ: جو اس دنیا میں حق دیکھنے ماننے سے اندھا رہا ہوگا وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ ترین ہوگا۔

اور ایسا کیوں نہ ہ محبِ علیؓ شیعہ میں دسیوں فرقے قائم ہوئے ہر ایک دوسرے سے اصولی اختلاف رکھتا ہے الگ امام بناتا اور دوسرے کی تکفیر کرتا ہے صرف امامیہ کے 29 فرقے ہیں تین بڑے فرقے زیدیہ اسماعیلیہ اور اثناء شریہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں سیدنا جعفر صادقؓ فرماتے ہیں کہ امت کے 73 فرقے ہیں۔

ثلاث عشرة فرقة ینتحل ولا يتناو مودتنا الثنتاء عشرۃ قرقۃ منها فی النار وفرقة فی الجنة۔

 (روضتہ الکافی کلینی: صفحہ، 224)

ترجمہ: 13 فرقے ہماری ولایت و محبت کے قائل ہیں ان کے بھی 12 فرقے جہنم میں ہوں گے صرف ایک جنت میں ہو گا۔

کیوں صاحب! شیعہ علیؓ اگر فائز ہیں تو بانی تشیع امام ان کو جہنم کی سند کیوں دیتے ہیں اور نہ معلوم مشتہر صاحب اور ان کے ہم مسلک جہنمی فرقوں سے ہیں یا ایک جنتی فرقہ کے فرد ہیں۔

اور واضح رہے کہ شیعہ عقائد و لٹریچر کی روشنی میں عہدِ ائمہ کے بعد جنت کا مستحق صرف وہی مختصر گروہ ہوگا جس کی تعداد بیش از بیش 313 ہوگی اور وہ بالفِعل حضرت قائم کی نصرت کرے گا ان کے علاوہ سب مدعیانِ تشیع منافق ہیں کیونکہ اگر اتنے مؤمن بھی ان میں ہوں تو حضرت مہدی غائب کو غار یا مخفی مقام سے باہر نکلنا واجب ہو جائے گا۔ 

(ملاحظہ ہوں روضہ کافی: صفحہ، 313 طبع ایران)


صفحہ 4 از 4