رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 12 از 17

7: صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضورﷺ کے ساتھ دورانِ سفر بہت سے مسلمان تھے اپنے فرمایا اگر لوگ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی اطاعت کریں گے تو راہِ راست پر قائم رہیں گے آنحضورﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے حق میں فرمایا جب تم دونوں کسی بات پر متفق ہو جاؤ گے میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا حضرت ابنِ عباسؓ سے ثابت ہے کہ جب وہ کتاب و سنت میں کوئی نص نہ پاتے تو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے قول کے مطابق فتویٰ دیتے تھے۔ 

(بحوالہ المنتقیٰ: صفحہ، 727، 728)

8: صحیحین کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا تھا اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے لڑوں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں رکن کے لحاظ سے فرق کریں گے۔ شیخ ابو اسحاق الفرانی وغیرہ نے استدلال کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ عالم تھے اس مسئلہ کا حل صرف آپ نے بتلایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتفاق کیا۔ 

9: حضورﷺ کا حضرت ابوبکرؓ کو امام نماز بنانا افضلیت اور اعلم ہونے کی دلیل تھی کیونکہ آپ کا ارشاد ہے لوگوں کو وہ نماز پڑھائے جو ان سے زیادہ کتاب اللہ پڑھنے والا ہو۔

چنانچہ ترمذی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا جس قوم میں ابوبکرؓ ہوں ان میں سے کسی اور کو جماعت کرانا مناسب نہیں کیونکہ آپ ہی سب سے زیادہ سنتِ نبوی کے عالم تھے جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین متعدد مواقع میں آپ کی طرف رجوع کرتے اور آپ سنتِ نبوی ان پر ظاہر کرتے اور ایسے مسائل جانتے تھے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معلوم نہ ہوتے تھے۔ 

(تاریخ الخلفاء: صفحہ، 39)

10: آپ کا تفوق علمی اس سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے سقیفہ کے دن اپنی فی البدیہہ تقریب میں کوئی چیز جو قرآن میں انصار کے فضائل میں اتری نہ چھوڑی اور نہ کوئی ایسی حدیث جو حضورﷺ نے انصار کے بارے میں فرمائی تھی مگر سب کا تذکرہ کیا۔ 

(کنز العمال: جلد، 3 صفحہ، 137 والہیثمی: جلد، 5 صفحہ، 191)

11: عہدِ جاہلیت کے علوم علم الانساب علم تعبیر الرؤیا اور خطابت میں جب آپ سب سے زیادہ عالم تھے۔ 

(تاریخ الخلفاء: صفحہ، 40) 

تو علمِ شریعت جو صحبتِ نبوی کا عکس تھا اور آپ کو شرفِ صحبت سب سے زیادہ ملا تھا اس میں آپ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑے عالم کیوں نہ ہوں۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا علم:

1: بخاری و مسلم میں مرفوع حدیث ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا مجھے خواب میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں دودھ تھا وہ میں نے پی لیا یہاں تک کہ سیری کا اثر میرے ناخنوں میں ظاہر ہونے لگا جو بچ گیا وہ میں نے حضرت عمرؓ کو دے دیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی آپ نے اس کی کیا تعبیر ارشاد فرمائی فرمایا دودھ سے مراد علم ہے۔

2: ترمذی میں حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوتے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ 

3: بخاری و مسلم میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا اممِ سابقہ میں ملہم موجود تھے اگر میری امت میں کوئی ملہم ہوا تو وہ حضرت عمرؓ ہیں۔ 

(المنتقیٰ: صفحہ، 730)

4: یہ اسی الہام اصابت رائے اور فراستِ ایمانی کا اثر تھا کہ دو درجن کے قریب احکام اور قرآنی آیات اتریں، جیسے آپؓ نے خواہش کا اظہار کیا تھا ملاحظہ ہو: (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 96) 

5: بروایتِ ابو وائل حضرت عبد اللہؓ نے فرمایا کہ اگر حضرت عمرؓ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے تو سیدنا عمر فاروقؓ کا علم ان سب کے علم سے وزنی ہوگا وکیعؒ کہتے ہیں میں نے ابراہیم نخعیؒ سے اس کا ذکر کیا تو فریایا خدا کی قسم حضرت عبداللہؓ نے اس سے بھی بڑھ کر بات کی ہے کہ بے شک 9 حصے علم کے اٹھ گئے جس دن سے حضرت عمرؓ نے وفات پائی۔ (طبرانی و ہیثمی: جلد، 9 و حاکم)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے بے شک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور ہم سب سے زیادہ کتاب اللہ کے پڑھنے والے تھے اور اللہ کے دین کے بارے میں ہم سب سے زیادہ سمجھدار تھے۔ 

(مجمع الزواںٔد: جلد، 9 صفحہ، 69)

6: حضرت حذیفہؓ نے فرمایا گیا کہ لوگوں کا علم حضرت عمرؓ کے ساتھ قبر میں دفنایا گیا۔ 

(حیاۃ الصحابہ: جلد، 3 صفحہ، 293 از ابنِ سعد)

7: مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فقہاء کا ان کے پاس بچوں جیسا حال تھا ان سب پر حضرت عمرؓ فقہ اور علم میں غالب تھے۔ (ایضاً از ابنِ سعد)

8' حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں جب تک نیکوں کا ذکر ہوگا تو حضرت عمرؓ کو مبارک کہی جائے گی بے شک حضرت عمرؓ ہم سب سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والے تھے اور اللہ کے دین کے زیادہ سمجھ دار تھے۔ (طبرانی)

9: حضرت علیؓ سے آپ کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا آپ میں پختگی فراست و ہوشیاری علم اور شرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ 

(تاریخ الخلفاء: صفحہ، 95) 

10: حضرت قبیصہؓ بن جابر فرماتے ہیں خدا کی قسم میں نے حضرت ابوبکرؓ سے بہتر اور رعایا پر شفیق کوئی نہیں دیکھا اور میں نے حضرت عمرؓ کے سواء کتاب اللہ کا بڑا عالم اللہ کے دین کا بڑا سمجھ دار اللہ کی حدوں کو زیادہ قائم کرنے والا اور لوگوں کے دلوں میں زیادہ بارعب نہیں دیکھا اور سیدنا عثمانؓ سے بڑھ کر زیادہ حیا والا نہیں دیکھا۔ 

(ابنُ الاثیر: جلد، 4 صفحہ، 60)

علم عثمانی:

1:حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ بھی بڑے عالم تھے حضورﷺ کے زمانہ میں فتویٰ دیتے تھے جیسے پہلے گزر چکا ہے۔

2: آپ سے زیادہ تر احادیث حضرت زید بن خالد جہنی ابن الزبير، سائب بن یزید، انس بن مالک زید بن ثابت، مسلمہ بن الاکوع ابو امامہ باہلی ابن عباس ابنِ عمر، عبدالله بن مغفل، ابو قتادہ اور ابو ہریرہ وغیرہم فاضل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایات کی ہیں اور تابعین کی تعداد شمار سے باہر ہے۔

صفحہ 12 از 17