مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ ہیں کیا ان کی امامت نص سے ثابت ہے یا حکومتِ وقت کی پیداوار تھی اور چار مصلے جو خانہ کعبہ میں بنائے گئے تھے ان کا شرعی جواز کیا تھا اور اب ان کو اٹھا بھی دیا ہے تو حکومت کا اپنی مرضی سے ان چار مصلوں کو کعبہ میں قائم کرنا اور عرصہ کے بعد اٹھانا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان بزرگوں کی امامت حکومتِ وقت کی مرہونِ منت ہے۔ فاعتبردایا ولی الابصار۔
مولانا مہرمحمد میانوالیجواب: اس بھونڈے سوال میں تو مشتہر کا مسلمانوں سے شدید عناد تقیہ سے باہر نکل آیا اور جہالت سے ائمہ اربعہ کا تقابل اپنے خود ساختہ 12 ائمہ سے چاہنے لگا اس پر واضح ہونا چاہیئے کہ اہلِ سنت کے فقہاء مجتہدین وائمہ اربعہ کی امامت نہ نبوت سے افضل ہے نہ نبوت کی مثل ہے نہ منصوص ہے اور نہ اہلِ سنت شیعہ کی طرح جناب پیغمبر خاتم الانبیاءﷺ کی ذات اور منصبب و اوصاف میں اس شرکِ عظیم اور کفرِ صریح کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ یہ تو قرآنِ حکیم اور سنتِ نبوی میں نئے درپیش مسائل کے لیے غور و فکر اور صواب و اصواب کی تلاش میں اجتہاد کا نتیجہ ہے اور کئی غیر منصوص نئے مسائل میں یہ اختلاف آراء ایک ایک مذہب کی حیثیت اختیار کر گئے جیسے خود سیدنا باقر صادقؒ و سیدنا جعفر صادقؒ میں یا سیدنا زیدؒ اور دیگر اہلِ بیتؓ میں فقہی اختلاف ہیں جن میں ایک دوسرے کی نہ قطعی تقلید کہ جا سکتی ہے نہ کسی معین مسلک کو ماننا ہی باعث نجات ہےاور یہی اختلافِ امت کے لیے رحمت ہے جہاں تک حادثات نو کے حل کے لیے اجتہاد و قیاس کی ضرورت و اہمیت کا تعلق ہے ہم اس سے قبل سوال 13کے تحت بیان کر چکے ہیں یہاں صرف ایک آیت کا حوالہ کافی ہے: وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۞
(سورۃ العنکبوت: آیت 69)
(ترجمہ مقبول: صفحہ، 484)
ترجمہ: اور جو ہمارے دین کے بارے میں کوشش کریں گے ہم ضرور بالضرور ان کو اپنا راستہ دکھائیں گے اور اللہ ضرور نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
مولوی مقبول صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص اپنے علم کے بموجبِ عمل کرے گا خدائے تعالیٰ اس کو اس علم کا بھی وارث کر دے گا جس کو وہ نہ جانتا ہو۔ (ایضاً)
آیت و حدیث کا مفہوم اس جد و جہد اور کوشش کو یقیناً شامل ہے جو نئے مسائل کے دینی احکام معلوم کرنے کے لیے قرآن و سنت کے معلوم ذخیرہ میں کی جائے اور اللہ تعالیٰ مجتہدین کو ان کا علم اور حل عطاء فرما دیتے ہیں جو پہلے سے معلوم نہیں ہوتا
حد یہ ہے کہ شیعہ حضرات اجتہاد کا یہ دروازہ مثلِ پیغمبر شارع و معصوم اور صاحبانِ وحی و کتاب 12 ائمہ کا زندہ وجود ماننے کے باوجود بھی بند نہ کر سکے اور وہ ہر زمانے میں مجتہد جامع الشرائط کی ضرورت اور وجوب تقلید کے قائل ہیں اور ایسے مجتہدین ان کے یہاں سینکڑوں ہوتے ہیں ہر ایک کا فیصلہ و اجتہاد دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ایک مجتہد کی وفات پر اس کے سارے مسائل باطل ہو جاتے ہیں اور نئے مجتہد و شریعت دار کو خود شیعہ ہی منتخب کر کے امام العصر کی سیٹ پر غاصبانہ بٹھا دیتے ہیں ان کے قرآن و سنت کے مخالف مسائل کا تذکرہ طوالت کا موجب ہوگا۔
اہلِ سنت کے ائمہ مجتہدین اور ان کے اجتہاد کی پوزیشن واضح ہو۔
علامہ ابو الحسن شعرانی شافعی میزان الکبریٰ جلد 1 صفحہ 55 پر رقمطراز ہیں۔
فقد بان لک یا اخی مما نقلناہ عن الآئمۃ الاربعین وغیرھم ان جمیع المجتھدین وائرون مع ادلہ الشریعۃ حیث وارت وانھم کلھم منزھون عن القول بالرائی فی دین الله وان مذاھبھم کلھا محررۃ علی الکتاب و السنۃ کتحریر الذھب والجواھر ومابقی لک مذاھبھم فانھا طرق الجنۃ کما سبق بیانه۔
ترجمہ: ائمہ اربعہ وغیرہم سے جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے اس سے اے بھائی تجھ پر واضح ہو چکا ہوگا کہ تمام مجتہدین ادلہ شرعیہ کے ساتھ گھومتے ہیں جہاں وہ گھومیں اور بلاشبہ وہ سب اللہ کے دین میں اپنی رائے کی بات کرنے سے منزہ اور پاک ہیں ان کے مذاہب اربعہ کتاب اور سنتِ نبوی پر ایسے چھپی ہوئی ہیں جیسے سونے اور جواہرات پر نقش و نگار اب تیرے لیے کوئی عذر باقی نہیں ہے تو ان مذاہب میں سے جس کی چاہے تقلید کر لے کیونکہ یہ سب حسبِ بیان سابقہ جنت میں پہنچانے والے راستے ہیں۔
اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ بھی حجت البالغہ: صفحہ، 348 پر لکھتے ہیں:
خلاصہ: یہ کہ جب ان قواعدِ شرعیہ پر فقہاء نے فقہ کی بنیاد رکھی تو کوئی اختلافی مسئلہ زمانہ سابق کا یا ان کے اپنے زمانے کا ایسا نہ رہا جس پر دلیل نہ مل سکے ہر مسئلے پر انہیں حدیث مرفوع متصل یا مرسل یا موقوف صحیح یا حسن اور اعتبار و استدلال کے قابل مل گئی یا شیخین رضی اللہ عنہما باقی خلفاء اور بڑے بڑے شہروں کے قاضیوں اور علماء کے فیصلے ان کو مل گئے یا قرآن و سنت کے عموم میں سے بطورِ اقتصاء النص یا اشارة النص ان کو استدلال کی سمجھ آئی تو اس طرز پر اللہ تعالیٰ نے ان کو سنتِ نبوی پر عمل کرنا آسان کر دیا۔
مجتہد کے لئے ادلہ شرعیہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہﷺ اجماعِ امت قیاس صحیح کے علاوہ علومِ عربیہ میں مہارت اور تقویٰ و بصیرت کے زیور سے بھی آراستہ ہونا ضروری ہے.
اجماعِ امت اور قیاسِ صحیح مستقل ادلہ نہیں ہیں بلکہ قرآن و سنت کی فرع ہیں کتاب و سنت کے مربی برعکس نہ اجتماع منعقد ہوا اور نہ قیاس کی گنجائش ہے شیعہ حضرات بھی اپنے علماء کے اجماع کے اور مجتہد کے لیے ضرورتِ قیاس و عقل کے قائل ہیں گو تعبیر میں اختلاف سہی ایک شیعہ مؤلف لکھتا ہے:
شیعہ کے نزدیک فقہ کے چار ماخذ ہیں قرآنِ مجید سنتِ رسولﷺ اور ائمہ طاہرین اجماعِ علماء بشرطیکہ خلافِ قرآن و سنت نہ ہو اور عقلِ سلیم جب کہ غیر شعیہ فقہوں میں قیاس کو ماخذ مانا گیا ہے۔
(شیعہ مذہب سچا ہے: صفحہ، 113)
گو مجتہد بہت ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کو ان چاروں کی بزرگی اور امامت پر متفق کر دیا اور ایسی مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی کہ فرقہ شیعہ اور چند اہلِ ظاہر کے سوا سب کروڑوں مسلمانوں نے ان کی تقلید کی اور قرآن و سنت پر ان کے واسطے سے عمل کیا یہی ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔
کتبِ اہلِ سنت میں یہ حدیث قطعی الثبوت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:
ان الله لا يجمع امتى على ضلالة و ید اللہ علی الجماعة ومن شز شز فی النار۔ (ترمذی )
ترجمہ: بلا شبہ اللہ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا دستِ نصرت جماعت پر ہوتا ہے اور جو جماعت سے الگ ہو وہ جہنم میں پھینکا جائےگا۔
کتبِ شیعہ سے اس حدیث کا ثبوت دیا جا چکا ہے حضرت علیؓ کا ارشاد ہے: وما کان اللہ لیجمعھم علی الضلال۔
ترجمہ: اور اللہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد آنے والی امت کو گمراہی پر جمع کرانے والے نہیں۔
ائمہ اربعہؒ پر امت کا اتفاق اور قبولیتِ عامہ پر عطیہ خداوندی ہے:
ایں ںسعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ۔
یہ حکومتِ وقت کی پیداوار نہیں اور نہ ہی ان ائمہ نے اپنے شاگردوں اور پیروکاروں کو رشوت دی تھی اور اگر ایسا ہوا ہوتا تو حکومتوں کے اختتام کے ساتھ یہ مذاہب بھی ختم ہو جاتے اور حکومتیں ان پر جور و جفا نہ کرتیں امام ابو حنیفہؒ المتوفی 150 ہجری نے منصور عباسی کے جیل خانہ بغداد میں وفات پائی امام احمد بن حنبلؒ خلقِ قرآن کے مسئلہ کے سلسلے میں 3 سال جیل میں رہے اور ہر روز کوڑے کھاتے تھے یہ الگ بات ہے کہ ان ائمہ کی مقبولیتِ عامہ کے پیشِ نظر حکومتیں ملکی قوانین کی بنیاد ان کی فقہ پر رکھتیں جس کی وجہ سے مسلمان اندرونی طور پر مستحکم تھے اور بیرونی طور پر جہاد اور فتوحات کے دروازے کھلے ہوتے تھے تاہم للہیت کے پیشِ نظر یہ ائمہ اپنی فقہ و مسلک کو جبراً تمام مسلمانوں پر نافذ کرنے کے حق میں نہ تھے مثلاً موطا امام مالک کو ہارون رشید نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا تو خواہش ظاہر کی کہ اسے تمام مملکت میں بطورِ قانون نافذ کر دیا جائے مگر امام مالکؒ نے فرمایا ہر شہر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آئے ہیں اور فقہ و حدیث کا خزانہ ان لوگوں کو ملا ہے ہو سکتا ہے کہ ہمارا مجموعہ جو اہلِ مدینہ کی ہدایت و عمل سے ہے ان سے کچھ مختلف ہو تو اس کے جبراً نفاذ سے ان کو حرج واقع ہو۔
یہ شیعہ کے امام نہ تھے کہ اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو بے ایمان اور خارجِ اسلام قرار دیں جیسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے جو آپ کو پہچانے وہی مؤمن ہے اور جو آپ کو نہ مانے وہ کافر ہے اور جو کسی اور کو آپ کی بیعت میں شریک کرے وہ مشرک ہے۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 546)
اور عالمانہ بھیس میں حکومت اور امارت کے لیے بے چین ہوں جیسے سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:
لو کان لی شیعة بعدد ھذہ الجداء ما وسعنی القعود ونزلنا وصلینا ولما فرغنا من الصلوة عطفت علی الجداء فعدتھا فإذا ھی سبعة عشر۔
(أصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 243 باب قلة المؤمن)
ترجمہ: اگر میرے ان بکریوں کے برابر شیعہ ہوتے تو مجھے طلب حکومت و خلافت سے بیٹھ رہنا جائز نہ ہوتا راوی کہتے ہیں جب ہم نے اتر کر نماز پڑھی اور بکریاں گنی تو صرف سترہ تھی۔
حضرات اہلِ بیتؓ کو اپنے مقام سے اٹھا کر شیعہ نے جس بلند مقامِ رسالت و الوہیت پر بٹھایا ہے اس کا مفصل نقشہ ہم سوال 21 میں اس کے جواب میں دکھائیں گے یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ شیعہ حضرات اگر سیدنا جعفرؒ اور سیدنا محمد باقرؒ پر من گھڑت روایات تھوپنے کے بجائے ان کے نفقہ اور استدلالات کو روایت کرتے اور اصول و فروع میں ان کو اہلِ اسلام سے الگ نہ دکھاتے تو یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا اور حلقہ تعلیم بھی وسیع ہوتا جہان تک اہلِ سنت کا ان سے حسنِ تعلق تھا انہوں نے ان سے احادیث اور فقہ بھی روایت کی اور معتمد بزرگ عالم بھی تسلیم کیا ان کا حلقہ احباب بھی وسیع ہوا۔
تاہم جو قبولیت ائمہ اربعہؒ کو اللہ نے عطاء کی وہ ان سے زیادہ تھی امام ابوحنیفہؒ جب کبھی مدینہ آتے تو سیدنا جعفر صادقؒ احتراماً کھڑے ہو کر استقبال کرتے اصولِ کافی میں بھی ان کے آنے اور ملاقات کرنے کا ذکر ہے ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نے اہل الرائے کا پروپیگنڈہ کر کے امام اعظمؒ سے سیدنا صادقؒ کو بدظن کرنا چاہا آپ نے جب مختلف سوالات کیے تو امام ابوحنیفہؒ کو اس تہمت سے بری پایا نیز سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہؒ اپنے شہر کے سب سے بڑے فقیہ ہیں امام ابنِ معینؒ کہتے ہیں میرے نزدیک معتبر فقہ امام ابو حنیفہؒ کی ہے اسی پہ لوگوں کو عمل کرتے پایا ایک امام کا قول ہے ائمہ مشہورین میں سے جس قدر امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد و اصحاب ہوئے اور کسی کے نہیں ہوئے اور علماء اور تمام لوگوں نے جس قدر نفع امام ابوحنیفہؒ سے پایا اورکسی سے نہیں پایا علامہ عینیؒ بنایہ میں فرماتے ہیں امام ابو حنیفہؒ کی تعریف بڑے ائمہ نے کی ہے جیسے ابنِ مبارکؒ سفیان بن عیینہؒ اعمشؒ سفیان ثوریؒ، عبد الرزاقؒ حماد بن زیدؒ وکیعؒ امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ وغیرہم۔ ( تاریخ ابنِ خلدون)
چاروں مصلوں کو خانہ کعبہ میں قائم کرنا شرعاً جائز تھا حرمت پر کوئی دلیل نہیں ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت ہو سکتی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چاروں ائمہؒ کے پیروکار کثرت سے ہیں اور ایک دوسرے کے وجود کو روا داری اور خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد سعودی حکومت نے بعض مصالح کے پیشِ نظر متعدد جماعتوں کا سلسہ ختم کر دیا ہے توکوئی اس پر طعن و تشنیع نہیں کرتا کیونکہ جائز کام کو جائز مصالح کے پیشِ نظر بدلا ہے واجب سے ناجائز کی طرف نہیں بدلا اور اب بھی مختلف مسالک کے امام ہیں راقم الحروف کو امسال (ذوالحجہ 1395 ہجری) خود شرفِ حج حاصل ہوا۔
نماز پنجگان کے چار امام تھے اگر ایک وقت شافعی المسلک امام نماز پڑھاتا ہے تو دوسرے وقت حنبلی المسلک جماعت کراتا ہے ایک ہی امام کے پیچھے چاروں مسالک کے لوگ بلا نکیر و نزاع نماز ادا کرتے ہیں گروپ بندی یا تنصب و اختلاف کی کوئی بات ہی نہیں۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا تو تبادلہ خیال سے معلوم ہوا کہ چاروں ائمہ کی فقہ کی تدریس ہوتی ہے اور مدرسین بھی چاروں مسالک سے تعلق رکھتے ہیں جو استاذ جس مذہب پر چاہے پڑھاتا ہے اور اپنے مسلک کی خوب تائید کرتا ہے کوئی ممانعت یا جانبداری نہیں اللہ پاک نے سعودی حکومت کے ہاتھوں مصلے اٹھوا کر اتفاقِ اہلِ سنت کی ایک تازہ مثال قائم کر دی ہے کہ 1200، 1300 سال بعد بھی مسلمان ایک ہی کلمہ ایک ہی قرآن اور ایک ہی پیغمبرﷺ اور ایک مرکزِ ملت خانہ کعبہ کے قائل ہیں اور در حقیقت شیعہ اور قادیانی اسلام دشمنوں کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے جو بدگمانی سے مسلمانوں کے چار مسالک کو ایک دوسرے کی ضد جانتے یا ان میں اختلافات کو اور نمایاں کر کے اتحادِ ملی کو دفن کرنا چاہتے ہیں پاکستان کےچند غالی جہلاء سے قطع نظر کسی بھی ملک کے سنی المسلک کو خواہ حنفی ہو یا شافعی مالکی حنبلی نماز پڑھتے یا جماعت کراتے نہیں دیکھا میں نے ترکی، مراکش، طرابلس، مصر، شام، افریقہ ہر ملک و مسلک کے مسلمانوں سے ملاقات کی سب کے دل میں بہت ہی الفت و محبت کے جذبات دیکھے ہاں ایرانیوں کو شاید اس کی وجہ سے مذہبی تعصب ہوگا متکبر و متنفر پایا خاکم بدہن انہی لوگوں کو میں نے نماز کے وقت حرم شریف سے بھاگتے دیکھا الگ جماعتیں ان کی مسجدِ نبوی اور خانہ کعبہ مسجد حرام سے باہر اپنے ڈیروں پر دیکھیں۔
شیعہ پانچ وحدتوں کے دشمن ہیں:
یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان ایک پیغمبرﷺ ایک کتاب ایک کلمہ اور ایک کعبہ اور ایک امت پر اتحاد کو باعثِ فخر جانتے ہیں شیعہ ان پانچ وحدتوں کے ازلی دشمن ہیں۔
وہ پیغمبر کے بجائے سیدنا علیؓ کو اپنے لیے مخصوص من اللہ، ہادی اور مفترض الاطاعة جانتے ہیں جیسے سیدنا جعفر صادقؒ کا یہ ارشاد ہم نقل کر چکے ہیں میں تو وہ شریعت لیتا ہوں جو سیدنا علیؓ لائے ہیں اور جس سے وہ روکیں رکتا ہوں۔
جدی له من الفضل ما جری لمحمدﷺ۔
ترجمہ: آپؓ کا وہی منصب و مرتبہ ہے جو محمدﷺ کا ہے در حقیقت وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ سے بھی افضل مانتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں امامت نبوت سے افضل ہے اور سیدنا علیؓ سب انبیاء علیہم السلام سے شیعہ کے ہاں افضل ہیں تو وہ حضورﷺ سے کم رتبہ یا مساوی کیسے ہو سکتے ہیں؟
یہی وجہ ہے کہ جس چیز کی نسبت صرف حضرت علیؓ کی طرف ہو اس کا احترام شیعہ زیادہ کریں گے بہ نسبت اس چیز کے جو صرف حضورﷺ کی طرف منسوب ہو مثلاً:
1: امتِ محمدیہ کہلانے کے بجائے وہ شیعہ علیؓ کہلاتے اور اس پر فخر کرتے ہیں حتی الامکان امتِ محمدیہ کی مذمت کرتے اور شیعہ علیؓ کی مدح کرتے ہیں کافی میں سیدنا جعفر صادقؒ کا فرمان موجود ہے:
فما هذه الامة الملعونة هذه الامة اشباه الخنازير۔
ترجمہ: امت خنزیروں جیسی ہے یہ کیسی ملعون امت ہے۔
(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 337)
نیز آپ کا یہ بھی ارشاد ہے ہمارے شیعہ کے سوا سب لوگ کنجریوں کی اولاد ہیں۔
(روضہ کافی: صفحہ، 285)
2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے والد جنابِ ابو طالب کو تو بلا دلیل اور خلِاف قرآن مؤمن اور محترم مانتے ہیں مگر حضورﷺ کے محترم چچا سیدنا عباسؓ کو ذلیل النفس اور ضعیف الایمان کہتے ہیں۔
(روضہ کافی: صفحہ، 189حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 618)
3: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مسکن کوفہ کو حرم شریف قبتہ الاسلام وغیرہ کہتے ہیں حالانکہ اسی شہر کے منافقوں نے حبِ اہلِ بیت کی آڑ میں اہلِ بیتِ رسول پہ قیامت توڑی اور عزت و خون خاک میں ملایا مگر مسکنِ نبوی و مسکنِ خلفاء ثلاثہؓ مدینہ طیبہ کے متعلق ان کی احادیث یہ ہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اہلِ شام حضرت امیرِ معاویہؓ وغیرہ مسلمان، رومیوں عیسائیوں سے بدتر ہیں اور اہلِ مدینہ مکہ والوں سے بدتر ہیں اور اہلِ مکہ خدا کے کھلے منکر ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ اہلِ مکہ کھلے کافر ہیں اور مدینہ والے ان سے ستر گنا بڑے پلید ہیں۔
(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 41)
غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ نور اللہ شوستری نے لکھا ہے:
واما مکہ ومدینہ محبت ابوبکرؓ و عمرؓ برایشان غالبست۔
(مجالس المؤمنين: صفحہ، 55)
ترجمہ: مکہ و مدینہ کہ باشندوں میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی محبت بہت ہے۔
4: سیدنا علیؓ کی ازواج کو محترم ماں کی طرح جانتے ہیں مگر آیاتِ تطہیر کی مالکہ ازواجِ مطہراتؓ نبوی کو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے خارج اور خصوصاََ سیدہ عائشہؓ و سیدہ حفضہؓ و سیدہ ام حبیبہؓ کو جو مغلظات لکھتے ہیں قلم میں لکھنے کی تاب نہیں۔
5: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں کا احترام کریں گے مگر حضرت فاطمہؓ کے سوا باقی تین صاحبزادیوں حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ و حضرت امِ کلثومؓ کے تذکرہ سے چیں بچیں ہوں گے یا ان کا باپ العیاذ باللہ اور تجویز کریں گے۔
6: ایسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دامادوں کا احترام کریں گے مگر حضورﷺ کے دامادوں کو ایماندار بھی تسلیم نہ کریں گے۔
7: حضرت علیؓ کو سب مؤمنوں کا پیر مانتے ہیں مگر حضورﷺ کے فیض سے پانچ افراد بھی مؤمن نہیں مانتے ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوالعیاذ باللہ ایمان سے خارج او منافق کافر جانتے ہیں۔
8: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و ائمہ اہلِ بیتؓ کے سب اصحاب محترم ہیں خواہ کیسے بھی ہوں مگر حضورﷺ کے ہر صحابی پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔
9: حضرت علیؓ کے جانشینوں کو تو واجب الاتباع جانتے ہیں مگر حضورﷺ کے خلفاء کو العیاذ باللہ سامری اور بتوں سے تعبیر کرتے ہیں۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 561)
10: حضرت علیؓ و ائمہ کی براہِ راست تعلیم کو تو کامیاب مؤثر اور شائع مانتے ہیں مگر حضورﷺ کی تعلیم براہِ راست کو 5 آدمیوں میں بھی مؤثر نہیں مانتے۔
11: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خطبات کے نام سے شریف رضی کی مرتبہ نہج البلاغہ کو اور ابو جعفر کلینی کی مرتبہ اصولِ کافی کو سب سے مستند، واجب العمل اور تحریف سے پاک مانتے ہیں مگر حضورﷺ پر نازل شدہ کتاب اللہ کو محرف، ناقابلِ اعتبار اور بلا ضمیمہ قول امام ناقابلِ عمل مانتے ہیں۔
(اصول کافی: صفحہ، 411 کشف الغمہ، جلد، 1 صفحہ، 386)
چہ جائیکہ ارشاداتِ نبویﷺ پر مشتمل کوئی کتاب تیار کی ہو یا اسے حجتِ قطعیہ جانتے ہوں۔
12: عزا داری اہلِ بیت رضی اللہ عنہم پر مشتمل جملہ بدعات و خرافات کو تو سب سے زیادہ مہتم بالشان سمجھ کر سب شیعہ انتہائی اجتماعات اور جلوس کی شکل میں ادا کرتے ہیں مگر قرآن و سنت کی حقیقی تعلیم نماز روزہ وغیرہ کو 5 فیصد بھی ادا نہیں کرتے رہی کتاب اللہ کی وحدت تو شیعہ سرے سے موجودہ قرآن کی صحت کے قائل ہی نہیں نہ اس پہ تعامل کے مفصل بحث گزر چکی ہے یہاں صرف ایک حوالہ کافی ہے سیدنا باقرؒ اپنے شاگر دزرارہ و ابو بصیر کے اختلاف کے متعلق کہتے ہیں۔
بلاشبہ لوگ حضور اکرمﷺ کے بعد پہلے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلے تو اللہ کی کتاب کو مسخ و تبدیل کر ڈالا اور اس سے کچھ احکام مٹا ڈالے اور اللہ کے دین میں کچھ اضافہ کیا اور کچھ کمی کی آج سب لوگ سنی شیعہ جس مسئلہ پر بھی ہیں وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے خلاف ہے پس اے زرارہ تجھ پر اللہ کی رحمت ہو جو تجھے کہا جائے مانتے جاؤ تا آنکہ وہ شخصیت مہدی آ جائے تو نہیں از سرِ نو اللہ کے دین کی تعلیم دیں گے۔
(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 345)
معلوم ہوا کہ سیدنا باقرؒ کے پاس بھی اصلی خدائی تعلیم نہ تھی نہ قرآن کو صحیح کر سکے اور امام مہدی کے سپرد کر دیا۔
تیسری وحدت: کلمہ طیبہ کو بھی ختم کر دیا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ماننے والے کو شیعہ ہر گز مؤمن اور کامل مسلمان تسلیم نہیں کرتے جب تک وہ ان کے علی ولی اللہ وصی رسول اللہ خلیفہ بلا فصل کے خود ساختہ پیوند پر ایمان نہ لائے چنانچہ اب سکولوں کے نئے نصاب دینیات میں مسلمانوں کا کلمہ نہیں آنے دیا اور اپنا خود ساختہ کلمہ راہنمائے اساتذہ: صفحہ، 35 پر درج کرا دیا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞ کلمہ کی بحث آخر میں آئے گی۔
چوتھی وحدت: کعبتہ اللہ کا حشر تو سامنے ہے کہ شیعہ وہاں نماز بھی باجماعت نہیں پڑھتے حالانکہ وہاں یہاں کی بہ نسبت ایک لاکھ گنا ثواب زیادہ ملتا ہے ایک شیعہ شاعر حاجی پر طعن کر کے کہتا ہے:
بدن پہ حبامہ احرام دل میں بغض علیؓ:
تیرے نصیب کا چکر ہے طواف نہیں
نور اللہ شوستری نے مقلد بن مسیب شیعہ کے حالات میں لکھا ہے کہ اس نے ایک حاجی کو وصیت کی تھی میری طرف سے حضورﷺ کو سلام پہنچا کر کہنا کہ اگر حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ آپ کے ساتھ دفن نہ ہوتے تو یقیناً میں سر آنکھوں پر آپ کی زیارت کے لیے آتا ہمسایہ بدمبادکس را۔
(مجالس المؤمنین: جلد، 2 صفحہ، 343)
یہی وجہ ہے کہ ایران کے ہوں یا ہند و پاک کے شیعہ حجِ بیت اللہ و زیارت مدینہ کی بہ نسبت کربلا، بغداد اور نجف کی زیارات کے لیے زیادہ تر جاتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں کیوں نہ ہو جب کہ ان مقامات کا حج حجِ بیت اللہ سے بھی افضل ہے مثلاً زیارت قبرِ حسین سے متعلق سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں۔
ایما مومن اتى قبر الحسین علیه السلام عارفا بحقه فی غير يوم عيد كتب الله له عشرين حجة وعشرين عمرة مبرورات مقبولات وعشرین حجة مع نبی او مرسل او امام عادل۔
(فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 580)
ترجمہ: جو مؤمن سیدنا حسینؓ کی قبر پر یومِ عید کے علاوہ آپ کا حق پہچانتے ہوئے آئے اللہ اس کے لیے 20 حج اور 20 عمروں کا ثواب لکھے گا جو پاک اور منظور شدہ ہوں گے اور ان 20 حجوں کا ثواب لکھے گا جو نبی مرسل یا امام عادل کے ساتھ کیے ہوں۔
پانچویں وحدت: امت کو تو ان کا توڑنا واضح ہے کہ اصول و فروع میں پوری ملت سے الگ ہیں اور مسلمانوں کو غیر مؤمن اور منافق جانتے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ ان کی ہمدردیاں مسلمانوں کی بہ نسبت ہمیشہ کفار سے رہی ہیں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی ان کے فاضل طوسی اور ابن العلقمی کے کارنامے ہیں نادر شاہ رافضی کے ہاتھوں دہلی کی تباہی پر آج بھی فخر کرتے ہیں عالمِ اسلام میں انتشار اور سنی مسلمانوں کا قتلِ عام ان کا دل پسند مشغلہ ہے حالیہ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سب عالمِ اسلام نے بالاتفاق تیل کی سپلائی مغربی ممالک کو بند کر دی تھی تو صرف ایران کی شیعی ریاست نے روایتی غداری کر کے تیل کی سپلائی جاری رکھی اور سیاست میں عیسائی فروغ کی بناء پر انڈونیشیا سے بھی یہی حماقت ہوئی تھی۔ اللهم قنا من شرہم
79ء میں اسلامی انقلاب کے عنوان سے آیت اللہ خمینی ایران میں برسرِ اقتدار آئے تو تمام مسلم ممالک میں انتشار پھیلانے کے لیے یہ بیان جاری کیے کہ ہم ہر ملک میں بادشاہت کے خلاف ہیں ہمارے پیروکاروں شیعہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے بادشاہوں کی حکومتیں ختم کریں چنانچہ عراقی شیعوں نے جب اپنے صدر صدام حسین کے خلاف تحریک چلائی تو وہ بالآخر عراق ایران جنگ پر ختم ہوئی جو اب ایک برس تک بند نہیں ہوئی ایران 1/3 حصہ علاقائی اور جانی بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بھی صلح نہیں کرتا خود اندرونِ ملک وہ سنی کر دوں کو 10 ہزار سے زائد ایک دو سال کے عرصہ میں شہید کر چکے ہیں جیسے نوائے وقت لاہور 17 فروری 81ء کے صفحہ، 1 کالم 8 میں یہ خبر چھپی ہے: دو برسوں کے دوران دس ہزار سے زیادہ کردوں کو بلاک کیا جا چکا ہے تہران 16 فروری م ن، تہران کے ممتاز اخبار میزان کے مطابق کردستان کے ایک لیڈر عبد الرحمٰن نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران علماء کے حکم پر دس ہزار سے زائد کردوں کو بلاک کیا جا چکا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے کردوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور انہوں نے سیاسی حقوق حاصل کرنے کے لیے ہتھیار سنبھال لیے ہیں۔
امید ہے اب شیعہ دوست کو تسلی ہو گئی ہوگی کہ مذاہبِ اہلِ سنت حکومت کی پیداوار ہیں یا خود شیعہ کا وجود ہی اس لقب کا حق دار یا کفر و جاہلیت کی یاد گار ہے کیا سنی شیعہ خارجی فرقہ بندی کے پیشِ نظر اسلام کو بھی جھوٹا اور حکومت کی پیداوار بتایا جائے گا یا شیعوں کے اصولی فرقوں اور آپس کے تضادات کی وجہ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حضرت علیؓ کی شخصیت اور تعلیم خیالی اور افسانوی چیز ہے اور عجمی حکومتوں کی پیداوار ہے اگر شیعہ کے نشیب و فراز اور عروج و زوال کی وجہ سے ایسا کرنا صحیح نہیں تو صرف 4 مصلے بچھانے یا اٹھانے سے وہ حکومت کی پیداوار کیسے ہو گئے؟