رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 17

سانحہ وفات نبویﷺ پر جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرطِ غم سے بےحال ہو رہے تھے جرأتِ صدیقی نے وہاں بھی راہنمائی کی جب مرتدین منکرینِ زکوٰۃ مسیلمہ کے پیرو کار اور منافقوں کی سازشوں سے بڑے بڑے اکابر ہراساں ہوگئے تو جرأتِ صدیقی اور عزمِ صاحبِ رسول ہی نے تنہا مقابلے کی ٹھانی اور فرمایا خدا کی قسم اگر مجھے درندے نوچ ڈالیں تب بھی میں حضرت اسامہؓ کے لشکر کو باہر جانے سے نہ روکوں گا چنانچہ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حوصلے بلند ہوگئے اور تمام مشکلات پر مکمل فتح پائی حضرت سلمہؓ بن اکوع کا بیان ہے کہ عہدِ نبوی میں ہم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ کفار پر رات کو حملہ کیا اور ان کو قتل کیا۔

(ابو داؤد مشکوٰۃ: صفحہ، 343)

جرأت فاروقی:

کے متعلق حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ جس کسی نے بھی ہجرت کی جہان تک مجھے علم ہے چھپ کر کی سوائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کہ جب انہوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو اپنی تلوار گلے میں لٹکائی اور اپنے کندھے پر کمان رکھی اور اپنے ہاتھوں میں نکال کر تیر لیے اور بیت اللہ کے پاس آئے سردارانِ قریش اس کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے بیت اللہ کا پورا طواف کیا پھر مقامِ ابراہیم پر نفل پڑھ کر ایک ایک مشرک کے پاس آئے اور کہا یہ چہرے ذلیل ہو جائیں گے جس کا ارادہ ہو کہ اس کی ماں اسے ناپید کر دے اور اولاد یتیم ہو جائے اور اس کی بیوی رانڈ ہو وہ مجھ سے اس وادی کے پرے ملے ایک بھی ان میں سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نہ گیا۔ (منتخب کنز العمال: جلد، 4 صفحہ، 387)

جنگِ بدر میں حضرت عمرؓ نے مشہو بہادر پہلوان اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغيرة بن مغیره برادر ابو جہل عمرو بن ہشام کو قتل کیا۔ 

(سیرت ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 778) 

پھر کوئی پہلوان آپ کے سامنے آتا ہی تھا جنگِ احد میں سیدنا عمرؓ نے ابوسفیان سالارِ لشکر کو صرف پتھروں سے مار بھگایا۔ 

(سیرت النبی: جلد، 1 صفحہ، 378)

رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ گھاٹی ہی میں تھے کہ اسی اثناء میں قریش کے کچھ لوگ پہاڑ پر چڑھ آئے بروایتِ ابنِ ہشام ان چڑھنے والے سالاروں کے سالار خالد بن ولید تھے آخر سیدنا عمرؓ بن خطاب اور مہاجرین کی ایک جماعت نے زبردست مقابلہ کر کے انہیں پہاڑ سے اترنے پر مجبور کر دیا۔ 

(ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 53 و طبری: صفحہ، 211)

احد میں چند اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ بھی حضورﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے ابنِ اسحاق کہتے ہیں پھر جب مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کو شناخت کر لیا تو آپ مسلمانوں کے ساتھ ہو لیے اور ایک گھاٹی کی طرف چلے گئے اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عمر بن خطابؓ حضرت علی بن ابی طالبؓ حضرت طلحہٰ بن عبید اللہؓ حضرت زبیر بن عوامؓ حضرت حارث بن صمہؓ اور دوسرے مسلمانوں کا گروہ آپ کے ساتھ تھے۔ 

(سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 50)

اور حیاتُ القلوب مجلسی: جلد، 2 صفحہ، 366 کی ایک طعن آمیز روایت سے حضراتِ شیخین کی ثابت قدمی کا اعتراف ہے غزوہِ خندق میں سیدنا عمرؓ کو حضورﷺ نے جس حصے پر متعین کیا تھا اور آج وہاں ایک مسجد بھی آپ کے نام کی موجود ہے ایک دن کافروں نے حملہ کا ارادہ کیا تو حضرت عمرؓ نے حضرت زبیرؓ کے ساتھ آگے بڑھ کر روکا اور ان کی جماعت درہم برہم کر دی۔ 

(طبری: صفحہ، 452 الفاروق: صفحہ، 95) 

اسی جنگ میں عرب کے مشہور پہلوان ضرار اسدی کا تعاقب کر کے حضرت عمرؓ نے بھگا دیا۔ 

(سیرت النبی: جلد، 1 صفحہ، 428)

اس جنگ میں عمرو بن ود جو عرب کا مشہور پہلوان اور 90 برس کا تھا حضرت علیؓ کے ہاتھوں مارا گیا اس نے بطورِ تحقیر کہا تھا کہ میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا آپ نے فرمایا میں تو لڑوں گا چنانچہ جوابی حملے میں اسے ڈھیر کر دیا۔

جرأت عثمانی:

حضرت عثمانؓ کا اسلام کی خاطر کفارِ مکہ سے مظالم سہنا حدیبیہ کے موقعہ پر تنہا سفارت کے فرائض سر انجام دینا قید ہو جانا مگر حضورﷺ کے بغیر طواف سے انکار کرنا بلوائیوں کے ہاتھوں شہادت پا جانا مگر خلع خلافت نہ کرنا اور باوجود سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اصرار پر جرمِ مدینہ اور جوارِ نبوی کو نہ چھوڑنا آپ کی جرأتِ ایمان اور اخلاص پر کھلے دلائل ہیں الغرض تمام غزوات میں ان حضرات نے شرکت کی لیکن قتل کے واقعات کم پیش آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات بہ نسبت حضرت علیؓ کے معمر تھے حضورﷺ ان سے سپاہیانہ خدمات لینے کے بجائے بطورِ وزیر و مشیر اپنے ساتھ رکھتے تھے اور خصوصی محافظ بھی ہوتے تھے جیسے خود حضرت علیؓ نے حضرت حسنؓ و حضرت حسینؓ سے جنگِ جمل و صفین میں جنگی خدمات کم لیں ہر ممکن تحفظ کی کوشش کی بدر میں حضرت ابوبکرؓ عریش میں آپ کے باڈی گارڈ رہے حضرت عثمانؓ آپ کے فرمان کے مطابق حضرت رقیہؓ کی تیمار داری میں مدینہ میں رہے اور آپ نے ان کو غنیمت اور ثواب کا پورا حصہ دلایا احد میں سیدنا ابوبکرؓ کی محافظانہ حیثیت رہی اور حضورﷺ نے عام حملہ سے روکے رکھا ہاں حضرت عمرؓ نے نمایاں خدمات سر انجام دیں متعدد غزوات میں حضورﷺ نے حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو سپہ سالار بھی بنایا بخاری: جلد، 2 صفحہ، 612 کتاب المغازی میں سلمہ بن اکوعؓ کا بیان ہے کہ 9 جنگی سرایا میں حضورﷺ کے بھیجے ہوئے لشکر میں میں بھی تھا علینا مرة ابوبكرؓ ومرة اسامةؓ کبھی سیدنا ابوبکرؓ کو امیر لشکر بنایا اور کبھی حضرت اسامہ بن زیدؓ کو اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں الٹ دیں اور نصف معلوم دنیا کو فتح کر کے لا الہ الا اللہ کا جھنڈا گاڑ دیں اس میں زیادہ کمال ہے یا بالفعل دو چار کافروں کو قتل کرنے میں زیادہ بہادری ہے کیا بادشاہ، وزیر یا جرنیل کی کامیابی صرف اسی میں ہے کہ وہ سپاہی کی حیثیت سے دو چار قتل خود کریں خدا معترض کو عقل دے۔شجاعت کے اثرات میں تقابل:

صفحہ 10 از 17