حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے تعلقات خلافت عثمان رضی…

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے تعلقات خلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیسے تھے؟ کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس بڈھے نعثل کو قتل کر دو خدا اسے قتل کرے اگر ایسا ارشاد فرما کر آپ رضی اللہ عنہا مکہ تشریف لے گئیں تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت ظاہری کو سن کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کس طرح انہوں نے مظلوم تسلیم کر لیا کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے دیرینہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ذاتی رنجش نہ تھی ارشاد فرمائیں کہ جنگ جمل حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ظہور پذیر ہوئی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی دیرینہ دشمنی کا نتیجہ تھی۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 2

اختلاف کا سببِ قصاص قتلِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ہی تھا ایک پیغمبر کریمﷺ کی بہترین اہلیہ ہیں اور ایک معزز داماد ہیں ان دونوں میں نفرت اور دشمنی ثابت کرنا پیغمبرﷺ کی تعلیم و تربیت کا منکر ایک یہودی یا نصرانی تو کر سکتا ہے مگر آپ کے محب اور مسلمان سے اس کی توقع نہیں ہو سکتی۔ 

اقتلوا نعثلا کا قصہ وضعی ہے:

تلاش بسیار کے بعد تنقید کا یہ قصہ ہمیں تاریخ طبری: جلد، 4 صفحہ، 459 پر ملا مگر افسوس کہ شیعہ کا یہ قلعہ بلبلہ آب ثابت ہوا۔

اولاً: اس کی سند میں حسین بن نصر عطار، ابو نصر بن مزاحم، محمد بن نویرہ، طلحہٰ بن اعلم حنفی وغیرہ ایسے مجہول لوگ ہیں جن کا عام کتبِ رجال و تاریخ میں تذکرہ نہیں ملتا۔ 

ثانیاً: ایک راوی سیف بن عمر معروف ہے مگر اس پر کتبِ رجال میں کڑی جرح موجود ہے میزان الاعتدال میں سیف کے ترجمہ میں ہے کہ وہ لیس شئ کچھ بھی نہیں ہے متروک ہے منکر الحدیث ہے وضع و زندقہ سے متہم ہے پھر آخری راوی اسد بن عبداللہ مروی عنہ کا نام نہیں لیتا تدلیس کرتا ہے ایسی بے سروپا اور جعلی روایت سے سیدہ ام المؤمنینؓ جیسی ہستی پر طعن کرنا واقعی شیعہ کو زیب دیتا ہے۔

ثالثاً: درایتاً بھی یہ قصہ لغو ہے بلکہ شاذ و منکر ہے کیونکہ اس کے خلاف حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بہت سی روایات ثابت ہیں جن میں آپ نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دفاع کیا قتل کو نفرت و حقارت سے دیکھا ان پر لعنت کی اور حضرت علیؓ نے بھی آپ کی تائید میں ان پر لعنت کی۔  

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 493 المنتقىٰ: صفحہ، 329)

 رابعاً: حتیٰ الامکان آپ حضرت عثمانؓ اور بلوائیوں کے اختلاف کو دفع کرتیں ماں کی حیثیت سے بلوائیوں کی کسی غلط رپورٹ پر آپ کو حضرت عثمانؓ پر تنقید کا حق حاصل تھا کی کبھی کچھ کیا ہو تو وہ کس منطق سے حضرت عثمانِ غنیؓ سے دشمنی کے ذیل میں آئے گا محاصرانہ تنقید عام بات ہوتی ہے درحقیقت بلوائی کمینے آپ کی عزت کے بھی دشمن تھے۔لگائی بجھائی سے فتنہ برپا کرنا چاہتے تھے اور یہ تنقید ان کی ہی خود ساختہ ہے جب انہوں نے ام المومنین حضرت امِ حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بھی بے عزتی کی تو آپ عزت بچا کر اور حج کے لیے مکہ مکرمہ چلی آئیں اگر آپ بزعمِ شیعہ مخالفِ حضرت عثمانؓ اور آپ کی قتل پر خوش تھیں یہ مقصد مدینہ شریف میں رہ کر جلدی حاصل کر سکتی تھیں بلوائیوں کی ڈھارس بندھتی مگر آپ کا عمل اس کے برعکس تھا۔ 

خامساً: در حقیقت یہ تنقید جھوٹ ہے نعثل کا لفظ صرف قاتلین حضرت عثمانؓ کی زبان پر جاری ہوا سب سے پہلے یہ لفظ بولنے والا جبلہ بن عمرو ساعدی تھا اس نے کہا اسے نعثل میں آپ کو قتل کر کے ایک خارشی اونٹ پر سوار کروں گا اور اسے شہر سے باہر پتھریلی زمین کی طرف ہانک دوں گا تاریخِ طبری: جلد، 5 صفحہ، 114 مطبع حسینیہ مصر) 

بعد ازاں یہ لفظ جنگِ جمل کے موقعہ پر ہانی بن خطاب اور حبی کی زبان پہ جاری ہوا وہ کہتا ہے

ابت شيوخ من حج و ھمدان ان لا یردو نعثلا كما كان۔

تیسری مرتبہ یہ لفظ عبد الرحمٰن بن حنبل حمجی نے جنگِ صفین کے موقعہ پر بولا، وہ کہتا ہے۔ 

ان تقتلونی فانا ابنِ حنبل انا الذی قتلت فیکم نعثلا۔

جب جبلہ بن عمرو ساعدی نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ نعثل کا لفظ بولا حضرت عائشہ صدیقہؓ اس وقت مکہ مکرمہ میں محو عبادت تھیں جب حج سے واپس لوٹیں تو یہ لفظ آپ کے کانوں میں پہنچا۔ 

(تحشیہ الخطیب بر منتقیٰ: صفحہ، 342) 

 سادساً: زیرِ بحث تاریخی روایت میں یہ بھی ہے کہ عبد ابنِ امُ کلاب نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کیوں قصاصِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ چاہتی ہیں جب کہ آپ نے ان پر نکتہ چینی کی تھی۔

قالت انہم استتبابوہ ثم قتلوہ وقلت وقالوا و قولى الاخير خير من قولی الاول۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 459)

ترجمہ: فرمانے لگیں بلوائیوں نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے توبہ کرائی پھر انہیں شہید کر دیا اور میں نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب بلوائیوں نے ان کے متعلق میرے پاس غلط رپورٹ بیان کی تھی۔ میری آخری بات حقیقت پر مطلع ہونے کی وجہ سے پہلی بات سے بہتر ہے۔

معلوم ہوا کہ وہ جملہ ثابت بھی ہو تو غلط خبر پر مبنی تھا جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے تصریح کردی ہے۔

سابعاً: بصرہ کے شہر میں حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تقریروں کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا لوگ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر نکتہ چینی کرنے لگے اور آپ کے حکام پر الزام لگاتے ہمارے پاس یہ لوگ مدینہ میں آتے تو جو کچھ بیان کرتے ہمیں اس کے چھپانے کا حکم دیتے اور ہماری نرم بات کو اپنے حق میں بہتر جانتے جب ہم ان کے الزامات میں غور کرتے تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو بری، پرہیز گار اور وفادار پاتے اور ہم ان کو بدکار اور جھوٹا سمجھتے کہ یہ جو کچھ ظاہر کرتے اس کی خلاف ارادہ رکھتے تھے طلبِ حق کے بجائے قتلِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ جب یہ باغی ٹولہ بنانے پر قادر ہو گئے تو گھر میں گھس کر حرام خون حرام مال اور حرام شہر کو حلال کر لیا۔ 

(طبری: جلد، 4 صفحہ، 464)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ حضورﷺ نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا اے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اللہ اگر تجھے ایک دن بھی خلافت کی قمیص پہنائے اور منافق اتروانا چاہیں تو اللہ کی اس پہنائی ہوئی قمیض کو کبھی نہ اتارنا آپﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا تھا راوی نے کہا اے اماں قتل والے دن آپؓ نے یہ حدیث کیون نہ سنائی فرمایا بھول گئی تھی۔ 

(ابنِ ماجہ: صفحہ، 11)


صفحہ 2 از 2