رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 17

حضرت علیؓ تلوار سے اس قدر رعب اور اصلاحی کام نہیں کر سکے جس قدر حضرت عمرؓ نے درہ ہاتھ میں رکھنے سے کیا اپنی خلافت کے دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تلوار کے بجائے صرف درہ ہاتھ ہیں رکھتے تھے مگر آپ کے رعب و دبدبہ سے انتظامِ حکومت بھی ٹھیک تھا اور بڑے بڑے بادشاہ بھی تھراتے تھے ادھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ذوالفقار ہاتھ میں لے کر جمل و صفین میں کشتوں کے پشتے لگا رہے ہیں مگر مخالف کو اپنے مقصد میں ناکام کر دینا تو کجا خود آپ کے فوجی بھی درست نہیں رہتے نہ آپ کے کنٹرول میں رہ کر اطاعت و وفاداری کرتے ہیں حتیٰ کہ آپ تمنا کرتے ہیں کہ کاش حضرت امیرِ معاویہؓ میرے دس دس سپاہیوں کے بدلے میں ایک ایک سپاہی دے دیتا۔ (نہج البلاغہ) 

یہ نکتہ بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ چند ناموں کے سوا شیخینؓ کا کسی سے مقابلہ یا قتل کفار کا روایات میں نہ ملنا بالکل نفی کی دلیل نہیں ہے کیا ضروری ہے کہ ہر مقتول کا نام و پتہ ہم تک بھی پہنچے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو کے مقتولین کے بھی ابنِ ہشام نے درجن سے کچھ زائد نام بتائے ہیں حالانکہ قتل ان سے کچھ زیادہ ہوئے ہوں گ۔ معلوم ہوا کہ مشہور کلیہ کے مطابق عدم ذکر شئی عدم وجود شیٔی کو مستلزم نہیں در اصل شیعہ حضرات کا مذہب ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طن و تبرا بازی ہے وہ کسی طرح حملہ کا بہانہ تلاش کرتے ہیں ورنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبيدة بن الجراح رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ جرأت اور جنگی خدمات میں حضرت علیؓ کے ہمسر رہے ہیں ان کے مقتولوں کی تعداد بھی بکثرت ہے احد کے نازک موقعہ پر حضورﷺ کی خدمت میں حضرت سعدؓ حضرت طلحہٰؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ یقیناً حضرت علیؓ سے بھی آگے ہیں جیسا کہ سیرت کے طالبِ علم پر نفی نہیں ہے پھر کیوں شیعہ ان کی بہادری خدمات بلکہ ایمان کا بھی اعتراف نہیں کرتے اور کوستے رہتے ہیں۔

در حقیقت شیعہ کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض یا چند حضرات سے دعوئے الفت اس بناء پر ہے ہی نہیں کہ ان کی اسلام کی اشاعت اور نصرت پیغمبرﷺ میں خدمات کم و بیش ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ محبت و نفرت کا معیار حضرت علیؓ کی خلافت بلا فصل کو بناتے ہیں انکے خیال میں تین چار حضرات حضرت علیؓ کے خواہاں تھے حالانکہ یہ وہم ہی ہے وہ انہی کو مؤمن مانتے باقی سب کو بے ایمان (العیاذ باللہ) مانتے ہیں خواہ وہ اسلام کے کتنے بڑے خادم ہوں یا پیغمبرِ اسلامﷺ کے قریب ترین رشتہ دار ہوں۔

 علم میں موازنہ:

بلاشبہ حضرت علیؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بلند پایہ عالم ہیں مگر حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ آپ سے کسی طرح کم نہ تھے بلکہ زائد تھے اس پر چند شہادتیں ملاحظہ ہوں:

علم صدیقی:

1: حضرت ابنِ عمرؓ سے پوچھا گیا کہ کون صاحبِ حضورﷺ کے زمانہ میں فتویٰ دیتے تھے تو جواب دیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے علاؤہ مجھے کسی دوسرے کا علم نہیں۔ (ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 151)

2: قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ و حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں فتویٰ دیتے تھے۔ (ایضاً ابنِ سعد)

3: سہل بن ابی خیثمہ نے بیان کیا ہے وہ حضرات جو حضورﷺ کے زمانہ میں فتویٰ دیتے 146 تھے تین نفر مہاجرین میں سے تھے اور تین نفر انصار میں سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ۔

(ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 167)

4: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت میں ہے اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کسی نقطہ میں اختلاف کیا مگر میرا باپ اس کے میدان اور اس کی فصل تک ضرور اڑا لوگوں نے کہا رسول اللہﷺ کہاں دفن کیے جائیں گے ہم نے کسی کے پاس اس کا علم نہیں پایا تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں کہ جس کو کسی جگہ وفات دی گئی ہو مگر وہ اس کی وفات کی جگہ دفن کیا گیا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی میراث کے بارے میں اختلاف کیا تو کسی کے پاس اس کا علم نہیں پایا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کی جماعت میں ہمارا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔ 

(حیات الصحابہ: جلد، 3 صفحہ، 294 از بغوی ابنِ عساکر)

5: علامہ ابنِ تیمیہؒ منہاج السنہ میں لکھتے ہیں: مانعین زکوٰۃ سے نبرد آزما ہونے میں تنازعہ ہوا تو آپ نے نص کی روشنی میں حضرت عمرؓ پر اس کی حقیقت واضح کی لَـتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَـرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت 27)

ترجمہ: اگر خدا نے چاہا تو تم خانہ کعبہ میں کامل امن و امان سے داخل ہوگئے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے آنحضورﷺ کے اس ارشاد کی تشریح کی تھی کہ اپنے بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ وہ دنیا و آخرت میں سے جسے چاہے پسند کر لے کہ وہ حضورﷺ کی ذات تھی وكان ابوبکرؓ اعلمنا سیدنا ابوبکرؓ ہم سے زیادہ عالم تھے۔ (از انسؓ در بخاری)

حضرت ابوبکرؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتایا کہ کلالہ کسے کہتے ہیں حضرت علیؓ نے بھی آپ سے استفادہ کیا تھا بہت سے علماء نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ علم الصحابةؓ تھے منصور بن سمعانی نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

6: نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے میرے بعد حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی پیروی کرو۔ (ترمذی)

صفحہ 11 از 17