مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی…

مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ ہیں کیا ان کی امامت نص سے ثابت ہے یا حکومتِ وقت کی پیداوار تھی اور چار مصلے جو خانہ کعبہ میں بنائے گئے تھے ان کا شرعی جواز کیا تھا اور اب ان کو اٹھا بھی دیا ہے تو حکومت کا اپنی مرضی سے ان چار مصلوں کو کعبہ میں قائم کرنا اور عرصہ کے بعد اٹھانا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان بزرگوں کی امامت حکومتِ وقت کی مرہونِ منت ہے۔ فاعتبردایا ولی الابصار۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 4

جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا تو تبادلہ خیال سے معلوم ہوا کہ چاروں ائمہ کی فقہ کی تدریس ہوتی ہے اور مدرسین بھی چاروں مسالک سے تعلق رکھتے ہیں جو استاذ جس مذہب پر چاہے پڑھاتا ہے اور اپنے مسلک کی خوب تائید کرتا ہے کوئی ممانعت یا جانبداری نہیں اللہ پاک نے سعودی حکومت کے ہاتھوں مصلے اٹھوا کر اتفاقِ اہلِ سنت کی ایک تازہ مثال قائم کر دی ہے کہ 1200، 1300 سال بعد بھی مسلمان ایک ہی کلمہ ایک ہی قرآن اور ایک ہی پیغمبرﷺ اور ایک مرکزِ ملت خانہ کعبہ کے قائل ہیں اور در حقیقت شیعہ اور قادیانی اسلام دشمنوں کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے جو بدگمانی سے مسلمانوں کے چار مسالک کو ایک دوسرے کی ضد جانتے یا ان میں اختلافات کو اور نمایاں کر کے اتحادِ ملی کو دفن کرنا چاہتے ہیں پاکستان کےچند غالی جہلاء سے قطع نظر کسی بھی ملک کے سنی المسلک کو خواہ حنفی ہو یا شافعی مالکی حنبلی نماز پڑھتے یا جماعت کراتے نہیں دیکھا میں نے ترکی، مراکش، طرابلس، مصر، شام، افریقہ ہر ملک و مسلک کے مسلمانوں سے ملاقات کی سب کے دل میں بہت ہی الفت و محبت کے جذبات دیکھے ہاں ایرانیوں کو شاید اس کی وجہ سے مذہبی تعصب ہوگا متکبر و متنفر پایا خاکم بدہن انہی لوگوں کو میں نے نماز کے وقت حرم شریف سے بھاگتے دیکھا الگ جماعتیں ان کی مسجدِ نبوی اور خانہ کعبہ مسجد حرام سے باہر اپنے ڈیروں پر دیکھیں۔

شیعہ پانچ وحدتوں کے دشمن ہیں:

یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان ایک پیغمبرﷺ ایک کتاب ایک کلمہ اور ایک کعبہ اور ایک امت پر اتحاد کو باعثِ فخر جانتے ہیں شیعہ ان پانچ وحدتوں کے ازلی دشمن ہیں۔

وہ پیغمبر کے بجائے سیدنا علیؓ کو اپنے لیے مخصوص من اللہ، ہادی اور مفترض الاطاعة جانتے ہیں جیسے سیدنا جعفر صادقؒ کا یہ ارشاد ہم نقل کر چکے ہیں میں تو وہ شریعت لیتا ہوں جو سیدنا علیؓ لائے ہیں اور جس سے وہ روکیں رکتا ہوں۔

جدی له من الفضل ما جری لمحمدﷺ۔

ترجمہ: آپؓ کا وہی منصب و مرتبہ ہے جو محمدﷺ کا ہے در حقیقت وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حضورﷺ سے بھی افضل مانتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں امامت نبوت سے افضل ہے اور سیدنا علیؓ سب انبیاء علیہم السلام سے شیعہ کے ہاں افضل ہیں تو وہ حضورﷺ سے کم رتبہ یا مساوی کیسے ہو سکتے ہیں؟

یہی وجہ ہے کہ جس چیز کی نسبت صرف حضرت علیؓ کی طرف ہو اس کا احترام شیعہ زیادہ کریں گے بہ نسبت اس چیز کے جو صرف حضورﷺ کی طرف منسوب ہو مثلاً: 

1: امتِ محمدیہ کہلانے کے بجائے وہ شیعہ علیؓ کہلاتے اور اس پر فخر کرتے ہیں حتی الامکان امتِ محمدیہ کی مذمت کرتے اور شیعہ علیؓ کی مدح کرتے ہیں کافی میں سیدنا جعفر صادقؒ کا فرمان موجود ہے:

 فما هذه الامة الملعونة هذه الامة اشباه الخنازير۔

ترجمہ: امت خنزیروں جیسی ہے یہ کیسی ملعون امت ہے۔ 

(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 337)

نیز آپ کا یہ بھی ارشاد ہے ہمارے شیعہ کے سوا سب لوگ کنجریوں کی اولاد ہیں۔ 

(روضہ کافی: صفحہ، 285)

2: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے والد جنابِ ابو طالب کو تو بلا دلیل اور خلِاف قرآن مؤمن اور محترم مانتے ہیں مگر حضورﷺ کے محترم چچا سیدنا عباسؓ کو ذلیل النفس اور ضعیف الایمان کہتے ہیں۔

(روضہ کافی: صفحہ، 189حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 618)

3: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مسکن کوفہ کو حرم شریف قبتہ الاسلام وغیرہ کہتے ہیں حالانکہ اسی شہر کے منافقوں نے حبِ اہلِ بیت کی آڑ میں اہلِ بیتِ رسول پہ قیامت توڑی اور عزت و خون خاک میں ملایا مگر مسکنِ نبوی و مسکنِ خلفاء ثلاثہؓ مدینہ طیبہ کے متعلق ان کی احادیث یہ ہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اہلِ شام حضرت امیرِ معاویہؓ وغیرہ مسلمان، رومیوں عیسائیوں سے بدتر ہیں اور اہلِ مدینہ مکہ والوں سے بدتر ہیں اور اہلِ مکہ خدا کے کھلے منکر ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ اہلِ مکہ کھلے کافر ہیں اور مدینہ والے ان سے ستر گنا بڑے پلید ہیں۔ 

(اصولِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 41)

غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ نور اللہ شوستری نے لکھا ہے:

واما مکہ ومدینہ محبت ابوبکرؓ و عمرؓ برایشان غالبست۔

(مجالس المؤمنين: صفحہ، 55) 

ترجمہ: مکہ و مدینہ کہ باشندوں میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی محبت بہت ہے۔

4: سیدنا علیؓ کی ازواج کو محترم ماں کی طرح جانتے ہیں مگر آیاتِ تطہیر کی مالکہ ازواجِ مطہراتؓ نبوی کو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے خارج اور خصوصاََ سیدہ عائشہؓ و سیدہ حفضہؓ و سیدہ ام حبیبہؓ کو جو مغلظات لکھتے ہیں قلم میں لکھنے کی تاب نہیں۔

5: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں کا احترام کریں گے مگر حضرت فاطمہؓ کے سوا باقی تین صاحبزادیوں حضرت زینبؓ، حضرت رقیہؓ و حضرت امِ کلثومؓ کے تذکرہ سے چیں بچیں ہوں گے یا ان کا باپ العیاذ باللہ اور تجویز کریں گے۔

6: ایسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دامادوں کا احترام کریں گے مگر حضورﷺ کے دامادوں کو ایماندار بھی تسلیم نہ کریں گے۔

7: حضرت علیؓ کو سب مؤمنوں کا پیر مانتے ہیں مگر حضورﷺ کے فیض سے پانچ افراد بھی مؤمن نہیں مانتے ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوالعیاذ باللہ ایمان سے خارج او منافق کافر جانتے ہیں۔

8: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و ائمہ اہلِ بیتؓ کے سب اصحاب محترم ہیں خواہ کیسے بھی ہوں مگر حضورﷺ کے ہر صحابی پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

9: حضرت علیؓ کے جانشینوں کو تو واجب الاتباع جانتے ہیں مگر حضورﷺ کے خلفاء کو العیاذ باللہ سامری اور بتوں سے تعبیر کرتے ہیں۔

(حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 561)

 10: حضرت علیؓ و ائمہ کی براہِ راست تعلیم کو تو کامیاب مؤثر اور شائع مانتے ہیں مگر حضورﷺ کی تعلیم براہِ راست کو 5 آدمیوں میں بھی مؤثر نہیں مانتے۔ 

11: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خطبات کے نام سے شریف رضی کی مرتبہ نہج البلاغہ کو اور ابو جعفر کلینی کی مرتبہ اصولِ کافی کو سب سے مستند، واجب العمل اور تحریف سے پاک مانتے ہیں مگر حضورﷺ پر نازل شدہ کتاب اللہ کو محرف، ناقابلِ اعتبار اور بلا ضمیمہ قول امام ناقابلِ عمل مانتے ہیں۔

(اصول کافی: صفحہ، 411 کشف الغمہ، جلد، 1 صفحہ، 386)

صفحہ 3 از 4