مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی…

مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ ہیں کیا ان کی امامت نص سے ثابت ہے یا حکومتِ وقت کی پیداوار تھی اور چار مصلے جو خانہ کعبہ میں بنائے گئے تھے ان کا شرعی جواز کیا تھا اور اب ان کو اٹھا بھی دیا ہے تو حکومت کا اپنی مرضی سے ان چار مصلوں کو کعبہ میں قائم کرنا اور عرصہ کے بعد اٹھانا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان بزرگوں کی امامت حکومتِ وقت کی مرہونِ منت ہے۔ فاعتبردایا ولی الابصار۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 4

جواب: اس بھونڈے سوال میں تو مشتہر کا مسلمانوں سے شدید عناد تقیہ سے باہر نکل آیا اور جہالت سے ائمہ اربعہ کا تقابل اپنے خود ساختہ 12 ائمہ سے چاہنے لگا اس پر واضح ہونا چاہیئے کہ اہلِ سنت کے فقہاء مجتہدین وائمہ اربعہ کی امامت نہ نبوت سے افضل ہے نہ نبوت کی مثل ہے نہ منصوص ہے اور نہ اہلِ سنت شیعہ کی طرح جناب پیغمبر خاتم الانبیاءﷺ کی ذات اور منصبب و اوصاف میں اس شرکِ عظیم اور کفرِ صریح کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ یہ تو قرآنِ حکیم اور سنتِ نبوی میں نئے درپیش مسائل کے لیے غور و فکر اور صواب و اصواب کی تلاش میں اجتہاد کا نتیجہ ہے اور کئی غیر منصوص نئے مسائل میں یہ اختلاف آراء ایک ایک مذہب کی حیثیت اختیار کر گئے جیسے خود سیدنا باقر صادقؒ و سیدنا جعفر صادقؒ میں یا سیدنا زیدؒ اور دیگر اہلِ بیتؓ میں فقہی اختلاف ہیں جن میں ایک دوسرے کی نہ قطعی تقلید کہ جا سکتی ہے نہ کسی معین مسلک کو ماننا ہی باعث نجات ہےاور یہی اختلافِ امت کے لیے رحمت ہے جہاں تک حادثات نو کے حل کے لیے اجتہاد و قیاس کی ضرورت و اہمیت کا تعلق ہے ہم اس سے قبل سوال 13کے تحت بیان کر چکے ہیں یہاں صرف ایک آیت کا حوالہ کافی ہے: وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۞

(سورۃ العنکبوت: آیت 69)

 (ترجمہ مقبول: صفحہ، 484)

ترجمہ: اور جو ہمارے دین کے بارے میں کوشش کریں گے ہم ضرور بالضرور ان کو اپنا راستہ دکھائیں گے اور اللہ ضرور نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

مولوی مقبول صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص اپنے علم کے بموجبِ عمل کرے گا خدائے تعالیٰ اس کو اس علم کا بھی وارث کر دے گا جس کو وہ نہ جانتا ہو۔ (ایضاً) 

آیت و حدیث کا مفہوم اس جد و جہد اور کوشش کو یقیناً شامل ہے جو نئے مسائل کے دینی احکام معلوم کرنے کے لیے قرآن و سنت کے معلوم ذخیرہ میں کی جائے اور اللہ تعالیٰ مجتہدین کو ان کا علم اور حل عطاء فرما دیتے ہیں جو پہلے سے معلوم نہیں ہوتا

حد یہ ہے کہ شیعہ حضرات اجتہاد کا یہ دروازہ مثلِ پیغمبر شارع و معصوم اور صاحبانِ وحی و کتاب 12 ائمہ کا زندہ وجود ماننے کے باوجود بھی بند نہ کر سکے اور وہ ہر زمانے میں مجتہد جامع الشرائط کی ضرورت اور وجوب تقلید کے قائل ہیں اور ایسے مجتہدین ان کے یہاں سینکڑوں ہوتے ہیں ہر ایک کا فیصلہ و اجتہاد دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ایک مجتہد کی وفات پر اس کے سارے مسائل باطل ہو جاتے ہیں اور نئے مجتہد و شریعت دار کو خود شیعہ ہی منتخب کر کے امام العصر کی سیٹ پر غاصبانہ بٹھا دیتے ہیں ان کے قرآن و سنت کے مخالف مسائل کا تذکرہ طوالت کا موجب ہوگا۔

اہلِ سنت کے ائمہ مجتہدین اور ان کے اجتہاد کی پوزیشن واضح ہو۔

علامہ ابو الحسن شعرانی شافعی میزان الکبریٰ جلد 1 صفحہ 55 پر رقمطراز ہیں۔

فقد بان لک یا اخی مما نقلناہ عن الآئمۃ الاربعین وغیرھم ان جمیع المجتھدین وائرون مع ادلہ الشریعۃ حیث وارت وانھم کلھم منزھون عن القول بالرائی فی دین الله وان مذاھبھم کلھا محررۃ علی الکتاب و السنۃ کتحریر الذھب والجواھر ومابقی لک مذاھبھم فانھا طرق الجنۃ کما سبق بیانه۔

ترجمہ: ائمہ اربعہ وغیرہم سے جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے اس سے اے بھائی تجھ پر واضح ہو چکا ہوگا کہ تمام مجتہدین ادلہ شرعیہ کے ساتھ گھومتے ہیں جہاں وہ گھومیں اور بلاشبہ وہ سب اللہ کے دین میں اپنی رائے کی بات کرنے سے منزہ اور پاک ہیں ان کے مذاہب اربعہ کتاب اور سنتِ نبوی پر ایسے چھپی ہوئی ہیں جیسے سونے اور جواہرات پر نقش و نگار اب تیرے لیے کوئی عذر باقی نہیں ہے تو ان مذاہب میں سے جس کی چاہے تقلید کر لے کیونکہ یہ سب حسبِ بیان سابقہ جنت میں پہنچانے والے راستے ہیں۔

اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ بھی حجت البالغہ: صفحہ، 348 پر لکھتے ہیں:

خلاصہ: یہ کہ جب ان قواعدِ شرعیہ پر فقہاء نے فقہ کی بنیاد رکھی تو کوئی اختلافی مسئلہ زمانہ سابق کا یا ان کے اپنے زمانے کا ایسا نہ رہا جس پر دلیل نہ مل سکے ہر مسئلے پر انہیں حدیث مرفوع متصل یا مرسل یا موقوف صحیح یا حسن اور اعتبار و استدلال کے قابل مل گئی یا شیخین رضی اللہ عنہما باقی خلفاء اور بڑے بڑے شہروں کے قاضیوں اور علماء کے فیصلے ان کو مل گئے یا قرآن و سنت کے عموم میں سے بطورِ اقتصاء النص یا اشارة النص ان کو استدلال کی سمجھ آئی تو اس طرز پر اللہ تعالیٰ نے ان کو سنتِ نبوی پر عمل کرنا آسان کر دیا۔

مجتہد کے لئے ادلہ شرعیہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اللہﷺ اجماعِ امت قیاس صحیح کے علاوہ علومِ عربیہ میں مہارت اور تقویٰ و بصیرت کے زیور سے بھی آراستہ ہونا ضروری ہے.

اجماعِ امت اور قیاسِ صحیح مستقل ادلہ نہیں ہیں بلکہ قرآن و سنت کی فرع ہیں کتاب و سنت کے مربی برعکس نہ اجتماع منعقد ہوا اور نہ قیاس کی گنجائش ہے شیعہ حضرات بھی اپنے علماء کے اجماع کے اور مجتہد کے لیے ضرورتِ قیاس و عقل کے قائل ہیں گو تعبیر میں اختلاف سہی ایک شیعہ مؤلف لکھتا ہے:

شیعہ کے نزدیک فقہ کے چار ماخذ ہیں قرآنِ مجید سنتِ رسولﷺ اور ائمہ طاہرین اجماعِ علماء بشرطیکہ خلافِ قرآن و سنت نہ ہو اور عقلِ سلیم جب کہ غیر شعیہ فقہوں میں قیاس کو ماخذ مانا گیا ہے۔

(شیعہ مذہب سچا ہے: صفحہ، 113) 

گو مجتہد بہت ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ کو ان چاروں کی بزرگی اور امامت پر متفق کر دیا اور ایسی مقبولیتِ عامہ حاصل ہوئی کہ فرقہ شیعہ اور چند اہلِ ظاہر کے سوا سب کروڑوں مسلمانوں نے ان کی تقلید کی اور قرآن و سنت پر ان کے واسطے سے عمل کیا یہی ان کی حقانیت کی دلیل ہے۔ 

کتبِ اہلِ سنت میں یہ حدیث قطعی الثبوت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: 

ان الله لا يجمع امتى على ضلالة و ید اللہ علی الجماعة ومن شز شز فی النار۔ (ترمذی )

ترجمہ: بلا شبہ اللہ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا دستِ نصرت جماعت پر ہوتا ہے اور جو جماعت سے الگ ہو وہ جہنم میں پھینکا جائےگا۔

کتبِ شیعہ سے اس حدیث کا ثبوت دیا جا چکا ہے حضرت علیؓ کا ارشاد ہے: وما کان اللہ لیجمعھم علی الضلال۔

صفحہ 1 از 4