مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی…

مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ ہیں کیا ان کی امامت نص سے ثابت ہے یا حکومتِ وقت کی پیداوار تھی اور چار مصلے جو خانہ کعبہ میں بنائے گئے تھے ان کا شرعی جواز کیا تھا اور اب ان کو اٹھا بھی دیا ہے تو حکومت کا اپنی مرضی سے ان چار مصلوں کو کعبہ میں قائم کرنا اور عرصہ کے بعد اٹھانا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان بزرگوں کی امامت حکومتِ وقت کی مرہونِ منت ہے۔ فاعتبردایا ولی الابصار۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4

ترجمہ: اور اللہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد آنے والی امت کو گمراہی پر جمع کرانے والے نہیں۔

ائمہ اربعہؒ پر امت کا اتفاق اور قبولیتِ عامہ پر عطیہ خداوندی ہے:

ایں ںسعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدائے بخشندہ۔ 

یہ حکومتِ وقت کی پیداوار نہیں اور نہ ہی ان ائمہ نے اپنے شاگردوں اور پیروکاروں کو رشوت دی تھی اور اگر ایسا ہوا ہوتا تو حکومتوں کے اختتام کے ساتھ یہ مذاہب بھی ختم ہو جاتے اور حکومتیں ان پر جور و جفا نہ کرتیں امام ابو حنیفہؒ المتوفی 150 ہجری نے منصور عباسی کے جیل خانہ بغداد میں وفات پائی امام احمد بن حنبلؒ خلقِ قرآن کے مسئلہ کے سلسلے میں 3 سال جیل میں رہے اور ہر روز کوڑے کھاتے تھے یہ الگ بات ہے کہ ان ائمہ کی مقبولیتِ عامہ کے پیشِ نظر حکومتیں ملکی قوانین کی بنیاد ان کی فقہ پر رکھتیں جس کی وجہ سے مسلمان اندرونی طور پر مستحکم تھے اور بیرونی طور پر جہاد اور فتوحات کے دروازے کھلے ہوتے تھے تاہم للہیت کے پیشِ نظر یہ ائمہ اپنی فقہ و مسلک کو جبراً تمام مسلمانوں پر نافذ کرنے کے حق میں نہ تھے مثلاً موطا امام مالک کو ہارون رشید نے تحسین کی نگاہ سے دیکھا تو خواہش ظاہر کی کہ اسے تمام مملکت میں بطورِ قانون نافذ کر دیا جائے مگر امام مالکؒ نے فرمایا ہر شہر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آئے ہیں اور فقہ و حدیث کا خزانہ ان لوگوں کو ملا ہے ہو سکتا ہے کہ ہمارا مجموعہ جو اہلِ مدینہ کی ہدایت و عمل سے ہے ان سے کچھ مختلف ہو تو اس کے جبراً نفاذ سے ان کو حرج واقع ہو۔

 یہ شیعہ کے امام نہ تھے کہ اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو بے ایمان اور خارجِ اسلام قرار دیں جیسے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے جو آپ کو پہچانے وہی مؤمن ہے اور جو آپ کو نہ مانے وہ کافر ہے اور جو کسی اور کو آپ کی بیعت میں شریک کرے وہ مشرک ہے۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 546)

اور عالمانہ بھیس میں حکومت اور امارت کے لیے بے چین ہوں جیسے سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا:

لو کان لی شیعة بعدد ھذہ الجداء ما وسعنی القعود ونزلنا وصلینا ولما فرغنا من الصلوة عطفت علی الجداء فعدتھا فإذا ھی سبعة عشر۔

(أصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 243 باب قلة المؤمن)

ترجمہ: اگر میرے ان بکریوں کے برابر شیعہ ہوتے تو مجھے طلب حکومت و خلافت سے بیٹھ رہنا جائز نہ ہوتا راوی کہتے ہیں جب ہم نے اتر کر نماز پڑھی اور بکریاں گنی تو صرف سترہ تھی۔

حضرات اہلِ بیتؓ کو اپنے مقام سے اٹھا کر شیعہ نے جس بلند مقامِ رسالت و الوہیت پر بٹھایا ہے اس کا مفصل نقشہ ہم سوال 21 میں اس کے جواب میں دکھائیں گے یہاں صرف یہ کہنا ہے کہ شیعہ حضرات اگر سیدنا جعفرؒ اور سیدنا محمد باقرؒ پر من گھڑت روایات تھوپنے کے بجائے ان کے نفقہ اور استدلالات کو روایت کرتے اور اصول و فروع میں ان کو اہلِ اسلام سے الگ نہ دکھاتے تو یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا اور حلقہ تعلیم بھی وسیع ہوتا جہان تک اہلِ سنت کا ان سے حسنِ تعلق تھا انہوں نے ان سے احادیث اور فقہ بھی روایت کی اور معتمد بزرگ عالم بھی تسلیم کیا ان کا حلقہ احباب بھی وسیع ہوا۔ 

تاہم جو قبولیت ائمہ اربعہؒ کو اللہ نے عطاء کی وہ ان سے زیادہ تھی امام ابوحنیفہؒ جب کبھی مدینہ آتے تو سیدنا جعفر صادقؒ احتراماً کھڑے ہو کر استقبال کرتے اصولِ کافی میں بھی ان کے آنے اور ملاقات کرنے کا ذکر ہے ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے نے اہل الرائے کا پروپیگنڈہ کر کے امام اعظمؒ سے سیدنا صادقؒ کو بدظن کرنا چاہا آپ نے جب مختلف سوالات کیے تو امام ابوحنیفہؒ کو اس تہمت سے بری پایا نیز سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہؒ اپنے شہر کے سب سے بڑے فقیہ ہیں امام ابنِ معینؒ کہتے ہیں میرے نزدیک معتبر فقہ امام ابو حنیفہؒ کی ہے اسی پہ لوگوں کو عمل کرتے پایا ایک امام کا قول ہے ائمہ مشہورین میں سے جس قدر امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد و اصحاب ہوئے اور کسی کے نہیں ہوئے اور علماء اور تمام لوگوں نے جس قدر نفع امام ابوحنیفہؒ سے پایا اورکسی سے نہیں پایا علامہ عینیؒ بنایہ میں فرماتے ہیں امام ابو حنیفہؒ کی تعریف بڑے ائمہ نے کی ہے جیسے ابنِ مبارکؒ سفیان بن عیینہؒ اعمشؒ سفیان ثوریؒ، عبد الرزاقؒ حماد بن زیدؒ وکیعؒ امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ وغیرہم۔ ( تاریخ ابنِ خلدون)

چاروں مصلوں کو خانہ کعبہ میں قائم کرنا شرعاً جائز تھا حرمت پر کوئی دلیل نہیں ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت ہو سکتی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ چاروں ائمہؒ کے پیروکار کثرت سے ہیں اور ایک دوسرے کے وجود کو روا داری اور خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد سعودی حکومت نے بعض مصالح کے پیشِ نظر متعدد جماعتوں کا سلسہ ختم کر دیا ہے توکوئی اس پر طعن و تشنیع نہیں کرتا کیونکہ جائز کام کو جائز مصالح کے پیشِ نظر بدلا ہے واجب سے ناجائز کی طرف نہیں بدلا اور اب بھی مختلف مسالک کے امام ہیں راقم الحروف کو امسال (ذوالحجہ 1395 ہجری) خود شرفِ حج حاصل ہوا۔

نماز پنجگان کے چار امام تھے اگر ایک وقت شافعی المسلک امام نماز پڑھاتا ہے تو دوسرے وقت حنبلی المسلک جماعت کراتا ہے ایک ہی امام کے پیچھے چاروں مسالک کے لوگ بلا نکیر و نزاع نماز ادا کرتے ہیں گروپ بندی یا تنصب و اختلاف کی کوئی بات ہی نہیں۔ 

صفحہ 2 از 4