رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 13 از 17

3: ابنِ سعد نے حضرت عبد الرحمٰن بن ابی حاتمؓ سے روایت کی ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بڑھ کرہ زیادہ مکمل اور بہتر طریق پر حدیثیں بیان کرنے والا نہیں دیکھا مگر یہ کہ حدیث بیان کرنے سے آپ ڈرتے بہت تھے مبادا الفاظ حدیث میں کمی بیشی ہو جائے۔ 

(تاریخ الخلفاء: صفحہ، 116)

غالباً یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ وغیرہ فقہائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بہ نسبت آپ سے احادیث کم مروی ہیں کم گوئی اور شدت حیا کا ان چیزوں پر اثر پڑ کر رہا ورنہ علم میں آپ کم نہ تھے جیسے:

4: محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ مناسک و مسائل حج کو سب سے ذیادہ جانے تھے۔ (ایضاً: صفحہ، 116)

5: اور آپ کے فقہی فیصلے بدستور حضراتِ شیخینؓ کے ہم پلہ تھے جیسے عبیدہ بن عبداللہ بن عتبہ سیدنا ابنِ عباسؓ کی مدح میں فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو سیدنا ابنِ عباسؓ سے بڑھ کر حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ و حضرت عثمانِ غنیؓ رضی اللہ عنہم کے فیصلوں کو جانے والا نہ دیکھا۔ 

(از ابنِ سعد: جلد، 4 صفحہ، 183 حیات الصحابه: جلد، 3 صفحہ، 299)

6: آپؓ کے علم میں کون شک و شبہ کر سکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدح یوں فرمائی ہے۔ آیا وہ شخص جو رات بھر سجدے اور قیام میں اللہ کی عبادت کرتا ہے آخرت سے ڈرتا اور خدا کی رحمت کا امید وار ہے آپ فرمائیے کیا عالم اور غیر عالم برابر ہو سکتے ہیں؟ بلاشبہ عقلمند ہی نصیحت پکڑتے ہیں۔(سورۃ زمر: رکوع، 2)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی (اخرجہ الواحدی والحاكمی والفضائلى، رياض النضرة فی مناقب العشر:ة صفحہ، 136 حليته الاولياء: جلد، 1 صفحہ، 56)

 علم مرتضوی:

1: حضرت علیؓ کے علم کی بھی ایک جھلک ایک جھلک ملاحظہ کر لیں آپ بھی حضورﷺ کے زمانے میں مفتی تھے۔

2: مسروق کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہت قریب سے دیکھا ہے تو یہ پایا کہ ان کا علم چھ حضرات پر ختم ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت على عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہما حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پھر ان سب کا مدار حضرت علیؓ و حضرت عبد الله بن مسعودؓ پر ہے۔

(حیات الصحابہ: جلد، 3 صفحہ، 297)

3: طبرانی کی ایک مرفوع مرسل حدیث میں حضورﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شکایات کے جواب میں ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا میں نے تیری شادی اس سے کی ہے جو سب سے پہلے اسلام لانے والا اور بڑا عالم ہے اور بڑا بردبار ہے۔ 

(حیات الصحابہ: صفحہ، 295) 

4: کوفہ کے باشندوں سے حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے خدا کی قسم کوئی آیت ایسی نہیں اتری جس کو میں نہ جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں اتری اور کہاں کن لوگوں کے متعلق اتری بے شک میرے رب نے مجھے سمجھدار دل اور فصیح زبان عطا فرمائی ہے

5: یحییٰ بن سعید بن المسیبؒ نے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ اس مشکل مسئلہ کے لیے پناہ مانگتے تھے جس کے لیے ابو الحسن حضرت علیؓ موجود نہ ہوں۔ 

(از ابنِ سعد، حیات الصحابہ: جلد، 3 صفحہ، 295)

نوٹ: خلفائے رابعہؓ کے علم و فضل پر اور بھی کئی شہادتیں مل سکتی ہیں جو آدمی فیصلہ نہ کر سکے تو وہ حضورِ اکرمﷺ کو اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم مقرر کرے حضورﷺ نے جن کو امامِ نماز بنایا اور اپنے بعد پیروی کا حکم دیا اور سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان پر اتفاق کیا وہی افضل اور بڑے عالم ہیں۔ 

 عبادت میں موازنہ:

1: حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ آپﷺ نے ایک لشکر بھیجا جو بڑی جلدی فتح پاکر بہت بڑی غنیمت لے کر واپس آ گیا کسی نے کہا یا رسول اللہﷺ اس سے زیادہ غنیمت والا اور جلدی لوٹنے والا ہم نے لشکر نہیں دیکھا تو آپﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جو لوٹنے میں ان سے بھی زیادہ سریع ہو اور غنیمت میں ان سے زیادہ۔ وہ وہ آدمی ہے جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا پھر کعبہ کا قصد کیا اور اس میں صبح کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد نماز چاشت ادا کی وہ لوٹنے میں زیادہ سریع رہا اور غنیمت میں بہت بڑا اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آدمی حضرت ابوبکرؓ ہیں (حیات الصحابة: جلد، 3 صفحہ، 175)

2: حضرت یحییٰ بن سعیدؒ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ شروع رات میں وتر پڑھتے اور جب آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو دو دو رکعت کر کے پڑھتے ایسا پڑھنا افضل ہے۔ (ابنِ ابی شیبہ)

3: سیدنا ابوبکرؓ کا مکہ میں گھر کے سامنے چبوترہ بنا کر نماز پڑھنا سوز و گداز سے قرآن پڑھنا اور رونا حتیٰ کہ مشرکین کی عورتوں اور بچوں کا اسلام کی طرف مائل ہونا اور کفار کا شکایت کرنا تکالیف دینا پھر ابنِ دغنہ کا پناہ دینا مگر حضرت کا واپس کر دینا کتب سیرت سے حوالہ کی حاجت نہیں۔

4: حضرت سہل بن ساعدؓ نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں اپنی کسی جانب التفات نہیں کرتے تھے۔ (منتخب الکنز)

5: سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ جب سورۃ مزمل کا پہلا حصہ نازل ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قریب قریب رمضان کے مہینے کے دن تا سحر قیام کے قیام کرتے تھے اور اس سورۃ کے شروع و اخیر میں سال بھر کا فاصلہ تھا۔

6: سیدنا عثمانؓ بن ابی العاص نے سیدنا عمرؓ کی ایک بیوہ سے محض اس لیے شادی کی کہ ان سے رات کی نماز کا پوچھیں وہ فرماتی ہیں سیدنا عمرؓ عشاء کی نماز پڑھتے پھر حکم دیتے کہ ہم ان کے سرہانے پانی سے بھر کی پیتل کا گھڑا رکھ دیں وہ رات کو بیدار ہوتے تو اپنا ہاتھ پانی میں ڈالتے اور اپنے چہرے اور ہاتھ پر پھیرتے اس کے بعد اللہ کا ذکر کرتے رہتے جب تک ذکر کرنا چاہتے پھر اس طرح کئی دفعہ بیدار ہوتے یہاں تک کہ وہ ساعت آ جاتی جس میں یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے۔ (طبرانی رجالہ ثقات)

7: حضرت سعید بن المسیبؒ نے کہا کہ حضرت عمرؓ بن خطاب رات کے جگر یعنی وسط میں نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ (کنز)

صفحہ 13 از 17