مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی…

مسلمانوں کے چار امام امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ امام شافعی رحمۃ اللہ امام مالک رحمۃ اللہ اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ ہیں کیا ان کی امامت نص سے ثابت ہے یا حکومتِ وقت کی پیداوار تھی اور چار مصلے جو خانہ کعبہ میں بنائے گئے تھے ان کا شرعی جواز کیا تھا اور اب ان کو اٹھا بھی دیا ہے تو حکومت کا اپنی مرضی سے ان چار مصلوں کو کعبہ میں قائم کرنا اور عرصہ کے بعد اٹھانا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ ان بزرگوں کی امامت حکومتِ وقت کی مرہونِ منت ہے۔ فاعتبردایا ولی الابصار۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 4

چہ جائیکہ ارشاداتِ نبویﷺ پر مشتمل کوئی کتاب تیار کی ہو یا اسے حجتِ قطعیہ جانتے ہوں۔

12: عزا داری اہلِ بیت رضی اللہ عنہم پر مشتمل جملہ بدعات و خرافات کو تو سب سے زیادہ مہتم بالشان سمجھ کر سب شیعہ انتہائی اجتماعات اور جلوس کی شکل میں ادا کرتے ہیں مگر قرآن و سنت کی حقیقی تعلیم نماز روزہ وغیرہ کو 5 فیصد بھی ادا نہیں کرتے رہی کتاب اللہ کی وحدت تو شیعہ سرے سے موجودہ قرآن کی صحت کے قائل ہی نہیں نہ اس پہ تعامل کے مفصل بحث گزر چکی ہے یہاں صرف ایک حوالہ کافی ہے سیدنا باقرؒ اپنے شاگر دزرارہ و ابو بصیر کے اختلاف کے متعلق کہتے ہیں۔

بلاشبہ لوگ حضور اکرمﷺ کے بعد پہلے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلے تو اللہ کی کتاب کو مسخ و تبدیل کر ڈالا اور اس سے کچھ احکام مٹا ڈالے اور اللہ کے دین میں کچھ اضافہ کیا اور کچھ کمی کی آج سب لوگ سنی شیعہ جس مسئلہ پر بھی ہیں وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی وحی کے خلاف ہے پس اے زرارہ تجھ پر اللہ کی رحمت ہو جو تجھے کہا جائے مانتے جاؤ تا آنکہ وہ شخصیت مہدی آ جائے تو نہیں از سرِ نو اللہ کے دین کی تعلیم دیں گے۔

(مجالس المؤمنین: جلد، 1 صفحہ، 345)

معلوم ہوا کہ سیدنا باقرؒ کے پاس بھی اصلی خدائی تعلیم نہ تھی نہ قرآن کو صحیح کر سکے اور امام مہدی کے سپرد کر دیا۔

تیسری وحدت: کلمہ طیبہ کو بھی ختم کر دیا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ماننے والے کو شیعہ ہر گز مؤمن اور کامل مسلمان تسلیم نہیں کرتے جب تک وہ ان کے علی ولی اللہ وصی رسول اللہ خلیفہ بلا فصل کے خود ساختہ پیوند پر ایمان نہ لائے چنانچہ اب سکولوں کے نئے نصاب دینیات میں مسلمانوں کا کلمہ نہیں آنے دیا اور اپنا خود ساختہ کلمہ راہنمائے اساتذہ: صفحہ، 35 پر درج کرا دیا سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞ کلمہ کی بحث آخر میں آئے گی۔

چوتھی وحدت: کعبتہ اللہ کا حشر تو سامنے ہے کہ شیعہ وہاں نماز بھی باجماعت نہیں پڑھتے حالانکہ وہاں یہاں کی بہ نسبت ایک لاکھ گنا ثواب زیادہ ملتا ہے ایک شیعہ شاعر حاجی پر طعن کر کے کہتا ہے:

بدن پہ حبامہ احرام دل میں بغض علیؓ:

تیرے نصیب کا چکر ہے طواف نہیں

نور اللہ شوستری نے مقلد بن مسیب شیعہ کے حالات میں لکھا ہے کہ اس نے ایک حاجی کو وصیت کی تھی میری طرف سے حضورﷺ کو سلام پہنچا کر کہنا کہ اگر حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ آپ کے ساتھ دفن نہ ہوتے تو یقیناً میں سر آنکھوں پر آپ کی زیارت کے لیے آتا ہمسایہ بدمبادکس را۔

(مجالس المؤمنین: جلد، 2 صفحہ، 343)

یہی وجہ ہے کہ ایران کے ہوں یا ہند و پاک کے شیعہ حجِ بیت اللہ و زیارت مدینہ کی بہ نسبت کربلا، بغداد اور نجف کی زیارات کے لیے زیادہ تر جاتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں کیوں نہ ہو جب کہ ان مقامات کا حج حجِ بیت اللہ سے بھی افضل ہے مثلاً زیارت قبرِ حسین سے متعلق سیدنا جعفر صادقؒ فرماتے ہیں۔

ایما مومن اتى قبر الحسین علیه السلام عارفا بحقه فی غير يوم عيد كتب الله له عشرين حجة وعشرين عمرة مبرورات مقبولات وعشرین حجة مع نبی او مرسل او امام عادل۔

(فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 580)

ترجمہ: جو مؤمن سیدنا حسینؓ کی قبر پر یومِ عید کے علاوہ آپ کا حق پہچانتے ہوئے آئے اللہ اس کے لیے 20 حج اور 20 عمروں کا ثواب لکھے گا جو پاک اور منظور شدہ ہوں گے اور ان 20 حجوں کا ثواب لکھے گا جو نبی مرسل یا امام عادل کے ساتھ کیے ہوں۔

پانچویں وحدت: امت کو تو ان کا توڑنا واضح ہے کہ اصول و فروع میں پوری ملت سے الگ ہیں اور مسلمانوں کو غیر مؤمن اور منافق جانتے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ ان کی ہمدردیاں مسلمانوں کی بہ نسبت ہمیشہ کفار سے رہی ہیں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی ان کے فاضل طوسی اور ابن العلقمی کے کارنامے ہیں نادر شاہ رافضی کے ہاتھوں دہلی کی تباہی پر آج بھی فخر کرتے ہیں عالمِ اسلام میں انتشار اور سنی مسلمانوں کا قتلِ عام ان کا دل پسند مشغلہ ہے حالیہ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سب عالمِ اسلام نے بالاتفاق تیل کی سپلائی مغربی ممالک کو بند کر دی تھی تو صرف ایران کی شیعی ریاست نے روایتی غداری کر کے تیل کی سپلائی جاری رکھی اور سیاست میں عیسائی فروغ کی بناء پر انڈونیشیا سے بھی یہی حماقت ہوئی تھی۔ اللهم قنا من شرہم 

79ء میں اسلامی انقلاب کے عنوان سے آیت اللہ خمینی ایران میں برسرِ اقتدار آئے تو تمام مسلم ممالک میں انتشار پھیلانے کے لیے یہ بیان جاری کیے کہ ہم ہر ملک میں بادشاہت کے خلاف ہیں ہمارے پیروکاروں شیعہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے بادشاہوں کی حکومتیں ختم کریں چنانچہ عراقی شیعوں نے جب اپنے صدر صدام حسین کے خلاف تحریک چلائی تو وہ بالآخر عراق ایران جنگ پر ختم ہوئی جو اب ایک برس تک بند نہیں ہوئی ایران 1/3 حصہ علاقائی اور جانی بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بھی صلح نہیں کرتا خود اندرونِ ملک وہ سنی کر دوں کو 10 ہزار سے زائد ایک دو سال کے عرصہ میں شہید کر چکے ہیں جیسے نوائے وقت لاہور 17 فروری 81ء کے صفحہ، 1 کالم 8 میں یہ خبر چھپی ہے: دو برسوں کے دوران دس ہزار سے زیادہ کردوں کو بلاک کیا جا چکا ہے تہران 16 فروری م ن، تہران کے ممتاز اخبار میزان کے مطابق کردستان کے ایک لیڈر عبد الرحمٰن نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران علماء کے حکم پر دس ہزار سے زائد کردوں کو بلاک کیا جا چکا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے کردوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور انہوں نے سیاسی حقوق حاصل کرنے کے لیے ہتھیار سنبھال لیے ہیں۔ 

امید ہے اب شیعہ دوست کو تسلی ہو گئی ہوگی کہ مذاہبِ اہلِ سنت حکومت کی پیداوار ہیں یا خود شیعہ کا وجود ہی اس لقب کا حق دار یا کفر و جاہلیت کی یاد گار ہے کیا سنی شیعہ خارجی فرقہ بندی کے پیشِ نظر اسلام کو بھی جھوٹا اور حکومت کی پیداوار بتایا جائے گا یا شیعوں کے اصولی فرقوں اور آپس کے تضادات کی وجہ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حضرت علیؓ کی شخصیت اور تعلیم خیالی اور افسانوی چیز ہے اور عجمی حکومتوں کی پیداوار ہے اگر شیعہ کے نشیب و فراز اور عروج و زوال کی وجہ سے ایسا کرنا صحیح نہیں تو صرف 4 مصلے بچھانے یا اٹھانے سے وہ حکومت کی پیداوار کیسے ہو گئے؟


صفحہ 4 از 4